دیپ جلتے رہے۔ (قسط 24 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیٹی، کی آمد کی نوید سے ہم خوش تھے لیکن احمد جس فیز سے گزر رہے تھے اس میں جذباتیت کا عنصر غالب آچکا تھا۔ ڈاکٹر ایاز نے انہیں چند مسکن دوائیں اور لیتھیم کی کمی پوری کرنے کے لیے ایک ہی ہفتے میں دوبار انجکشن لگانے کی تاکید کی۔

دواؤں کے استعمال سے دماغ کی عجیب حالت ہو تی ہے۔ دماغ غنودگی کے عالم میں چلا جاتا ہے اور نیند بے چین رہتی ہے۔ معمولی سی آہٹ انسان کو پورے ہوش میں لے آتی ہے۔ وحشت، چڑچڑے پن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ کائنات کا سکون احمد کے سکون سے مشروط ہو چکا تھا۔ اور یہاں دونوں کو ثبات نہ تھا۔ رفتہ رفتہ دواؤں نے احمد کی نیند پر کسی حد تک اثر کرنا شروع کیا۔ تو ہمارے و جود کے اندر کسی نے کروٹیں لینا شروع کر دیں۔ اس ہست و نیست میں ایک گل، نمو پانے کو بے قرار تھا۔

ہمیں بھی بیٹی کی خواہش تھی، اور شاید ڈاکٹر نے اسی کے پیشِ نظر بیٹی کی نوید دی تھی، لیکن میرے صبر کی عمر کا صلہ مجھے میرے بیٹے الہام کی صورت عطا ہوا۔ بیٹے کی خبر نے طمانیت کی لہر رگ و پے میں دوڑا دی۔ مجھے لگامیں نے اپنی ماں کے نصیب کو بریک لگا دیے۔

ہم سب بہنیں اپنی امی کا نصیب لے کر پیدا ہوئی ہیں۔ خدمت گزار، شوہر کے دکھ میں ساتھ دینے والی، اس کے اور اس کے خاندان کے سکھ میں پنی نیندیں اور سکون تیاگ کر، خاندان کی بہترین بہو کا اعزاز پانے والی، بیٹیاں ماں کے عمل کو آنکھوں میں بسا لیتی ہیں بہت ہی اچھا ہوا بیٹی نہیں ہوئی جو ہم پہ گزری سو گزری، تقلید کا سلسلہ تو موقوف ہوا۔

رشی رامش اپنے ننھے بھائی سے بہت خوش تھے۔ رامش کا سلوک اس کے ساتھ کسی سخت گیر باپ کا سا اور رشی کا اس کے ساتھ ماں کی طرح نرم و شفیق رویہ تھا۔ وہ اس کی سمجھ نہ آنے والی تکلیف کے رونے کا سبب فوری سمجھ جاتا۔ اس کی ضرورت کا خیال رکھتا۔ رشی پانچویں اور رامش چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ ان دونو کو ہم الہام کا ماتا پتا کہا کرتے تھے۔ الہام کو دنیا میں لانے کی ہماری مرضی نہ تھی، لیکن اس نے ہماری دنیا بنا دی تھی۔

ہماری چھٹیوں کے دن ختم ہو نے کو تھے۔ یہ سوچ کر ہول اٹھتے تھے کہ الہام کو کس کے پاس چھوڑ کر کالج جا ئیں گے۔ ہم نے احمدکے کہے کو، کہ وہ نوکری کریں گے اور ہم بچے سنبھالیں گے، بالکل بھی سنجیدگی سے نہ لیا تھا۔ الہام کی پیدائش کے بعد ان کی طرف سے جملے میں معمولی ترمیم کردی گئی تھی، کہ ہمیں پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں وہ الہام کی بہت اچھی دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔ دعوے پر ہمیں کامل یقین تھا، مگر ان کے گلے جو دو بلائیں، سگریٹ اور شاعری کی صورت میں لپٹی تھیں ان کی چال بازیوں کی وجہ سے ہم یہ رسک نہ لے سکتے تھے۔

ایک ایسی بے حس کہ جب تک احمد کے منہ کو لگی رہتی ہم سلگتے رہتے، اس کا دھواں ایسا وسیع ظرف کے گھر کے کونوں کھدروں سے نکلنے کے بجائے زندگی کی سانسوں میں شامل ہو کر پھیپڑوں میں کنڈلی مار کر بیٹھ جا تا ہے۔ اور دوسری نے انہیں، ذات اور کائنات کے دکھوں میں مبتلا کر کے اسے ایساذود رنج کیا کہ

تمام عمر بس اک آہ کھینچتے گزری

نہ زخم بھرتے نہ ان کو شمار کرتے ہوئے

خیر ان چھٹیوں کے دوران بے بی سیٹرز کی تلاش اور انٹرویوز جاری رہے۔ کچھ ایسی ستی ساوتری تھیں جو، جوان جہان مرد کے ساتھ ایک نحیف بچے کی چند گھنٹوں کے لیے نگہداشت کو تیار نہ تھیں، اور کچھ ایسی حرافائیں بھی تھیں، جنہیں جوان جہان مرد کی موجودگی سے کوئی فرق نہ پڑتا تھا۔ ہمیں ان کی یہ دیدہ دلیری ایک آنکھ نہ بھائی۔ ایک عمر رسیدہ خاتون کی شرافت اور مزاحمت کے پلڑے متوازن دیکھے تو ایک دن آزمائشی طور پر اپنی موجودگی میں انہیں بچے کو سنبھالنے کی ذمہ داری دے دی۔ انہوں نے سارا وقت بچے کو گود میں لے کر ٹی وی دیکھتے ہوئے گزارا۔ ہم نے کہا کہ اسے گود کی عادت ہو جا ئے گی، ان کا کہنا تھا کہ اگر بچے اور ان کا اس طرح وقت بہلتا ہے تو ہمیں اعتراض نہیں کرنا چا ہیے۔ ہم نے کوئی اعتراض کیے بغیر انہیں اگلے دن آنے سے منع کر دیا۔

ایک صاف ستھری، ذہین لڑکی جس کی حال ہی میں شادی ہو ئی تھی اپنے میاں کے ساتھ آئی، میاں نے ہمارا انٹرویو لیا اور مطمعین ہو کر اسے ہمارے پاس چھوڑ کر چلا گیا۔ ثمینہ سرائکی تھی لیکن لہجہ بڑا صاف اور مہذب تھا، بڑی ہوشیاری سے بچے اور گھر کو سنبھالا، بچے کے سونے کے دوران اس نے سالن روٹی بنا نے کے ساتھ گھر بھی صاف کر لیا، اور مقررہ معاوضے پر بھی معترض نہ ہو ئی۔ جب وہ جا نے لگی تب ہم نے اس کی توجہ اپنے سوئے ہوئے شیر (شوہر) جانب دلائی کہ ہمارے مجازی خدا ہیں۔ کاغذ سیاہ کرکے ٹک بستر پر سو جاتے ہیں، دن کی سفیدی میں ان کا دخل بستر تک ہے۔

دوسرے دن ہم کالج جانے کی تیاری کر ہی رہے تھے کہ وہ آگئی اسے ضروری ہدایات دینے کے بعد ہم کالج چلے گئے۔ دو کلاسیں لینے کے بعد دھیان بچے اور اس کی آیا پر چلا گیا۔ دل ذرا سا دھڑکا، آنکھوں کے آگے آئے کچھ فحش مناظر کو جھٹکا اور اگلی کلاس لینے چلے گئے۔

اظفر رضوی صاحب کے کراچی میں کئی کوچنگ سینٹرز بھی بڑی کا میابی سے چل رہے ہیں ایک کوچنگ سنیٹر ہمارے اپارٹمنٹ سے پیدل کے رستے پر تھا۔ چھٹی کے وقت وہاں ہفتے میں شام کی دو کلاسیں لینے کی آفر ملی، سنا اور اس پر نیکو کاروں کا ایمان بھی دیکھا کہ ہر آنے والا بچہ اپنا رزق ساتھ لاتا ہے۔ اور اس کے لیے غیب سے سامان مہیا کیا جاتا ہے۔ ایک فرد کے اضافے سے ہونے ولے اضافی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے غیبی امداد کے انتظار کی کوفت سے بچنے کے لیے ہم نے یہ آفرفوراً قبول کر لی۔

گھر پہنچے تو گھر صاف ستھرا، ہر چیز قرینے سے رکھی ہوئی، چادریں تہہ کی ہوئی، بسترسمٹے ہوئے، کھا نا بھی بنا ہوا تھا، بچہ سو رہا تھا۔ اس نے ہمارے آگے کھانا لا کر رکھا۔ احمد جاگ چکے تھے، بچے ہمارے آنے سے کافی پہلے گھر آجا تے تھے۔ احمد اور بچوں کو وہ پہلے ہی کھانا کھلا چکی تھی۔ بڑا اطمینان نصیب ہوا۔ چار بجے اس کا میاں اسے لے کر چلا گیا۔

اگلے روز جب کالج سے آئے تو وہ نہیں تھی بچوں نے بتایا کہ وہ کافی دیر تک نہیں آئی تو بچوں نے ننھے بھا ئی کی خاطر چھٹی کر لی۔ اس کے رابطے کا نمبر بھی ہمارے پاس نہیں تھا۔ اسی شام ایک گھنٹے کی کلاس بھی تھی۔ بچوں نے دلاسا دیا کہ وہ بھا ئی کو اچھے سے سنبھال لیں گے۔

اگلی صبح ہم کالج جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے کہ وہ آگئی۔ خدا کا شکر ادا کیا۔ اسے آئے پندرہ، بیس روز ہوئے تھے۔ ایک روز ہم گھر پہنچے تو ہمارے کپڑے پہنے دروازہ کھولے کھڑی تھی۔ سر پر تولیہ بندھا تھا سامنے ا حمد صوفے پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ پتہ چلا کہ بچے نے اس پر الٹی کر دی تھی۔ بچہ مسلسل رو رہا تھا اس لیے صاحب کو جگانا پڑا۔ تم میری الماری میں گھسی تھیں؟ ہم نے اس کی انکھوں میں آنکھیں ڈال کر چور پکڑنے کی کوشش کی۔

ارے نہیں بھئی میرے ہاتھ جو لگا وہ میں نے ا سے پہننے کو دے دیا۔

میاں جی فوراً بولے لیکن ہمارے دل میں لگے پنکھوں نے فل اسپیڈ پکڑ لی۔

دوسرے روز کالج سے بریک ٹائم میں چھٹی لے کر گھر پہنچے۔ دروازے پر کھڑے ہو کر سن گن لینے کی کوشش کی۔ پھر ہلکے سے دروازہ بجایا۔ بیل اس لیے نہیں دی، الہام سو نہ رہا ہو۔ دروازہ کھلا۔ الہام اس کی گود میں بچہ تھا اور ایک ہاتھ میں فیڈر تھی۔ وہ کچھ گھبرائی ہوئی تھی۔

میں تیزی سے احمد کے کمرے میں گئی۔ وہ منہ کھولے بے خبر سو رہے تھے۔ میں کمرے میں جانے لگی تو تو اس نے مجھے روک لیا۔

باجی باتھ روم میں ابھی نہ جائیے۔

میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

باجی! آپ کے جانے کے بعد روزانہ میرا شوہر آجا تا ہے، اور آپ کے آنے سے پہلے نکل جاتا ہے۔ باجی وہ بہت شکی ہے۔

کیا صاحب کو یہ بات معلوم ہے کہ میری غیر موجودگی میں وہ آتا ہے۔

جی باجی، ایک بار انہوں نے دیکھ لیا تھا۔

جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *