وفاقیت کا تصور اور پاکستان میں وفاقیت کی بنیادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی نظامِ حکومت (فیڈرل ازم) لاطینی زبان کا لفظ ہے جو لفظ فیوڈوس سے نکلا ہے۔ جس کے معنی معاہدہ کرنا یا اتفاقِ رائے سے فیصلہ سازی کرنا ہے۔ مختلف قومیں رضاکارانہ طور پر اپنے مفادات کے لیے یکجا ہو کر اختیارات اور طاقت کو جدید ریاست میں منتقل کرتی ہیں اور انہیں مرکز اور وحدتوں میں تقسیم کر کے ایک متوازن آہنی ڈھانچہ تشکیل دیتی ہیں۔

آکسفورڈ ڈکشنری میں فیڈرل ازم کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے۔

” A system of government in which the individual states of a country have control over their own affairs، but they share powers and controlled by central government for collective decisions“۔

ترجمہ: ایک ایسا حکومتی نظام جس میں ریاستیں یا قومیں اپنے اندرونی معاملات میں مکمل خودمختار ہوتی ہیں۔ لیکن وہ ریاستیں اور قومیں مل کر مرکزی حکومت کے ذریعے اپنے اجتماعی فیصلے کرتی ہیں۔

درج بالا وضاحت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایک سے زیادہ قومیں مل کر وفاق بناتی ہیں۔ وفاق حکومت اور وفاقی اکائیاں اپنے آئینی اختیارات رضاکارانہ طور پر تقسیم کر کے ریاستی امور چلاتی ہیں۔

وفاقی طرزِ حکومت میں اختیارات تین واضح سطحوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔

1۔ مرکز

2۔ وحدت

3۔ لوکل گورنمنٹ (بلدیاتی ادارے )

وفاقی آئین میں ان تینوں سطحوں کے اختیارات کا تعین واضح ہوتا ہے اور سب اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی بھی اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کرے تو اس کے تدارک کے لیے آزاد اور با اختیار عدلیہ موجود ہوتی ہے۔

وفاقی آئین کی خصوصیات

وفاقی ریاست کے آئین میں بنیادی طور پر پانچ خصوصیات کا ہونا لازمی ہے، جو کہ درج ذیل ہیں۔

1۔ آئین کی بالادستی

2۔ اختیارات کی تقسیم

3۔ آزاد عدلیہ

4۔ سخت گیر آئین (مرکز آسانی سے ترمیم نہ کر سکے )

5۔ تحریری آئین (اختیارات اور ذمہ داریاں تحریری شکل میں ہوں )

حقیقی وفاقی نظامِ حکومت کا تصور ان خصوصیات کے بغیر ناممکن ہے۔ ان میں سے اگر ایک بھی خصوصیت آئین میں موجود نہ ہو تو وہ حقیقی وفاقی آئین نہیں کہلاتا۔ اٹھارویں صدی کے روشن فکر خیالات پر مشتمل دنیا کی پہلی وفاقی ریاست امریکہ میں قائم ہوئی۔ امریکی آئین میں وہ تمام خصوصیات شامل ہیں جو ایک وفاقی آئین میں ہونی چاہیے۔ امریکی آئین میں اقوام کے نمائندہ ادارہ یعنی سینیٹ کو طاقت ور ادارے کی حیثیت حاصل ہے۔ سیاسی اور آئینی ماہرین کے مطابق امریکی سینٹ اس وقت دنیا میں طاقت ور ترین ایوانِ بالا ہے۔

امریکی آئین میں اداروں کے مابین اختیارات میں توازن (چیک اینڈ بیلنس) کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ صدر، کانگریس اور عدلیہ ایک دوسرے کے اختیارات کی نگرانی اور آپس میں عوام اور ریاست کے مفادات کی نگہبانی کے لیے اختیارات استعمال کرتے ہیں۔ مثلآ صدر کو کانگریس سے پاس شدہ بل کو مسترد (ویٹو) کرنے کا اختیار ہے۔ اسی طرح سینیٹ کو اہم تعیناتی اور بین الاقوامی معاہدات کی توثیق کا اختیار حاصل ہے اور اس کے لیے سینیٹ میں مخصوص اکثریت سے پاس ہونا لازمی ہے۔ اسی طرح داخلی معاملات میں وحدتوں کو قانون سازی میں مکمل خودمختاری حاصل ہے۔

پاکستان میں وفاقیت کی بنیادیں

قیام پاکستان سے چند سال پہلے جناح صاحب نے 8 نومبر 1945 میں امریکی پریس ایسوسی ایٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا آئین وفاقی ہوگا جس میں امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلین کے مطابق دفاع، کرنسی اور خارجہ امور وفاق کے پاس ہوں گے اور دیگر تمام اختیارات وفاقی اصولوں کے مطابق وحدتوں کے پاس ہوں گے۔

مسلم لیگ کا ہمیشہ سے ہی یہ مؤقف رہا ہے کہ ہندوستانی ریاستوں کو خودمختار کیا جائے۔ مسلم لیگ نے انڈین ایکٹ 1935 ء کے مرکزیت کے خلاف باقاعدہ مطالبات پیش کیے۔ درحقیقت تحریکِ پاکستان بنیاد اکثریتی قبضہ گیری اور جمعداری کے خلاف ہندوستانی ریاستوں کی داخلی امور میں خودمختاری تھی۔

1940 کی قرارداد میں مسلم لیگ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ہندوستان کی ریاستوں کو اندرونی خودمختاری دی جائے۔ تقسیم سے پہلے مسلم لیگی قیادت وفاقی وحدتوں کو خودمختاری کے حق میں تھی لیکن پاکستان بننے کے بعد مسلم لیگ کی قیادت اپنے ہی مطالبات سے منحرف ہو گئی اس کی مثال 1940 کی قرارداد کے مطابق وحدتوں کی خودمختاری کو ایک طرف رکھ کر ون یونٹ کا نفاذ تھا۔

دوسری طرف پاکستان کا پہلی آئین 1956 اور دوسرا آئین 1962 میں مرکز میں قوموں کے نمائندہ ادارہ سینیٹ (ایوانِ بالا) کا تصور نہیں تھا۔ پہلی بار 1973 میں سینیٹ کو آئین کا حصہ اس وقت بنایا گیا جب مشرقی حصہ ہم سے الگ ہوگیا تھا۔

زندہ قومیں سیاسی اور قومی حقوق و مفادات پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرتیں۔ انگریزوں کے خلاف ہندوستان میں اختیارات سے محرومی کی وجہ سے بنگالیوں نے پاکستان کی تحریک میں مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے اہم کردار ادا کیا اور بعد میں یہ لوگ یہ سوچنے پر کیوں مجبور ہوگئے کہ وہ خود کو مسلم بنگالی کے بجائے بنگالی مسلم کہنا پسند کریں؟

ابنِ خلدون ( 1406۔ 1332 ) کے مطابق ”ریاستی شناخت کے لیے قومیت کو مذہب پر سبقت حاصل ہوتی ہے“۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ کے دو سال بعد حکمرانوں نے 1973 بلوچستان میں حکمران جماعت نیپ کی حکومت کو ختم کیا جو کہ مرکز کی طرف سے قومی وحدت کی خودمختاری پر حملہ تھا اور وفاقی اصولوں کی خلاف ورزی تھی۔

ایوب خان نے غیرجمہوری بنیادی جمہوری نظام، ضیاءالحق نے آمرانہ صدارتی نظام اور پرویز مشرف نے بھی غیرجمہوری اور نیم پارلیمانی نظام کے ذریعے پارلیمنٹ کو اپنے کنٹرول میں رکھ کر ریاستی قومیت اور قوموں کے تحفظ و حقوق کے ارتقائی عمل کو شدید متاثر کیا۔ ماضی کی ان تمام مارشل لا حکومتوں نے ریاست کی وفاقی روح کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا اور افسوس حکمران اب بھی آئینی جمہوریت اور وفاقیت سے خائف ہیں اور غلط راستوں پہ چل رہے ہیں۔

اگر ہم وفاقی اصولوں پر مشتمل وفاقی ریاست کے آئین کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے آئین کا تقابلی مطالعہ کریں تو یہ بات ثابت ہوگی کہ پاکستان محض نام کا وفاق ہے۔ آئین میں وفاقی اصولوں کو ہمہ گیر اہمیت نہیں دی گئی جس کا تصور جناح صاحب نے پیش کیا تھا اور نہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک اس سلسلے میں کوئی سنجیدہ کوشش ہوئی ہے۔

مرکزی حکومت کی صوبے میں مداخلت اور صوبے میں سیلیکٹڈ حکومت سازی لانے کا عمل آج بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ بلوچستان میں 2018 کے عام انتخابات میں باپ نامی پارٹی کی تشکیل اور سازش کے تحت الیکش میں کامیابی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ درحقیقت مرکز کا یہ عمل قومی وحدتوں پر حملہ ہے اور عوام کو ان کے حقیقی نمائندوں سے محروم کرنا ہے جس سے معاشرے میں انتشار اور عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔

حالاں کہ پاکستان جیسی کثیر لاقوامی ریاست میں وفاق کو مضبوط کرنے کے لیے آئینی جمہوریت ہی واحد اور زبردست آلہ ہے۔ اس کے بغیر مضبوط وفاقی ریاست کا تصور ممکن نہیں۔ لیکن بدقسمتی سے جمہوریت کو کبھی بھی وہ مقام نہیں ملا جو اس ملک کی ضرورت رہی ہے۔

وفاقی ریاستوں کی تاریخ کے مطالعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف قومیں داخلی خودمختاری سے اپنی شناخت اور وسائل پر کنٹرول رکھتی ہیں بلکہ ریاستی قومیت بھی مضبوط ہوتی ہے جو بالآخر بیرونی حملہ آوروں کے خلاف یک جا ہو کر ریاستی دفاع کے لیے ملک کے عوام کو ہر وقت تیار رکھتی ہیں۔

پاکستان کو حقیقی وفاق بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وفاقی اکائیوں کی رضا اور منشا سے پالیسیاں مرتب کی جائیں اور وفاقی اصولوں پر مشتمل آئینی ترامیم کا سلسلہ بڑھایا جائے۔ اور آئین کی بالادستی کے بنیادی اصول کو تسلیم کرتے ہوئے وفاق اور وفاقی اکائیوں کے مابین اختیارات وفاقی اصولوں کے مطابق تقسیم کیے جائیں اور ان آئینی حقوق کے تحفظ اور عوام و اقوام کو انصاف کی فراہمی کے لیے آزاد عدلیہ کی بنیاد کو یقینی بنایا جائے۔

بصورتِ دیگر غیر جمہوری طرزِ فکر اور وفاقی اصولوں سے انحراف کے تسلسل سے ریاست میں معاشی، سیاسی اور سماجی عدم استحکام خطرناک شکل اختیار کرے گا۔ جہاں سے واپسی کا راستہ ناممکن ہوگا۔ لہٰذا وفاقی نظام کی خصوصیات، وفاقی مسلمہ عالمی مفہوم اور جمہوری اصولوں کو سامنے رکھ کر ریاستی آئینی ڈھانچہ مرتب کیا جائے اور آئین میں موجود ان خامیوں اور کمزوریوں کا خاتمہ کیا جائے جو جمہوری اور وفاقی ریاست کے تصور کے خلاف ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *