جمہوریت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ قومی اسمبلی کے فلور پر ”عزت سے ووٹ دو“ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ تومیں نے مناسب سمجھا کہ اس پر بھی بات ہوجانی چاہیے کہ جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے۔ علامہ اقبال مرحوم نے فرمایا تھا:

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے!

اس شعر کو سمجھنے کے لیے قرآن مجید کی یہ آیت بھی پڑھیے :

ترجمہ: ”کیا وہ لوگ جن کے پاس علم ہے اور جن کے پاس علم نہیں ہے آپس میں برابر ہو سکتے ہیں؟ “

اللہ تعالیٰ نے یہ سوال صرف مسلمانوں سے نہیں بلکہ تمام انسانوں سے کیا ہے اور انہیں جھنجھوڑتے ہوئے ان سے فقط اتنا پوچھا ہے :کیا عالم اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں؟ اس سوال کا ایک ہی جواب :نہیں، اوراس جواب پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے۔ یہاں علم کا لفظ مطلق طور ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد صرف وہ لوگ نہیں ہیں جو دین کے عالم ہیں بلکہ کسی بھی شعبے کا علم رکھنے والا انسان اس دوسرے انسان پر برتری رکھتا ہے جس کے پاس اس شعبے کا علم نہیں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں جب بھی رائے لی جائے تو اسی بندے سے لی جائے جس کے پاس متعلقہ شعبے کا علم ہے اور اسی کی بات پر عمل کیا جائے۔ اگر اس عالم یعنی ماہر بندے کی رائے کی مخالفت میں دسیوں افراد کھڑے ہو جائیں تو ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ بات دور نکل گئی واپس علامہ اقبال کے شعر کی طرف آتے ہیں۔

علامہ اقبال کایہ شعر جمہوریت کی روح ہے۔ اگرچہ کچھ لوگوں نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ علامہ اقبال جمہوری نظام کے خلاف تھے لیکن ان کا یہ استدلال بوجہ اسی طرح غلط ہے جس طرح ان لوگوں کا استدلال غلط ہے جو دن رات اس بات کی تبلیغ کرتے تھکتے نہیں کہ علامہ اقبال کی نظر میں واحد نظام حکومت جمہوریت ہی ہے۔ اس شعر میں علامہ اقبال مرحوم ؒ نے نہ تو جمہوریت کو نجات دہندہ قرار دیا ہے اور نہ ہی اسے کفریہ نظام کہا ہے جیسا کہ بعض لوگوں کی دلیل ہے بلکہ انہوں نے اس جمہوریت پر طنز کیاہے جس میں لوگوں کو تولنے کی بجائے صرف گنا جائے۔

آپ خود ہی انصاف کیجیے کہ اگر ایک طرف ایسا انسان کھڑا ہے جس کے علم، فہم و ذکا، سیاسی شعور اور قومی وبین الاقوامی حالات سے باخبری سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن دوسری طرف ایسا انسان ہے جو ان تمام خوبیوں سے عاری ہے کیا یہ دونوں انسان آپس میں برابر ہیں؟ اس شعر میں لفظ ”جمہوریت“ بطور ایک ”موصوف“ کے مذکور ہے اور باقی کے الفاظ بطور صفت وارد ہوئے ہیں۔ اس شعر میں ”مرکب توصیفی (Adjective Case) “ کی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔

یعنی ان کی نظر میں وہ جمہوریت قابل مذمت ہے جس میں لوگوں کو عددی اعتبار سے تو گنا جائے لیکن علمی اعتبار سے ان کا وزن نہ کیا جائے۔ ان کی نظر میں کوئی نظام غلط نہیں ہے بلکہ کسی بھی نظام کے صحیح اور غلط ہونے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اس کی ہیئت ترکیبی کیا ہے؟ اس کا جوہر کیا ہے؟ اس کا مقصود کیا ہے؟ اگر ایک نکتے پرصرف دو انسان قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کھڑے ہوں اوردوسری طرف اس کے متضاد نکتے پر ہزار جاہل انسان کھڑے ہو جائیں تو آپ کی نظر میں کون سا نکتہ ٹھیک ہے؟

اگر آپ معاشرے میں نظر دوڑائیں تو ہر انسان گنتی کی بجائے علم کو ہی اہمیت دیتا نظر آتا ہے۔ اگر راہ چلتے گاڑی خراب ہو جائے تو چالیس پچاس مسافروں کی رائے ایک طرف اور مکینک کی رائے ایک طرف۔ ہر انسان بالکل اپنی رائے کو بالائے طاق رکھتے مکینک کی رائے کو اہمیت دے گا اور گاڑی کا مالک اور ڈرائیور بھی اسی کے مشورے پر عمل کرے گا چاہے پچاس کے پچاس مسافر وں کی رائے اس سے مختلف ہی کیوں نہ ہو۔ فرض کریں کہ آپ کے گھر کی وائرنگ میں کوئی مسئلہ پیدا ہو جائے، بجلی خراب ہو جائے، آپ کسی الیکٹریشن کو بلا کر لائیں اور وہ کوئی رائے دے لیکن آپ کے گھر کے دس بارہ افراد کی رائے اس الیکٹریشن کی رائے کے خلاف ہو تو آپ کیا کریں گے؟

کیا آپ جمہوریت کے گنتی والے قاعدے پر عمل کرتے ہوئے گھر کی وائرنگ کی اصلاح کا نظام ان دس بارہ افراد کے سپرد کر دیں گے جو اس شعبے سے نابلد ہیں یا اس الیکٹریشن کی مانیں گے جو اس شعبے کا عالم ہے؟ اگر ایک انجینئر کہے کہ آپ کے گھر کی چھت دوسری منزل کا بوجھ نہیں سہار سکتی لیکن محلے کا چوکیدار کہے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے اس گھر پر دوسری تو کیا تیسری منزل بھی بن سکتی ہے تو آپ کس کی رائے کو معتبر گردانیں گے؟ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ یہاں آپ گنتی کرنے کی بجائے تولنا پسند کریں گے اور یہی علامہ اقبال کے اس شعر کا مطمع نظر ہے۔

علامہ اقبال مرحوم بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ کوئی بھی نظام فی نفسہٖ اچھا یا برا نہیں ہوتا۔ کسی بھی نظام کو صرف ایک بنیاد پر غلط نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی حمایت میں کھڑے افراد کی تعداد قلیل ہے اور نہ ہی کسی نظام کو صرف اس بنیاد پر ٹھیک کہا جا سکتا ہے کہ اس حمایت میں کھڑے افراد کی تعداد کثیر ہے۔ حق اور باطل میں حد فیصل نظریہ ہے نہ کہ گنتی۔ اگر آپ حضرت آدم ؑ کے بعدآنے والے تمام انبیائے کرام مثلاً حضرت ابراہیم اورحضرت موسیٰ کے حالات زندگی پڑھیں تو آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے ان نفوس قدسیہ کے ساتھیوں کی تعداد کم تھی اور ان کے مدمقابل نمروداور فرعون کے ساتھیوں کی تعدادبہت زیادہ تھی۔

فرض کریں کہ فرعون اور نمرود کو بھی گنتی والی جمہوریت کی سوجھ جاتی اور وہ الیکشن کا اعلان کردیتے تو ووٹ کسے زیادہ پڑنے تھے؟ کیا آپ محض ان اکثریتی ووٹوں کی بنیاد پر نمرود اور فرعون کو حق بجانب کہتے؟ یقناً نہیں! بس علامہ اقبال اسی نکتے کی جانب اشارہ کررہے ہیں کہ لوگوں کی گننے کی بجائے ان کے علم اور نظریے کا وزن کریں۔ آپ دور کیوں جاتے ہیں صرف میدان کربلا تک چلے جائیے۔ وہاں امام حسین ؑ کے ساتھ صرف بہتر لوگ ہیں جبکہ یزیدیوں کے ساتھ کم و بیش ایک لاکھ افراد کا ووٹ بینک ہے لیکن اس کے باوجود جب آپ یزید کو غلط کہتے ہیں تو حقیت میں آپ اس نظریے کی نفی کررہے ہوتے ہیں کہ جمہوریت محض افراد کی گنتی کا نام نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *