مکالمہ ناگزیر ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مکالمہ ضروری ہے لیکن کن کے مابین؟

ذوالفقار چیمہ صاحب کا تعارف صرف یہ نہیں کہ وہ ایک مثالی پولیس افسر تھے۔ ان کی ایک وجۂ شہرت علم دوستی بھی ہے۔ وہ علمِ نافع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ایسا علم جو قومی معاملات کا قابلِ عمل ،پائیدار اور تہذیبی قدروں سے ہم آہنگ حل دے سکے۔ اس سوچ کے ساتھ، انہوں نے اہلِ دانش کو جمع کیا اور ان کے سامنے تین سوال رکھے۔ ایک سوال مکالمے کی ضرورت پر تھا۔

اس فکری نشست میں پانچ طرح کے افراد شریک تھے۔ سول سرونٹ ،سیاست دان، فوجی ،وکلا و جج، صحافی و رائے ساز۔ میں نے جب سب کے تجزیے سنے تو ایک دلچسپ بات میرے مطالعے میں آئی۔ یہ کہ بیوروکریسی اور فوجی پس منظر رکھنے والوں کی سوچ کا واحد حوالہ ریاست تھی۔ معاشرہ ان کے نظامِ فکر (Discourse) کا حصہ نہیں تھا۔ وہ درپیش مسائل کا جو حل پیش کر رہے تھے ،وہ ریاستی بندوبست کے دائرے میں تھا۔ سیاست دان، وکلا اور رائے ساز معاملات کو سماجی زاویے سے بھی دیکھ رہے تھے۔

یہ تقسیم بہت اہم بات ہے جو اس نشست تک محدود نہیں ہے۔ مثال کے طور پر کالم نگاروں کی فہرست میں بعض نام وہ ہیں جو طویل عرصہ بیوروکریسی کا حصہ رہے یا فوج میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ یہ حضرات مسائل کو ہمیشہ ریاستی نظم کے حوالے سے دیکھتے ہیں اور اسی پس منظر میں مسائل کا حل تجویز کرتے ہیں۔ وہ بالعموم یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ سماج کی اخلاقی ساخت سے مختلف ،کوئی قانونی حل قابلِ عمل نہیں ہوتا۔

سیاست دان ،سماجی کارکن یا دانش ور کا تناظر سماجی ہوتا ہے۔ وہ سماجی پس منظر میں معاملات کو دیکھتا ہے۔ یوں بعض اوقات وہ مسائل کے ایسے حل بھی تجویز کرتا ہے، جن کی گنجائش ،ریاستی نظم میں موجود نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر ایک سیاست دان یا سماجیات کا طالب علم یہ سمجھ سکتا ہے کہ جب کسی فرد کو ایک معاشرے میں سیاسی عصبیت حاصل ہو جاتی ہے تو اس کے خلاف قانون اس طرح متحرک نہیں ہو سکتا جیسے وہ کسی عام آدمی کے خلاف ہوتا ہے۔ یوں بعض اوقات ایسے لوگوں سے معاملہ کرتے وقت ریاست کو قانونی نظام سے ماورا کوئی حل بھی تلاش کرنا پڑتا ہے۔

یہ اس وقت ہوتا ہے جب اجتماعی مصالح اور نفاذِ قانون میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ ریاست چونکہ قانون سے چلتی ہے ،اس لیے ریاستی نظم کے تناظر میں سوچنے والا، ایسے حل کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کر دے گا۔ وہ ان اجتماعی مصلحتوں کا پوری طرح ادراک نہیں کر سکتا جو بعض اوقات متقاضی ہوتی ہیں کہ نفاذِ قانون کو مؤخر کر دیا جائے یا روک دیا جائے۔ قانون اور سماج کا باہمی تعلق سماجی علوم کا ایک اہم باب ہے۔ خود مسلمانوں کی تاریخ میں سیرت النبیﷺ اور سیرتِ خلافتِ راشدہ کی تفہیم میں اس موضوع کی بہت اہمیت ہے۔ ہماری فقہ میں نظمِ اجتماعی کے دائرہ اختیار پر پوری بحث ہے۔

پھر یہ کہ گزشتہ دو صدیوں میں ،مسلم نفسیات کی فکری تشکیل ریاست کے پیراڈائم میں ہوئی ہے۔ اس کو یہ بتایا گیا ہے کہ اس کی تنزلی کی وجہ ریاست کا مٹ جانا ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کا ختم ہونا دراصل اس کے زوال کا آغاز ہے۔ یوں عظمتِ رفتہ کی بازیافت صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ اپنی سیاسی قوت کو دوبارہ حاصل کر لے۔ احیا سے مراد اسلامی ریاست کا قیام ہے۔ اس کا اثر سماجی علوم اور طبقات پر بھی پڑا ہے، جو فطری طور پر سماجی پس منظر میں سوچتے ہیں۔

یہی سبب ہوا کہ چیمہ صاحب کی برپا کردہ مجلس میں جب مکالمے کی بات ہوئی تو سب نے ریاستی اداروں میں مکالے کی ضرورت کو نمایاں کیا۔ ریاستی ادارے تین ہی ہیں : مقننہ ،انتظامیہ اور عدلیہ۔ عام طور پر لوگ فوج کو بھی اس فہرست میں شامل کرتے ہیں، حالانکہ علمِ سیاسیات کے مطابق فوج کو کبھی ریاستی ادارہ نہیں سمجھا گیا۔ ہم اگر اسے ریاستی اداروں میں شامل کرتے ہیں تو اس کا سبب علمی سے زیادہ عملی ہے۔ ہماری تاریخ میں فوج اقتدار کی سیاست میں ایک اہم فریق رہی ہے ،اس لیے لوگ مکالمے کی بات کرتے ہیں تو اس میں فوج کی شمولیت کو ضروری قرار دیتے ہیں۔

اس طویل تمہیدی بحث کا تعلق اس بنیادی سوال سے ہے جو میں نے کالم کے آغاز میں اٹھایا ہے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ اصل اہمیت سماج کی ہے۔ یہ سماج کا سیاسی بندوبست ہے جسے ہم ریاست کہتے ہیں۔ اس کی عمر سماج کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس کی تشکیل عوام کے خادم کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ عوام ہیں جو ریاست کی تشکیل کا فیصلہ کرتے ہیں اور اسے بعض امور سونپ دیتے ہیں۔ عوام کی نمائندگی معاشرتی طبقات کرتے ہیں۔ مکالمہ دراصل ان کے مابین ہونا ہے کہ ملک کا سیاسی نظم کن خطوط پر تشکیل دیا جائے۔

ریاست اگر عوام کی خادم ہے تو ریاستی ادارے ،بدرجہ اتم خدام کے درجے میں ہوں گے۔ اب گھر کا نظم کیسے چلنا ہے، اس کا فیصلہ خدام نہیں ،گھر کا مالک کرتا ہے۔ ریاست اگر گھر ہے تو اس کے مالک عوام ہیں۔ اس لیے مکالمہ سماجی طبقات میں ہو گا، جو عوام کی نمائندگی کرتے ہیں ،نہ کہ ریاستی اداروں کے درمیان۔ عوام کی نمائندگی دو طبقات کرتے ہیں : سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی۔ اس لیے مکالمہ بھی انہی کے مابین ہونا چاہیے۔

سیاسی جماعتوں سے لوگ واقف ہیں۔ سول سوسائٹی میں وکلا ،علما، دانش ور ،میڈیا اور دوسرے سماجی ادارے شامل ہیں۔ مکالمہ ان کے مابین ہو گا کہ ملک کا سیاسی نظم کن خطوط پر استوار ہونا چاہیے۔ یہ مکالمہ جب کسی نتیجے تک پہنچتا ہے تو اسے عمرانی معاہدہ کہا جاتا ہے۔ 1973 ء کے آئین کو اسی لیے عمرانی معاہدہ کہا گیا کہ یہ عوامی نمائندوں کے مابین ہوا۔ اس کے پس منظر میں سماجی اداروں کی جدوجہد تھی۔ اس معاہدے کی تشکیل میں کوئی ریاستی ادارہ شامل نہیں تھا۔

عوامی نمائندے ،آپس میں مکالمہ کرتے اور ریاستی اداروں کی حدود اور وظائف کا تعین کرتے ہیں۔ یہ عوامی نمائندے ہیں جو بتاتے ہیں کہ عدلیہ کو کیا کرنا ہے اور ایک جج کا انتخاب کیسے ہو گا۔ اس وقت جج صاحبان کا انتخاب اس طریقہ کار کے مطابق ہوتا ہے جو ہماری پارلیمنٹ نے طے کیا اور اب آئین کا حصہ ہے۔ اسی طرح اب آرمی چیف کی مدت ملازمت کا فیصلہ بھی پارلیمنٹ کا استحقاق قرار دے دیا گیا ہے۔

آج مکالمے کی ضرورت پر دوسری رائے نہیں۔ لیکن یہ مکالمہ اصلاً عوامی نمائندوں کے مابین ہونا چاہیے۔ وہ موجودہ سیاسی نظم کا جائزہ لیں اور یہ طے کریں کہ کہاں خرابی در آئی ہے اور اس کی اصلاح کیسے کی جائے۔ ریاستی اداروں کے مابین مکالمہ بے معنی ہے ،اسی لیے کسی نتیجہ خیزی سے محروم بھی رہتا ہے۔ جب یہ بات کہی جاتی ہے تو لوگ عام طور پر سیاسی جماعتوں کی کم مائیگی کا سوال اٹھا دیتے ہیں، جو سیاسی جماعتیں کم اور مفاداتی گروہ زیادہ ہیں۔ جن میں مطلوبہ صلاحیت ہے نہ دیانت۔

میں اگر اس بات سے اتفاق کر لوں تو بھی میرا بنیادی مقدمہ متاثر نہیں ہوتا کہ مکالمہ عوامی نمائندوں میں ہونا چاہیے۔ جہاں سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا نہیں کرتیں ،وہاں خلا باقی نہیں رہتا بلکہ سول سوسائٹی مزید مضبوط ہوتی ہے اور عوام کی نمائندگی کا فریضہ سر انجام دیتی ہے۔ اس صورت میں، عوام پہلے درجے میں غیر منظم تحریکوں (Non movements) کی صورت میں جمع ہوتے ہیں اور پھر تحریک (Movement) کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ معاشرتی سرگرمی سیاسی جماعتوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

میرا احساس ہے کہ پاکستان میں نان موومنٹس کا دور شروع ہو چکا۔ اگر اب بھی ریاستی اداروں نے عوامی اضطراب کو نہ سمجھا اور ریاستی قوت سے معاشرے کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہا تو معاملات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے جیسے مشرقِ وسطیٰ میں ہوا۔ اس سے بچنے کے لیے ،لازم ہے کہ عوام نمائندوں میں بامعنی مکالمے کا آغاز ہو۔ بہتر تو یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اس مکالمے کی میزبانی کریں۔ ورنہ وہ خود بھی قصہ پارینہ بن جائیں گی۔ اس کی ابتدا نون لگ سے ہو گئی ہے۔ لگتا ہے پارٹی پیچھے رہ گئی ہے اور بیانیہ آگے نکل گیا۔
بشکریہ روزنامہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *