خدا، کائنات اور انسان سے متعلق غامدی صاحب کا زاویہ نظر ( 3 )۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(پیش نظر مضمون جاوید احمد غامدی صاحب کے ساتھ طویل نشستوں میں ہوئی گفتگو کا میرے فہم پر مبنی خلاصہ ہے، جو قسط وار شائع کیا جائے گا۔ یہ نشستیں ”زاویہ غامدی“ کے عنوان سے یوٹیوب پر موجود ہیں۔ ویڈیو ٹرانسکرپشن شاکر ظہیر صاحب نے کی ہے۔ )

حسنین اشرف: غامدی صاحب آپ نے خلا (Gap) بھرنے کی بات کی کہ انسان مشاہدے اور تجربے کو قیاس کے ذریعے مکمل کرتا اور پھر اس کے اوپر تعقل اور تدبر کے ذریعے علم کی ایک عمارت کھڑی کر دیتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تعقل کی بنیاد یعنی مشاہدے و تجربے میں کمی کا امکان باقی رہے گا، تو اس پر کھڑی عمارت پر بھروسا کیونکر کیا جا سکتا ہے؟ علم کی یہ عمارت جتنی بھی خوبصورت کیوں نہ ہو اس کی بنیاد میں خلا تو موجود رہے گا۔

جاوید احمد غامدی: انسانیت کی کامل تاریخ یہی تو ہے، یعنی کسی بھی علم کی بنیاد کی اصلاح، تاکہ اس کے اوپر علم کا جو قصر تعمیر کیا جائے وہ شکوک و شبہات سے پاک ہو۔ چنانچہ دور حاضر کے بعض فلسفیوں (Post Modern Philosophers) نے سائنسی علم کی پوری تاریخ (History of Philosophy) پر تبصرہ کرتے ہوئے بڑی صحیح بات کی ہے کہ علمی مجالات میں کوئی بھی انسان حتمیت (Absolutism) کا دعوی نہیں کر سکتا۔ البتہ جو کچھ ہمارے پاس موجود ہے اسے ہم تنقیدی نقطہ نظر (Critical Analysis) سے دیکھتے رہیں گے تاکہ بہتر سے بہتر نتائج کے حصول کی جانب انسانی سفر جاری رہے۔

یعنی انسانی علم میں ایک تدریجی نوعیت کی بہتری کا امکان تسلیم کیا گیا ہے، حتمیت کا نہیں۔ اس ضمن میں یاد رہے کہ کامل حتمیت کا دعویٰ اگرچہ نہیں کیا جا سکتا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کچھ چیزیں علمی حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں۔ یعنی ان پر مزید بحث (Research) کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ مثلا آج کی دنیا میں کہیں بھی سائنسی اعتبار سے اس پر نکتے پر تحقیق نہیں ہو رہی کہ زمین گول ہے یا چپٹی؟ یا زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے یا سورج زمین کے گرد۔

کیونکہ جدید سائنسی تحقیقات نے ایسی کئی ابحاث میں کسی ایک پہلو کو مسلمہ حقیقت کے طور پر ثابت کر کے اس میں مزید تحقیق کا امکان خارج کر دیا ہے۔ تاہم علم کا ایک بہت بڑا حصہ اب بھی ایسا ہے جسے اپروچ کرنے کا درست طریقہ وہی ہے جو قبل ازیں بیان ہوا۔ یعنی پہلے سے موجود نظریے (Ideology) کو تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تاکہ اس میں بہتری پیدا ہو۔ پھر اگر ہم غور کریں کہ وہ بہتری آتی کہاں سے ہے؟ تو معلوم ہو گا کہ کہیں تو ہم انسانی مشاہدے کی غلطی کو پکڑ لیتے ہیں اور کہیں تجربے کی کمی ظاہر ہو جاتی ہے۔ کبھی تجربے اور مشاہدے کے باہمی تعامل میں نقص کو پکڑ لیتے ہیں اور کبھی ان سے ماخوذ نتائج سے متعلق نئے سوال پیدا ہو جاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں تحقیق و تمحیص (Research and Investigation) کے نئے در وا ہوتے رہتے ہیں۔

عثمان رمزی: غامدی صاحب اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ انسان کے پاس حقیقت کا کوئی نمونہ (version) موجود ہی نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کسی بھی نوعیت کا فیکٹ ہمارے علم میں نہیں۔ کیا یہ بات درست ہے؟

جاوید احمد غامدی: جی یہ بات ایک خاص تناظر میں درست ہے۔ اور وہ تناظر یہ ہے کہ انسان علم کی اتھاہ دریافت کرنے کا دعوی نہیں کر سکتا۔ اسی لیے قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ انسان اپنے علم کے معاملے میں عجز و انکساری کے ساتھ گفتگو کرے۔ قرآن مجید نے ایک موقع پر کہا کہ ”وَیَسْأَلُونَکَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّی وَمَا أُوتِیتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِیلًا“ ( 17 : 85 ) یعنی لوگ آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ روح کی حقیقت کیا ہے۔ تو ان کے سوال کا جواب دینے کے بعد تنبیہ کی گئی ہے کہ ”وَمَا أُوتِیتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلّا قَلِیلًا“۔ اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی علم کی کچھ حدود ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ انسان کو مطلق علم (Absolute Knowledge) دے دیا گیا ہو۔

لیکن اسی بات کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ انسان مطلق علم نہ رکھنے کے باوجود کچھ چیزوں کو حتمی اور یقینی مان رہا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پہ ہمارے ہاں طبیعیاتی علوم (Natural Sciences) میں جتنا علم پچھلے ڈھائی تین ہزار سال میں ترتیب پا چکا ہے، اس میں بہت بڑا حصہ ایسا بھی ہے جس میں ہم بالکل یقینی جگہ پر کھڑے ہیں۔ طبیعیاتی علوم کے مطابق جو قاعدے اور ضابطے انسان نے دریافت کیے ہیں ان کی بنیاد پر ایک مشین بنا دی جاتی ہے۔

وہ مشین بعض اوقات اس قدر نازک ہوتی ہے کہ اس کا استعمال ہزارہا مہلک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ ہوائی جہاز کو بطور مثال لے لیں۔ تین، چار سو لوگوں کو اس میں بٹھا کر ہوا میں اڑا دینا کوئی معمولی بات نہیں ہے، اگر طبیعیاتی قواعد و ضوابط میں ایک ذرہ برابر بھی عدم اطمینان ہوتا تو سینکڑوں انسانوں کی زندگی داؤ پر لگانے کو کوئی بھی تیار نہ ہوتا۔ چنانچہ اگر بنظرغائر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ ایک شٹل، ایک جہاز یا ایک ہیلی کاپٹر دسیوں طبیعی اصولوں کو حقیقت مانے بغیر اڑ نہیں سکتا۔ ان اصولوں کے مبنی بر حقیقت (Fact) ہونے پر ہمارا یقین اتنا پختہ ہوتا ہے کہ ان بے یقینی کا امکان ہی باقی نہیں رہتا۔

یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر طبیعیاتی علوم کے مبینہ اصول اس قدر یقینی ہیں تو پھر پیش کردہ مثال میں ہوائی جہازوں کو حادثات کیوں پیش آتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہوائی جہازوں یا کسی بھی دوسری مشین کو پیش آنے والے حادثات بنیادی اصولوں میں بے یقینی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے اطلاق (Implementation) میں کسی غلطی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حادثات کے بعد اطلاقی غلطی کی تلاش تو کی جاتی ہے مگر بنیادی اصولوں پر سوال نہیں اٹھایا جاتا۔

چنانچہ صحیح بات یہ ہے کہ العلم (Absolute Knowledge) کے اعتبار سے دیکھا جائے تو انسانی علم کے دائرے میں آنے والے حقائق محدود ہیں، جیسا کہ قرآن مجید نے ”وَمَا أُوتِیتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِیلًا“ کہہ کر بتلایا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارے پاس حقائق سرے سے پائے ہی نہیں جاتے۔ دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھنا چاہیے۔

وقاص خان: غامدی صاحب جب آپ تعقل کی بات کرتے ہیں تو استقرائی منہج (Inductive Method) اور استخراجی منہج (Deductive Method) میں فرق کو تسلیم کرتے ہیں یا ان دونوں کے نتائج آپ کے خیال میں یکساں ہیں؟

جاوید احمد غامدی: استقرائی منہج اصل میں خارج میں موجود اشیاء کے مطالعہ کا نام ہے، اس میں علم کا پہلا ذریعہ یعنی تجربہ و مشاہدہ ہی کام کر رہا ہوتا ہے۔ استقرائی منہج میں ہم کرتے یہ ہیں کہ خارج میں موجود کسی شے کا تجربہ و مشاہدہ کرنے کے بعد اس پر حکم لگاتے ہیں اور پھر اس کی نقیض تلاش کرتے ہیں۔ مثلا ہم نے ایک کوا دیکھا کہ وہ کالا ہے، تو ہم نے تلاش شروع کر دی کہ آیا کوئی سفید کوا بھی اس کائنات میں پایا جاتا ہے یا نہیں۔ جب ہم نے ساری دنیا کو دیکھ لیا اور کوئی کوا سفید رنگ کا نہ ملا تو نتیجہ نکالا کہ تمام کوے کالے ہیں۔ جبکہ استخراجی عمل ہمارے اخذ کردہ نتائج کی درست تفہیم کی تحقیق کرنے کا نام ہے۔ دونوں طریقہ ہائے تحقیق کے نتائج مسلسل Investigate ہوتے رہتے ہیں۔

حسنین اشرف: لیکن غامدی صاحب استقرائی منہج پر ایک بنیادی اعتراض ہے اور وہ یہ کہ ہمارے پاس ڈیٹا بہت کم ہوتا ہے مگر نتیجہ اس سے بہت بڑا نکال لیتے ہیں۔ کوے ہی کی مثال لے لیں۔ ساری دنیا کے سارے کوے آخر کس نے دیکھے مگر سارے کووں کو کالا مان لیا۔ حالانکہ جب تک تمام کووں کا احصاء نہ ہو جائے تب تک نتیجے کو درست نہیں ماننا چاہیے۔

جاوید احمدغامدی: پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ علمی دنیا میں کسی بھی طرح کے نتائج کو تب تک کلی طور پر درست نہیں مانا جاتا، جب تک انہیں تنقید (Critical Thinking) کے مختلف زاویوں سے گزار نہ لیا جائے۔ اور تحقیق و تنقید کا معیار وہی ہے جو ہماری گفتگو کے آغاز میں زیر بحث آیا تھا یعنی بنائے استدلال (Frame of Reference) ۔ اگر علمی دنیا کی ابحاث پر ایک گہری نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ پہلے سے معلوم حقائق کو یا تو نئے اور بہتر تجربے کے ذریعے جھٹلایا جا رہا ہوگا یا مشاہدے کے ذریعے سے۔

یا پھر تجربے و مشاہدے سے ماخوذ نتائج کی غلطی عقلی استنباط کے ذریعے واضح کی جا رہی ہو گی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی دور میں ایک معمولی تجربے سے بہت بڑا اور کثیر الجہت (Multi۔ Dimensional) نتیجہ نکال لیا جاتا ہے۔ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ یہ تو استنباط (Inference) کے عمل میں غلطی ہو گئی ہے یا مبالغہ ہو گیا ہے یا ماخوذ نتائج تک پہنچنے کے لیے درمیان کے بعض اہم مراحل (Steps) کو سرے سے زیر غور ہی نہیں لایا گیا تھا۔

چونکہ انسان کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ معلوم چیزوں کی بنائے استدلال کو ادھیڑ کر نئی ابحاث اور نئی جہات کی طرف توجہ مبذول کروا سکتا ہے، اس لیے علمی نتائج خواہ کسی بھی میتھڈالوجی سے حاصل کیے جائیں، حتمی نہیں ہوتے۔ ذرا غور کر کے دیکھیے کہ فلسفیانہ علوم (Philosophical Concepts) کا کون سا نظریہ یا سائنسی علوم (Scientific Concepts) کی کون سی تھیوری ایسی ہے جس کا یہ حشر نہیں کیا گیا۔ بنائے استدلال کی ادھیڑبن یا پوسٹ مارٹم کے اسی عمل سے علمی ترقی کا عمل آگے بڑھتا ہے۔

(جاری)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply