امریکی ریئلیٹی ٹی وی پر راج کرنے والی ارب پتی حسینہ

ایان روز - بی بی سی بزنس پروڈیوسر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیزا امریکہ سیلیبریٹی ریلٹی ٹی وی

Lisa Vanderpump
لیزا وینڈرپمپ امریکی ریئلیٹی ٹی وی کا ایک جانا مانا چہرہ ہیں

بی بی سی اپنی سیریز ’دی باس‘ میں کاروباری دنیا کی مختلف نامور شخصیات کے بارے میں رپورٹس شائع کرتا ہے۔ اس ہفتے ہم نے ایک کامیاب کاروباری شخصیت اور امریکہ کی ریئلیٹی ٹی وی سٹار لیزا وینڈرپمپ کا انتخاب کیا اور ان سے بات کی۔

لیزا وینڈرپمپ کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی دوسری شخصیت سے زیادہ مرتبہ ریئلیٹی ٹی وی شوز میں شرکت کر چکی ہیں۔

انھوں نے ’دی ہاؤس وائفز آف بیورلی ہِلز‘ کی 340 قسطوں میں شرکت کی ہے اور اسے ان کے اپنے ریئلیٹی ٹی وی پروگرام ’وینڈرپمپ رولز‘ کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو ممکن ہے کہ وہ صحیح ہی کہہ رہی ہوں۔

امریکہ سے باہر شاید بہت سارے لوگ ان کو جانتے نہیں ہوں گے، لیکن یہ دونوں شوز ہی سب سے زیادہ دیکھے جانے والے کیبل ٹیلی ویژن پروگرام کے اعزاز کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ ریٹنگ کی دوڑ میں لگے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انسٹاگرام پر پسندیدگی کی دوڑ

دنیا کی امیر ترین خواتین کون ہیں؟

انڈیا کے ارب پتی جوڑے کا سنیاس لینے کا فیصلہ

کائیلی جینر 20 سال کی عمر میں کروڑ پتی کیسے ہو گئیں؟

ان پروگراموں کی کامیابی کی وجہ سے برطانوی سٹار لیزا امریکی میڈیا میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ لیکن اپنی مصروفیت کے ساتھ ساتھ 58 برس کی سیلیبریٹی اور ان کے چوہتّر برس کے شوہر کین ٹوڈ کی اپنے ریسٹورانٹس اور ایک پراپرٹی امپائر چلاتے ہیں۔

جب میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا آپ کی اس وقت مالی حیثیت ساڑھے سات کروڑ ڈالرز ہے تو انھوں نے کہ ’مجھے یقین ہے کہ اتنی تو ہوگی۔‘

لیزا امریکہ سیلیبریٹی ریلٹی ٹی وی

Getty Images
لیزا (دائیں جانب سے تیسرے نمبر پر) اس وقت بلا شک و شبہ امریکی ٹی وی سٹار ہیں۔

سنہ 1960 میں لندن میں پیدا ہونے والی لیزا کا غیر معمولی خاندانی نام ہی ان کا اصل نام ہے، یہ اصل میں ولیندیزی تعلق ظاہر کرتا ہے۔

وہ اور اس کے خاوند نے اتنی ساری دولت پچھلے سینتیس برسوں میں بنائی ہے۔

ان دونوں کی ملاقات لندن میں ہوئی تھی، اُس وقت وہ 21 برس کی تھی اور کین سینتیس برس کا تھا۔ وہ ایک ایکٹرس تھیں اور وہ ایک نائٹ کلب کا مالک تھا۔ ملاقات کے چھ ہفتوں کے اندر ہی ان کی منگنی ہوگئی اور تین ماہ بعد انھوں نے شادی کر لی۔

اس سے پہلے کہ وہ لندن کے ٹرینڈی علاقے سوہو میں ریسٹورانٹ اور مہ خانوں کے مالک بنتے وہ جلد ہی پراپرٹیوں کی خرید و فروخت کے کاروبار میں لگ گئے۔ ان میں لندن کے ہم جنس پرستوں کے معروف مہ خانے بھی ہیں جن کے وہ مالک ہیں جنھیں انھوں نے نوے کی دہائی میں خریدا۔

لیکن بعد میں انھوں نے لندن میں شروع کے دور میں خریدی گئی پراپرٹی فروخت کردی۔ اور اب یہ امریکی ریاست کیلیفورنیا اور نیویڈا میں ریسٹورانٹس اور مہ خانوں کی چین کے مالک ہیں۔ وہ سنہ 2005 میں لندن سے لاس اینجلیز منتقل ہو گئے تھے۔

لیزا کو اُس وقت بہت شہرت ملی جب ’دی ریل ہاؤس وائیفز آف بیویرلی ہلز‘ سنہ 2010 میں پہلی مرتبہ نشر ہوا۔ اس کے بعد سے اُس نے سوشل میڈیا پر اپنے موجودگی کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ اُس کے ٹویٹر پر اٹھارہ لاکھ فالوؤرز ہیں اور چوبیس لاکھ انسٹاگرام پر۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نو برس سے ’دی ریل ہاؤس وائیفز آف بیویرلی ہلز‘ میں شرکت کرتی آرہی ہوں۔‘اور جب میں سامنے آئی تو اُس وقت ٹویٹر اور دوسرے سوشل میڈیا کا تو آغاز ہوا تھا اور میرے خیال میں اُس نے ساری صورتِ حال بدل کر رکھ دی۔‘

اگرچہ ریئلیٹی ٹی وی میڈیا سٹارز کو پبلیسیٹی دیتا ہے، لیکن بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو لیزا کی طرح اس کا صحیح استفادہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اُس کے ایک ریسٹورانٹ ’سور‘ کا افتتاح ’دی ریل ہاؤس وائیفز آف بیویرلی ہلز‘ کی ایک قسط میں بہت دھوم دھڑکّے کے ساتھ نشر ہوا۔

ان کے دوسرے ریئلیٹی ٹی وی شو ’وینڈرپمپ رولز‘ کی سات قسطوں کا تو سیٹ ان کا یہی ریسٹورانٹ تھا جس میں ان کے بار میں کام کرنے والے نوجوان اور خوبصورت سٹاف کو بار بار آتے جاتے دکھایا جاتا تھا۔ یہ ایک لحاظ سے اپنی پراڈکٹ کو مرکزِ نگاہ بنانے کا بہترین طریقہ تھا۔

لیزا امریکہ سیلیبریٹی ریلٹی ٹی وی

Getty Images
لیز اس تصویر میں لاس اینجلیز کی 2019 پرائیڈ پریڈ میں۔ وہ اب ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے بہت فعال کردار ادا کرتی ہیں۔

وہ گاہک جو ’سور‘ جاتے ہیں وہاں وہ ان کرداروں سے حقیت میں ملاقات کرتے ہیں جنھیں وہ ہر ہفتے ٹی وی شوز میں دیکھتے رہتے ہیں اور جنھیں وہ سوشل میڈیا پر فولو کرتے ہیں۔ میڈیلین برگ، فوربز میگیزین کی صحافی جو ریئلیٹی ٹی وی پروگراموں کے سٹارز کی دولت پر گہری نظر رکھتی ہیں، کہتی ہیں کہ یہ انٹرٹینمنٹ اور بزنس کو ڈزنی تھیم پارکس کی طرح کا ایک زبردست ملاپ ہے۔

وہ اس کامیابی کی وجہ لیزا کے اُس کاروباری کیرئیر بتاتی ہیں جو ان کے ریئلیٹی ٹی وی میں آنے سے پہلے کا ہے۔ میڈیلین کہتی ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’سور‘ اور لیزا کے دیگر ریئلیٹی ٹی وی کے شوز ایک حقیقی دنیا کے جیتے جاگتے سچے واقعات لگتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’آپ واقعی یقین سے کسی کے بارے میں کچھ کہہ سکتے ہیں بجائے اس کے کہ آپ کسی کے بارے میں تائید کرتے پھریں۔‘

لیزا بھی یہی دلیل دیتی ہیں۔ ’میرے لیے پراڈکٹ کا اچھا ہونا ضروری ہے۔ اگر میں اچانک اٹھ کر یہ کہوں کہ او دیکھو، میں ایک سومنگ پول کو صاف کرنے کا کیمیکل بنا رہی ہوں، تو دوسرے کہیں اے کہ یہ بے کار ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ریسٹورانٹ کو کامیابی کے ساتھ چلانا ایک کافی مشکل کام ہے اور وہ اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ ان کا سٹاف گاہکوں کے سات اتنی ہی خوش اخلاقی اور اتنی ہی محبت کے ساتھ پیش آئے جتنا کہ ممکن ہو۔ ’میزبانی کی اس صنعت میں آپ کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ ہونی چاہئیے۔آپ ہر وقت پیار اور فراخدلی کے ساتھ ملیں۔‘

لیزا اور کین لاس اینجلیز میں اس وقت چار ریسٹورانٹوں کے مالک ہیں۔ اور وہ کہتی ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر نظر رکھنا ہی کامیابی کا راز ہے۔ ’میں ہال میں جا کر کسی بھی چیز کو چیک سکتی ہوں اور اگر مجھے کوئی نقص نظر آئے تو میں سٹاف کے منہ پر اسے کہہ دیتی ہوں۔ اگر میں محسوس کروں تو میں موسیقی کی آواز کم یا زیادہ کردیتی ہوں اور اسی طرح روشنی تیز یا مدھم کردیتی ہوں۔‘

گزشتہ چند برسوں سے وینڈرپمپ امپائر، جو کہ اب ایک فیملی بزنس ہے، دو سمتوں میں پھیل رہا ہے۔

ان کی بیٹی پنڈورا اور اس کا شوہر جیسن، جن کی محبت کے دنوں کی کہانی اور پھر شادی کی تقریب ’دی ریل ہاؤس وائیفز آف بیویرلی ہلز‘ میں آتی رہی ہے، وہ وینڈرپمپ روز وائین کے کاروبار کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ اور لیزا گھریلو اور پالتو جانوروں اور پرندوں کے سامان کا بھی ایک کاروبار چلارہی ہیں۔

اس کا کتوں سے پیار اس کے ٹی وی ریئلیٹی شو کا ایک باقاعدہ موضوع رہتا ہے جیسے اس کی اپنی زندگی کی کہانی۔ وہ کتوں کے لیے ’وینبڈرپمپ ڈاگ فاؤنڈیشن‘ کے نام سے ایک چیریٹی بھی چلاتی ہیں، جو کہ لاس اینجیلیز شہر میں آورہ کتوں کی دیکھ بھال اور ان کی آبادکاری کا کام کرتی ہے۔ یہ چیریٹی کتوں پر ظلم کے خلاف آواز بھی بلند کرتی ہے۔

لیزا چین میں کتوں کے گوشت کھانے کے میلے کے خلاف بھی ایک مہم چلا رہی ہیں۔ اپنی اس چیریٹی کے لیے فنڈ جمع کرنے کے لیے وہ ایک سالانہ پروگرام بھی منعقد کرتی ہیں۔

وہ اپنی شہرت کو ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں۔ وہ خودکشیوں کے خطرات کے بارے میں بھی آگاہی دیتی ہیں۔ ان کے بڑے بھائی نے سنہ 2018 میں خود کشی کرلی تھی۔

لیزا امریکہ سیلیبریٹی ریلٹی ٹی وی

Lisa Vanderpump
لیزا عموماً اس کتے کے ساتھ تصویروں میں نظر آتی ہیں۔

’دی ریل ہاؤس وائیفز آف بیویرلی ہلز‘ میں نو برس تک مسلسل شامل ہونے کے بعد لیزا سنہ 2020 میں شروع ہونے والی اس کی دسویں سیریز میں شامل نہیں ہوں گی۔ اس وجہ سے مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ شاید اس ریئلیٹی شو میں دوسری خواتین ان سے جلتی ہیں یا ان کے دوسرے شو کی کامیابی سے حسد کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’وینڈرپمپ کی کامیابی نے بہت سے لوگوں میں حسد پیدا کیا ہے اور پھر جب اسے بہترین شو قرار دیا گیا تو دوسری عورتوں میں حسد پیدا ہوا ہے۔‘

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ’دی ریل ہاؤس وائیفز آف بیویرلی ہلز‘ کی ایک دوسری عورت نے ان کے بارے میں کہا کہ ان کے سامنے بیٹھنے کا مطلب یہ ہے جیسا کہ آپ شطرنج کھیلنے والی ایک آنجہانی خاتون چیمپیئن بوبی فِشر کے سامنے بیٹھی ہوں تو لیزا نے کہا ’کیا میں اتنی ذہیں ہوں؟ کاش میں ایسی ہوتی، لیکن میں دوستوں کے ساتھ سٹریٹیجی نہیں لڑاتی ہوں۔‘

بہرحال کچھ لوگ چاہے ریئلیٹی ٹی وی کو کمتر پروگرام سمجھتے ہوں، امورِ نسواں کی ایک محقق کامیلی پاگلیا کہتی ہیں کہ ’دی ریل ہاؤس وائیفز آف بیویرلی ہلز‘ایک اعلیٰ قسم کا دستاویزی پروگرام ہے اور لیزا اس میں ’پیشہ ور خواتین کے لیے ایک بہترین رول ماڈل‘ پیش کرتی کرتی ہے۔‘

پروفیسر پاگلیہ کہتی ہیں کہ ’ان کے کام کی اخلاقیات، نظم و ضبط، عادات و اطوار، اور ایک پروقار رکھ رکھاؤ نے امریکی پیشہ ور خواتین کے لیے اعلیٰ معیار قائم کردیے ہیں۔ مجھے ہمیشہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اسی طرح پُر اسراریت کے ساتھ ہر جگہ موجود ہوتی ہیں جس طرح ایک معزز خاتون جیمز بانڈ کے بارے میں سمجھا جاتا ہے۔‘

لیزا خود اپنے آپ کو سب سے پہلے اور سب سے اول ایک بزنس ویمن سمجھتی ہیں۔ ’میں ریئلیٹی ٹی وی میں آنے سے پہلے بھی ایک بزنس چلا رہی تھی۔ لہٰذا ایسا نہیں ہے کہ میں محسوس کروں کہ او میں تو سیلیبریٹی ہوں! میں ایسا کہنا کبھی بھی پسند نہیں کرتی ہوں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12779 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp