برطانیہ: چند سیکنڈ کے فائدے سے کروڑوں پاؤنڈ کمانے والے لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک ہاتھ میں الارم کلاک اور ایک میں سِکے

Getty Images
آڈیو لیک کا مطلب یہ ہے کہ تاجروں کو پانچ سے آٹھ سیکنڈ پہلے ہی بینک حکام کے بیان تک رسائی حاصل ہو گئی۔

برطانیہ کے بینک آف انگلینڈ نے اعتراف کیا ہے کہ سٹاک اور بانڈز کا لین دین کرنے والے تاجروں نے اس کی پریس کانفرنس کی آڈیو تک خفیہ رسائی حاصل کی جس کی وجہ سے سٹے بازوں کو چند قیمتی سیکنڈ حاصل ہو گئے جو ڈیل کرنے میں فائدہ مند ہوتے ہیں۔

صرف تھوڑے سے وقت کا فرق ’ہیج فنڈز‘ کو وہ فائدہ دے سکتا ہے جس کے ذریعے سے سرمایہ کار لاکھوں پاؤنڈ کما سکتے ہیں۔

اتنے کم فرق کا فائدہ صرف کاروبار ہی میں نہیں ہوتا بلکہ کھیلوں میں سٹے بازوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بڑا منافع حاصل کرنے کے لیے کسی بھی موقع پر پر باقی لوگوں سے کچھ لمحے پہلے چال چلیں۔

بینک کو شکست

بینک آف انگلینڈ کے گورنر باقاعدگی سے پریس کانفرنس کر کے عوام کو معیشت کے احوال سے آگاہ کرتے ہیں۔

بینک کے حکام کی طرف سے شرح سود سے متعلق فیصلوں جیسے حساس موضوعات پر بات چیت برطانوی کرنسی اور منڈی میں فروخت ہونے والے دیگر اثاثوں کی قیمت پر سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اثر ڈالتی ہے۔

اس سے پہلے کہ عوام بذریعہ ویڈیو پریس کانفرنس دیکھتے، بینک آف انگلینڈ کی آڈیو فِیڈ لِیک ہو گئی۔

بینک آف انگلینڈ

Getty Images
بینک آف انگلینڈ دنیا کے طاقت ور ترین سنٹرل بینکوں میں سے ایک ہے

بینک کا کہنا ہے کہ اس کے سپلائیرز میں سے ایک نے آڈیو فیڈ کا غلط استعمال کیا۔ یہ آڈیو ویڈیو براڈکاسٹ کے ناکام ہونے کی صورت میں استعمال ہونے کے لیے محفوظ کی گئی تھی۔

اس آڈیو لیک کا مطلب یہ ہے کہ تاجروں کو پانچ سے آٹھ سیکنڈ پہلے ہی بینک حکام کے بیان تک رسائی حاصل ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کی معیشت میں مسلسل گراوٹ

انڈیا میں ہر میچ پر اربوں کا دھندا کیسے ہوتا ہے

سعودی آرامکو کی قیمت کا تخمینہ 17 کھرب ڈالر

انڈین کمپنی کے ایک ہی دن میں 53 ہزار کروڑ کیسے ڈوبے؟

سب سے پہلے یہ خبر نشر کرنے والے ٹائمز اخبار کا کہنا ہے کہ پریس کانفرنسوں تک پہلے سے ہی رسائی حاصل کرنے کا سلسلہ اس سال کے آغاز سے چل رہا ہے۔

بینک آف انگلینڈ کے مطابق یہ لیک ‘آڈیو فیڈ کا مکمل طور پر ناقابلِ قبول استعمال’ تھا اور ہیج فنڈز نے ‘بینک کے علم اور اجازت کے بغیر’ اس آڈیو کا استعمال کیا، اس بارے میں تفتیش جاری ہے۔

مارک کارنی بینک آف انگلینڈ کے گورنر

AFP
مارک کارنی بینک آف انگلینڈ کے گورنر ہیں

دی ٹائمز کے مطابق اس نے دستاویزات دیکھے ہیں کہ آڈیو تاجروں کو کیسے فروخت کی گئی۔ سبسکرپشن فیس کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کی آڈیو ایک صارف کو 2500 سے 5000 پاؤنڈ میں بیچی گئی۔

رپورٹس کے مطابق یوریپیئن سنٹرل بینک، یو ایس فیڈرل ریزرو اور بینک آف کینیڈا کی پریس کانفرنسیں بھی لین دین کرنے والی فرمز کے لیے دستیاب تھیں۔

لیکن یہ پہلی بار نہیں ہے جب لوگوں نے وقت کے کم فرق سے بڑا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

نظام میں دخل اندازی

ہائی فریکوئنسی ٹریڈنگ کرنے والے تاجران انتہائی تیز رفتار کمپیوٹر اور انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں تاکہ منڈی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر سب سے پہلے ردِعمل دیں۔

اگر دیگر کمپنیاں معلومات حاصل کرنے کے لیے زمینی وائرڈ نیٹ ورکس کا استعمال کرتی ہیں تو ہائی فریکوئنسی تاجران مائکروویو سگنلز کا استعمال کرتے ہیں۔

Microwave transmission/reception equipment is visible atop a tower at a WorldCom in the US.

Getty Images
مائکرویو مواصلات تاجران کو چھوٹا مگر اہم فائدہ پہنچاتا ہے

اس وجہ سے سیکنڈ کی بچت بھی انھیں اتنا فائدہ پہنچاتی ہے کہ وہ اپنے حریفوں سے پہلے چال چل لیتے ہیں اور حصص، بانڈز اور کرنسی کے عوض لاکھوں پاؤنڈ کما لیتے ہیں۔

مائیکل لیوس نامی مصنف اپنی کتاب ‘فلیش بوائز’ کے ذریعے ہائی فریکوئنسی ٹریڈنگ کو منظرِ عام پر لائے۔ لیوس نے 2015 میں بی بی سی کو بتایا کہ ‘اب یہ کہنا بجا ہو گا کہ امریکی بازارِ حصص میں دخل اندازی ہوتی ہے۔’

کہا جاتا ہے کہ ہائی فریکوئنسی ٹریڈنگ کا 2010 میں امریکی بازارِ حصص کے ‘فلیش کریش’ سے تعلق ہے جس نے چند منٹوں کے لیے ایک ٹریلین مالیت کے حصص مٹا دیے۔

‘بنیادی طور پر یہ دھوکہ دہی ہے’

صرف فنانس کی دنیا میں ہی وقت پیسہ نہیں ہے، آپ کھیلوں میں بھی پیسہ بنا سکتے ہیں اگر آپ کو سب سے پہلے پتا چل جائے کہ کیا ہونے والا ہے۔

ان میں ایک تکنیک کو کورٹ سائیڈنگ کہتے ہیں اور بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک ماہر سٹے باز نے کہا کہ ’یہ بنیادی طور پر دھوکہ دہی ہے۔’

‘جو’ پروفیشنل ٹینس ٹورنامنٹس میں جا کر ہجوم میں بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ فون پر اپنے ساتھی سے بات کرتے ہیں جو آن لائن گیمبلنگ سائٹ پر موجود ہوتے ہیں۔

جب ایک کھلاڑی کو پوائنٹ ملتا ہے تو جو اپنے ساتھی کو نتیجہ بتا دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ امپائر کے سرکاری طور پر الیکٹرونک ٹیبلٹ پر نتیجہ ڈالنے سے پہلے ہی سٹہ لگا دیں۔

ٹینس کا میچ

Getty Images
ٹینس کا شمار ان کھیلوں میں ہوتا ہے جن میں رنگ سائیڈ بیٹنگ ہوتی ہے

اگر یہ سکیم کام کر جائے تو وہ ایک ایسی چیز پر سٹہ لگا رہے ہوتے ہیں جو پہلے سے ہی ہو چکی ہوتی ہے مگر کچھ سیکنڈوں کا فرق انھیں آن لائن سٹے بازوں پر سبقت دیتا ہے۔

حکام ان کارروائیوں کی روک تھام کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔

بکیز ان لوگوں کے اکاؤنٹ بند کر دیتے ہیں جو بارہا اس قسم کی بازیاں جیتتے نظر آتے ہیں اور ٹورنامنٹ کے دوران فون استعمال کرنے والے لوگوں کو باہر نکال دیا جاتا ہے۔

جو نے اپنے بال کندھے تک بڑھا رکھے ہیں تاکہ وہ اپنا وائرلیس ہیڈ سیٹ چھپا کر ساتھی سے بات کر سکیں۔

یہ ان چند چیزوں میں سے ایک ہے جن کی مدد سے لوگ کچھ سیکنڈوں جیسے فوائد حاصل کرتے ہیں جو ان کے لیے بڑے انعام کا سبب بنتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12783 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp