کیا مردانہ وحشیانہ پن ڈرامے کی ریٹنگ کے لئے ضروری ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈرامہ کسی معاشرے کی تہذیب و ثقافت اور طرزِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ چونکہ ٹی وی اور ڈراما ہر طبقے، عمر، اور صنف کے افراد دیکھتے ہیں اس لئے اس میں پیش کی گئی کہانیاں کسی نہ کسی طرح اپنا اثر ضرور رکھتی ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ جو کچھ ہم روز اور مسلسل دیکھتے ہیں، وہ ہمارے لاشعور پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

پی ٹی وی کے دور میں ڈراموں کی کہانیاں بہت مختلف ہوتی تھیں۔ پانچوں مراکز سے پیش کیے جانے والے ڈراموں میں ہر شہر کی تہذیب، اطوار، اور معاشرتی مسائل جھلکتے تھے۔ اس کے برعکس اب پرائیویٹ پروڈکشن کے تحت بننے والے ڈراموں میں چند لگے بندھے موضوعات ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس وقت جیو، اے آر وائی، اور ہم ٹی وی، تین بڑے چینلز کے ڈرامے سب سے زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔ اِن میں بدقسمتی سے، جیو کا ڈراما بھارتی کلچر سے سب سے زیادہ متأثر نظر آتا ہے، جس میں عورت پر تشدد کو مردانگی کی علامت کے طو ر پہ دکھایا جاتا ہے۔ ہندو معاشرے میں عورت کو کمتر صنف سمجھا جاتا اور ویسا ہی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ ہمارے چینلز نے بھی ریٹنگ کے لئے یہی گھٹیا معیار اپنا لیا ہے۔ جیو کے علاوہ اے آر وائی اور ہم ٹی وی کے ڈراموں میں بھی عورت پر تشدد کئی دفعہ دیکھنے کو ملا ہے۔

عورت پر جسمانی تشدد مثلا ً انتقاماً قاتلانہ حملہ، تھپڑ مارنا، بلندی سے دھکا دینا، بالوں سے پکڑ کر گھسیٹنا، رسی یا لوہے کی زنجیر سے باندھ دینا، زندہ جلانے کی کوشش، یا کسی چیز سے مارنا جیسے مناظر ان چند ڈراموں میں دکھائے گئے ہیں : الوداع، خدا دیکھ رہا ہے، پیا بیدردی، کیسا ہے نصیباں، میرے خدایا، سمّی، دیدن، بند کھڑکیاں، باندی، خانی، اب دیکھ خدا کیا کرتا ہے، کیسی عورت ہوں میں، زن مرید، چیخ، انکار، ڈر خدا سے، رمزِ عشق، میں نہ جانوں وغیرہ۔ اس کے علاوہ بھی اور کئی نام ہوں گے جو اس وقت ذہن میں نہیں۔ اے آر وائی کا ایک آنے والا ڈراما ”جھوٹی“ گھریلو تشدد پر مبنی ہے۔ جانے اس کہانی میں کیا کیا برداشت کرنا پڑے گا؟

ہاتھ اٹھانے کے علاوہ مرد کی بدکلامی اور بدزبانی؛ جنسی ہراسیت؛ عورت یا لڑکی کے حوالے سے امتیازی سلوک؛ ناپسندیدہ شوہر کے ساتھ رہنے کی مجبوری؛ عورت کو صرف sex object سمجھنا؛ اغوا اور جبری شادی؛ مرد کی عزت کی خاطر عورت کا قربان ہو نا وغیرہ ڈراموں میں عام دکھایا جاتا ہے۔ اس وقت ڈرامے کے مرغوب موضوعات ہیں : بیوفائی اور دغا؛ شوہر یا بیوی کا کسی غیر سے افیئر یا تعلق؛ عورت کا اپنی کسی محرومی کا ازالہ کرنے کے چکر میں مرد کی ہوس کا شکار ہو جانا وغیرہ۔ ازدواجی مسائل، دو مرد اور ایک عورت یا دو عورتیں اور ایک مرد کی مثلث، میاں بیوی کے درمیان کسی غیر مرد یا عورت کا آ جانا، ناجائز تعلقات کے علاوہ کیا ہمارے پروڈکشن ہاؤسز کے پاس کوئی موضوع نہیں رہا؟

ہمارے ڈراموں میں مرد کی مردانگی کا یہ معیار بنا دیا گیا ہے کہ وہ وحشی، ظالم، بدکا ر و خبیث، عورتوں کا رسیا، شرابی، نفسیاتی مریض، ملکیت پسند، تنگ نظر، اور فرعون نما ہو۔ مرد کو ظالم، وحشی، اور جابر دکھانے کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ مرد تو ہوتے ہی ایسے ہیں۔ اور عورت کے لئے اِن حالات سے نجات کا کوئی راستہ نہیں دکھایا جاتا اور دکھایا بھی جائے تو صرف خوشگوار اختتام کی غرض سے، اور اچھا خاصا ظلم سہنے کے بعد۔

کئی ڈراموں اور فلموں میں یہ دکھایا جا چکا ہے کہ عورت نفسیاتی مریض حتیٰ کہ بدکار شوہر کو معاف کر کے دوبارہ اسی کے ساتھ رہنے پر رضامند ہو جاتی ہے۔ لیکن جب عورت معافی مانگے تو مرد بظاہر نرمی (لیکن دراصل مردانہ رعونت) کے ساتھ یہ کہہ کر معافی دینے سے انکار کر دے کہ ”شرک تو خدا کو بھی پسند نہیں“ (میرے پاس تم ہو) ۔

ہماری فلموں میں بھی جٹ اور گجر کے کرداروں کی صورت میں بارہا اور مسلسل تشدد کی عکاسی کی گئی۔ اب ڈراموں میں صنفِ نازک پر ہونے والا تشدد معاشرے پر کیا ا ثرات مرتب کرے گا، خود ہی اندازہ لگا لیں۔ حقائق اور معاشرتی رویوں کی عکاسی اپنی جگہ ضروری ہے لیکن عورت پر ہاتھ اٹھانے اور جسمانی تشدد کی تو کہیں بھی اجازت نہیں۔ دین ِ اسلام بیوی اور دیگر نسوانی رشتوں کے ساتھ نرمی اور محبت کا سلوک کرنے کی تلقین کرتا ہے۔

ماں، بہن، بیٹی، اور بیوی، ہر رشتے میں عو رت کے احترام اور اس سے حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ مردانہ کرداروں میں وحشیانہ پن معاشرے کے لئے کس قدر نقصان دہ ہے، ہمارے پروڈیوسرز، مصنفین، اور ہدایتکار یہ سوچنے کی زحمت تو گو ارا کریں۔ ٹی وی چینلز ریٹنگ کے حصول کے لئے عورت کے کردار کے صرف دو پہلو دکھاتے ہیں : منفی یا مظلوم۔ عورت کو خود ترسی کا شکار، منفی، بری یا ظلم اور مرد کا تشدد سہتے دکھا کر ریٹنگ اور بزنس تو مل جائے گا لیکن اس کے ساتھ ٹی وی چینلز اور پروڈکشن ہاؤسز معاشرتی انحطاط اور اخلاقی زوال کے مجرم بھی قرار پائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “کیا مردانہ وحشیانہ پن ڈرامے کی ریٹنگ کے لئے ضروری ہے؟

  • 10/01/2020 at 10:44 am
    Permalink

    قابلِ ستائش تحریر۔ بہت خوبصورت۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *