اسد الدین اویسی: ’مسٹر خان آپ اپنے ملک کی فکر کریں‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا میں مسلمانوں کے رہنما کہلائے جانے والے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے کہا ہے کہ وہ انڈین مسلمانوں کی نہیں اپنے ملک کی فکر کریں۔

اویسی نے کہا: ‘ہمیں ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر ہے اور قیامت تک ہمیں ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر رہے گا انشاءاللہ۔ ہم نے اسی وجہ سے پہلے ہی جناح کے غلط نظریے کو مسترد کردیا تھا۔’

ال آنڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی بنگلہ دیش کی ویڈیو کو اترپردیش کی بتائے جانے پر بھی شدید رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ انھیں ہندوستان کے مسلمانوں کی فکر کرنے کے بجائے پاکستان میں سکھوں اور گردواروں پر حملے روکنے چاہیں۔

جنوبی ریاست تلنگانہ کے سنگاریڈی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا: ‘میں پاکستان کے وزیر اعظم سے کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کے وزیر اعظم! آپ ہندوستان کی فکر کرنا چھوڑ دیں، اللہ ہمارے لیے کافی ہے۔۔۔ جناب عمران خان آپ کو اپنے ملک کی فکر کرنی چاہیے۔۔۔ مسٹر خان! میں آپ کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ کبھی بھی ہمیں یاد نہ کریں۔۔۔’

انھوں نے کہا: ‘زمین پر کوئی طاقت ہماری ہندوستانیت اور ہماری مذہبی شناخت کو نہیں چھین سکتی کیونکہ ہندوستانی آئین نے ہمیں اس کی ضمانت دی ہے۔’

اس کے ساتھ انھوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ کو ہماری بہت فکر ہے بھارت بھارت بھارت اور ان کو پاکستان پاکستان پاکستان۔’ ان کا اشارہ بی جے پی کی جانب تھا جو کہ مبصرین کے مطابق پاکستان کے نام پر اپنی سیاست میں توانائی بھرنے کا کام کرتی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی وزیر اعظم نے نئے سال کی جو اپنی پہلی ٹویٹ کی وہ تو انھوں نے ڈلیٹ کر دی لیکن پھر اس کے بعد انھوں نے کم از کم دو ٹوئٹس کیں جن میں ہندوستان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔

انھوں نے انڈین میڈیا نیوز 18 کی ایک خبر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ‘سفاک مودی سرکار کے مسلم کش ایجنڈے کے تحت ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے اور بھارتی پولیس بربریت کی نئی مثالیں قائم کر رہی ہے۔’

اس سے قبل انھوں نے دی ہندو اخبار کی ایک خبر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ‘انتہا پسند سفاک مودی سرکار ریاستی دہشت گردی پر اتری ہوئی ہے اور دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اقوام عالم آخر کب تک چپ سادھے مودی سرکار کی بربریت کا نظارہ کرتی رہیں گی۔’

مبصرین کا خیال ہے کہ انڈیا میں سیاست کا درجۂ حرارت پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات سے بڑھتا ہے۔ ہندوستان کی سیاسی جماعتیں اس کا استعمال کرتی ہیں اور اس کے شواہد بارہا دیکھے گئے ہیں۔

گذشتہ سال انڈیا کے عام انتخابات سے قبل انڈیا پاکستان کے درمیان کشیدگی کا فائدہ بہت سے مبصرین کے مطابق حکمراں جماعت بی جے پی کو ملا جبکہ انڈیا میں حالیہ شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں میں پولیس اہلکاروں کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ ‘پاکستان چلے جاؤ’۔ ان مظاہروں میں کم از کم دو درجن افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں 20 سے زائد صرف اترپردیش میں ہوئے ہیں۔

بہت سے مسلمانوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے بہت سے اقدام سے ہندوستان میں مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہے اور مایوسی ہوتی ہے کیونکہ انھیں اکثر پاکستان پہنچانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

انڈیا کی سرکردہ ایکٹوسٹ شہلا رشید نے بھی عمران خان کی ٹویٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا: ‘پاکستان اکثر جعلی ویڈیوز سے ہمیں مایوس کرتا ہے، حالانکہ ان مظالم کے خلاف بڑی تعداد میں اصل شواہد موجود ہیں۔’

انڈیا میں شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف ملک کے گوشے گوشے میں مظاہرے جاری ہیں جبکہ عدالت عظمی میں اس کے خلاف متعدد اپیلیں دائر کی گئی ہیں جن پر سماعت 22 جنوری کو ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12363 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp