سرِ راہ چلتے چلتے۔۔۔ بھیرہ میں مینا کماری سے ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی کا سفر بھی کیسا سفر ہے جہاں سرِ راہ چلتے چلتے ہم پر نئے جہانوں کے در وا ہوتے ہیں ’جہاں حیرتیں ہماری منتظر ہوتی ہیں۔ بھیرہ کے رہنے والے علی بخش کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اس روز موٹروے پر میں اسلام آباد سے لاہور جا رہا تھا۔ حسبِ معمول بھیرہ کے سٹاپ پر رکا۔ یہ معمول کئی سالوں کا ہے۔ بھیرہ میں اپنی پسند کی کافی شاپ میں بیٹھتا ہوں۔ سیاہ کافی پیتا ہوں اور پھر دوبارہ سفر کا آغاز کرتا ہوں۔ اس روز بھی ایسا ہی ہوا۔

فرق صرف اتنا تھا کہ اس روز موسم ابر آلود تھا اور ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ میں گاڑی کھڑی کرکے بارش میں بھیگتا ہوا کافی شاپ میں داخل ہوا اور کونے میں رکھی مخصوص میز پر بیٹھ گیا‘ جہاں گلاس وال سے باہر کا منظر صاف نظر آ رہا تھا۔ میں نے سوچا ’آج سے تقریباً سو سال پہلے بھیرہ کا منظر کیا ہو گا؟ کس طرح کے مکانات ہوں گے؟ کیسے لوگ ہوں گے؟ پھر مجھے علی بخش کا خیال آ گیا۔ علی بخش بھیرہ کا رہنے والا تھا‘ جسے موسیقی کا شوق تھا اور جو ایک روز اپنے شوق کی انگلی پکڑ کر بمبئی پہنچ گیا تھا ’جہاں پارسی تھیٹر میں اسے چھوٹا موٹا کام ملنا شروع ہو گیا تھا۔

وہیں پر اس کی ملاقات اقبال بانو سے ہوئی جس کا پہلا نام پربھا تھا۔ علی بخش اور اقبال بانو میں فن کی محبت مشترک تھی۔ پھر دونوں کی شادی ہو گئی۔ ان کے ہاں فن کی دولت تو تھی لیکن گھر میں مفلسی نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔ ان کی ایک بیٹی تھی جس کا نام خورشید تھا۔ خورشیدکے بعد ایک اور بیٹی پیدا ہوئی تو علی بخش کے پاس ہسپتال کے اخراجات پورے کرنے کے بھی پیسے نہیں تھے۔ علی بخش اسے پیدائش کے فوراً بعد ایک قریبی یتیم خانے میں چھوڑ آیا‘ لیکن واپس گھر آتے آتے اسے اپنی بیٹی یاد آنے لگی۔

وہ انہیں قدموں واپس لوٹا اور یتیم خانے سے بچی اٹھا کر واپس لے آیا۔ اس بچی کا نام مہ جبیں رکھا گیا جسے دنیا اپنے زمانے کی معروف اداکارہ مینا کماری کے نام سے جانتی ہے۔ کافی شاپ پر بیٹھے بیٹھے مجھے مینا کماری کی یادگار فلم پاکیزہ یاد آ گئی ’جس نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے تھے‘ جس میں مینا کماری کی اداکاری اپنے فن کے عروج پر تھی ’جس کے گیتوں اور موسیقی نے اس فلم کو امر بنا دیا تھا۔ مجروح سلطان پوری، کیفی اعظمی اور کیفی بھوپالی کے گیتوں میں موسیقار غلام محمد نے دل کی دھڑکنیں سمو دی تھیں۔

ایک سے بڑھ کر ایک گیت‘ اور پھر مینا کماری کی اداکاری۔ لیکن پاکیزہ تو ان دنوں کا قصہ ہے جب چراغ بجھنے سے پہلے آخری بار بھڑک رہا تھا۔ مینا کماری شہرت کی اس بلندی پر کیسے پہنچی ’یہ ایک طلسماتی کہانی ہے جس کے ٹکڑے مجھے یہاں وہاں سے ملے۔ علی بخش اور اقبال بانو کے ہاں جنم لینے والی مہ جبیں ذرا بڑی ہوئی تو اسے سکول کا شوق چرایا لیکن والد علی بخش چاہتا تھا کہ بڑی بیٹی خورشید کی طرح مہ جبیں بھی تھیٹر میں کام کر کے کچھ کمانے لگے۔

مہ جبیں پڑھنا چاہتی تھی مگر مفلسی تمنا پر غالب آ گئی اور علی بخش کی وساطت سے مہ جبیں کو وجے بھٹ کی فلم لیدر فیس (Leather Face) میں ایک بچی کا رول مل گیا۔ اسے کامیابی کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ اب وجے بھٹ اپنی فلم بیجو باورا بنا رہے تھے۔ ان کی نظر مہ جبیں پر گئی لیکن ہیروئن کا نام فلمی ہونا چاہیے تھا۔ یہ سوچ کر وجے بھٹ نے مہ جبیں کا نام مینا کماری رکھ دیا۔ اس وقت مینا کماری کی عمر صرف چودہ برس تھی اور یہ فلم کا مرکزی کردار تھا۔

اس فلم نے باکس آفس پر خوب کامیابی حاصل کی اور یوں مینا کماری کی شہرت پَر لگا کر اڑنے لگی۔ اس فلم میں شاندار اداکاری پر مینا کماری کو اپنی زندگی کا پہلا ایوارڈ ملا۔ فلم کی کامیابی نے مینا کماری کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیے۔ مینا کماری کی اگلی فلم تماشا تھی‘ جہاں ان کے مقابل اشوک کمار اور دیوآنند تھے۔ تب فلم ساز کمال امروہوی نے اپنی فلم ”انارکلی“ بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے مینا کماری کا انتخاب کیا۔

معاہدے پر دستخط ہو گئے لیکن پھر ایک حادثے نے سب کچھ بدل کر کے رکھ دیا۔ مینا کماری اپنی گاڑی پر آرہی تھیں کہ سڑک پر ان کا حادثہ ہو گیا ’جس میں مینا کماری زخمی ہو گئیں۔ ان کا بایاں ہاتھ بری طرح کچلا گیا اور وہ چار ماہ تک ہسپتال میں رہیں۔ اس دوران بہت سے فلم سازوں نے اپنی فلموں سے مینا کماری کا نام نکال کر دوسری اداکاراؤں کو ہیروئن کا کردار دے دیا۔ مینا کماری کے بائیں ہاتھ کی دو انگلیاں کاٹ دی گئی تھیں۔

 لوگ تو کامیابی کے ساتھی ہوتے ہیں‘ تنہائی میں سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے لیکن ایک شخص ایسا تھا جو باقاعدگی سے اس کی بیمار پرسی کے لیے آتا تھا ’اور جس نے باقی لوگوں کی طرح اس سے منہ نہیں موڑا تھا۔ اس کا نام کمال امروہوی تھا۔ ان کا ایک سید گھرانے سے تعلق تھا جسے شاعری سے رغبت تھی‘ جسے مطالعے کا جنون تھا اور جس نے بمبئی کی فلمی دنیا میں ”محل“ جیسی فلم بناکر بڑی تیزی سے اپنا سکہ جما دیا تھا۔ ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد بھی کمال امروہوی نے مینا کماری کو جذباتی سہارا دیا۔

اس وقت کمال امروہوی تین بچوں کے باپ تھے لیکن مینا کماری کی کشش ہر منطق پر غالب آ گئی تھی۔ ادھر مینا کماری کو کمال امروہوی کی ذات میں ایک ہمدرد انسان نظر آ رہا تھا۔ مینا کماری کو اپنی زندگی کے بیتے ہوئے دن یاد آنے لگے۔ وہ دن جب کلکتہ کے ایک معتبر گھرانے کے ایک لڑکے نے اپنے خاندان سے بغاوت کر کے اس سے شادی کر لی تھی لیکن وہ آشفتہ سر جلد ہی وادی اجل میں اتر گیا۔ پھر جب وہ ایک ہسپتال میں کام کر رہی تھی تو ایک صحافی سے اس کی شادی ہو گئی ’جس سے اس کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں لیکن اس کا بھی انتقال ہو گیا اور مینا کماری اکیلی رہ گئی۔

 پھر فلمی دنیا میں آمد، گاڑی کا حادثہ اور اب کمال امروہوی کی شادی کی پیشکش۔ دونوں نے 1952 ء میں خفیہ شادی کر لی‘ جس کا اعلان بہت بعد میں کیا گیا۔ اس کے بعد مینا کماری نے کئی فلمیں کیں لیکن ایک فلم ان کی اداکاری کے سفر میں سب سے نمایاں ہے۔ اس فلم کا نام صاحب، بی بی اور غلام تھا۔ اس میں مینا کماری نے چھوٹی بہو کا کردار کیا تھا۔ شاید یہ 1962 ء کا سال تھا۔ اس سال مینا کماری کی تین فلمیں میں چپ رہوں گی، آرتی اور صاحب بی بی اور غلام ریلیز ہوئی تھیں اور دلچسپ بات یہ کہ ان تینوں فلموں میں اداکاری کے شعبے میں مینا کماری ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی تھیں۔

کمال امروہوی سے شادی کے بعد مینا کماری کو یوں لگا وہ آزاد آسمان سے سونے کے پنجرے میں آ گئی ہے۔ اس پابندی میں اس کا دم گھٹنے لگا۔ 1958 کی بات ہے ’پاکیزہ فلم پرکام کا آغاز ہو چکا تھا کہ کمال امروہوی اور مینا کماری کے درمیان اختلافات میں شدت آ گئی اور دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ پاکیزہ فلم پر کام روک دیا گیا۔ اس کے بعد بھی مینا کماری نے بہت سی فلمیں کیں لیکن اب مے نوشی اس کی زندگی کا حصہ بن چکی تھی۔

کوئی غم تھا جو اس کے جسم و جاں میں پھیل چکا تھا۔ کئی برسوں بعد 1969 ء میں پاکیزہ فلم پر کام ایک بار پھر شروع ہوا۔ یہ مینا کماری کے علالت کے دن تھے۔ 1972 ء میں فلم مکمل ہو گئی اور فروری میں اس کی نمائش ہوئی۔ مینا کماری نے کمال امروہوی کے ہمراہ فلمی دیکھی لیکن اس کے کچھ ہفتوں بعد اس کا انتقال ہو گیا اور یوں کتنے ہی موڑ مڑتے ہوئے مینا کماری کی زندگی کا سفر اختتام کو پہنچا۔

اچانک بھیرہ کی کافی شاپ کی شیشے کی دیوار پر تیز بارش کی بوچھاڑ مجھے بمبئی سے بھیرہ لے آئی اور میں سوچنے لگا ’یہ زندگی کا سفر بھی کیسا سفر ہے‘ جہاں جہاں سرِ راہ چلتے چلتے ہم پر نئے جہانوں کے در وا ہوتے ہیں اور جہاں حیرتیں ہماری منتظر ہوتی ہیں۔ بھیرہ کے رہنے والے علی بخش کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا ’جسے موسیقی کا شوق تھا‘ اور جو ایک روز اپنے شوق کی انگلی پکڑ کر بمبئی پہنچ گیا تھا ’اور جس نے اقبال بانو سے شادی کی تھی‘ اور جس کی بیٹی کا نام مینا کماری تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 223 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui