نیکو اور نشہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ بچہ مستقل میرے اعصاب پہ سوار ہے۔ نیکو۔ وہ بچہ۔ اس کو دیکھے دو سال سے اوپر ہوگئے ہیں مگر شاید ہی کوئی دن جاتا ہو کہ میں اس کے بارے میں نہ سوچتا ہوں۔ اس بچے کے خیال نے مجھے گلے سے دبوچ رکھا ہے۔ نیکو۔ وہ بچہ۔ وہ ٹرکر ہیٹ لگاتا تھا اور اس کے منہ پہ مستقل ایک مسکراہٹ رہتی تھی۔ وہ بچہ۔ نیکو۔

یوں سمجھیں کہ آپ نیکو ہیں۔ آپ کی عمر بارہ برس ہے۔ آپ کا ایک بھائی ہے جو عمر میں آپ سے دو سال چھوٹا ہے۔ آپ اپنے ماں باپ کے ساتھ کیلی فورنیا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں کرائے کے گھر میں رہتے ہیں۔ بارہ برس کی عمر بے فکری کی عمر ہوتی ہے، اس لیے آپ بے فکر ہیں حالانکہ فکر کرنے کو بہت کچھ ہے۔ آپ کا گھر کچی اینٹوں سے بنا ہے۔ گھر میں پیسوں کی تنگی کی وجہ سے ماں باپ میں چپقلش رہتی ہے مگر آپ بے فکر ہیں کیونکہ فوڈ اسٹیمپ کی مدد سے کھانا پینا چل رہا ہے۔

پھر ایک دن گھر میں تنگ دستی سے متعلق ایک بہت بڑا راز آپ پہ کھلتا ہے۔ آپ کا باپ ہیروئن کا نشہ کرتا ہے۔ پہلے وہ یہ نشہ گھر سے باہر کہیں دور کیا کرتا تھا مگر اب وہ نشے کی لت میں اتنا آگے جا چکا ہے کہ وہ گھر کے اندر ہی غسل خانے کا دروازہ بند کر کے نشہ کرلیتا ہے۔ نشہ کرنے کے بعد وہ بے خبر سو جاتا ہے۔ پھر جب وہ بیدار ہوتا ہے تو اس کی بس ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح جلد از جلد دوبارہ نشے کی وادی میں اتر جائے۔

ماں اس بات پہ سخت ناراض رہتی ہے۔ مگر وہ کیا کرے؟ دو چھوٹے بچوں کو بغل میں دبا کر کہاں لے جائے؟ ماں قصبے کی ایک دکان میں کام کرتی ہے اور مستقل اپنی قسمت کو کوستی رہتی ہے۔ ہر طرف سرگوشیاں ہیں : نیکو، تمھارے گھر کی دیواریں کچی اینٹوں سے بنی ہیں۔ مگر بارہ سال کی عمر میں یہ سرگوشیاں بھلا کب سنائی دیتی ہیں؟ اور اگر سنائی دے بھی جائیں تو آپ کیا کرسکتے ہیں؟ پھر ایک دن آپ اپنی ماں سے سنتے ہیں کہ اسے سرطان لاحق ہے۔

اب گھر کے دوسرے اخراجات کے ساتھ دواؤں کا خرچ بھی بڑھ گیا ہے۔ مشکل وقت، مشکل تر ہوگیا ہے مگر کھانا پینا ابھی بھی چل رہا ہے۔ آپ اور آپ کا بھائی اب تک بے فکر ہیں۔ آپ دونوں کا زیادہ تر وقت گھر سے باہر گزرتا ہے۔ رات پڑتی ہے تو آپ کچھ کھا کر سو جانے کے لیے گھر لوٹ آتے ہیں۔ صبح ناشتہ اور پھر دوپہر کا کھانا اسکول میں مل جاتا ہے۔ ایک ایسا ہی دن ہے جب اسکول ختم ہونے کے بعد آپ دوستوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

اچانک فضا میں ایمبولینس کی آواز بلند ہوتی ہے۔ وہ ایمبولینس آپ کے گھر کی طرف جا رہی ہے۔ آپ اشتیاق میں اس طرف چل پڑتے ہیں۔ آپ گھر کے قریب پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آپ کے باپ کو اسٹریچر پہ ڈال کر ایمبولینس میں سوار کیا جا رہا ہے۔ آپ بھاگ کر ایمبولینس تک پہنچتے ہیں۔ ماں ایمبولینس کے اندر بیٹھی ہے۔ اندر اسٹریچر پہ باپ پڑا ہے۔ ’نیکو، تم ادھر ہی رہنا۔ اپنے بھائی کا خیال رکھنا۔ میں ابھی اسپتال سے واپس آتی ہوں، ‘ ماں روتے ہوئے آپ سے کہتی ہے۔

اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور چہرے پہ ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ ذرا سی دیر میں ایمبولینس وہاں سے روانہ ہوجاتی ہے اور آپ حیران پریشان کھڑے رہ جاتے ہیں۔ آپ کا چھوٹا بھائی بھی وہاں پہنچ گیا ہے۔ آپ اسے لے کر گھر کے اندر چلے جاتے ہیں۔ آپ دونوں ٹی وی دیکھنے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں ماں واپس گھر آ جاتی ہے۔ وہ مستقل رو رہی ہے اور باپ کا نام لے کر اسے گالیاں دے رہی ہے۔ دھیرے دھیرے آپ کے علم میں یہ بات آتی ہے کہ آپ کا باپ مرچکا ہے۔

وہ ہیروئن کی اوورڈوز سے مرا ہے۔ اب وہ آپ کو کبھی نظر نہیں آئے گا۔ نہ سوتا، نہ جاگتا، نہ نشہ کرتا۔ وہ جا چکا ہے، ہمیشہ کے لیے۔ یہ موت کی حقیقت سے آپ کا پہلا ٹکراؤ ہے۔ موت کی ہمیشگی آپ کو سمجھ میں آنے لگی ہے۔ مگر آپ کی عمر تو بارہ برس ہے۔ بارہ سال کی عمر میں دھیان بٹتے دیر نہیں لگتی۔ پھر وہی اسکول ہے اور دوستوں کا ساتھ ہے۔ پہلے کون سا باپ ساتھ لیے لیے پھرتا تھا؟ مگر باپ تھا تو۔ گھر پہنچو تو باپ نظر آجاتا تھا۔

اب وہ منظر ہمیشہ کے لیے اوجھل ہوچکا ہے۔ کچی اینٹوں کی ایک دیوار گر چکی ہے۔ پھر سکون کے کچھ ہی روز اور گزرتے ہیں کہ ماں کی طبیعت بہت خراب ہوجاتی ہے۔ اس کی نوکری چھٹ چکی ہے۔ اب وہ زیادہ تر گھر پہ ہی رہتی ہے۔ وہ دن بہ دن کمزور ہوتی جارہی ہے۔ ماں اپنے ایک چچا زاد بھائی کو فون کر کے اسے اپنے پاس بلاتی ہے۔ ماں کا وہ عم زاد اپنی مصروفیت میں سے وقت نکال کر آپ کے گھر پہنچ جاتا ہے اور اس کے گھر پہنچنے کے دوسرے دن ہی ماں کی طبیعت اتنی زیادہ بگڑ جاتی ہے کہ اسے اسپتال لے جانا پڑتا ہے۔ پھر اسپتال سے جو خبر آتی ہے وہ تشویشناک ہے۔ ماں آپ کو بلا رہی ہے۔ وہ مرنے والی ہے اور ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرنے سے پہلے اپنے دونوں بچوں کو جی بھر کر دیکھنا چاہتی ہے۔

یہ ہے وہ نیکو جو آج تک میرے اعصاب پہ سوار ہے۔ میں نیکو سے اس کی ماں کے مرنے کے چند دن بعد ملا تھا۔ وہ ٹرکر ہیٹ لگائے تھا اور اس کے منہ پہ ایک مسکراہٹ تھی۔ بارہ سال کے اس بے ماں، بے باپ کے بچے کے منہ پہ مسکراہٹ کیوں رہتی تھی؟ میں سمجھنے سے قاصر تھا اور ہوں۔

چند دن اور گزرے اور وہ گھر جہاں نیکو رہتا تھا، خالی ہوگیا۔ نیکو کہاں گیا؟ معلوم ہوا کہ ماں کا چچا زاد بھائی، نیکو اور اس کے چھوٹے بھائی کو ایک فوسٹر ہوم میں داخل کر کے قصبے سے روانہ ہوگیا۔ پھر کچھ ایسے حالات ہوئے کہ مجھے وہ قصبہ چھوڑنا پڑا۔ مگر قصبہ چھوڑنے سے پہلے مجھے ایک ایسی خبر ملی تھی جس نے مجھے اور ہلا دیا۔ نیکو اسکول میں گانجہ پیتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔

یہ بارہ سالہ بچہ ہے جس کا باپ نشے کی لت میں زندگی کی بازی ہارگیا۔ جس کی ماں نے زندگی کی پریشانیوں کو اپنا روگ بنا لیا اور پھر سرطان نے اس نیم زندہ انسان کی جان لے لی۔ وہ بچہ گانجہ پیتے کیوں پکڑا گیا؟ اسے تو ہر قسم کے نشے سے نفرت ہونی چاہیے؟ یہ بچہ آگے اپنے لیے کس طرح کے فیصلے کرے گا؟

یہ بچہ آج تک میرے اعصاب پہ سوار ہے، سر پہ لگائے اپنے ٹرکر ہیٹ کے ساتھ، اپنے منہ پہ پھیلی ایک مستقل مسکراہٹ کے ساتھ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *