کراچی: سینکڑوں پاکستانی ہندوؤں کی استھیاں ہریدوار جانے کی منتظر

شمائلہ جعفری - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

استیاں

BBC

ڈاکٹر شریواستو چاولا کا خاندان گھر کے بڑے کمرے میں ان کی بھابھی آشا چاولہ کی بڑی سی پھولوں کے ہار سے سجی تصویر کے سامنے پرارتھنا (دعا) کے لیے جمع تھا۔

آشا کی اچانک موت نے پورے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

آشا کی جڑواں بیٹیوں سمیت چند اور بچے بھی وہاں موجود تھے۔ اہل خانہ نے دعا اور آرتی کی اور سب لوگ ادھر ادھر ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کے میڈیکل ویزے پاکستانی مریضوں کی امید

اسلام آباد میں شمشان گھاٹ کے لیے زمین الاٹ

پشاور: ہندو مردے جلانے کے بجائے دفنانے لگے

استیاں

BBC
آشا چاولہ

ڈاکٹر شریواستو چاولا صوبہ سندھ کے ضلع کشمور سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کا خاندان گذشتہ دو دہائیوں سے کراچی میں آباد ہے جہاں وہ ایک کامیاب کاروبار چلا رہے ہیں۔

ڈاکٹر شریواستو بتاتے ہیں ’پچھلے دو سالوں میں ہم نے تین بار ویزا کے لیے درخواست دی ہے لیکن انڈین حکام نے ہماری درخواست مسترد کردی‘

استیاں

BBC
ڈاکٹر شریواستو

یہ خاندان آشا کی آخری رسومات کے لیے ہریدوار کا سفر کرنا چاہتا ہے تاکہ اس کی روح کو سکون حاصل ہو تاہم ویزا کے مسائل کے باعث وہ ابھی تک ایسا نہیں کر پائے۔

ڈاکٹر شریواستو کہتے ہیں کہ انھیں ویزا مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

استیاں

BBC

’ہم نے ویزا کی درخواست کے ساتھ ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی جمع کروایا اور انھیں بتایا کہ ہم ان کی راکھ انڈیا لے جانا چاہتے ہیں۔ ہم نے رسومات کروانے والے پنڈت کا تعارفی کارڈ بھی جمع کروایا تھا۔ لیکن انھوں نے ہمیں دوبارہ درخواست جمع کروانے کے لیے کہا۔‘

آشا چاولا کی طرح سینکڑوں پاکستانی ہندوؤں کی استھیاں گنگا جانے کے منتظر ہیں۔ آخری رسومات کے لیے انڈین ویزا کا حصول ہمیشہ سے ہی مشکل تھا لیکن پلوامہ واقعے نے اہل خانہ کے لیے اپنے پیاروں کی آخری خواہش کو پورا کرنا ناممکن بنا دیا ہے۔

ڈاکٹر شریواستو کے مطابق سینکڑوں ہندوؤں کی استھیاں پاکستان کے مختلف مندروں میں محفوظ ہیں۔

استیاں

BBC

کراچی کے شمشان گھاٹ سے چند میل دور محمد پرویز صفائی میں مصروف ہیں۔ وہ مسلمان ہیں لیکن ان کا خاندان کئی نسلوں سے اس جگہ کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔

وہ ایک کمرے کا تالا کھول کر اندر داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں لوبان کی لاٹھی تھی۔

استیاں

BBC
محمد پرویز

کمرے کے اندر چاروں طرف الماریاں بنی ہوئی تھیں اور ان شلفیوں پر کپڑوں میں لپٹے درجنوں چھوٹے چھوٹے برتن رکھے تھے جن پر نام اور تاریخیں درج تھیں۔

یہ ان ہندوؤں کی استھیاں ہیں جن کی آخری خواہش یہ تھی کہ ان کی راکھ کو گنگا میں بہایا جائے۔

پرویز نے الماریوں کو صاف کیا، لوبان والی لاٹھی جلا دی اور کچھ لمحوں کے لیے وہیں خاموشی سے کھڑے رہے۔

استیاں

BBC

پرویز کہتے ہیں ’ان دنوں ویزا حاصل کرنا بہت مشکل ہے، لوگ بہت پریشان ہیں اسی لیے وہ اپنے پیاروں کی استھیاں یہاں جمع کرا جاتے ہیں۔‘

تقریباً دو سو ہندوؤں کے خاندانوں کے پیاروں کی استھیاں یہاں اس امید پر رکھیں ہیں کہ وہ ایک دن ہریدوار پہنچ سکیں گی۔

پرویز کہتے ہیں ’ان میں سے چند لوگ پندرہ دن یا مہینے میں ایک بار آ جاتے ہیں۔ وہ مجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے پیاروں کی راکھ کا خیال رکھیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ ویزا ملتے ہی وہ انھیں لے جائیں گے۔‘

استیاں

BBC

کراچی کے شمشان گھاٹ کا چیمبر جہاں راکھ کو ذخیرہ کیا جا رہا ہے، کچھ سال پہلے یہاں عارضی کمرے تھے۔

نگرانی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں زیادہ بارشوں کے باعث کئی ہندوؤں کی استھیاں ضائع ہوگئیں۔

کارروباری شخصیت سنی گھنشیام کمیونٹی کارکن ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’اپنے پیاروں کی آخری خواہش پوری کرنا پاکستانی ہندوؤں کا بنیادی حق ہے۔‘

استیاں

BBC
سنی گانشام

’مذہب سیاست اور تقسیم سے زیادہ اہم ہے اور مجھے لگتا ہے کہ آخری رسومات کے لیے ہندوؤں کے دریائے گنگا جانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے، یہ ان کا بنیادی مذہبی حق ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔‘

استیاں

BBC

سنی گھنشیام اس معاملے کو انڈین ہائی کمشن تک لے جانا چاہتے ہیں۔

’میں انڈین ہائی کمیشن سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ پاکستانی ہندوؤں کے لیے ویزا کے عمل کو زیادہ آسان بنائیں، بلکہ اس مقصد کے لیے انھیں ایک علیحدہ ویزا کیٹیگری تشکیل دینی چاہیے۔‘

وہ کہتے ہیں ’جن ہندوؤں کے خاندان سرحد پار رہتے ہیں ان کے لیے یہ آسان ہے کیونکہ اس طرح ویزا ملنے کے امکانات بہتر ہوتے ہیں۔ پاکستانی ہندو بھی یاترا کے لیے ہندوستان جا سکتے ہیں۔‘

کوئی نہیں جانتا ہے کہ کتنے ہندوؤں کی راکھ ہریدوار جانے کی منتظر ہے۔ سنی گھنشیام کا ماننا ہے کہ یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔

استیاں

BBC

انڈین ہائی کمیشن اس کی تردید کرتا ہے۔ بی بی سی کے ساتھ شیئر کیے گئے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا ’انڈین ہائی کمشن ان افراد کے لیے ویزا درخواستوں کی فعال سہولت فراہم کرتا ہے جو اپنے خاندان کے افراد کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے ہریدوار کا سفر کرنا چاہتے ہیں۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ویزا درخواستوں کے ساتھ مطلوبہ دستاویزات منسلک کرنا ہوں گی۔

بیان کے مطابق ’جو شخص انڈیا جا کر اپنے خاندان کے کسی فرد کی آخری رسومات ادا کرنا چاہتا ہے اسے مرنے والے کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ اپنے نادرا کارڈ کی کاپی، بجلی یا گیس کے بل کی کاپی اور پولیو سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوگا۔‘

استیاں

BBC

ڈاکٹر شریواستو کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی درخواست کے ساتھ تمام مطلوبہ دستاویزات منسلک کیں لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

’میرے خاندان کو سکون کی ضرورت ہے اور یہ تب تک ممکن نہیں جب تک آشا کی راکھ گنگا میں بہا نہیں دیتے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16043 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp