عابد علی: پاکستانی اوپنر کا ٹیلنٹ پرکھنے کے لیے صرف چار گیندیں کافی

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عابد

Getty Images

انٹرنیشنل کرکٹ میں آنے کے بعد عابد علی جس مستقل مزاجی سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں اس کے بعد یہ سوال بڑی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ انھیں پاکستانی ٹیم سے اتنا عرصہ دور کیوں رکھا گیا؟

عابد علی انٹرنیشنل کرکٹ میں آتے ہی تاریخ ساز بلے باز بن چکے ہیں۔ وہ دنیا کے پہلے بلے باز ہیں جنھوں نے اپنے اولین ون ڈے انٹرنیشنل اور ٹیسٹ میچ میں سنچری سکور کی ہے۔

سابق کپتان رمیز راجہ کہتے ہیں کہ انھیں اس بات پر حیرانی ہے کہ عابد علی پہلا انتخاب کبھی نہیں رہے مطلب یہ کہ کوئی ان فٹ ہو گا یا آؤٹ آف فارم ہو گا تو ان کا نمبر آئے گا۔

سوال یہ ہے کہ ٹیلنٹ کو پرکھنے والی آنکھ کہاں ہے؟ عابد علی جیسے بیٹسمین کو آپ نیٹ میں یا میچ میں صرف چار گیندیں کھیلتا دیکھ لیں تو آپ کو آئیڈیا ہو جاتا ہے کہ ان کی کیا کلاس ہے۔

مزید پڑھیے

پاکستانی اوپنر عابد علی کو سچن سے ملنے کی امید

مسلسل عمدہ کارکردگی عابد علی کو ٹیم میں لے آئی

پہلا ٹیسٹ میچ ڈرا: عابد اور بابر کی سنچریاں

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ عابد علی کو ستائیس اٹھائیس سال کی عمر میں دیکھ لیا جاتا اور انٹرنیشنل کرکٹ میں موقع دے دیا جاتا۔

عابد علی کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے ہنستے مسکراتے چیلنج قبول کیا ہے اور یہ شکوہ نہیں کیا کہ وہ دس سال تک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں آئے ہیں۔

دراصل یہ ان کرکٹرز کے لیے بہت اچھی مثال ہے جو ڈومیسٹک کرکٹ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ شاید ان پر بھی سلیکٹرز کی نظر پڑ جائے۔

رمیز راجہ نے جہاں ایک جانب عابد علی کی خوبیاں گنوائی ہیں تو دوسری جانب انھوں نے پاکستان کے ڈومیسٹک سسٹم میں پائی جانے والی اس خرابی کو بھی اجاگر کردیا ہے جس میں تواتر کے ساتھ پرفارمنس دینے والے کرکٹرز کے لیے طویل انتظار ہے اور ان میں سے بیشتر انٹرنیشنل کرکٹ میں آنے سے رہ جاتے ہیں۔

عابدعلی سنہ 2007 سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہے ہیں اور اس عرصے میں وہ بیس سنچریاں سکور کر چکے ہیں جن میں چار ڈبل سنچریاں بھی شامل ہیں۔

عابد

Getty Images

عابد علی نے گزشتہ سال پاکستان اے کی طرف سے آسٹریلیا، انگلینڈ لائنز اور نیوزی لینڈ اے کے خلاف شاندار بیٹنگ کی تھی۔

ان ٹیموں کے خلاف فرسٹ کلاس میچوں میں انہوں نے 85، 52، 113، 104٭، 83 اور 61 رنز کی اننگز کھیلی تھیں جبکہ انگلینڈ لائنز کے خلاف دبئی کے ون ڈے میچ میں انھوں نے 140 رنز سکور کیے تھے لیکن اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب انھیں کہا گیا کہ وہ یہ سیریز چھوڑ کر پاکستان جائیں جہاں قائداعظم ٹرافی کے فائنل میں ان کی ٹیم کو ان کی ضرورت ہے۔

عابد علی کے لیے وہ کٹھن لمحہ تھا کیونکہ انھیں یقین نہیں آرہا تھا کہ غیر ملکی ٹیموں کے خلاف اتنی اچھی کارکردگی کے باوجود انھیں وطن واپس بھیجا جاسکتا ہے لیکن انھوں نے یہ چیلنج بھی خوش دلی سے قبول کیا اور حبیب بینک کی طرف سے کھیلتے ہوئے سوئی ناردرن گیس کے خلاف فائنل میں سنچری بنا ڈالی۔

عابد

Getty Images

عابد علی کا کہنا ہے کہ سو سے زائد فرسٹ کلاس میچز کھیلنے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا انھیں فائدہ ہوا ہے۔

انھوں نے جو سخت محنت اور ہوم ورک کیا ہوا ہے اس سے انھیں بہت زیادہ اعتماد ملا ہے۔ انھوں نے یہ سوچ رکھا تھا کہ جب بھی انھیں انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔

کراچی ٹیسٹ میں اپنی سنچری اور شان مسعود کے ساتھ ڈبل سنچری اوپننگ پارٹنرشپ کے بارے میں عابد علی کا کہنا ہے کہ سری لنکا کی 80 رنز کی برتری کی وجہ سے ہم پر دباؤ تھا لیکن ہم دونوں نے یہ سوچ لیا تھا کہ مثبت کرکٹ کھیلنی ہے اور سٹرائیک بدلتے رہنی ہے۔

عابد علی اور شان مسعود نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 278 رنز کا اضافہ کیا۔ وہ صرف بیس رنز کی کمی سے پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑی اوپننگ پارٹنرشپ کا ریکارڈ برابر نہ کر سکے جو عامرسہیل اور اعجاز احمد نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اسی نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں قائم کیا تھا۔

شان مسعود کا کہنا ہے کہ جب وہ آؤٹ ہو کر ڈریسنگ روم میں آئے تو اسد شفیق نے بتایا کہ بیس رنز کی کمی سے وہ اوپننگ پارٹنرشپ کا نیا ریکارڈ برابر نہیں کر سکے ہیں جس کا افسوس بھی تھا لیکن ساتھ ہی اس بات کا اطمینان بھی تھا کہ ہم دونوں ٹیم کو ایک اچھی پوزیشن میں لے آئے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15953 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp