چُوڑیاں بنوانی ہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چُوڑیاں بنوانی ہیں! کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں!

آپ کہیں گے کہ بازار میں چوڑیاں بنی بنائی دستیاب ہیں! وہاں سے خرید لوں! مگر بات یہ ہے کہ میں آرڈر پر بنوانا چاہتا ہوں۔ سپیشل چوڑیاں! خصوصی طور پر! ایسی کہ اس سے پہلے اتنی خوش نما قیمتی چوڑیاں بنی ہی نہ ہوں!

آرڈر پر چیز بنوانے کا اپنا ہی مزا ہے! ترقی یافتہ ملکوں میں اسے اب بہت لگژری سمجھا جاتا ہے۔ اسے “کسٹم میڈ” کہتے ہیں! زیادہ لوگ بنے بنائے گھر خریدتے ہیں۔ کچھ خود بنواتے ہیں۔ یہ با ذوق ہوتے ہیں یا بہت زیادہ امیر! وہاں ریڈی میڈ ملبوسات کی انڈسٹری زوروں پر ہے۔ ہمارے ہاں آج بھی درزی کی حکومت ہے۔ خواتین کے ملبوسات سینے والے درزیوں کی دکانوں پر ہجوم رہتا ہے۔ امرا کی خواتین فل ٹائم درزی پالتی ہیں جو صرف انہی کے لیے کام کرتے ہیں!

مردانہ ملبوسات ماپ پر کسٹم میڈ بنوانے کا رواج اب مغربی ملکوں میں نہ ہونے کے برابر ہے! ہاتھ سے کام کرنے والے ہنر مند از حد گراں ہیں! درزی ہو یا الیکٹریشن ،یا پلمبر، ہاتھ لگانے کے بھی سو ڈالر لے لیتے ہیں! وفاقی دارالحکومت میں ایک معروف مارکیٹ تھی۔ سراج کورڈ (Covered) مارکیٹ! ساری چھتی ہوئی! منہدم کر دی گئی۔ اس میں ایک درزی تھا۔ جالندھر ٹیلر! شیخ امین اس کا مالک تھا! اگر یہ کہا جائے کہ جڑواں شہروں میں وہ سرفہرست تھا تو مبالغہ نہ ہو گا! مغربی ملکوں کے سفیر اس کے خصوصی گاہک ہوتے تھے۔ آرڈر پر سوٹ سلوانے کا چسکا انہیں ایسا پڑتا کہ پاکستان سے چلے جانے کے بعد بھی اسی سے ملبوسات بنواتے۔ ہر شے فانی ہے اور ہر شخص بھی! شیخ امین کو مرحوم ہوئے سالہا سال ہو چکے۔ جہاں سراج کورڈ مارکیٹ تھی وہاں اب میدان ہے ع

زمین گردش میں ہے اس پر مکاں رہتا نہیں ہے

سر سید احمد خان 1869 ء میں بحری جہاز کے ذریعے یورپ گئے تو فرانس کے جنوبی ساحل پر اترے۔ ان کے ایک ہم سفر کے پاس مناسب لباس نہ تھا۔ کسی نے بتایا کہ بازار جائیے اور تیار ملبوس خرید لیجیے۔ ایک دکان پر گئے۔ بقول سر سید وہاں مِس صاحبہ بیٹھی تھیں۔ منٹوں میں ان کے ساتھی کو اپنی پسند اور اپنے ماپ کا ملبوس مل گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ 1869 ء سے پہلے ریڈی میڈ ملبوسات کی صنعت یورپ میں پاؤں جما چکی تھی!

کسٹم میڈ جوتے آج پاکستان میں بھی خال خال ہیں! وہ جنہیں شوق لیے پھرتا ہے، اپنے اپنے مخصوص کفش سازوں کو خوش رکھتے ہیں۔ کاکول ایبٹ آباد میں ایک زین ساز (SADDLER) تھا۔ شاید زبیر اس کا نام تھا۔ اس کا بنیادی پیشہ تو زیر تربیت افسروں کی گھڑ سواری کے حوالے سے زینوں کا اہتمام و انصرام تھا مگر جوتے (شُوز) بنانے کا بھی ماہر تھا۔ بڑے بڑے برانڈز (باس، ارمانی، چرچ وغیرہ) کے جوتوں کی نقل میں ایسے با کمال جوتے بناتا کہ اصل اور نقل میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا۔ کمزوری اس میں یہ تھی کہ ہر ماہر کاریگر کی طرح وعدے کا کچا تھا۔ پھیرے ڈلواتا رہتا۔ آج کل کہیں راولپنڈی میں ڈیرے ڈالے بیٹھا ہے۔

میں بازار میں دستیاب چوڑیاں نہیں خریدنا چاہتا! یہ تو ہر کہِ و مہِ کے لیے ہیں۔ مجھے کسٹم میڈ خصوصی چوڑیاں درکار ہیں۔ کانچ کی ہوں یا دھات کی، یا پلاسٹک کی یا زرِ خالص کی، ہوں ٹاپ کلاس! ایسی کہ دیکھنے والا اش اش کر اٹھے اور پہننے والی کی کلائیاں سورج کو شرما دیں!

مجھے یقین ہے کہ آپ حیدر آباد، سندھ جانے کا مشورہ دیں گے۔ پاکستان میں چُوڑی سازی کا سب سے بڑا مرکز وہیں ہے۔ سینکڑوں دکانیں چوڑی سازی اور چوڑی فروش کا کام کرتی ہیں۔ اتفاق یا حسنِ اتفاق ہے کہ بھارت میں جو شہر چوڑیوں کے لیے مشہور ہے، اس کا نام بھی حیدر آباد ہے۔ یہ اور بات کہ یو پی کا قصبہ فیروز آباد چوڑیوں کی صنعت کا باوا آدم ہے۔ روایت ہے کہ وہیں سے ایک ماہر چُوڑی ساز رستم استاد، تقسیم کے وقت حیدرآباد سندھ پہنچا اور اس خوبصورت، نازک، نسوانی صنعت کا ڈول ڈالا۔ حیدر آباد سندھ کی تین سوغاتیں مشہور ہیں۔ پلّہ مچھلی، بمبے بیکری کا کیک اور چوڑیاں!

مجھے یہ خصوصی چوڑیاں اپنے گھر یا خاندان کی کسی خاتون کے لئے نہیں چاہئیں! عہدِ شباب میں مَیں اور بیگم چاند رات نکلتے اور خاندان کی سبھی چھوٹی بڑی خواتین کے لیے چوڑیاں خرید کر لاتے۔ اب جن بڑے شہروں کا لقمہ ہم لوگ بنے ہوئے ہیں، وہاں چاند رات تو ہوتی ہے مگر مشاغل اس رات کے بدل گئے ہیں! یوں بھی آج کل کی لڑکیوں کو چوڑیوں اور زیورات کا شوق نہیں! یہ زمانہ مصنوعی (آرٹی فیشل) جیولری کا ہے! ہر شے یہاں تک کہ محبت اور تپاک بھی مصنوعی ہے تو جیولری کیوں نہ مصنوعی ہو!

بھئی! مجھے یہ خصوصی، خوبصورت، بے مثال چوڑیاں اپنے اُس شیر دل پولیس کے جوان کے لیے بنوانی ہیں جس نے گزشتہ ہفتے ایک چینی سے مار کھائی اور اس صدقِ دل سے کھائی کہ ہونٹ کٹ گئے اور چہرہ پھٹ گیا۔ ٹریفک کی ڈیوٹی پر مامور اس پولیس مین نے چینی کو “نو پارکنگ ایریا” میں گاڑی کھڑی کرنے سے منع کیا تو چینی نے اُس کے چہرے پر مکا مارا اور زد و کوب کیا۔ پھر اس شیر جوان پولیس مین کو ہسپتال پہنچایا گیا! چینی کو حوالات میں بند کر دیا گیا۔

غیر ملکیوں کے حوالے سے ہم جس احساسِ کمتری کا شکار ہیں، اس کے پیشِ نظر چینی کچھ دیر کے بعد رہا ہو چکا ہو گا۔ اس احساسِ کمتری کو ہم وسعتِ قلبی کا نام دیتے ہیں یا مہمان نوازی کا! یہ مہمان نوازی اُس عرب نے بھی دکھائی تھی جس نے سردی میں اونٹ کو اپنا منہ خیمے کے اندر کر لینے کی پیشکش کی تھی! آج افغان مہمان پورے ملک کے اطراف و اکناف میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ جنرل صاحب کے عہدِ ہمایونی میں امریکی “مہمان” ویزوں کے بغیر آتے رہے۔ اور اب ہمارے زرد فام مہمان ہمارے مالک بننے کے لیے تیار بیٹھے ہیں! عرب بھائی کشمیر کے معاملے میں حمایت کریں یا نہ کریں، ہمارے صحرا، اُن کی شکار گاہیں ہیں اور نایاب پرندے اُن کا صَید!

چینی مہمان نہتا تھا اور پولیس والا میزبان بھی نہتا تھا۔ پولیس والا اپنا دفاع تک نہ کر سکا! خلوص سے مار کھائی اور ہسپتال جا پہنچا! ہماری پولیس بہادر ہے! بہت بہادر! مگر یہ بہادری اُس وقت غائب ہو جاتی ہے جب مقابلے میں آنے والا ہتھکڑی میں نہ ہو! ہمارے ہاں “پولیس مقابلے” مشہور ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ کسی “پولیس مقابلے” کی کوئی تصویر، کوئی وڈیو، کوئی فُٹیج، کبھی نہیں نظر آئی! ہماری پولیس کی بہادری اُس وقت قابلِ دید ہوتی ہے جب کوئی ملزم تھانے میں ہو، بالخصوص وہ ملزم جس کا آگا پیچھا کوئی نہ ہو، جس کے سر پر کسی ایم این اے یا وزیر کا ہاتھ نہ ہو۔ جس کے لیے اوپر سے فون نہ آئے! ایسا کوئی بے یار و مددگار ملزم یا مشکوک، پولیس کے ہتھے چڑھ جائے تو بقول غالبؔ؎

پھر دیکھیے اندازِ گل افشان ئی گفتار/ رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے

گل افشان ئی گفتار کے علاوہ، جسمانی سزائیں ایسے ملزموں کو کمال بہادری سے دی جاتی ہیں۔ کچھ اس اثنا میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ آج تک کسی داروغے پر قتل کا مقدمہ نہیں چلا۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ زد و کوب کرنے والا چینی بھائی کنگ فو (مارشل آرٹ) کا ماہر تھا! سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پولیس والوں کو مارشل آرٹ یا جوڈو کراٹے وغیرہ نہیں سکھائے جاتے؟ بہت سوں کی تو توندیں، اُن کے جلو میں چلتی نظر آتی ہیں! اپنا دفاع کرنے سے بھی قاصر ہیں! ایک حکایت ہے کہ کسی مُرغے نے اونچی جگہ پر بیٹھ کر اذان دی! نیچے لومڑی کھڑی تھی! کہنے لگی، اذان تو تم نے دے دی! اب نیچے اتر کر نماز پڑھاؤ۔

مرغے نے کہا کہ میں تو موذن ہوں! امام صاحب دیوار کے اُس طرف قیلولہ کر رہے ہیں! لومڑی نے وہاں جا کر دیکھا تو ایک ایسا جانور سو رہا جو لومڑی کو تر نوالہ بنا سکتا تھا۔ لومڑی بھاگی! مُرغے نے پوچھا: کہاں جا رہی ہو! جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھنی؟ کہنے لگی: وضو ٹوٹ گیا ہے۔ دوبارہ کر کے آؤں گی! ہماری پولیس کی بہادری بھی تھانے تک محدود ہے! کوئی برابر کا سامنے آئے تو وضو دوبارہ کرنا پڑا ہے!
بشکریہ روزنامہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *