قاسم سلیمانی: قدس فورس کے کمانڈر کو اب کیوں مارا گیا اور آگے کیا ہو گا؟

جوناتھن مارکس - نامہ نگار برائے دفاعی و سفارتی امور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

soleimani

EPA

ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربرہ جنرل قاسم سلیمانی کی عراق میں امریکی افواج کے فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان ڈرامائی انداز میں پہلے سے موجود کم درجے کی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور اس بڑھتی کشیدگی کے نتائج مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

ایران کی جانب سے جوابی حملے کا خطرہ موجود ہے۔ ایک تسلسل سے ہونے والے واقعات اور ان پر ردعمل کا یہ سلسلہ دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے پر پہنچا سکتا ہے۔

عراق میں واشنگٹن کی موجودگی بارے بھی سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں اور صدر ٹرمپ کی خطے سے متعلق پالیسی۔۔اگر ایسی کوئی موجود ہے تو اب اس کا ایک نیا امتحان ہو گا۔

اوبامہ کے دور صدارت میں وائٹ ہاؤس میں مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس سے متعلق رابطہ کار فلپ گورڈن کے خیال میں یہ ہلاکت امریکہ کی طرف سے ایک ایسا اعلان ہے کہ جس کے بعد ’اعلان جنگ‘ ہی باقی رہ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جنرل سلیمانی امریکی حملے میں ہلاک، ایران ’بدلہ لے گا‘

قاسم سلیمانی: ایرانیوں کا ہیرو، امریکہ میں ولن

سلیمانی کی ہلاکت سے ’تیسری عالمی جنگ کا خدشہ‘

قدس فورس ایران کی سکیورٹی فورسز کی وہ شاخ ہے جس کے پاس ایران سے باہر فوجی آپریشن کرنے کی ذمہ داری ہے۔

چاہے یہ لبنان، عراق، شام یا کوئی اور جگہ ہو سالہا سال سے جنرل سلیمانی ایران کے ایسے کمانڈر تھے جن کا کام فوجی کارروائیوں کے ذریعے ان مقامات پر ایران کے دائرہ اثر کو بڑھانا یا وہاں تہران کے مقامی اتحادیوں کو مزید مضبوط کرنا تھا۔

واشنگٹن کے لیے جنرل سلیمانی ایک ایسے شخص تھے جن کے ہاتھ امریکیوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ تاہم وہ ایران میں بہت مقبول تھے۔ عملاً وہ امریکی پابندیوں اور دباؤ کے خلاف تہران کی جوابی حکمت عملی کو لے کر آگے بڑھ رہے تھے۔

قاسم سلیمانی

Reuters

یہ زیادہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ جنرل سلیمانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آنکھوں میں کھٹک رہے تھے لیکن اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے انھیں اب کیوں نشانہ بنایا ہے؟

امریکہ عراق میں اپنے فوجی اڈوں پر راکٹ حملوں کے لیے ایران پر الزام لگاتا ہے۔ تاہم اس سے قبل امریکہ نے ایران کی طرف سے کسی جارحیت کا جواب نہیں دیا جس میں ایران کا خلیج میں آئل ٹینکرز کے خلاف آپریشن، امریکہ کے ڈرون کو مار گرانا، حتیٰ کہ ایران کی طرف سے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد بھی امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف کوئی براہ راست کارروائی نہیں کی گئی۔

جہاں تک عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا تعلق ہے تو امریکی محکمۂ دفاع پہلے ہی ایران نواز ملیشیا پر، جس کے بارے میں یہ خیال ہے کہ وہ ان حملوں کے پیچھے ہے، حملہ کر چکا ہے۔

اس حملے کے نتیجے میں ہی بغداد میں امریکی سفارتخانے پر دھاوا بولا گیا تھا۔

ایرانی جنرل کی ہلاکت کی وضاحت کرتے ہوئے پینٹاگون نے ماضی کے واقعات کو وجہ بتاتے ہوئے کہا یہ قدم آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

پینٹاگون کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ہلاک کیے جانے والے ایرانی جنرل ’امریکی سفارتکاروں اور دیگر اہلکاروں کے خلاف عراق اور دیگر مقامات پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔‘

اب کیا ہو گا؟یہ ایک بہت اہم سوال ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کو یہ امید ہو گی کہ اس ڈرامائی کارروائی کے نتیجے میں جہاں ایک طرف وہ ایران کو جھکانے میں کامیاب ہوئے ہیں وہیں دوسری طرف وہ خطے میں اپنے دو اتحادیوں اسرائیل اور سعودی عرب کی بڑھتی بےچینی کو بھی یہ کہہ کر ختم کر سکتے ہیں کہ امریکہ کی دھاک اب بھی بیٹھی ہوئی ہے۔

تاہم اب یہ سوچنے کی بات نہیں رہی کہ ایران جلد یا بدیر کوئی سخت جوابی کارروائی کرے گا یا نہیں۔

Mike Pence addresses troops in Iraq

Reuters
عراق میں امریکہ کے 5000 فوجی اب ایران کے نشانے پر ہو سکتے ہیں

عراق میں امریکہ کے 5000 فوجی اب ایران کے نشانے پر ہو سکتے ہیں۔

یہ اس طرح کے اہداف ہیں کہ جن کو ماضی میں ایران نے خود یا اپنے گماشتوں کی مدد سے حملے کا نشانہ بنایا۔

اب خلیج میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔ اس میں بھی کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ اب تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔

امریکہ اور اس کے اتحادی اب اپنے دفاع کا جائزہ لے رہے ہوں گے۔ امریکہ نے پہلے ہی بغداد میں واقع اپنے سفارتخانے میں کچھ مزید فوجی بھیج کر کمک پہنچا دی ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو خطے میں امریکہ جلد مزید فوجی بھیج سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اس نے عام امریکیوں کو عراق سے نکل جانے کو بھی کہا ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ ایران کا جواب اس قدر شدید نہ ہو جتنا کہ ان کا نقصان ہوا ہے۔ وہ ہلاک ہونے والے جنرل سلیمانی کے تیار کردہ گروہوں کے ذریعے ہی بدلہ لے سکتا ہے۔

مثال کے طور پر ایران بغداد میں امریکی سفارتخانے کے محاصرے جیسے عمل کو بھی دہرا سکتا ہے اور وہاں امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر سوالات اٹھا سکتا ہے۔

یہ مظاہرے دیگر مقامات تک بھی پھیل سکتے ہیں جن کی آڑ میں حملے بھی ہو سکتے ہیں۔

امریکی سفارت خانے پر دھاوا

Getty Images

قدس فورس کے سربراہ کے خلاف امریکی حملہ واضح طور پر امریکی انٹیلیجنس اور صلاحتیوں کا مظاہرہ تھا۔ خطے میں بہت سے لوگ اس ہلاکت پر افسردہ نہیں ہوں گے۔ لیکن کیا یہ صدر ٹرمپ کا کوئی بہت عقلمندانہ اقدام تھا؟

اس سب کے نتائج کو بھگتنے کے لیے امریکی محکمۂ دفاع کتنا تیار ہے؟

کیا یہ حملہ ہمیں صدر ٹرمپ کی خطے سے متعلق پالیسی کا مکمل پتا دیتا ہے؟

کیا اس سے یہ (پالیسی) بدل چکی ہے؟

کیا اب ایرانی کارروائیوں کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا؟

یا محض صرف صدر ٹرمپ ایک ایسے ایرانی کمانڈر کا خاتمہ چاہتے تھے جسے وہ ’ ایک بہت برا انسان‘ قرار دیتے رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12322 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp