ضم شدہ اضلاع میں عوامی سہولت کے مراکز کا قیام: درست سمت میں قدم

خیبر پختونخوا میں نئے ضم شدہ ضلع کُرّم کے علاقے پاڑہ چنار کی رہائشی ثمرین کے لئےنئی انتظامی تبدیلیوں اور اس کے تحت اٹھائے جانے والے اقدامات کا ایک خوش آئند پہلو عوامی سہولت کے مراکز کا قیام ہے، وہیں کی رہائشی ہونے اور پھر پاڑہ چنار میں قائم مرکز سے بطور لیڈی سرچر وابستہ ہونے کے باعث ان کو روزانہ کی بنیاد پر آس پاس کے قصبوں اور گاؤں سے آنے والی خواتین سے بات چیت کا موقع ملتا ہے، سب کے لئے یہ بات باعث طمانیت ہے کہ چند بنیادی سہولیات کی وہاں دستیابی نے ان کی زندگی بہت سہل کر دی ہے۔

ثمرین بتاتی ہیں، ’’اس سے قبل یہاں کے رہائشیوں کو شناختی کارڈ، بچوں کے فارم ب کے اندراج، برتھ سرٹیفیکیٹ، نکاح نامے وغیرہ بنانے کے لئے دیگر اضلاع جیسے کوہاٹ یا صوبائی دارالحکومت پشاور اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جانا پڑتا تھا، جس میں توانائیوں، وقت، اور سفری اخراجات اور وہاں قیام کی مد میں پیسوں کا ضیاع ہوتا تھا۔ ان کاغذات کے بنانے کے عمل میں توثیق و تصدیق(اٹیسٹیشن) کا مرحلہ کافی مشکل ہوتا، اس میں کئی کئی دن لگ جاتے، پھر افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد ، افغان مہاجرین کی موجودگی، اور ان محکموں سے جڑے رشوت ستانی کے سلسلے کے باعث اورتصدیق کے عمل میں پیچیدگی کی بنا ء پر قبائلی اضلاع کے لوگوں کے جینوئن کیسز بھی کئی کئی ماہ تاخیر کا شکار ہوجاتے ۔ ان مشکلات کے باعث مردوں کی اچھی خاصی تعداد اورخواتین کی اکثریت قومی شناختی کارڈ سے محروم رہتی تھی۔‘‘

’’اب الحمدللہ ایسا نہیں ہے ‘‘ لوئر کُرّم کے گاؤں جلندھر سے بنیادی سہولت مرکز آئے ہوئے بزرگ شہری قنبر خان نے کہا، ’’یہاں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں، عملہ بھی علاقے کا ہے، پھر اگر تصدیق کے لئے کہا جائے تو مقامی سطح پر ایسے لوگ موجود ہیں، اس لئے یہاں موجود عوامی سہولت مراکز نے بڑی آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔‘‘

یہ صرف ضلع کرّم کا ہی نہیں ، تمام قبائلی علاقوں کا مسئلہ تھا، اسی لئے جب بدامنی کے دنوں میں عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی رجسٹریشن، اور امداد و اعانت کے بندوبست کا معاملہ پیش آیا تو شناختی دستاویزات کی عدم موجودگی نے مزید مشکلات پیدا کیں، ان علاقوں کے مردوں کو روزگار اور کاروبار کے سلسلے میں ملک کے دیگر حصّوں میں جانا ہوتا تھا، تو وہ تو پھر بھی جیسے تیسے کر کے شناختی کارڈ بنوا لیتے، لیکن خواتین کی اکثریت کو شاذو نادر ہی اپنے گاؤں اور دیہاتوں سے نکلنے کا موقع ملتا تھا، شناختی کارڈز کی عدم موجودگی نے ان کو سیاسی نمائندگی سے بھی محروم کر رکھا تھا۔

عوامی سہولت مراکز (سٹیزن فیسلی ٹیشن سینٹرز) کا سلسلہ اگرچہ نیا ہے، اور اس پر حالیہ چند ماہ میں ہی عملی کام شروع ہوا ہے، لیکن ضم شدہ اضلاع میں مقامی سطح پر سہولیات کی فراہمی کا عمل نیا نہیں، اس کی شروعات قبائلی علاقوں میں ملٹری آپریشنز کے دوران وہاں سے پختونخوا کے دیگر اضلاع کو نقل مکانی کرنے والی آبادی (ٹمپریرلی ڈسپلیسڈ پیرسنز یا ٹی ڈی پیز) کو مختلف مدات میں مالی معاونت کی فراہمی کی خاطر قائم کیے گئے صدائے امن خدمت مراکز (ون سٹاپ شاپس یا او ایس ایس) سے ہوئی تھی۔

یہ مراکز محکمۂ ریلیف اور آبادکاری کی جانب سے قائم کیے گئے تھے، جو ٹی ڈی پیز کو گزر بسر (لائیولی ہڈ گرانٹ) کی مد میں سولہ ہزار روپے (چار ہزار کی چار اقساط) بچوں کی نگہداشت کے لئے (چائلڈ ویلنیس گرانٹ) کی مد میں ساڑھے سات ہزار روپے (پچیس سو روپے کی تین اقساط)، اور گھروں کو واپسی کے موقع پر بحالی کی خاطر یکمشت پینتالیس ہزار روپے ادائیگی کرتے آ رہے ہیں۔

اسی غرض سے پاڑہ چنار میں قائم مرکز میں لوئر کرم کے علاقے صدّہ سے آئی ہوئی خاتون خان نواب جو نے بتایا، ’’ وہ بچوں کی نگہداشت کی مد میں دی جانے والی رقم (چائلڈ ویلنس گرانٹ) لینے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرکز سے ان کے لئے یہ آسانی ہوئی ہے کہ اسے اپنے بچّے ساتھ لانے یا گھر چھوڑنے کی صورت میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی کیونکہ وہ چند گھنٹوں ہی میں گھر لوٹ جاتی ہیں، اگر یہی سہولت حاصل کرنے کسی دوسرے قریبی ضلع جانا پڑتا تو ان کے لئے بہت دقّت ہوتی۔‘‘

اسی مرکز میں بطور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کام کرنے والی خاتون نرگس نے بتایا کہ یہاں کثیر تعداد میں آنے والی خواتین کو نہ صرف بچوں کی نگہداشت کی مد میں مالی مدد بذریعہ اے ٹی ایم کارڈز فراہم کی جا رہی ہے (جس کے لئے نیشنل بنک کے اے ٹی ایم نصب ہیں) بلکہ یہاں قائم خصوصی ڈیسک پر موجود لیڈی ہیلتھ وزیٹر (ایل ایچ وی) ان کو ماں کے دودھ، بچوں کی پرورش اور دیکھ بال، غذائی ضروریات کے حوالے سے آگہی سیشنز منعقد کرتی ہیں، جب کہ بچوں کی ویکسی نیشن بھی کی جاتی ہے۔

ٹی ڈی پیز کے اپنے گھروں کو واپسی کے بعد ان رقومات کی ادائیگی مقامی سطح پر پانچ اضلاع میں پندرہ صدائے امن خدمت مراکز (ون سٹاپ شاپس یا او ایس ایس) قائم کیے گئے، جن میں ضلع خیبر میں چار، شمالی وزیرستان میں چار، جنوبی وزیرستان میں تین، جب کہ ضلع کرم اور اورکزئی میں دو دو مراکز قائم کیے گئے، بعد ازاں لوگوں کی سہولت کے لئےنیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات جیسے قومی شناختی کارڈ کا اجراء، سمندر پار پاکستانیوں کے لئے قومی شناختی کارڈ کا اجراء، چائلڈ رجسٹریشن سر ٹیفکیٹ ،فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی خدمات فراہم کر دی گئیں۔

محکمہ ریلیف اور آبادکاری کی جانب سے خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے ساتھ اشتراک کے نتیجے میں ساتوں ضم شدہ اضلاع میں عوامی سہولت مراکز (سٹیزن فیسلی ٹیشن سینٹرز یا سی ایف سیز) کے قیام کا فیصلہ ہوا تو پہلے سے موجود ان پندرہ مراکز کی اپ گریڈیشن کر کے ان کو سٹیزن فیسلی ٹیشن سینٹرز میں تبدیل کر دیا گیا اور ای سہولت کے تحت یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی، سیلولر ٹاپ اپ اور نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیمز کی آن لائن درخواستیں جمع کرنے کا نظام، ای ٹی او اسلام آباد، اور نیشنل بینک کے اے ٹی ایم کی خدمات کا اضافہ بھی کر دیا گیا۔

ساتھ ہی مزید بارہ سہولت مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں ضلع باجوڑ میں چار، ضلع مہمند میں تین جب کہ دیگر پانچ اضلاع میں پہلے سے قائم سی ایف سیز میں مزید ایک ایک کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے صوبائی حکومت نے ضلعی انتظامیہ کو زمین کی فراہمی کی ہدایات جاری کیں تھیں، نئے مراکز اگلے سال فروری میں کام شروع کر دیں گے۔

ان اقدامات سے ضم شدہ اضلاع کے لوگوں کا نہ صرف قیمتی وقت اور سرمایہ بچ رہا ہے، بلکہ مقامی سطح پر ان سہولیات کی دستیابی دیگر علاقوں میں ان کے لئے تصدیق اور توثیق کے صبر آزما مراحل سے گزرنے سے بھی بچا دیتی ہے۔ ان علاقوں کے عوام نے جہاں بدامنی کے دنوں میں شدید مشکلات و مصائب دیکھے ہیں، انضمام کے نتیجے میں مرکزی دھارے میں شامل ہونے کے بعد ان کے لئے تمام سہولیات کی ترجیحی بنیادوں اور مقامی سطح پر فراہمی، ترقی اور معاشی خوشحالی کی شروعات ان میں موجود بے یقینی اور شکایات کے ازالے کے لئے ممدو معاون ہوگی۔

 صوبے میں ضم ہونے کے بعد ان علاقوں میں انفراسٹرکچر کی تعمیر، معاشی ترقی، اور بنیادی سہولیات اور خدمات کی فراہمی کے چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومت جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، اور اس مقصد کے لئے جہاں قبائلی اضلاع کی ترقی کے لئے دس سالہ منصوبہ (ٹرائبل ڈیکیڈ سٹریٹجی یا ٹی ڈی ایس) ترتیب دیا گیا ہے، اس کے ساتھ ہی کچھ اقدامات ایسے ہیں جن کی شروعات ہی ان اضلاع سے کی گئی ہے، اور وہاں سے حاصل شدہ تجربات کے بعد پورے صوبے میں ان کو دہرایا جا رہا ہے۔ بنیادی سہولیات اور خدمات کی ایک چھت تلے ایک ہی مقام پر دستیابی کی خاطر سٹیزن فیسلی ٹیشن سینٹرز (سی ایف سی) کا قیام ایسے ہی تجربے کی توسیع ہے، اس لئے پانچ ضم شدہ اضلاع میں قائم سی ایف سیز کی تعداد میں اضافے، دیگر دو اضلاع تک ان کی توسیع، اور اگلے مرحلے میں صوبے بھر میں تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ایسے مراکز کا قیام عمل میں لانا ہے۔

دوہزار بیس کے اختتام تک تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں سی ایف سیز قائم کر دیے جائیں گے، اور موجودہ سی ایف سیز میں دستیاب خدمات میں اضافہ کرتے ہوئے پاسپورٹ کاونٹرز، بینظیر اِنکم سپورٹ پروگرام کاؤنٹرز ، سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم کاؤنٹرز، برتھ سرٹیفکیٹس، ڈیتھ سرٹیفکیٹس، میرج سرٹیفکیٹ، ڈومیسائل، مختلف تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیوں کے سرٹیفکیٹس کی فراہمی، اراضی کی منتقلی، جائیداد سے متعلق دستاویزات کی فراہمی، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور تجدید، ڈرائیونگ لائسنس، اسلحہ لائسنس، خیبر بینک کی اے ٹی ای مشینز، ٹریفک چالان اور روٹ پرمٹ شامل ہیں۔

باڑہ بازار ضلع خیبر میں قائم ایسے ہی ایک عوامی سہولت مرکز میں آئے ہوئے بزرگ شہری فاروق نے بتایا کہ اس مرکز کے قیام سے قبل انہیں پشاور جانا پڑتا تھا، اس سے قبل اپنی دستاویزات کی تصدیق کے لئے تین چار مراحل سے گزرنا پڑتا جو علاقہ مشران سے شروع ہو کر تحصیل دار اور اسسٹنٹ کمشنر اور پھر ڈپٹی کمشنر تک چلتا، تب کہیں جاکر معاملہ آگے بڑھتا، اب ہمیں کافی سہولت ہوگئی ہے، اور مزید سہولیات کا اضافہ ہمارا دیگر اضلاع یا علاقوں پر انحصار ختم کر دے گا۔

باڑہ سے تعلق رکھنے والے پشاور یونیورسٹی کے طالب علم نصیر خان کہتے ہیں کہ اگرچہ اصلاحات کی رفتار اور اس کے لوگوں کی زندگیوں پر اثرات کا سلسلہ مزید تیز ہونا ضروری ہے لیکن درست سمت میں اقدامات سے اعتماد کی بحالی کا عمل ضرور شروع ہوا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
الف عین کی دیگر تحریریں