پاکستان میں سردی کی لہر: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر، بلوچستان میں مختلف واقعات میں کم از کم 27 افراد ہلاک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برف

BBC

گذشتہ دو روز کے دوران مسلسل برفباری اور بارشوں کے باعث پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور صوبہ بلوچستان میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق صوبے میں مسلسل بارش اور برفباری کے باعث چھتیں گرنے سے اب تک 15 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کوئٹہ میں ہمارے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ضلع قلعہ سیف اللہ میں کان مہترزئی میں شدید برفباری کے باعث متعدد گاڑیوں میں پھنسے سینکڑوں افراد کو ریسکیو کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

https://twitter.com/jam_kamal/status/1216812133352181760

اب سے کچھ دیر قبل مقامی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ ڈاکٹر عتیق شاہوانی نے کہا ہے کہ ’اس وقت حالات قابو میں ہیں اور کسی مسافر کو جان کا خطرہ نہیں ہے۔‘

ان کے مطابق متاثرہ افراد کو خوراک، کمبل اور دیگر ضروری اشیا فراہم کر دی گئی ہیں جس کے بعد انھیں کوئٹہ منتقل کیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ اس ریسکیو آپریشن میں 250 اہکار اور 40 افسران حصہ لے رہے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے ایس ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران مختلف اضلاع میں مجموعی طور پر 12 افراد ہلاک اور 12 ہی زخمی ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیے

برفباری کے بعد ’سفید‘ کوئٹہ کے مناظر

’سوچا نہ تھا کہ یوں چھت سے محروم ہو جائیں گے‘

پی آئی اے کا طیارہ کوئٹہ میں کیوں پھنس گیا؟

ایس ڈی ایم اے ضلع نیلم کے ضلعی افسر اختر ایوب نے ہمارے نامہ نگار ایم اے زیب سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وادی نیلم میں برفانی تودے کی زد میں آ کر اور بارش کے باعث مکانات گرنے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہے جبکہ ان واقعات میں 12 افراد زخمی ہوئے ہیں.

ان کے مطابق ضلع نیلم میں ان واقعات کے سبب 22 مکانات سمیت چار دوکانیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئی ہیں.

کان مہترذئی کی تازہ ترین صورتحال

پی ایم ڈی اے بلوچستان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کچھ ہی دیر قبل کی جانے والی ایک ٹویٹ کے مطابق کان مہترذئی کے علاقے سے تمام مسافروں کو کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔

کمشنر ژوب سہیل الرحمان بلوچ نے مقامی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کان مہترزئی کے قریب زڑا کے مقام پر پھنسی ہوئی مسافر گاڑیوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔

https://twitter.com/PDMABalochistan/status/1216845471345512448

کمشنر ژوب کے مطابق دونوں سمتوں سے امدادی کام شروع کر دیا گیا تھا تاہم طوفانی ہوا کی وجہ سے ریسکیو میں مشکلات کا سامنا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ جام کمال نے بھی اب سے کچھ دیر قبل ایک ٹویٹ میں بتایا کہ امدادی ٹیمیں اب دونوں اطراف سے بحالی کا کام کرتی ہوئی ایک دوسرے کے قریب پہنچ رہی ہیں۔

پی ڈی ایم اے بلوچستان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے، بلوچستان عمران زرکون کو دیکھا جا سکتا ہے جن کے مطابق اب تک تقریباً 40 کے قریب گاڑیوں کو واپس بھیجنے میں مدد کی گئی ہے جبکہ قریبی علاقے میں مسافروں کے ٹھہرنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

https://twitter.com/PDMABalochistan/status/1216837145438101504

دوسری جانب لیویز حکام کا کہنا ہے کہ کوئٹہ ژوب شاہراہ کان مہترزئی کے مقام پر بدستور بند ہے جبکہ علاقے میں برفانی طوفان شدت کے ساتھ جاری ہے جس کے باعث درجنوں چھوٹی گاڑیاں برف میں دب گئی ہیں۔

خیال رہے کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی جانب سے گذشتہ روز ایک تنبیہ جاری کی گئی تھی جس میں رات میں سفرسے گریز کرنے کی اپیل بھی کی گئی تھی۔

کان مہترزئی میں شدید برفباری اور پھسلن

بلوچستان میں دو روز کے دوران جن علاقوں میں سب سے زیادہ برفباری ہوئی ہے ان میں کان مہترزئی کا علاقہ بھی شامل ہے۔

کوئٹہ سے اندازاً شمال مشرق میں سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اس علاقے کا شمار سرد ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔

سڑکوں پر پھسلن کے باعث اس علاقے میں گاڑیوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پیر کی شام کے وقت پھسلن کے باعث اس علاقے میں گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد پھنس گئی تھی جن میں تین سو سے پانچ سو قریب افراد موجود تھے۔

شدید سردی اور قرب و جوار کے علاقوں میں رہائش یا پناہ لینے کے لئے انتظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ افراد ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہو گئے تھے۔

تاہم مقامی انتظامیہ کی جانب سے ان افراد کو نکالنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا جو کہ رات گئے تک جاری رہا۔

بلوچستان میں مختلف شاہراہیں جزوی طور پر بند

کوئٹہ کراچی ہائی وے لکپاس، کوئٹہ سبّی ہائی وے دشت، کوئٹہ ژوب ہائی وے کان مہترزئی اور کوئٹہ چمن ہائی وے کوژک کے مقام پر بند ہو گیا تھا۔

دن کے وقت ان علاقوں میں ٹریفک کو کسی حد تک بحال کیا گیا تھا لیکن رات کو سردی کی شدت میں اضافے سے پھسلن کی وجہ سے گاڑیوں کے لیے چلنا مشکل ہو گیا ہے۔

جہاں ان علاقوں میں برف باری کی وجہ سے لوگوں کو آمد ورفت میں مشکلات کا سامنا ہے وہیں کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں جہاں جہاں گیس کی سہولت موجود ہے وہاں گیس کے پریشر میں کمی کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21755 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp