’’بیانیے کی موت‘‘… دوسرا نقطۂ نظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی تائید و حمایت کے ساتھ سروسز (ترمیمی) ایکٹس کی منظوری پر (بطورِ خاص) مسلم لیگ (ن) میں ایک ہنگامے کی کیفیت ہے۔ خود خواجہ آصف اور رانا ثناء اللہ کے بقول، یہ ایک ”ان پاپولر‘‘ فیصلہ تھا جس پر مسلم لیگی ووٹر اور ورکر خوش نہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا میں بھی تنقید کا طوفان ہے۔ میاں نواز شریف کی حمایت میں ایک دنیا سے ٹکر لینے والے، دانشور، کالم نگار اور تجزیہ کار بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ میاں صاحب کے بیانیے کا کیا ہوا؟
کسی نے اسے ”بیانیے کی موت‘‘ کا عنوان دیا، کسی نے دُکھ بھرے لہجے میں ”الوداع، میاں صاحب الوداع‘‘ کا اعلان کیا، کسی نے ”کریلے گوشت کو عزت دو‘‘ کہہ کر دل کی بھڑاس نکالی۔ برادرم خورشید ندیم کے خیال میں میاں صاحب کے لیے باوقار راستہ یہ تھا کہ عملی سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کرکے معاملات شہباز صاحب کے سپرد کر دیتے۔ ان میں سے کسی کے اخلاص میں شبہ نہیں۔ شروع میں ہم بھی اس حوالے سے کچھ جذباتی ہو رہے تھے، لیکن ایک آدھ دن میں کچھ نارمل ہوئے تو خود سے سوال کیا کہ سروسز ترمیمی ایکٹس میں وہ کون سی شق ہے جس سے میاں صاحب کے نعرے ”ووٹ کو عزت دو‘‘ کی تکذیب ہو گئی؟
”ووٹ کو عزت دو‘‘ سول سپریمیسی ہی کا دوسرا عنوان ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم (اور دیگر مسلم لیگی قائدین)کی تقاریر بھی اسی تصور پر مبنی تھیں (زمین کے ایسے خطے کا حصول جہاں وہ اپنی ”آرزوئوں اور امنگوں کے مطابق‘‘ زندگی گزار سکیں۔ اقبالؒ تو اجتہاد کا حق بھی منتخب پارلیمنٹ کو دیتے تھے) قیام پاکستان کے بعد سٹاف کالج کوئٹہ میں اپنے خطاب میں بانیٔ پاکستان نے واضح کیا تھا کہ پاکستان میں فیصلہ سازی کا اختیار سول حکومت کا ہے اور ”افسران‘‘ کو ان فیصلوں پر عملدرآمد کرنا ہے۔
قائد اعظم نے اس سلسلے میں آئین میں لکھے گئے حلف کی طرف بھی متوجہ کیا۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی قیادت میں آئین ساز اسمبلی کی منظور کردہ قراردادِ مقاصد میں بھی سول سپریمیسی کا یہی تصور موجود تھا، جس میں ربِّ کائنات کو نوآزاد ریاست کا مقتدرِ اعلیٰ تسلیم کرتے ہوئے اس اقتدارِ اعلیٰ کو ایک مقدس امانت قرار دیا گیا جسے ”عوام کے منتخب نمائندے‘‘ استعمال کریں گے (اور یوں کسی غیر جمہوری، غیر منتخب حکمرانی کا پتا کاٹ دیا گیا) فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم اور اس کے بعد 1968 کی عوامی تحریک بھی سول سپریمیسی ہی کے لیے تھی۔ 1977 میں انتخابی دھاندلیوں کے خلاف پی این اے کی بے مثال عوامی تحریک بھی ”ووٹ کو عزت دو‘‘ ہی کی تحریک تھی۔ میاں نواز شریف کا کریڈٹ یہ ہے کہ انہوں نے اسی پرچم کو دوبارہ بلند کیا، اس پر اصرار کیا اور اس کے لیے اقتدار سے تین بار محرومی کو بھی خسارے کا سودا نہ سمجھا۔
اپنی پہلی وزارتِ عظمیٰ کے اوائل ہی میں انہیں خارجی (سفارتی) محاذ پر خلیج کے سنگین بحران کا سامنا تھا۔ کویت پر عراق کے صدر صدام حسین کے ناجائز قبضے کے خلاف ساری دنیا یک زبان تھی۔ اس ناجائز قبضے کے خاتمے (اور کویت کی آزادی) کے لیے اقوام متحدہ نے طاقت کے استعمال کی منظوری بھی دے دی تھی۔ امریکہ اس کی قیادت کر رہا تھا۔ صدام حسین اپنے نظریاتی بھائی، لیبیا کے صدر قذافی کی حمایت سے بھی محروم ہو چکے تھے۔ ایسے میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ صدر صدام حسین کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے (انہیں جنرل حمید گل جیسے ”ویژنری جرنیل‘‘ اور جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام سمیت بعض مذہبی حلقوں کی تائید بھی حاصل تھی۔
جنرل صاحب اسے ”ام المحارب‘‘ (جنگوں کی ماں) قرار دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا، عراق کی طرف سے یہ مزاحمت 50 سال جاری رہے گی) یہ بیان بازی پاکستان کے قومی مفادات کے بھی منافی تھی۔ ہر مشکل میں پاکستان کے کام آنے والی عرب دنیا بطور خاص اس پر مضطرب تھی۔ ایران بھی حیران اور پریشان تھا۔
تب 8ویں آئینی ترمیم کے تحت سروس چیفس کا تقرر صدر کا صوابدیدی اختیار تھا۔ نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھائے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے تھے۔ وہ ایوانِ صدر گئے اور صاف صاف کہا کہ ان کے خیال میں آرمی چیف کا طرزِ عمل، قوموں کے اقتدارِ اعلیٰ کے عالمی اصولوں کے علاوہ ہمارے قومی مفادات کے بھی منافی ہے۔ صدر غلام اسحاق خان سے نوجوان (اور نومنتخب) وزیر اعظم کا اصرار تھا کہ وہ آرمی چیف کو منع کریں۔ قومی مفادات کے حوالے سے بنیادی فیصلے منتخب حکومت (اور پارلیمنٹ) کا حق ہے جس پر وہ کسی کمپرومائز کے لیے تیار نہیں۔
جہاندیدہ اور سرد و گرم چشیدہ صدر کو وزیر اعظم کے موقف سے اتفاق تھا۔ آرمی چیف کو منع کر دیا گیا لیکن انہوں نے یہ بات دل میں رکھی۔ 16 اگست 1991 کو ان کے تین سال پورے ہونے تھے۔ اگرچہ آئین کے تحت (اس وقت) ”ایکسٹینشن‘‘ صدر کا اختیار تھا لیکن صدر اس معاملے پر وزیر اعظم سے ”بگاڑ‘‘ بھی نہیں چاہتے تھے۔ کسی گڑ بڑ سے بچنے کیلئے دوماہ پہلے ہی (جون میں) نئے آرمی چیف کے طور پر جنرل آصف نواز (تب کور کمانڈر کراچی) کی نامزدگی کا اعلان کر دیا گیا اور وہ راولپنڈی آ کر بیٹھ گئے۔ افسران کی وفاداریاں جانے والے کی بجائے آنے والے کے ساتھ تھیں۔
نواز شریف کی دوسری وزارتِ عظمیٰ (1997) میں پارلیمنٹ نے قائد حزب اختلاف محترمہ بے نظیر بھٹو کی تائید و حمایت کے ساتھ 13ویں ترمیم کے ذریعے صدر کے (8ویں ترمیم کے) صوابدیدی اختیارات ختم کر دیے (58/2B کے تحت حکومتوں کی برطرفی اور سروس چیفس (اور گورنروں) کے تقرر کے صوابدیدی اختیارات) 17ویں ترمیم کے ذریعے صدر مشرف نے یہ اختیارات دوبارہ حاصل کر لیے۔ 2010 میں 18ویں ترمیم کے ذریعے یہ اختیارات دوبارہ وزیر اعظم (وفاقی کابینہ) کے پاس آ گئے۔
وزارتِ عظمیٰ کے تین ادوار میں نواز شریف اور فوجی قیادت میں معاملات (اور تعلقات) ایک الگ موضوع ہے۔ زرداری+گیلانی دور میں میاں صاحب نے جنرل کیانی کی توسیع کی مخالفت میں واضح موقف اختیار کیا تھا۔ اپنے تیسرے دور میں انہوں نے جنرل راحیل شریف کو توسیع نہ دی (دوسری وزارتِ عظمیٰ کے دور میں سروس چیفس کے تقرر (اور توسیع) کا اختیار وزیر اعظم کے پاس تھا، لیکن ”توسیع‘‘ کا معاملہ اس لیے درپیش نہ ہوا کہ جنرل جہانگیر کرامت کے ابھی تین سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ وہ ”مستعفی‘‘ ہو کر گھر چلے گئے۔ جنرل مشرف کو آئے ایک سال ہوا تھا کہ خود میاں صاحب رخصت کر دیئے گئے۔ جنرل راحیل شریف آرمی چیف کے طور پر میاں صاحب کا انتخاب تھے (تیسری وزارتِ عظمیٰ) لیکن انہیں ایکسٹینشن نہ ملی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا انتخاب بھی میاں صاحب نے کیا تھا لیکن ان کے تین سال پورے ہونے سے پہلے ہی خود میاں صاحب ایوانِ وزیر اعظم سے رخصت ہو گئے۔
وزیر اعظم عمران خان کے دور میں جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ (اور توسیع) کا معاملہ آیا تو سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن کی سماعت کے دوران انکشاف ہوا کہ سروس چیفس کا تقرر اگرچہ کبھی صدر اور کبھی وزیر اعظم کا اختیار رہا ہے لیکن ان کی مدتِ ملازمت، ان کی ایکسٹینشن یا ری اپوائنٹ منٹ کے حوالے سے، کوئی ”لکھت پڑھت‘‘ موجود نہیں، اس حوالے سے روایات و رسوم ہی سے کام چلایا جاتا رہا۔ سپریم کورٹ نے اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی کا حکم جاری کیا (اور جنرل باجوہ کو 6 ماہ کی ایکسٹینشن دے دی)
اب پارلیمنٹ میں اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی، قانونی اور آئینی تقاضا تھا۔ اس حوالے سے جس بے ڈھنگے پن کا مظاہرہ ہوا وہ اپنی جگہ، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اس قانون سازی کے بعد ”ووٹ کو عزت دو‘‘ (سول سپریمیسی) کا نعرہ کیسے متاثر ہو گیا؟ کیا اس قانون سازی کے بعد آرمی چیف کے اختیارات میں کوئی اضافہ ہو گیا ہے؟ سول حکومت نے اپنے کچھ اختیارات سرنڈر کر دیئے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ پہلے جو کچھ رسوم و روایات میں تھا، اب اسے باقاعدہ قانون کی شکل دے دی گئی ہے (البتہ ریٹائرمنٹ کی عمر 4 سال اضافے کے ساتھ 64 سال کر دی گئی ہے) وزیر اعظم (اور سول حکومت) کے پاس جو اختیارات پہلے تھے اب بھی وہی اختیارات ہیں۔ تو نواز شریف کے بیانیے کی موت کہاں اور کیسے ہو گئی؟۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *