عمران خان: ایک اور بت ٹوٹا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جو کام آصف علی زرداری اور نواز شریف اپنی تمام تر خواہشات کے باوجود کرنے سے ڈرتے رہے، وہ وزیراعظم عمران خان نے ایک ہی ہلے میں کر دیا اور ایسی آسانی سے وہ سب باتیں کہہ دیں، جنہیں کہنے کے لیے زرداری اور شریف دس سال سوچتے رہے۔ زرداری اور شریف دونوں کچھ آگے بڑھتے اور پھر ڈر کر پیچھے ہٹ جاتے لیکن اس معاملے میں عمران خان ان دونوں سے بازی لے گئے اور ایک ہی جھٹکے میں سب کچھ ختم کر دیا ۔ کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان صاحب نے اپنے سامنے بیٹھے بزنس مینوں کو کہا :آپ میں میرے کچھ دوست بھی بیٹھے ہوئے ہیں جو بہت پریشان تھے کہ ان پر نیب کے مقدمات تھے۔ ان کے لیے خوش خبری ہے کہ ہم نے نیب آرڈیننس جاری کر دیا ہے جس کے بعد اب انہیں نیب تنگ نہیں کرے گا، نیب کو بیوروکریسی اور بزنس مینوں سے دور کر دیا گیا ہے۔

یہ وہ کام ہے جو زرداری اور شریف پچھلے دس سالوں میں کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں ڈر تھا کہ اگر ہم نے کیا تو عمران خان ایسی تحریک چلائے گا کہ سب کو دن میں تارے نظر آ جائیں گے۔ عمران خان اس وقت ڈٹ کر نیب کے ساتھ کھڑے تھے۔ مجھے یاد ہے جب گیلانی وزیراعظم بنے تو اس وقت بھی نیب کو ٹائٹ کرنے کا پروگرام بنا تھا۔ وجہ صاف ظاہر تھی کہ پرویز مشرف کے دور میں نیب کو جس طرح سیاستدانوں کے خلاف استعمال کیا گیا تھا اس کا سب سے بڑا نشانہ گیلانی اور زرداری تھے۔ گیلانی صاحب کو نیب نے سات سال سزا سنائی تھی، اس لیے شروع کے دنوں میں نیب کا بجٹ بھی روک لیا گیا تھا اور تنخواہوں تک کے پیسے نہ تھے۔ اس پر میڈیا میں تحریک چلی کہ نیب کو ختم کیا جا رہا ہے اور سیاستدان مرضی سے لوٹ مار کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر طے ہوا کہ بہتر ہوگا کہ نیب کے قوانین میں تبدیلیاں کی جائیں۔

اس مقصد کے لیے پیپلز پارٹی پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک مسودہ لے کر آئی جس پر اس وقت کی اپوزیشن (مسلم لیگ ن) نے شور ڈال دیا۔ عمران خان بھی بڑھ چڑھ کر اس مسودے پر حملے کر رہے تھے۔ ہاؤس سے یہ مسودہ قائمہ کمیٹی بھیج دیا گیا اور وہاں نواز لیگ نے اعتراضات اٹھائے اور یوں پورے پانچ سال تک پیپلز پارٹی اور نواز لیگ اس مسودے پر پنگ پانگ کھیلتے رہے اور نئے انتخابات آ گئے۔ جب نواز شریف وزیراعظم بنے اور دھیرے دھیرے نیب کا رخ ان کے اپنے پیاروں کی طرف ہونا شروع ہوا تو ہم سب نے دیکھا کہ رانا ثنا اللہ، ایاز صادق سے شہباز شریف اور نواز شریف تک سب نے نیب پر تنقید کرنا اور پھر نیب چیئر مین کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ نیب اس وقت تک ٹھیک تھا جب تک اپوزیشن کے لوگوں پر مقدمے بن رہے تھے، لیکن جونہی توپوں کا رخ شریفوں کی طرف ہوا تو ساتھ ہی نیب کو دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں۔ اس وقت نیب کے ساتھ عمران خان اور میڈیا کھڑے تھے اور حکمرانوں پر الزام لگ رہا تھا کہ وہ خود کو اور دوستوں کو نیب سے بچانا چاہتے ہیں ۔

اب جب سے عمران خان وزیراعظم بنے ہیں، ان کے بھی کاروباری دوست باہر نکل آئے ہیں ۔ان کے کاروباری دوست پریشان تھے کہ ان کے خلاف مقدمات ہورہے ہیں۔ کچھ وزیروں اور قریبی افسران پر بھی مقدمات درج تھے جنہیں نیب بلا رہا تھا بلکہ نیب چیئر مین یہ کہہ رہے تھے کہ اب ہوائوں کا رخ بدلنے والا ہے۔ مطلب اب حکومتی وزیر بھی گرفتار ہو سکتے ہیں۔ سب سے بڑا سکینڈل جو عمران خان حکومت کے لیے پریشانی کا سبب بنا ہوا تھا وہ پشاور میٹرو منصوبے کا تھا جو برسوں سے مکمل نہیں ہوپارہا۔ اس کی لاگت کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔

اگر اس میں کوئی کسر رہ گئی تھی تو اب انکشاف ہوا ہے کہ وفاقی وزیر علی زیدی کے ایک قریبی دوست عاطف رئیس کی ایک کمپنی کو پشاور میٹرو میں چودہ ارب روپے کا کنٹریکٹ ملا ہے۔ علی زیدی عاطف رئیس کو اپنے ساتھ چین لے کر گئے، جب وزیراعظم عمران خان دورے پر جارہے تھے۔ واپسی پر عاطف رئیس کو پشاور میٹرو میں چودہ ارب کا ٹھیکہ ملا۔ اس کے بعد علی زیدی جب امریکہ گئے تو بھی عاطف رئیس کو ساتھ لے گئے اور وہاں کئی کمپنیوں کے حکام سے ملاقاتیں ہوئیں۔ پتہ چلا کہ عاطف رئیس کی کمپنی پر ایک کنٹریکٹ میں فراڈ کے نام پر ایف آئی آر درج تھی جو ایف آئی اے نے درج کی تھی اور وہ ضمانت پر تھے۔ اس پر کافی سوالات اُٹھے کہ کیا ایک ایسی کمپنی جس پر سترہ کروڑ روپے کنٹریکٹ میں فراڈ کا مقدمہ درج ہو اسے چودہ ارب روپے کا کنٹریکٹ مل سکتا ہے؟

اس پر علی زیدی پر ٹی وی پروگرامز ہوئے تو انہوں نے تسلیم کیا کہ عاطف رئیس ان کا بھائیوں سے بھی بڑھ کر دوست ہے اور وہ واقعی اس کے گھر رہائش پذیر ہیں۔ تو کیا کسی وزیر کو اپنے کاروباری دوست کے گھر رہنا چاہیے جو اس وزیر کی حکومت سے ٹھیکے بھی لے رہا ہو؟ عمران خان ساری عمر لوگوں کو conflict of interest کا مطلب سمجھا سمجھا کر شریفوں اور زرداری کے دوستوں پر تنقید کرتے رہے اور پتہ چلا کہ ان کے اپنے وزیر بھی اسی کام میں ملوث ہیں۔ بجائے اس کے کہ خان صاحب ایکشن لیتے اور وزیر کو برطرف کرتے، اُلٹا اسی وزیر کے کہنے پر کابینہ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے ان کے لیے خصوصی عدالتیں بنائی جائیں اور صحافیوں کو بھی دہشت گردوں کی طرح ٹریٹ کیا جائے۔ وجہ وہی تھی کہ میڈیا صرف شریف اور زرداری کے خلاف خبریں دیا کرے۔ اگر اس نے عمران خان کی حکومت یا اس کے وزیروں کے خلاف کوئی سکینڈل فائل کیا تو اسے دہشت گردوں کی طرح الگ عدالتوں سے سزائیں دلوائی جائیں گی۔

عمران خان بالآخر قائل ہوگئے ہیں کہ اگر انہوں نے پاکستان میں حکومت کرنی ہے تو انہیں احتساب اور انصاف کے نعرے کو ترک کرنا ہوگا۔ زرداری اور شریف کی طرح اپنے دوستوں کو نیب سے بچانا ہو گا، وہی دوست جو پارٹی کے خرچے اٹھاتے ہیں یا چندہ دیتے ہیں۔ انہی دوستوں کو فائدہ دینے کے لیے GIDC کے تین سو ارب روپے ان کاروباریوں کو معاف کرنے کا پلان بنایا گیا اور اس کے لیے بھی ایک آرڈیننس جاری کر دیا گیا جس پر میڈیا میں شور مچا تو حکومت کو واپس لینا پڑا۔

یہ کاروباری بھی بڑے سمجھدار ہیں کہ انہوں نے بھی بیوروکریٹس کی طرح پارٹیاں بانٹ لی ہیں۔ ہر پارٹی کے اپنے اپنے کاروباری دوست ہیں، جو ان کے خرچے اٹھاتے ہیں اور جب یہ اقتدار میں آتے ہیں تو انہیں بڑے بڑے ٹھیکے دے کر بدلہ چکا دیا جاتا ہے۔ اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے والا معاملہ ہے۔ اب عمران خان کے بھی بہت کاروباری دوست ہیں جنہوں نے خان صاحب اور ان کی پارٹی پر بہت سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور اب وہ سب بے چین ہیں کہ پتہ نہیں دوبارہ خان وزیراعظم بنیں یا نہ بنیں، لہٰذا جو کچھ وہ لے سکتے ہیں، لے لیں۔ اس لیے اب ہر طرف آپ کو نظر آئے گا کہ کوئی نہ کوئی ہاتھ میں کشکول لے کر اسلام آباد پہنچا ہوا ہے کہ کچھ ہمارے ڈول میں بھی ڈال دیا جائے، اللہ بھلا کرے گا۔

عمران خان کو اب یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ بیوروکریسی کام کرنے کو تیا رنہیں کیونکہ سب نیب سے ڈرتے ہیں۔ دوسرے کاروباری حضرات نے ہاتھ روک لیا ہے کیونکہ انہیں نیب کا ڈر رہتا ہے۔ لہٰذا اب کی دفعہ سوچا گیا کہ وہی کچھ کیا جائے جو ”روم،، میں کرنا چاہیے۔ عمران خان کو یقین ہے کہ وہ کوئی بھی بات کہہ دیں، کر دیں، لوگ ان پر سوالات نہیں کرتے بلکہ وہ شاید ایسی صفت رکھتے ہیں کہ کوئی بھی بات عوام کو سیل کی جا سکتی ہے۔ بلاشبہ بھٹو صاحب کے بعد اگر کوئی پاپولر لیڈر کہلوا سکتا ہے تو عمران خان ہیں لیکن اب بڑی تیزی سے ان کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے۔ ان کے اپنے حامی بھی ایک ایک کر کے ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔ وہ خود حیران ہیں کہ واقعی یہی وہ تحریک انصاف ہے جسے انہوں نے اتنے جوش اور امیدوں کے ساتھ صرف ڈیڑھ سال پہلے ووٹ ڈالا تھا کہ وہ پاکستان کو بدل دیں گے۔

عمران خان پاکستان تو نہ بدل سکے، لیکن خود بدل گئے۔ خان صاحب کو عوام کی طرف سے ملی ہوئی بے پناہ پذیرائی، عزت، احترام، ساکھ اور اقتدار میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا ۔خان صاحب کا انتخاب ہمارے سامنے ہے۔

ایک اور بت ٹوٹا !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply