تھپڑ کے بعد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اتوار کے روز میں سرگودھا سے لاہور کے راستے میں تھا کہ ہمارے ٹی وی پروگرام (اختلافی نوٹ) کے پروڈیوسر علی جان کا فون آیا۔ اس نے بتایا: وفاقی وزیر فواد چودھری نے ٹی وی کے معروف اینکر مبشر لقمان کو بھی تھپڑ مارا ہے۔ لفظ ‘بھی‘ میں پوشیدہ اشارہ سمیع ابراہیم کی طرف تھا جن کے ساتھ فواد چودھری نے اسی طرح کا سلوک چند ماہ پہلے شادی ہی کی ایک تقریب میں کیا تھا۔ علی جان کے فون سے پہلے میں مبشر لقمان کی وہ ویڈیو دیکھ چکا تھا جس میں انہوں نے کسی نوجوان صحافی کے ذریعے تحریک انصاف کے مختلف وزرا پر خالصتاً ذاتی قسم کے الزامات لگوائے تھے۔
میں نے علی سے پوچھا کہ کیا یہی ویڈیو وجہ بنی تو اس نے تصدیق کر دی۔ علی کا خیال تھا کہ اس تھپڑ کو بنیاد بنا کر ہم ان دو خواتین کو بھی اپنے پروگرام کا موضوع بنائیں جن کی وجہ سے شیخ رشید اور فواد چودھری سمیت کئی لوگوں پر الزامات لگ رہے ہیں۔ میں نے اس معاملے کو پروگرام میں اٹھانے سے منع کیا تو اس نے دلائل دینے شروع کر دیے۔ ریٹنگ کی دوڑ میں بھاگتے ہوئے کسی نوجوان پروڈیوسر کو یہ بتانا بہت مشکل ہے کہ صحافتی اصول اور معاشرتی اقدار ریٹنگ سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔
مجھے علی کو یہ سمجھانے میں کئی منٹ صرف کرنا پڑے کہ میرے لیے ذاتی اخلاقیات یا کردار سے تعلق رکھنے والے معاملے کو ریٹنگ کے شوق میں اچھالنا ممکن نہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ دنیا ٹی وی کی انتظامیہ نے بھی ریٹنگ کی لالچ میں اس طرح کے معاملات سے دور رہنے کی ہی پالیسی بنا رکھی ہے۔ خیر، پروگرام ہوا اور اس میں ہم نے تھپڑ پر بات کی نہ ان خواتین پر جن کی وجہ سے کئی شرفا کی پگڑیاں اچھلنے کا خطرہ حکومت کو لاحق ہے۔ پروگرام کے بعد تحریک انصاف کی ڈاکٹر زرقا تیمور کے ہاں کھانے پر فواد چودھری سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مبشر لقمان کو تھپڑ رسید کرنے کی جو وجہ بیان کی وہ وہی تھی جو بعد میں انہوں نے پارلیمنٹ میں بیان کر دی۔
میں نے یہ ضرور پوچھا کہ مبشر لقمان تو وزیر اعظم عمران خان سے بھی دوستی کے دعویدار ہیں تو اس پر وزیر اعظم کا ردّعمل کیا رہا تو چودھری صاحب کچھ کہے بغیر اپنے موبائل فون میں مگن ہوگئے۔ اگلے روز اپنے سوال کا جواب مجھے قومی اسمبلی میں ان کی تقریر میں مل گیا جس میں وہ میڈیا کی بے لگامی کی دہائی دے رہے تھے۔ ان کے ساتھ محترمہ زرتاج گل بھی میڈیا کے بے مہار ہونے کا رونا رو رہی تھیں۔ وہ یہاں تک بھی فرما گئیں کہ ان سے پرس کا برانڈ اور لباس کی قیمت بھی پوچھ لی جاتی ہے۔ جب تھپڑ سے شروع ہونے والی بات پارلیمنٹ میں پہنچ جائے تو پھر صحافی کا حق بن جاتا ہے کہ وہ سوال اٹھائے اور تجزیہ کرنے کی کوشش کرے۔
سو پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں کے بارے میں نازیبا باتیں ماضی میں بھی کہی جاتی رہی ہیں تو اس وقت یہ ردّعمل کیوں نہیں آیا؟ مشاہداللہ خان سمیت مسلم لیگ ن کے کئی لوگوں نے برملا تحریک انصاف کے قائد پر کچھ مخصوص ادویات کے استعمال کے الزامات لگائے۔ چند بار تو ٹی وی کے پروگراموں میں انہی لوگوں نے یہ چیلنج بھی کیا کہ عمران خان صاحب کے خون کا ٹیسٹ کرا لیں اگر نتیجے میں یہ الزام ثابت نہ ہوا تو وہ ہر سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوں گے۔ اس وقت کبھی کسی نے کسی کو تھپڑ نہیں مارا۔
پھر ریحام خان کی کتاب کے مندرجات بھی کبھی دبے دبے اور کبھی کھلے کھلے ٹی وی سکرینوں پر چلے‘ اس وقت بھی کسی نے کسی کو کچھ نہیں کہا۔ عمران خان نے خود دوہزار چودہ سے لے کر دوہزار اٹھارہ تک ہر قسم کا الزام مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی پر لگایا لیکن انہیں میڈیا کی آزادی کبھی نہیں کھلی۔ عائشہ گلالئی کا واقعہ بھی سب کو یاد ہوگا۔ انہوں نے بھی تحریک انصاف کے رہنماؤں پر الزامات لگائے لیکن ان کا جواب بھی کسی نے نہیں دیا‘ نہ اس طرح غصے کا اظہار کیا۔ یہ تو ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ تحریک انصاف کے قریب سمجھنے جانے والے ایک صحافی نے وزیراعظم کے دفتر کی چوتھی منزل پر ہونے والے کچھ واقعات کے بارے ذومعنی بات کی اور نعیم الحق پر وزیراعظم کے غصے کا ذکر بھی کیا۔ اس پر بھی کسی کو تھپڑ مارنے کی نہیں سوجھی۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ ان کی پارٹی کے بڑے چھوٹے سب بہت کچھ برداشت کرگئے یا مزید انکشافات سے خوفزدہ ہوکر چپ ہورہے تو فواد چودھری ہی میڈیا کے ساتھ تھپڑوتھپڑی ہونے پر کیوں آمادہ ہیں؟
وہ ایک ایسے سیاستدان ہیں جنہیں اپنے الفاظ کے اثر اور اپنی حرکات کے نتائج کا بخوبی علم ہوتا ہے۔ ان سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن یہ طے ہے کہ تحریک انصاف میں پختہ دلائل کے ساتھ بات کرنے والے چند ایک لوگوں میں وہ سرفہرست ہیں۔ وہ وزیر اطلاعات تھے تو میڈیا کے بارے میں ان کا نقطہ نظر مختلف سہی‘ لیکن سوچا سمجھا تھا۔ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت میں آئے تو انہوں نے اس مردے میں جان ڈال کر دکھا دی۔ وہ اپنی وزارت میں جو کچھ کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں اگر کر گزرے تو پاکستان میں واقعی یہ شعبہ مثبت تبدیلیوں کا نقیب ہو جائے گا۔
وہ جنرل مشرف کی ترجمانی، ق لیگ کی حکومت اور پیپلزپارٹی کی سیاست سے گزر کر تحریک انصاف تک پہنچے ہیں۔ وہ چاہیں تو کمزور ترین مؤقف کا دفاع بھی اس اعتماد سے کرتے ہیں کہ ان کے مخالفین تک داد دینے پر مجبور ہوجائیں۔
انہیں خوب علم ہے کہ سیاستدان کو کب، کہاں، کتنا اور کیا ردّعمل دینا ہے یا کس بات کو محض نظرانداز کرنا ہے۔ انہوں نے پہلے سمیع ابراہیم کو ایک ایسی بات پر تھپڑمارا جو کئی اور وزرا کے بارے میں کئی بار کہی جا چکی ہے۔ مبشر لقمان کی ویڈیو میں لگائے گئے الزامات‘ ان کے ساتھیوں پر بھی لگ رہے ہیں‘ لیکن ان میں سے کوئی نہیں بولا۔ ان حالات میں میڈیا قوانین کی عدم موجودگی یا ان پر عمل درآمد کی خراب صورتحال کا معاملہ اسمبلی میں لے جانا‘ سادہ بات نہیں۔ پاکستانی سیاست کی معمولی سی سمجھ بوجھ رکھنے والا بھی یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ فواد چودھری کا اشتعال محض وقتی ہے۔ اصلِ مدعا کچھ اور ہے۔
تحریک انصاف کی اکثریت خاموش رہے اور صرف فواد چودھری اپنے متعلق خبروں پراتنے مشتعل ہوجائیں، یہ تضاد معمولی بات نہیں۔ سمیع ابراہیم اور مبشر لقمان تحریک انصاف کے چہیتے صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مبشر لقمان تودھرنے کے دنوں میں خان صاحب کے ساتھ کنٹینر پرنظر آیا کرتے تھے اور سمیع ابراہیم مسلم لیگ ن کے خلاف تحریک انصاف کے صحافتی ہراول دستے کے سرخیل بن کر ہرحد تک چلے جایا کرتے تھے۔ اگر ان دونوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر تحریک انصاف نے کوئی اصولی مؤقف اختیار نہیں کیا تو اس کا مطلب ہے کہ اب حکومت کے قریب ترین صحافی بھی اس کے نزدیک تعظیم سے محروم ہوچکے ہیں۔
میڈیا کے بارے میں حکومت کا عمومی رویہ ان واقعات سے پہلے بھی معاندانہ ہے۔ تحریک انصاف کا خیال ہے کہ میڈیا اس کی غلطیوں کو سابقہ حکومتوں کے کھاتے میں نہ ڈال کر زیادتی کا مرتکب ہورہا ہے۔ وزیراعظم کے سابقہ و موجودہ بیانات کا تقابلی جائزہ بھی حکومت کو پسند نہیں آتا۔ معیشت پر حکومتی دعوے نہ مان کر بھی میڈیا کے اکثر لوگ خود کو ناپسندیدہ افراد کی فہرست میں شامل کرا چکے ہیں۔ میری اطلاع ہے کہ اب حکومت کو فواد چودھری کی وہ تجویز قابل قبول لگنے لگی ہے کہ کوئی ایسا قانون بنا دیا جائے جس کے ذریعے میڈیا کی زبان بند کردی جائے۔
شاید اسی لیے انفرادی غصے سے ہوتی اب یہ بات پارلیمنٹ تک پہنچی ہے، تقریریں ہوئی ہیں، کمیٹی بنانے کا مطالبہ سامنے آرہا ہے تو اگلا مرحلہ یقیناً کسی قسم کی منفی قانون سازی کا ہوگا، جس کی زد میں ٹی وی کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ بھی آجائے گا۔ پھر زرتاج گل کے پرس کا سوال اٹھے گا نہ فواد چودھری سے کچھ پوچھا جاسکے گا۔ عمران خان کو ان کے وعدے یاد دلائے جا سکیں گے نہ ان کے ماہرین معاشیات کی جوڑی کی کارکردگی زیر بحث آئے گی۔ یعنی راوی چین ہی چین لکھیں گے، رپورٹرخبر دینے کی بجائے حکومت دعوے دہرا دیا کریں گے، تجزیہ کار سرکاری دھنوں پر تھرکا کریں گے اور ملک خوشحال ہوجائے گا۔ یہ ہے تحریک انصاف کی حکومت کا منصوبہ، جو ہمیں بتایا کرتی تھی کہ حکمران کے کرتے کا حساب مانگنا حق ہی نہیں فرض ہے اور اب پرس اور جوتے پر اٹھنے والے سوال سے بھاگ رہی ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *