عمران خان کیوں ناکام ہو رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو ہزار آٹھ میں شہباز شریف دوسری بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے چند ریٹائرڈ بیوروکریٹس کو مشورے کے لیے بلایا۔ اس مجلس میں شامل تمام لوگ ایسے تھے جو حکومتی کاروبار سے اچھی طرح واقف تھے، اس لیے ان کے دیے ہوئے مشورے بیش قیمت تھے اور قابل عمل بھی۔ مجلس میں موجود لوگوں میں سے کسی نے سڑکوں کی تعمیر کی طرف توجہ دلائی، کوئی بجلی کے معاملات پر بولا تو کسی نے صحت و تعلیم میں بہتری کا کہا۔ وزارت خارجہ سے تعلق رکھنے والے ایک ریٹائرڈ افسر خاموش بیٹھے تھے۔

شہباز شریف نے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ ان صاحب کو حکمرانوں کی توجہ کے قلیل دورانیے اور ذہنی سطح کا خوب اندازہ تھا۔ انہوں نے چند الفاظ میں ملک میں گورننس کی صورتحال کا تجزیہ کرکے بتا دیا کہ کہنے کو انیس سو نوے کی دہائی گزرے صرف آٹھ برس ہوئے ہیں، لیکن دنیا اس عرصے میں کئی دہائیاں آگے نکل گئی ہے، اس لیے حکومت کو نیا انداز اختیار کرنا ہو گا۔ شہباز شریف نے پوچھا: وہ کیسے؟ جواب ملا، اصلاحات۔ اصلاحات کا لفظ ابھی بولنے والے کے لبوں سے نکل کر کمرے میں موجود لوگوں کی سماعت تک بھی نہیں پہنچا تھا کہ شہباز شریف نے بیک وقت سر اور دایاں ہاتھ انکار میں ہلا دیے۔

زبان سے کئی بار نہ نہ کی تکرار کی اور بولنے والے کو تنبیہ کی کہ آئندہ اصلاحات کی بات ان کے روبرو نہ کی جائے۔ تھوڑی دیر بعد مشاورت کا یہ سلسلہ ختم ہوگیا اور شہباز شریف اپنی توانا شخصیت کے ساتھ پنجاب میں کام پر جُت گئے۔ صوبے کا چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناتے انہوں نے ایک انتظامی آمریت قائم کرڈالی۔ صوبے میں رائج ایک بہترین بلدیاتی نظام کو تباہ کر ڈالا، بیوروکریسی میں گریڈ اور تجربے کا فرق مٹا کر صرف ایسے لوگوں کو اپنے قریب رکھا جو کام نکالنا جانتے تھے۔

چند ماہ میں ہی نوبت یہ آگئی کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں کوئی بڑے سے بڑا سرکاری افسر ایسا نہ رہا جو شہباز شریف کا حکم ٹال سکے۔ اپنے اسی انداز میں انہوں نے صوبہ چلایا، اپنی پارٹی کو دوہزار تیرہ کا الیکشن جتوایا، اس کے بعد اپنے اندازِ حکومت میں مزید راسخ ہوگئے اورمزید پانچ سال یوں حکومت کی کہ ملک بھر میں ان کی حکومت ہی کارکردگی کا پیمانہ بن گئی۔ ان کی کارکردگی کے سیاسی نتائج بلاشبہ مثبت رہے لیکن انتظامی حوالے سے پنجاب سینکڑوں سال پیچھے چلا گیا۔

انہوں نے اپنی غیرمعمولی توانا شخصیت کے پیچھے بیوروکریسی کی نا اہلی، سرکاری ضابطوں کی فرسودگی اور ریاستی مشین کی روایتی سستی کو یوں چھپا لیا تھا کہ سوائے حکومت کی کارکردگی کے کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا تھا۔ کچھ اسی طرح کا معاملہ وفاق میں تیسری بار وزیراعظم بننے کے بعد نواز شریف نے کیا۔ انہوں نے نظام میں کوئی اصلاح کرنے کے بجائے اپنے اہداف پر کام کیا اور ان اہداف کے حصول کے راستے میں جو آیا اسے ہٹنا پڑا۔ انہوں نے بھی گریڈ کو نظرانداز کرکے صرف ایسے افسر اپنے اردگرد رکھے جو اپنے ذمے لگنے والے کام پورے کرنے کے لیے دن رات میں کوئی فرق ہی نہیں رکھتے تھے۔ ان کا اندازِ حکومت بھی عوام میں پذیرائی پا گیا اور، ستارے، دشمن نہ ہوجاتے تو شاید آج بھی وہ پاکستان کے وزیراعظم ہوتے۔

نواز شریف اور شہباز شریف کے اپوزیشن میں جانے کے بعد عمران خان وزیراعظم بنے تو وہی نظام جو پہلے ٹھیک ٹھاک چلتا دکھائی دے رہا تھا، یکایک رُک گیا۔ مسلم لیگ ن کے مقابلے میں تحریک انصاف کی گرفت حکومتی معاملات پر اتنی کمزور ہے کہ وزیراعظم کے احکامات تک پر عملدرآمد نہیں ہو پارہا۔ کاروباری تنظیموں کے لوگ ٹی وی پر آکر بتا چکے ہیں کہ وزیراعظم ان سے جو بات کرتے ہیں بعد میں پوری نہیں ہوتی۔ ایک موقع یہ بھی آیا کہ کاروباری لوگوں کا حکومت پر اعتماد بحال کرنے کے لیے خود چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو میدان میں آنا پڑا۔

سولہ مہینے گزرجانے کے باوجود تحریک انصاف کوئی ایک ایسا کام نہیں کر پائی جسے دکھا کر وہ عوام کو مزید اچھے دنوں کی امید دلا سکے۔ لگتا ہے، حکمران اور حکومت لطیفہ بن چکے ہیں۔ نا اہلی، نالائقی اور غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کبھی افسروں کے ردوبدل میں نظر آتا ہے تو کبھی گندم کے بحران میں۔ ان سے بجلی چوری پر قابو پایا جاتا ہے نہ چینی کی بڑھتی ہوئی قیمت پر۔ اس حکومت کے اتحادی اس کی کارکردگی سے خوش ہیں نہ اس کے اپنے اراکین اسمبلی میں اپنے حلقوں کا رُخ کرنے کی ہمت باقی رہی ہے۔

تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کو چلانا ہے تو مسلم لیگ ن یا پیپلز پارٹی کو حکومت دینا ہو گی۔ ان کے علاوہ اگر کوئی چلا سکتا ہے تو فوج ہے۔ ہرگزرتا دن تحریک انصاف کی وفاقی اور دو صوبائی حکومتوں کو غیر متعلق کیے جاتا ہے اور حالت یہاں تک آ گئی ہے کہ حکومت اگر گر بھی جائے تو اس پر آنسو بہانے والا کوئی نہ ہوگا۔ دنوں میں تحریک انصاف کا نام ونشان بھی تاریخ کے کوڑے دان میں چلا جائے گا۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مسلم لیگ ن یا پیپلزپارٹی نظام کیوں چلا سکتی ہیں اور تحریک انصاف کیوں نہیں؟ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ پہلی دونوں جماعتوں میں کوئی غیر معمولی صلاحیت کے لوگ نہیں ہیں لیکن اس معاملے میں تحریک انصاف تو ایک بازیچۂ اطفال کے سوا کچھ بھی نہیں۔ مختلف پارٹیوں کے منتخب نالائق جس طرح اس جماعت میں جمع ہوئے ہیں ان کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، لیکن نالائقی کا یہ طوفان تصویر کا ایک رخ ہے۔

فرض کریں دو ہزار آٹھ میں شہباز شریف کو اصلاحات کا جو مشورہ دیا گیا تھا وہ مان لیا جاتا۔ ملک کی بیوروکریسی کو ڈسٹرکٹ مینجمنٹ افسروں پر چھوڑنے کی بجائے پیشہ ورانہ بیوروکریسی کی بھرتی اور ترقی کا سلسلہ شروع ہو جاتا، پنجاب پولیس لندن اور نیویارک کی پولیس کی طرح منظم کردی جاتی۔ دوہزار ایک کے بلدیاتی نظام کے تحت اب تک تین الیکشن ہوچکے ہوتے تو کیا ہوتا؟ ہوتا یہ کہ آج بیشتر صوبائی محکموں کے سیکرٹری متعلقہ شعبے کے ماہرین ہوتے۔

پولیس لوگوں کو مارنے کی بجائے ان کی معاون و محافظ بن چکی ہوتی۔ جو اراکین صوبائی و قومی اسمبلی آج عمران خان کو ترقیاتی فنڈز کے لیے بلیک میل کر رہے ہیں وہ یاتو سلیقے سے قانون سازی کرتے یا واپس اپنے ضلعوں میں جا کر بلدیاتی سیاست کرتے۔ ملک کے ہر ضلعے میں ایسی قیادت پیدا ہو چکی ہوتی جو نہ صرف عثمان بزدار بلکہ عمران خان، نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری کا متبادل ہوتی۔ اگر اس صورتحال میں تحریک انصاف جیسی جماعت کو حکومت مل بھی جاتی تو اس کے نیچے نظام اتنا مستحکم ہوتا کہ اس کی نالائقی سے نظام کو کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ اگر عمران خان واقعی وہ کرنا چاہتے جو کہہ کر انہوں نے الیکشن جیتاتھا تو اوپر سے نیچے تک انہیں ایسی تجربہ کار ٹیم میسر ہوتی جو ان کے خواب پورے کر دکھاتی۔

کبھی کبھی لگتا ہے کہ عمران خان صاحب کو الیکشن سے پہلے اپنی پارٹی اور ساتھیوں کے کھوکھلے پن کا اندازہ تھا، اسی لیے وہ طاقتور بلدیاتی نظام، پولیس اصلاحات اور پیشہ ورانہ بیوروکریسی کی بات کیا کرتے تھے۔ وہ آتے ہی یہ تین کام کر گزرتے تو اب تک انہیں ایسی ٹیم مل چکی ہوتی جس کے بل پر وہ اگلے تین سالوں میں پاکستان میں اصلی تبدیلی لے آتے۔ لیکن انہوں نے نواز شریف اور شہباز شریف کے بچھائے ہوئے جال میں قدم رکھا دیا۔

انہوں نے اسی ازکارِ رفتہ بلکہ مردہ نظام سے کام لینے کی کوشش کی جس کو تھوڑا بہت چلانے کا منتر صرف مسلم لیگ ن یا پیپلزپارٹی کے پاس ہے۔ جیسے ہی یہ لوگ اپوزیشن میں گئے پورا نظام ہی بیٹھ گیا۔ عمران خان صاحب اگر وہ اصلاحات کرڈالتے جو وہ کہتے رہے ہیں تو پاکستان میں یاد رہ جانے والے لیڈر بن جاتے مگر انہوں نے کچھ لوگوں پر بھروسا کیا تو تباہ ہوگئے۔ خان صاحب نے اصلاحات کے جہاز کا پائلٹ بننے کی بجائے اسی کھٹارہ رکشے کا ڈرائیور بننے کو ترجیح دی جسے صرف شہباز شریف اور نواز شریف چلا سکتے ہیں۔ اس میں وہ اتنی بری طرح ناکام ہوئے کہ مذاق بن کر رہ گئے۔ انہیں یہ بھی کوئی نہیں سمجھا پا رہا کہ انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو یہ مذاق بھی زیادہ دیر نہیں چلے گا۔
بشکریہ روزنامہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *