تنویر آغا , جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی سیکرٹری خزانہ تو وہ بعد میں بنا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے عالی مرتبت منصب پر اس کا فائز ہونا تو ماضی قریب کا واقعہ ہے، میرا دوست وہ پہلے سے تھا۔ بہت پہلے سے .
نصف صدی کا قصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں
1971ء کا دسمبر تھا، جب میں سی ایس ایس کے امتحان کے نتیجہ میں سیکشن افسر تعینات ہو کر ٹریننگ کے لیے کراچی پہنچا۔ اُن دنوں مقابلے کا یہ امتحان واقعی مقابلے کا امتحان ہوتا تھا۔ صرف کراچی، لاہور اور لندن امتحانی مراکز تھے۔ عمر کی حد پچیس برس تھی۔
قیام کے اوائل میں ایک دن طبیعت بہت بجھی بجھی سی تھی۔ پنجاب سے کوئی کراچی جائے تو شروع میں وہاں کے سخت رطوبت زدہ موسم کی وجہ سے اس پر اضمحلال کی ایک عجیب کیفیت طاری ہوتی ہے۔ اعضا شکنی کا عالم اور بخار کی سی حالت! ابھی رفقائے کار سے دوستیوں کی بنیاد نہیں پڑی تھی۔ بس اتنا معلوم تھا کہ یہ تنویر آغا ہے اور تربیت میں ہمارا ساتھی ہے۔ کہنے لگا: اظہار‘ کیا حال ہے؟ کہا: کیفیت عجیب سی ہے‘ سوچ رہا ہوں نوکری چھوڑ کر واپس اسلام آباد چلا جائوں۔ کہنے لگا: میرے ساتھ آئو! وہ جمشید روڈ پر اپنے گھر میں رہتا تھا۔ وہیں لے گیا۔ اپنی امی جان سے ملوایا۔ پھر بتایا کہ تھوڑی دیر میں تم ٹھیک ہونے والے ہو۔ اہلِ کراچی کو یہ علاج خوب آتا ہے۔ چائے سے بھری چینک آ گئی۔ دو پیالیاں تیز چائے کی پینے کے بعد کیفیت یکسر بدل گئی۔ اعضا شکنی رہی نہ اضمحلال!
یہ اس دوستی کا آغاز تھا جو پچاس برس پورے عروج پر رہی۔ یہاں تک کہ کل آٹھ جنوری 2020ء کو تنویر آغا مجھے چھوڑ کر خود آسمان کی طرف چل دیا اور جسم کو زمین کے نیچے بھیج دیا۔ رومی نے کہا تھا؎
بروزِ مرگ چو تابوتِ من روان باشد
گمان مبر کہ مرا دردِ این جہان باشد
موت کے دن جب میرا تابوت لے کر جا رہے ہوں گے تو یہ نہ سمجھنا کہ مجھے اس جہان کی فکر ہو گی۔
ایک برس کراچی گزرا۔ ساجد حسن، اختر احسن، پرویز رحیم راجپوت، ظہیر مشتاق سید اور دیگر احباب ساتھ تھے۔ یہ سب ٹاپ کے مناصب تک پہنچے۔ ہم میں سے کچھ نے ایک بار پھر مقابلے کا امتحان دیا۔ بلال، تنویر آغا، مرزا شکیل مبرور اور یہ کالم نگار آڈٹ اینڈ اکائونٹس سروس میں آ گئے۔ پرویز رحیم راجپوت پولیس کو سدھار گیا۔
مزید ایک سال ہماری تربیت فنانس سروسز اکیڈمی والٹن میں ہوئی۔ وہاں خالد رضوی اور سکندر عسکر بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔ قرۃ العین حیدر کی بھتیجی نورالعین حیدر بھی ہمارے ساتھ تھیں۔تربیت کے مراحل تمام ہوئے تو مختلف شعبوں میں تعیناتیاں ہوئیں۔ پھر ازدواج کے مراحل آ گئے۔ میری شادی کے ایک برس بعد میرا چوبیس سالہ بھائی انوارالحق ایک حادثے کا شکار ہو کر چل بسا۔ تنویر آغا کے والد مرحوم ان دنوں کویت کے پاکستانی سفارت خانے میں ملازم تھے۔ انہوں نے تنویر کو گاڑی لے کر دی تھی۔ ہمارے ساتھیوں میں کسی اور کے پاس تب گاڑی نہیں تھی۔ تنویر نے مجھے اور میرے والد مرحوم کو گاڑی میں بٹھایا اور اس جگہ لے گیا جہاں حادثہ ہوا تھا۔ والد مرحوم وہاں بیٹھ کر گریہ کرتے رہے۔ تب انہوں نے ایک درد ناک مرثیہ کہا .
قمقموں کے شہر میں گُل ہو گیا میرا چراغ
میری منگنی ہوئی تو میرے سسر مرحوم سے تنویر کی بھی ملاقات ہوئی۔ بعد میں اکثر مجھے کہتا ”دلہن کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو، ورنہ میں میجر صاحب مرحوم کو حشر کے دن کیا منہ دکھائوں گا؟‘‘
لاہور کی تربیت کے دوران دو ماہ کراچی بھی رہنا تھا۔ یہ عرصہ میں تنویر کے گھر رہا۔ اس کی امی جان کے ہاتھوں کے پکے ہوئے کھانے کھائے اور ناشتے کیے۔ اسلام آباد میں وہ میرے ہاں قیام کرتا۔ میرے پاس اُن دنوں ویسپا تھا۔ اس پر سوار کرا کر میں اُسے اِدھر اُدھر لے جاتا۔
اس کی والدہ کی وفات ہوئی تو جی سکس ٹو والی امام بارگاہ میں، میں جنازے میں شریک تھا۔ والد گرامی میرے سب دوستوں سے محبت اور شفقت سے ملتے۔ تنویر کے ساتھ ان کا خصوصی پیار تھا۔ ایک بار میرے ہاں قیام پذیر تھا۔ کئی دنوں تک اس کے والد صاحب کا کویت سے خط نہ آیا۔ وہ پریشان ہو گیا اور رو پڑا۔ ابا جی نے دعا کی۔ پھر میں اسے لال مسجد کے سامنے تار گھر لے گیا۔ کویت کی فون کال بُک کروائی۔ ٹیلی گرام دیا۔ رابطہ ہوا تو اس کی جان میں جان آئی۔ میری والدہ مرحومہ اٹک کے خاص سٹائل میں خاگینہ بنایا کرتیں۔ وہ اسے آملیٹ کہتا۔ یہ اس کی پسندیدہ ڈش تھی!
ہم فیلڈ میں تعینات رہے۔ فیلڈ میں سہولیات نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں۔ اس نے مشکل راستہ چنا اور فیلڈ چھوڑ کر مرکزی سیکرٹریٹ چلا گیا۔ جن دنوں وہ وزارت خزانہ میں جوائنٹ بجٹ تھا‘ رات گئے تک دفتر بیٹھتا۔ اس تعیناتی کو سزا والی تعیناتی کہا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ وہ ریاض کے پاکستانی سفارت خانے میں پوسٹ رہا۔ ایک بار جدہ پہنچ کر اسے فون کیا۔ ضد کی اور مچل گیا کہ تم نے ریاض ضرور آنا ہے‘ مگر وقت نہیں تھا کہ میں اس کے حکم کی تعمیل کرتا!
پھر وہ ورلڈ بینک چلا گیا۔ وہاں بھارتیوں کے ساتھ اس کے معرکے رہے۔ وہ چاہتا تو بعض دوسرے بیوروکریٹس کی طرح ان معرکوں پر زیبِ داستاں کے لیے خوب بڑھا چڑھا کر لکھتا مگر ذاتی تشہیر اس کے ایجنڈے پر کبھی نہ رہی۔ خاموشی سے کام کرتا۔ تقریر و تحریر پر مکمل دسترس تھی۔ بلا کا ذہین تھا۔ اپنے ہم عصروں اور رفقاء کار سے کئی فرسنگ آگے! میں ہمیشہ اس کی ذہانت پر رشک کرتا!
وفاقی سیکرٹری خزانہ اس کی مشکل ترین تعیناتی تھی۔ وسائل محدود تھے‘ ہر چہار طرف سے مطالبات کا بے پناہ ہجوم۔ وفاقی سیکرٹری خزانہ کو ویسے بھی سولہ اٹھارہ گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے۔ میں ایڈیشنل سیکرٹری تھا اور تنویر کا ماتحت! دفاع کے تمام مالیاتی معاملات میرے پاس تھے اور مجھے ASMF کہا جاتا تھا یعنی ایڈیشنل سیکرٹری ملٹری فنانس! کہتے ہیں کسی کی اصلیت جاننا ہو تو اس کے ساتھ سفر کیجیے مگر ایک اور طریقہ کسی کی اصل جاننے کا یہ ہے کہ اس کے ماتحت بنیں۔
بڑے بڑے خاندانی لوگ دوستوں کے افسر لگ کر بے نقاب ہو جاتے ہیں اور اندر کا سفلہ پن باہر آ جاتا ہے۔ تنویر آغا نے تین سال کی ماتحتی میں ایک لمحہ بھی یہ احساس نہ ہونے دیا کہ وہ افسر ہے اور میں ماتحت! زینب کی پیدائش پر بیرونِ ملک جانا تھا۔ چھٹی مانگی تو بجٹ کے دن تھے۔ کہنے لگا: تم ڈیفنس بجٹ کے انچارج ہو‘ کیسے جا سکتے ہو! میں نے کہا: بجٹ بنا کر دے کر جائوں گا‘ نہیں چھٹی دو گے تو دوست تمہیں لعن طعن کریں گے۔ ہنس پڑا۔
ہمارا غیر تحریری معاہدہ یہ تھا کہ میں سرکاری اجلاسوں میں اسے آپ کہہ کر مخاطب کرتا۔ اجلاس ختم ہوتے ہی پھر تم اور تو تکار! اس اثناء میں اس کا ایک نہفتہ پہلو سامنے آیا۔ اعصاب کی حد درجہ مضبوطی اور کمال درجہ کی بے خوفی! ایک اجلاس وزیر خزانہ کے کمرے میں ہو رہا تھا۔ ایک اعلیٰ شخصیت اضافی بجٹ کا تقاضا کر رہی تھی۔ تنویر نے ماننے سے انکار کر دیا اس لیے کہ گنجائش نہیں تھی۔ دوسروں کے بجٹ میں الٹا تخفیف ہو رہی تھی۔ وہ شخصیت کہنے لگی ”ہم تنی ہوئی رسّی پر چل رہے ہیں‘‘ تنویر نے ایک ثانیہ توقف کیے بغیر کہا ” آپ کی تو رسّی ہی نہیں ہے، چلیں گے کیا‘‘! وزیر موصوف دم بخود تھے! ایک اور اعلیٰ سطحی اجلاس میں ایک اور شخصیت وزارت خزانہ کے ایک اہلکار پر چیخی!
تنویر نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ”چلائیے مت! یہ میرا کولیگ ہے‘‘! اس شخصیت کو اس اہلکار سے معذرت کرنا پڑی!
پھر خالقِ کائنات نے اسے مزید عروج بخشا! وہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے منصب کے لیے منتخب کیا گیا۔ ہم چند دوست اسے مبارک دینے اس کے دفتر گئے۔ میں نے معانقہ کر کے اس کا گال تھپتھپایا۔
ابھی ہم بیٹھے ہوئے ہی تھے کہ اسے ”بہت اوپر‘‘ سے کوئی فون آیا۔ فون رکھ کر اٹھا اور مجھے کہنے لگا: اِدھر آئو اب میں تمہارا گال تھپتھپائوں! تمہیں گریڈ بائیس میں ترقی دے دی گئی ہے۔ پھر اس نے مجھے کہا کہ پہلے انکل کو (یعنی اپنے والد گرامی) کو اطلاع دو۔ میں نے بتایا کہ جا کر، ان کے پائوں پکڑ کر یہ اطلاع دوں گا۔ آڈیٹر جنرل کا منصب وزیر مملکت کا ہوتا ہے۔ میں پھر اس کا ماتحت تھا۔ یعنی گریڈ بائیس میں اس کا دستِ راست! زینب چھوٹی سی تھی۔ میں نے اسے گود میں اٹھایا ہوا تھا۔ تنویر ملا تو میں نے زینب سے کہا کہ یہ انکل مجھے ڈانٹتے ہیں۔ ا س نے توتلی زبان میں باز پرس کی کہ نانا ابو کو کیوں ڈانٹتے ہیں؟ تنویر نے اسے کہا کہ میں تو صرف ڈانٹتا ہوں تمہارے نانا مجھے مارتے بھی ہیں!
ان مناصبِ عالیہ پر ہوتے ہوئے کسی کو ذاتی نقصان نہ پہنچایا۔ نچلے درجے کے ملازمین کے لیے دل بہت بڑا تھا۔ دستر خوان دوستوں کے لیے تو وسیع تھا ہی، ملازمین کے لیے بھی گویا لنگر چلتا رہتا۔ بیرون شہر سے آنے والے دوست ہفتوں اس کے ہاں قیام کرتے۔ مسلکی یا لسانی تعصب اس کے چہرے سے کوسوں دور تھا۔
تنویر نے اپنے والد مرحوم کی خوب خدمت کی۔ اس کا صلہ آخرت میں تو ملے گا ہی، دنیا میں یہ ملا کہ اس کے تینوں فرزندوں رضا، سلمان اور ذیشان نے تیمارداری میں کوئی دقیقہ فروگزاشت کیا‘ نہ اپنی ملازمتوں کی پروا کی! یاسمین بھابھی کی اپنی صحت عرصہ سے ڈانواں ڈول ہے۔ تنویر انہیں تنہا کر گیا‘ اور ہم دوستوں کو زندگی کے اس باقی ماندہ غیر یقینی سفر پر حیران و پریشان چھوڑ گیا؎
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *