بیانیہ زندہ ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف صاحب کا اپنے بیانیے سے پُراسرار اظہارِ لاتعلقی ہر طرف زیرِ بحث ہے۔ ایسا ہونا بھی چاہیے۔ سیاسی لیڈر اوتار نہیں ہوتے۔ اُن پر آنکھیں بند کرکے اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ لازم ہے کہ ان کے خیالات کو پرکھا جائے اور انہیں عمل کے ترازو میں تولا جائے۔ پھر یہ کہ دنیا میں آئیڈیلز نہیں ہوتے۔ محمد علی جناح کا معاملہ استثنا کا ہے۔ ہر کوئی قائد اعظم نہیں بن سکتا۔ ہماری ستر سالہ تاریخ یہی ہے کہ ہمیں موجود میں سے بہتر کا انتخاب کرنا پڑا۔ دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ امریکہ میں کتنے ابراہام لنکن آئے؟ بھارت نے کتنے گاندھی پیدا کیے؟ نواز شریف صاحب کی تائید اور مخالفت کا فیصلہ بھی اسی عمومی تجربے کی بنیاد پر ہو گا۔
نواز شریف صاحب کے بارے میں ہم حسبِ عادت افراط و تفریط کا شکار ہو گئے۔ کسی کے نزدیک ان سے وابستہ توقعات سادہ لوحی کا اظہار تھا یا کسی دنیاوی مفاد کا شاخسانہ۔ یہ چند مفاد پرست رائے سازوں کا تراشا ہوا ہیرو تھا، جس سے عزیمت کی جھوٹی داستانیں منسوب کی جا رہی تھیں۔ کہاں نواز شریف اور کہاں عزیمت؟ کہاں ایک تاجر اور کہاں نظریہ؟ یہ ایوانِ اقتدار سے نکالے جانے والے ایک روایتی سیاست دان کی صدائے احتجاج تھی جس کو بیانیے کا نام دے دیا گیا۔ یہ ناجائز دولت کے چھن جانے کا خوف تھا جسے ‘ووٹ کو عزت دو‘ کے پردے میںچھپایا گیا تھا۔
یہ بھی کہا گیا کہ وہ ایسے ہی صاحبِ عزیمت تھے تو ‘ڈان لیکس‘ پر کیوں چپ رہے؟ مشاہداللہ خان کو وزارت سے کیوں ہٹایا؟ فلاں موقع پر کیوں اعلانِ بغاوت نہیں کیا؟ چونکہ فلاں فلاں مواقع پر خاموشی کو روا رکھا، اس لیے، بعد میں ان کا بو لنا معتبر نہیں۔ اس نوعیت کے چند اور اعتراضات بھی ہیں، جو یہ طبقہ اپنے زنبیل میں رکھے ہوئے ہے اور حسبِ ضرورت ان کی نمائش کرتا رہتا ہے۔
دوسرا موقف یہ تھا کہ ‘ووٹ کو عزت دو‘، ایک حقیقی تبدیلی کا مظہر نعرہ ہے۔ نواز شریف پوری سنجیدگی اور دیانت کے ساتھ اس بیانیے کا علم بلند کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سوچ سمجھ کر یہ موقف اپنایا اور پھر اس پر ڈٹ گئے۔ انہوں نے جانتے بوجھتے عزیمت کے کانٹوں بھرے راستے کا انتخاب کیا اور اپنی جان تک داؤ پر لگا دی۔ ان کی موجودہ سیاست ارتقائی مراحل سے گزر کر بلوغت تک پہنچی ہے، اس لیے اسے 1980-90ء کی سیاست پر قیاس کرنا درست تجزیہ نہیں۔ کل اگر انہوں نے اقتدار کی سیاست کی تو آج وہ اقدار کی سیاست کر رہے ہیں۔
دوسرا موقف رکھنے والوں کو مگر اُس وقت ایک مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے میں نون لیگ تحریک انصاف کی ہمنوا بن گئی۔ اس سے پہلے نواز شریف اور شہباز شریف کے بیانیوں میں فرق ایک ایسا سہارا تھا جس سے نواز شریف صاحب کے بارے میں حسنِ ظن قائم رکھا جا سکتا تھا۔ جب خواجہ آصف صاحب کی زبانی یہ اعلانِ عام ہوا کہ یہ سب کچھ نواز شریف صاحب کے حکم پر ہوا ہے تو یہ سہارا بھی چھن گیا۔ اب دوسرے موقف کا دفاع کرنے والوں کو پہلے گروہ کی طرف سے طعن و تشنیع کا سامنا ہے۔ جو جواباً گالی دے سکتے ہیں وہ خان صاحب کی ملتی جلتی کمزوریوں کو موضوع بنا کر دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں، مگر جو گالی دینے کی ہمت، صلاحیت یا تجربہ نہیں رکھتے ان کے لیے صورتِ حال کا سامنا کرنا آسان نہیں۔
میں دوسرے موقف کو درست سمجھتا تھا (اور سمجھتا ہوں) میری وابستگی بیانیے کے ساتھ ہے۔ میں اس رائے کی تائید کرتا ہوں کہ پاکستان کے بنیادی مسائل میں سے ایک ‘سول ملٹری تعلقات‘ ہیں۔ اس کا حل ووٹ کو عزت دینے میں ہے۔ پاکستان کا آئین بھی یہی کہتا ہے اور اسی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا عَلم نواز شریف صاحب نے اٹھایا‘ جو اس بیانیے کو درست سمجھتے ہیں، ان کے لیے یہی راستہ تھا کہ وہ ان کی تائید کرتے۔
نوازشریف نے یہ عَلم پوری جرأت کے ساتھ اٹھایا اور ایک صاحبِ عزیمت ہونے کا ثبوت دیا۔ ایک ایسے عالم میں جب سگا بھائی اور برسوں سے شریکِ اقتدار ساتھ دینے پر آمادہ نہیں تھے، انہوں نے اپنی بیٹی کو لیا اور میدانِ کارزار میں آ کھڑے ہوئے۔ تین دفعہ وزیر اعظم رہنے والے شخص سے زیادہ کون جان سکتا ہے کہ اقتدار کی حرکیات کیا ہوتی ہیں؟ پاکستان میں یہ نعرہ بلند کرنے کی کیا قیمت ہو سکتی ہے؟ جو بات پاکستانی سیاست کا ایک ادنیٰ طالب علم جانتا تھا، کیا نواز شریف کو معلوم نہیں تھی؟
کیاوہ اس سے بے خبر تھے کہ پاکستان جانے کا مطلب جیل جانا ہے؟ اس کے باوجود وہ ملک میں آئے۔ انہوں نے بہادری کے ساتھ حالات کا سامنا کیا۔ اس موقع پر میرے سیاسی فہم، میرے ضمیر اور میری حب الوطنی، سب کا تقاضا یہ تھا کہ حسبِ توفیق نواز شریف صاحب کا ساتھ دیا جائے۔ الحمدللہ، میں ان لوگوں میں شامل نہیں تھا جنہوں نے اس اصولی جنگ میں نواز شریف کا ساتھ دینے کے بجائے، ساری توانائیاں ان کو چور ثابت کرنے پر صرف کیں اور آج ان کا مذاق بھی اڑا رہے ہیں کہ انہوں نے بیانیے سے لاتعلقی کیوں اختیار کر لی۔ مجھے اطمینان ہے کہ جب عوام کی بالادستی کا معرکہ درپیش تھا تو میں اس گروہ کا حصہ نہیں تھا جو عوام کے نمائندوں کو کرپٹ ثابت کرنے پر لگا ہوا تھا۔ اگرکسی کے نزدیک یہ بات درست تھی، تو بھی سیاست دانوں کے خلاف مہم اٹھانے کے لیے، یہ وقت موزوں نہیں تھا۔
پھر اس سے زیادہ کمزور بات کوئی نہیں ہو سکتی کہ آج اس لیے آپ کا کھڑا ہونا غلط ہے کہ کل آپ فلاں موقع پرکھڑے نہیں ہوئے تھے؟ واقعہ یہی ہے کہ لوگ کسی صورت میں خوش نہیں ہوتے۔ اگر نوازشریف اس سے پہلے کھڑے ہوتے تو کہا جاتا کہ یہ شخص توہر وقت اداروں سے تصادم پرآمادہ رہتا ہے۔ اپنے آخری دورِ اقتدار میں نوازشریف صاحب نے ہر ممکن کوشش کی کہ تصادم کی کیفیت پیدا نہ ہو۔ لیکن جب خرابی نظام کی ساخت میں ہو توپھر تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ عمران خان جیسے بھی نہیں بچ پاتے۔ ہونی ہوکے رہتی ہے۔ لوگوں کا معاملہ مگر یہ ہے کہ آپ گدھے پر سوار ہوں تو بھی ناخوش، گدھے کو خود پر سوار کر لیں تو بھی نالاں۔
میں پہلے بھی لکھ چکا ہوںکہ اصل اہمیت بیانیے کی ہے، فرد کی نہیں۔ اگر نوازشریف نے یہ جھنڈا نہ اٹھایا تو کوئی اور اٹھالے گا مگر خلا نہیں رہے گا۔ پھر معاملہ صرف نوازشریف کا نہیں تھا۔ پرویز رشید، شاہد خاقان، سعدرفیق، رانا ثنااللہ، احسن اقبال اور مشاہداللہ خان جیسے بھی تھے جو سرِ مقتل کھڑے تھے۔ ضمیر اس پر بھی راضی نہیں تھا کہ ان کو تنہا چھوڑ دیا جائے۔ میرے لیے یہ اطمینان کی بات ہے کہ میں نے جسے درست سمجھا، اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔
وہ لوگ داد کے مستحق ہیں جنہوں نے ایک پُر آشوب دور میں اس بیانیے کا ساتھ دیا۔ ان کے لیے شرمندگی کی کوئی وجہ نہیں۔ شرمندہ تو وہ ہوں جنہوں نے اس بیانیے سے اظہارِ لاتعلقی کیا یا اس معرکے کے دوران میں اسے کمزور کیا۔ مجھے بھی خیر خواہوں نے یہی مشورہ دیا کہ نوازشریف یا اس بیانیے کو موضوع بنانے کے بجائے، مجھے دیگر موضوعات پر لکھنا چاہیے۔ مجھے مگر آج بھی اس پر شرحِ صدر ہے کہ میں نے گالیاں کھانے کے باوجود، ایک معاملے کو ایسے وقت میں موضوع بنایا جب اُس پر سب سے زیادہ لکھنے کی ضرورت تھی۔ عوامی بالادستی کے سوال کو ہم چند دن کیلئے ٹال تو سکتے لیکن اس سے مستقل صرفِ نظر نہیں کر سکتے۔
جمہوریت وقت کافیصلہ ہے اور وقت سے لڑ کرکوئی جیت نہیں سکتا۔ ‘ووٹ کو عزت دو‘ کا بیانیہ زندہ ہے اور زندہ رہے گا جب تک اس ملک میں حقیقی جمہوریت نہیںآجاتی۔ اگر کسی مقصد کا حصول مشکل ہو جائے تو وہ مقصد کے غلط ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ سرِ دست جمہوریت کا مستقبل مخدوش ہے، بالخصوص جب اس بیانیے کا عَلم سرِ میدان پڑا ہے اور بظاہر کوئی علمدار نہیں۔ قدرت کا قانون یہی ہے کہ خلا کبھی باقی نہیں رہتا۔ آج نہیں تو کل کوئی اسے اٹھالے گا۔ رہی بات نوازشریف صاحب کی تو ان کی یہ لاتعلقی مجھے حیرت میں ڈالے ہوئے ہے۔ اس حیرت کا تعلق عزیمت سے نہیں، سیاسی فراست سے ہے؟ کیا اُن کے پاس، اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا؟ اس سوال کو میں کسی اگلے کالم کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *