اب گاؤں میں بھی کیا رہ گیا ہے!!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت دنوں بعد گائوں جانا ہوا۔ زخم ہرے ہو گئے! پپڑی جمے زخموں کو ناخن سے کھرچنے میں جو درد انگیز لذت نصیب ہوتی ہے، وہ ملی! ؎

نہ پوچھ حال مرا، چوبِ خشکِ صحرا ہوں
لگا کے آگ جسے کارواں روانہ ہوا

قحط الرجال کا یہ عالم ہوا ہے کہ ہم جیسے بھی بزرگوں میں شمار ہونے لگے! کم ہی افراد گائوں میں رہ گئے ہیں جنہیں ہم چاچا یا ماما کہہ سکیں! ہمارے پڑوسی حاجی محمد ایک سو چار برس کی عمر پا کر کوچ کر گئے۔ گائوں کے واحد وکیل ملک عبداللہ رخصت ہو گئے۔ ہم فاتحہ خوانیوں کیلئے رہ گئے! رخصت تو بہت کچھ ہو گیا۔ وہ گائوں ہی نہ رہا جس میں‘ میں پلا بڑھا تھا۔ وہ دستار پوش، تہمد باندھنے والے گم ہو گئے جو راتوں کو چراغوں کی روشنی میں رقص کرتے تھے۔ جو راتوں کو کسی خوف کے بغیر سفر کرتے تھے۔ گھڑ سواری کے ماہر تھے۔ بھاگتے ہوئے گھوڑوں پر، نیزوں سے کھونٹے یوں اکھاڑ لیتے تھے جیسے بجلیوں کا سفر ہو۔ آنکھوں کو خیرہ کر دینے والا۔ جو ایک ایک ہاتھ سے دو دو سرکش بیلوں کی رسیوں کو کمانڈ کرتے تھے ، جو اس قدر تیز چلتے تھے کہ ہم جو اس وقت نوجوان تھے، ان کا ساتھ نہ دے سکتے!

وہ دادیاں، نانیاں، پُھپھیاں، ماسیاں قبروں میں جا لیٹیں جو راہ چلتے گلی میں روک کر کندھوں پر ہاتھ پھیرتی تھیں! جن کی زبان سے نکلا ہوا ہر فقرہ ادب کا نمونہ ہوتا تھا۔ جو استقبال کرتے وقت کہتی تھیں، چاند نکل آیا ہے، پھول کھل اٹھے ہیں! مردہ زندگی میں جان پڑ گئی ہے! سب کچھ چلا گیا! وہ درخت کٹ گئے جن کی بغل میں قبریں تھیں، جہاں دیئے جلائے جاتے اور راہگیر وہاں سلام کرکے اپنے ہاتھوں کو چوم کر اپنے ماتھوں پر لگاتے۔ جہاں تالاب تھے جن کے کنارے ہم ریت کے گھر بناتے تھے، وہاں اب کھیت ہیں! جہاں کھیت تھے وہاں قبرستان ہیں! جہاں قبرستان تھے وہاں جھاڑ جھنکار سے بھرے جنگل ہیں! پہلے ہر قبرستان میں ایک راکھا ہوتا تھا۔ خود رو گھاس کاٹتا تھا۔ وہ راکھے غائب ہو گئے۔ ایک ادارہ تھا ختم ہو گیا۔ قبرستان میں گیا تو رونا آیا۔ کمر کمر تک خود رو گھاس، پیلے زرد پودے، کپڑوں کو چمٹتے کئی طرح کے کانٹے، قبریں چھپی ہوئیں، قبروں کے درمیان جو پتلے پتلے پگڈنڈی نما راستے تھے، نشان کھو بیٹھے؎

وہ گھاس اُگی ہے کہ کتبے بھی چُھپ گئے اظہارؔ
نہ جانے آرزوئیں ہم نے دفن کی تھیں کہاں

پورے گائوں میں ایسا آدمی نہیں ملتا جسے ماہانہ معاوضہ دیا جائے اور وہ قبرستان کی دیکھ بھال کرے۔ اور تو اور، وہ رنگین کپڑوں کے چیتھڑے جو قبرستان میں درختوں کے ساتھ لگے ہوتے تھے، کہیں نہیں دکھائی دیتے! اب قبرستان میں داخل ہوتے وقت یہ بھی کون کہتا ہو گا: السلام علیکم یا اہلَ القبور!! اب تو دل چاہتا ہے یہ سلام آج کل کے زندوں کو کیا جائے! جو مر گئے، وہ تو مر گئے، جو زندہ ہیں وہ بھی کہاں زندہ ہیں!!

اب گائوں والوں کو پہلے بتانا پڑتا ہے کہ آ کر لسّی پینی ہے، مٹی کے پیالے میں‘ ورنہ جگ اور شیشے کے گلاس لا کر سامنے رکھ دیتے ہیں اور کوک کی بوتل! شیور کی مرغی نے یہاں بھی حکومت سنبھال لی ہے! مکی کی روٹی کی باقاعدہ فرمائش کرنا ہوتی ہے، ورنہ یہاں بھی بریانی نظر آنے کا احتمال ہے! جب سے کسان سے کیش چھین لی گئی ہے، گائوں میں شہد، خالص گھی، دیسی مرغیوں اور دیسی انڈوں کا کال پڑ گیا ہے۔ جو رقم بجلی کے بلوں سے بچتی ہے، موبائل فون کمپنیوں کی تجوریوں میں چلی جاتی ہے۔ اب ہمارے حصّے کی دیسی مرغیاں اور انڈے شہروں اور قصبوں سے آنے والے کوکڑی (مرغیوں اور انڈوں کے بیوپاری) لے جاتے ہیں۔ ان مرغیوں کو شہر میں وہی مشکوک فیڈ کھلائی جاتی ہے جو فارمی مرغیوں کی خوراک ہے۔ یوں یہ دیسی رہتی ہیں نہ فارمی! شاید انہی کو گولڈن کہا جاتا ہے۔ شہر کے لوگ انہیں دیسی سمجھ کر بھاری قیمت پر خریدتے ہیں۔ ہم جیسے دیہاتی اصل رکھنے والے ان شہریوں پر ترس بھی کھاتے ہیں اور ہنستے بھی ہیں!

گائوں کی ایک بچی سے پوچھا: کس کلاس میں پڑھتی ہے، کہنے لگی: بی اے فائنل میں۔ ہر روز پندرہ میل دور فتح جنگ کے کالج میں جاتی ہے۔ کہا کتابیں دکھائو! حیرت سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ”کورس‘‘ کی ساری کتابیں شرح اور خلاصوں کی کتابیں تھیں۔ اصل کوئی نہ تھی۔ پوچھا ناول کون سا ہے کورس میں؟ کہنے لگی: ہیمنگوے کا اولڈ مین اینڈ سی! پوچھا کہاں ہے؟ کہنے لگی: یہی ترجمہ ہے اور ”شرح‘‘ ہے جو پروفیسروں نے تجویز کی ہے! یعنی اصل ناول کی بچوں بچیوں نے شکل تک نہیں دیکھی! پڑھنے کا کیا سوال ہے! ہم نے بی اے کیا تھا تو چارلس ڈکنز کا اولیور ٹوسٹ، برنارڈ شا کا آرمز اینڈ دی مین اور برٹرینڈ رسل کے مضامین (Essays) سب کے اصل متون پڑھے تھے۔ اینتھالوجی آف ماڈرن انگلش پوئٹری کی ساٹھ کی ساٹھ نظمیں زبانی یاد ہو گئی تھیں۔ اب بھی بہت سی حافظے میں محفوظ ہیں! بچی سے پوچھا: ہیمنگوے کہاں کا تھا؟ کب تھا؟ کچھ پتہ نہیں! اس نے بتایا کہ جن لیکچرر عورتوں کے تبادلے ہوئے ان کی جگہ خالی پڑی ہے! اسامیاں منتظر ہیں!؎

گر ہمیں مکتب و ہمیں مُلّا/ کارِ طفلاں تمام خواہد شُد

یہ کالج اور یہ اساتذہ! پیداوار کی کوالٹی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے! مانا کہ قصبوں اور بڑے شہروں کے تعلیمی اداروں میں فرق ہوتا ہے مگر اتنا اندھیر کبھی نہیں تھا کہ اصل کتابیں ہی نہ تجویز کی جائیں! ایسے میں موجودہ حکومت کا ”یکساں نصابِ تعلیم‘‘ کا نعرہ بے سود ہے کیونکہ نصاب اگر ٹیسٹ پیپرز اور شروح کی بیساکھیوں سے پڑھایا جائے گا تو کارِ لا حاصل ثابت ہو گا! ان خاک اڑاتے قریوں، ان دور افتادہ بستیوں میں جو جوہر قابل توجہ سے محروم ہے‘ اس کا کیا بنے گا؟ سارا مسئلہ مواقع کا ہے! کم ذہانت کے بچے بچیاں، زیادہ وسائل اور بہتر مواقع کے ساتھ آگے نکل جاتے ہیں۔

ان سے کہیں زیادہ ذہین و فطین طلبا و طالبات صرف اس لیے تابندگی سے محروم رہ جاتے ہیں کہ مواقع مفقود ہیں اور وسائل محدود! تعلیمی ادارے غیر معیاری! کورس کی صحیح کتابیں ناپید! پڑھانے والے اور پڑھانے والیاں اخلاص سے عاری! سب کچھ ڈنگ ٹپائو! ہیرے‘ لعل اور جواہر مٹی میں رُل رہے ہیں! زرِ خالص ریت میں بکھرا پڑا ہے! افرادی قوت کا ضیاع اس قدر ہے کہ سوچیں تو کپکپی طاری ہو جاتی ہے! کوئی مداوا نہیں! کوئی حل نہیں! حکومتی ادارے نا اہل اور بے نیاز! نجی شعبہ اندرونِ ملک سے گریزاں کہ بزنس کے اپنے مسائل ہیں، اپنی ترجیحات اور اپنی حرکیات!

گائوں گائوں، قسم قسم کی گاڑیوں کی بہتات ہے۔ ہر شخص کی جیب میں موبائل فون ہے مگر کیا یہ ترقی کی علامات ہیں! کیا ان سے ذہنی سطح تبدیل ہو سکتی ہے؟ کیا مائنڈ سیٹ متاثر ہو رہا ہے؟ نہیں! ہرگز نہیں! موبائل فون شہروں میں بھی ہر خاکروب، ہر مزدور، یہاں تک کہ ہر بھکاری کے پاس موجود ہے! اس سے مائنڈ سیٹ کیا خاک بدلے گا! گائوں گائوں جھگڑے، مقدمہ بازیاں، قطعِ علائق، نسل در نسل دشمنیاں اسی طرح چلی آ رہی ہیں! کسی نے اپنے کھیت کے قریب راستہ روکا ہوا ہے، کسی نے ووٹوں کی بنیاد بنا کر دوسرے سے تعلق توڑا ہوا ہے۔ کوئی مسجد کی کھڑپینچی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

یہ سب کچھ پچاس برس پہلے بھی تھا مگر اُس وقت ان سیّئات کے ساتھ ساتھ کچھ حَسَنات بھی تھیں! مسجد میں ٹھہرے ہوئے مسافر کو کھانا ضرور ملتا تھا! گائوں آنے والے رشتے دار واپس جاتے تھے تو ان کے سامان میں خالص شہد بھری بوتل، ایک کلو خالص گھی، ایک توڑا مونگ پھلی، ایک بوتل دودھ سے بھری، اور دس بارہ دیسی انڈوں کا تحفہ ہوتا تھا! تب نانیاں، دادیاں، خالائیں، پھپھیاں صدقے قربانی ہوتی تھیں۔ قربانی کا جانور گائوں سے بھیج دیا جاتا تھا۔ اب آپ اصلاً گائوں کے ہیں تب بھی سرسوں کا ساگ اتوار بازار سے خریدنا ہے اور مکئی کا آٹا اُس ڈرائیور سے منگوانا ہے جو کشمیر یا ایبٹ آباد کا ہے!

اب گائوں میں بزرگوں کی قبریں ہیں جو عید، شبِ برات پر بلا لیتی ہیں! یا شاید ہم وقت سے پیچھے رہ گئے؎

شوکتؔ ہمارے ساتھ عجب حادثہ ہوا/ ہم رہ گئے، ہمارا زمانہ چلا گیا

بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *