درباری شاعر، تاریخ نویس اور ٹیپو سلطان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برصغیر میں درباری شاعروں نے بادشاہوں، راجوں اور مہاراجوں کے حق میں جو قصیدہ گوئی کی ہے، اس کی دنیا کے کسی اور خطے میں مثال نہیں ملتی حالانکہ درباری شاعر تاریخ کے ہر دور میں دنیا کے ہر ملک میں موجود رہے ہیں، اور کسی نہ کسی شکل میں آج بھی موجود ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ درباروں کی جگہ ”وزیر اعظم ہائوس‘‘ اور ”صدارتی محل‘‘ بن گئے ہیں۔ راجوں‘ مہاراجوں اور بادشاہوں کی جگہ صدور، وزرائے اعظم اور وزیرں مشیروں نے لے لی ہے۔
برصغیر میں جن حکمرانوں پر بہت زیادہ مبالغہ آرائی پر مبنی شاعری ہوئی ہے، ان میں ایک ٹیپو سلطان بھی ہیں۔ ٹیپو کے ایک قصیدہ گو شاعر نے اس باب میں دیگر درباری شاعروں کو بہت پیچھے چھوڑتے ہوئے خیال آرائی کی نئی بلندیوں کو چھوا۔
تعریف و توصیف تو میسور کے اس حکمران کا حق بنتا تھا، مگر شاعر نے ٹیپو کو لاثانی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ٹیپو سلطان کے راج میں امن و بھائی چارے اور تحفظ کا یہ عالم ہے کہ ”جنگل کے ہرن شیروں اور چیتوں کا تکیہ بنا کر سوتے ہیں، اور تیندوے اور ریچھ ان کے لیے گدے اور بستر کا کام دیتے ہیں‘‘۔
ٹیپو سلطان سن سترہ سو نناوے میں سرنگا پٹم میں انگریزوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ وہ برصغیر کے کروڑوں لوگوں کے لیے بہادری کی علامت بن گئے لیکن جیسا کہ آج کل یہ چلن عام ہے ٹیپو سلطان بھی کئی دوسری تاریخی شخصیات کی طرح ہندوستان میں ایک متنازعہ کردار کے طور پر زیر بحث ہیں۔ کچھ لوگوں کے نزدیک وہ آج بھی قومی ہیرو ہیں مگر ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں، جو میسور کے اس دلیر آدمی کو ایک ظالم و جابر حکمران کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
ٹیپو سلطان کو ورثے میں صرف میسور کی سلطنت ہی نہیں، انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی روایات بھی ملی تھیں۔ سلطان حیدر علی انگریزوں کے خلاف دو جنگوں کے دوران بہادری و شجاعت کے علاوہ فن حرب و ضرب میں مشاق ہونے کی مثالیں قائم کر چکا تھا۔ وہ میسور کی دوسری جنگ تو جیت گیا، مگر اپنی جان کی بازی ہار گیا۔ ٹیپو کے کندھے پرجو بوجھ اور ذمہ داریاں پڑی تھیں، وہ بہت بھاری تھیں‘ لیکن باپ کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اس نے انگریزوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھی، اور میسور کی تیسری اور چوتھی جنگ میں بہادری اور مہارت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ ٹیپو سلطان کا مقابلہ صرف بیرونی حملہ آوروں سے ہی نہیں تھا۔ اس کا ایک بڑا چیلنج مقامی حکمران بھی تھے۔ اسے مقامی اور دشمن ہمسایوں کے ساتھ بھی کئی چھوٹی بڑی جنگیں لڑنا پڑیں۔ شمال مغرب میں مراٹھا، اور شمال مشرق میں ریاست حیدر آباد کے ساتھ اس کی کئی لڑائیاں ہوئیں اور مستقل طور پر تنائو کی کیفیت کے علاوہ چھوٹی موٹی جھڑپیں ہمیشہ چلتی رہی۔
میسور کی تیسری جنگ نے ٹیپو سلطان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ انگریزوں کے خلاف اس جنگ کی وجہ سے ٹیپو سلطان کی کمر تقریباً ٹوٹ چکی تھی۔ اس جنگ کے نتیجے میں انگریز اور ان کے مقامی اتحادی ٹیپو کی سلطنت کے آدھے سے زیادہ علاقے پر قابض ہو چکے تھے۔ وہ اپنی سلطنت کا ایک بہت بڑا علاقہ تو کھو ہی چکا تھا، مگر اس جنگ کی اصل تباہی یہ تھی کہ ٹیپو قرض کے نا قابل برداشت بوجھ تلے دب گیا تھا۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ اسے اپنے دو بیٹے بطور یرغمال انگریزوں کے پاس رکھنے پڑے تاکہ انگریزوں کیلئے قرض کی وصولی یقینی ہو۔
معاشی مشکلات کی کہانیوں کے باوجود میسور کی چوتھی جنگ میں چار مئی سترہ سو ننانوے میں سرنگا پٹم کے محاصرے میں سلطان ٹیپو کو شہید کرنے کے بعد برطانوی سپاہی ریاست میسور کی لوٹ میں جت گئے۔ انہوں نے لاکھوں پائونڈز کے زیورات، سکے، فرنیچر اور قالین لوٹ لیے۔ اس لوٹ کو سپاہیوں اور آفیسروں میں تقسیم کیا گیا۔ ریاست کی لوٹ کے بعد یہاں سے ٹیپو سلطان کے ہر نشان کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے محلات کو مسمار کیا گیا اور اس کے خاندان کو جلا وطنی کر دیا گیا۔ مزاحمت کی ہر نشانی کو مٹانے اور بغاوت کے ہر امکان کو ختم کرنے کا بندوبست کیا گیا۔ انگریزوں کے خلاف مزاحمت کے علاوہ ٹیپو سلطان کا نمایاں کام اپنی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ اس نے زرعی ٹیکس کا جدید ترین نظام قائم کیا، جو اس وقت کے ہندوستان میں ایک مشکل کام تھا۔ ٹیکس لگانے کیلئے زمین کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ بارانی زمین، گنے کی کاشت اور دریائوں سے سیراب ہونے والی زمینوں پر ان کی پیداوار اور فصل کی قیمت کے تناسب سے ٹیکس لگائے گئے۔ اس نے ریشم کی پیداوار کیلئے باہر سے کیڑے درآمد کیے۔ جانوروں کی کراس بریڈنگ کے ذریعے مقامی نسلیں پیدا کیں، اس طرح اس وقت کے حساب سے اس نے ایک جدید اور ترقی یافتہ زرعی نظام قائم کیا۔
ٹیپوسلطان کا دوسرا بڑا کارنامہ ریاستی سطح پر صنعت کاری تھی۔ اس کی ریاست میں شروع میں کوئی صنعت موجود نہیں تھی۔ یہ کام صنعت کاروں کے سپرد کرنے کے بجائے ٹیپو نے ایک اچھوتے انداز میں ریاستی صنعت کاری کا آغاز کیا۔ اس نے بنگلور اور سرنگا پٹم سمیت کئی دوسرے شہروں میں باقاعدہ سرکاری سطح پر فیکٹریاں، ملیں اور کارخانے لگائے۔ ان میں چینی، ریشم، کاٹن اور بندوق سے لے کر کاغذ اور شیشے تک کئی چیزیں بنائی جاتی تھیں۔
ٹیپو ناصرف مقامی طور پر انگریزوں کے خلاف مسلح اور سیاسی مزاحمت میں مصروف تھا، بلکہ اس نے انگریزوں کے خلاف عالمی اتحادی بھی تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں اس کی توجہ فرانسیسیوں پر تھی‘ جو اس کے خیال میں انگریزوں کے مقابلے میں بہتر ٹیکنالوجی اور علم کی وجہ سے اس کے کام آ سکتے تھے۔ اس ضرورت کے پیش نظر اس نے فرانس میں اپنے سفارت کار بھیجنے‘ سفارت خانہ قائم کرنے کی کوشش کی اور نپولین بوناپارٹ کی ذاتی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
نپولین نے مشرق وسطیٰ میں مصر کی مہم کے دوران ٹیپو کے ساتھ اتحاد بنا کر انگریزوں کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دینے کا عندیہ دیا۔ فروری سترہ سو اٹھانوے میں عالمی ذرائع ابلاغ میں آنے والی ایک رپورٹ کے تحت نپولین نے اعلان کیا تھا کہ مصر پر قبضے کے بعد پندرہ ہزار سپاہی ہندوستان روانہ کیے جائیں گے، جو ٹیپو سلطان کی فوجوں کے ساتھ ملکر انگریزوں کو ہندوستان سے نکالیں گے مگر نپولین کی سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں شکست کے بعد حالات بدل گئے۔ نئے حالات میں نپولین اور ٹیپو کے اتحاد کا خواب ختم ہو گیا مگر ٹیپو اور فرانسیسی دوستی کے کچھ نشانات ابھی باقی ہیں۔ ان میں ہاروہالی قبرستان بھی ہے۔
ٹیپو سلطان کے بارے میں اگر شاعروں نے مبالغہ آرائی سے کام لیا تو تاریخ نویس بھی ان سے پیچھے نہیں رہے۔ جو تاریخ نویس ٹیپو کا حامی تھا، اس نے ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے۔ جو خلاف تھا، اس نے اسے ایشیا کا سب سے بڑا ولن ثابت کرنے کی کوشش کی۔ تاریخ لکھنے کا کام زیادہ تر انگریزوں نے کیا۔ ان میں سے کچھ نے افسانوں کو حقیقت بنا کر پیش کیا۔ مگر ایسے بھی ہیں، جنہوں نے شعوری دیانت داری کا ثبوت دیا۔ تاریخ نویسی کی آڑ میں کچھ ایسے مقامی قصیدہ گو بھی تھے، جنہوں نے ٹیپو کو شیر میسور سے شیر ہندوستان اور پھر شیر ایشیا بنا دیا۔ کچھ ہندو تاریخ دان بھی ہیں، جنہوں نے اسے ایک بے رحم حکمران اور شدت پسند اسلامی بنیاد پرست قرار دیا۔
ٹیپو پر مندر مسمارکرنے، تاریخی اہمیت کی حامل جگہوں کے نام بدلنے اور کئی لوگوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے پرمجبور کرنے کے الزامات ہیں۔ مذہب تبدیل کرنے والوں کی تعداد پر تاریخ دانوں کا اختلاف ہے۔ کچھ لوگ یہ تعداد پانچ سو بتاتے ہیں، اور بعض ستر ہزار پر اصرار کرتے ہیں۔ ایک آرکیالوجیکل سروے میں تین بڑے مندروں کی نشاندہی کی گئی ہے، جو ٹیپو کے دور میں مسجد میں تبدیل کیے گئے تھے یا گرا دیے گئے تھے۔ دوسری طرف مندروں کی ایک طویل فہرست ہے، جن کو ٹیپو کی طرف سے قیمتی تحفے طائف دیے گئے، اور کچھ مندروں کی مالی اعانت کی گئی۔ ٹیپو سلطان ایک طرف فرانسیسیوں کو عظیم قوم قرار دے کر ان کا بے پناہ احترام کرتے تھے، اور دوسری طرف انہی کے ہم مذہب انگریزوں کو کافر قرار دے کر ان کے خلاف اسلامی جہاد کا پرچارکرتے تھے۔ دوسرے کئی لوگوں کی طرح ٹیپو کی شخصیت میں کچھ گہرے تضادات تھے، جو تاریخ دانوں کو ان کی شخصیت اور فکر پر متضاد آرائیں قائم کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ دوسری تاریخی شخصیات کی طرح ٹیپو کی شخصیت اور فکرکے باب میں بھی حقیقت اور افسانے کو الگ کرنے کے لیے مزید تحقیق و جستجو کی ضرورت ہے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *