ہائبرڈ وار ۔ آخر حل کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہائبرڈ وار کو سادہ الفاظ میں سمجھنے کی کوشش کریں تو یہ وہ عسکری حکمت عملی ہے جس میں ایک ملک دوسرے ملک کے خلاف سیاسی جنگ لڑتے ہوے رسمی وغیر رسمی اور سائبر جنگ کے طریق کار سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے دشمن ملک کو اندرونی و بیرونی طور پر کمزور کرتا ہے۔ اس جنگ میں ایک ملک اپنے دشمن ملک کے خلاف جعلی خبروں ’جھوٹی تشہیر‘ سفارت کاری اور الیکشن میں دخل اندازی جیسے ہتھیاروں کا خوب استعمال کرتا ہے۔

ہائبرڈ وار اپنی نوعیت و کردار (nature and character) میں غیر رسمی ’متغیر اور پیچیدہ ہوتی ہے۔

19 دسمبر بروز جمعرات کو خصوصی عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلہ میں سابق صدر و چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف کو سنگین غداری مقدمہ میں سزائے موت سنائی۔ یہ فیصلہ فرد واحد کے خلاف آئین کی حرمت پامال کرنے کی پاداش میں تھا۔

کسی بھی فرد واحد کو خصوصی عدالت کے فیصلہ کے بر خلاف حق اپیل حاصل ہوتا ہے۔ یہ قانونی حق پرویز مشرف بھی محفوظ رکھتے ہیں اور وہ کسی بھی وقت خصوصی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل و ریویو اعلی عدالت میں دائر کر سکتے ہیں۔

ایسے میں خصوصی عدالت کا مختصر و تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد جو رویہ ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور کی پریس بریفنگز میں سے جھلکا وہ جمہوری و آئینی بندوبست کے تحت چلنے والی کسی بھی ریاست کے لئے ہر گز موزوں نہ تھا۔ پورے ادارے کی جانب سے کسی ایک شخص جس کو عدالت سنگین غداری مقدمہ میں مجرم قرار دے چکی کا دفاع بالکل ایک غیر مناسب عمل تھا۔

تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح طور پر قوم کو متنبہ کیا کہ ریاست کے خلاف ہائبرڈ وار اپنے زوروں پر ہے اور دشمن کے مذموم عزائم کو پاک فوج شکست سے ضرور دوچار کرے گی۔

سوال یہ ہے کہ خصوصی عدالت کی جانب سے تفصیلی فیصلہ آنے کے فورا بعد ہائبرڈ وار کا تزکرہ کرنا کیوں ضروری تھا؟ کیا اس فیصلہ کا تعلق ہائبرڈ وار سے ہے اور خصوصی عدالت اس کا حصہ ہے؟ اگر ایسا ہے تو تو لمحہ فکریہ ہے کیونکہ جب عدالتیں ہائبرڈ وار کا حصہ بن جائیں تو دشمن کی جیت کتنے سفر پر ہو گی؟

اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر پاکستان بار کونسل نے اس پریس بریفنگ کو ڈنکے کی چوٹ پر توہین عدالت قرار دیا ہے۔

اب خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر یا پاکستان بار کونسل میں کون حق و انصاف کا دامن تھامے ہے۔ ہم تو بطور شہری ہائبرڈ وار کو شکست دینے کے متمنی ہیں۔

دوسری جنگ عظیم ’ایک خوفناک ترین رسمی جنگ کے دوران برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل نے یوں ہی دریافت نہیں کیا تھا کہ آیا اس کے ملک کی عدالتیں انصاف فراھم کر رہی ہیں کہ نہیں۔ وہ پرعزم تھا کہ اگر عدالتیں انصاف فراھم کریں گی تو وہ بڑی سے بڑی ”وار“ میں سے بھی سرخرو ہو کر نکلے گا۔

آزاد و خودمختار عدالتیں ’مضبوط و غیر جانبدار الیکشن کمیشن اور آزاد و خود مختار میڈیا ہائبرڈ وار کے سامنے ہر قسم کا بند باندھ سکتے ہیں۔

دشمن کے خلاف رسمی و غیر رسمی جنگ کے امتزاج کی تاریخ رومن ایمپائر سے شروع ہوتی ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سرد جنگ کے دوراں تو غیر رسمی جنگ کے طریق کار اپنے عروج پر پہنچتے ہیں۔ اس سارے سفر کے دوراں ایک موٹی سی بات جو سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ بادشاہتیں ’ریاستیں اور ملک اگر اپنی عوام کو خوش و خرم رکھنے میں کامیاب ہوتیں ہیں تو ان کے خلاف غیر رسمی و ہائبرڈ جنگیں اتنی آسانی سے کامیاب نہیں ہوتیں۔

ہائبرڈ وار کا تصور ہر گز نیا نہ ہے اور وطن پاک میں بھی سانحہ بنگال کا رونما ہونا فقط رسمی جنگ میں شکست کا نتیجہ ہر گز نہ تھا۔ غیر رسمی جنگ ہم رسمی جنگ سے قبل ہی ہار چکے تھے۔

ابھی پھر منظر یہ ہے کہ ایک ملزم کے خلاف سزاے موت کا فیصلہ آتا ہے اس کے حق اپیل کے استعمال سے قبل ملک کا سب سے طاقتور ادارہ ملزم کے دفاع میں کھلم کھلا دلائل دینے لگتا ہے اور قوم کو اچانک ہائبرڈ وار سے خبردار کرتا ہے۔

اگر تو ہماری ریاست صوبوں کو ان کے دستوری و قانونی حقوق دے چکی ہے اور انسانی حقوق کا مکمل خیال رکھنے کی سرتوڑ کوشش کرتی ہے اور آئین کو مقدس جانتے ہوے تمام اداروں کی عزت کرتی ہے تو پھر یقین جانئے کہ ہمارے خلاف کوئی بھی ہائبرڈ وار آسانی سے ہر گز نہیں جیت سکتا۔ یہی تاریخ کا درس ہے۔ بصورت دیگر ابھی دسمبر ہے اور 16 دسمبر کو گزرے ابھی ہفتہ بھی نہیں ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •