سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت کرنے کا جنون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان کو سوشل میڈیا کے اپنے حامیوں‘ ایکٹوسٹس کی ایک فوج کے ساتھ بیٹھ کر انہیں سوشل میڈیا کو حکومت کے حق میں استعمال کرنے کی تلقین کرتے ہوئے دیکھ کر نواز شریف اور مریم نواز کی سوشل میڈیا ٹیمیں، میڈیا سیل، اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ یاد آئے۔
مریم نواز کو خاصی دیر سے اندازہ ہوا تھا کہ وہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک ان کے پاس بھی ایک میڈیا ٹیم نہ ہو اور یہ کہ سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی ضروری ہے۔ وہ سمجھتی تھیں‘ ان کے والد نواز شریف یا چچا میڈیا کو سنبھال لیں گے۔ ٹی وی چینلز، اخبارات، کالم نگاروں تک کو بھی اپنے ساتھ ملانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ وہ یہ کام تیس چالیس برسوں سے کرتے آئے ہیں۔ صحافیوں کے ذریعے اپنی تعریفیں یا ‘سب اچھا‘ لکھوانا کون سا مشکل کام ہے۔ مالکان سے لے کر عام صحافیوں تک سب کو تھوڑی سی اہمیت دینا ہوتی ہے۔ انہیں اٹھ کر ملنا ہوتا ہے، چائے پانی یا بقول چوہدری شجاعت حسین روٹی شوٹی کے بعد ان کے چھوٹے موٹے کام کرا دیں، اکثر صحافیوں کے کام افسران کے ٹرانسفر‘ پوسٹنگ جیسے ہوتے ہیں۔
میرے جیسے صحافی‘ جو دیہات سے آئے ہیں‘ ایک مرحلے پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ بڑا صحافی وہ ہے جس کے تعلقات بہت بڑے ہیں۔ بڑا صحافی وہ نہیں مانا جاتا جو بڑے سورسز کا مالک ہو یا بڑی خبریں نکلوا سکتا ہو۔ بہت جلد یہ تعلقات ذاتی نوعیت کے ہو جاتے ہیں اور بہت سے اس لیڈر یا پارٹی کا دفاع اپنا فرض سمجھ لیتے ہیں۔ میں ہمیشہ دوستوں کو کہتا ہوں: میرے جیسے کسی دیہاتی صحافی کا گائوں کے قریب کسی پولیس چوکی پر سپاہی واقف ہو جائے تو وہ پورا گائوں آگے لگا لیتا ہے کہ میرا سپاہی دوست ہے‘ سب کو اندر کرا دوں گا۔ تصور کریں اچانک آپ گائوں سے نکل کر شہر آتے ہیں اور یہاں کچھ عرصے بعد آپ کی دعا سلام ڈپٹی کمشنر، کمشنر‘ ڈی پی او سے آئی جی تک‘ چیف سیکرٹری اور پھر وزیروں اور ایک دن وزیر اعظم سے ہو جاتی ہے۔ میں نے بڑے قریب سے یہ سب کرتب دیکھے ہیں کہ کیسے صحافی ان تعلقات کو اپنی زندگی کی معراج سمجھتے ہیں۔ سیاسی لیڈر یا وزیر سے وفاداری پہلی اور آخری ترجیح ہوتی ہے۔
بھٹو صاحب کے اپنے فیورٹ صحافی تھے تو جنرل ضیا کی صحافیوں کی اپنی کابینہ تھی جو انہیں مشورے دیتی تھی کہ ملک کو کیسے چلانا ہے۔ اس کے بعد بینظیر بھٹو کے ہمدرد صحافیوں اور کالم نگاروں کی ایک نسل سامنے آئی‘ جنہیں یہ محسوس ہوتا تھا کہ بھٹو خاندان کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں لہٰذا ان کا پہلا فرض یہ بنتا ہے کہ وہ بھٹو خاندان کے لیے ہر قسم کی پروفیشنل قربانی دیں۔ اس طرح زرداری اور بینظیر بھٹو کی حکومتوں میں ان کی ہر قسم کی کرپشن کو ان صحافیوں نے جان بوجھ کر نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ یوں زرداری کھل کر کھیلے۔ انہوں نے اپنی پارٹی اور ذات کے تحفظ کے لیے چند صحافیوں کا ایک گروپ بنا لیا‘ جسے ناشتہ گروپ کا نام دیا گیا۔
اسلام آباد کے صحافیوں کا یہ گروپ روز صبح کے وقت زرداری سے ملتا۔ ناشتے پر طے ہوتا‘ میڈیا پالیسی کیا ہو گی‘ کس اخباری گروپ کو کس طرح ہینڈل کیا جائے گا اور کس کس صحافی کو کیسے ٹارگٹ کیا جائے گا۔ ایک دن پتہ چلا‘ بھٹو کے نام پر ووٹ لینے والوں نے لندن میں سرے محل لے لیا ہے جبکہ زرداری صاحب نے ساٹھ ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ کی تھی۔ بینظیر بھٹو پر نیکلس کا مقدمہ بن گیا۔ لیکن یہ صحافی اور ایکٹوسٹ پھر بھی ان کے مفادات کا تحفظ کرتے رہے اور بھٹو خاندان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو دہرا دہرا کر ان کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے جواز عوام کو پیش کئے جاتے رہے۔
دوسری طرف نواز شریف ایک کاروباری خاندان سے ابھرے تھے لہٰذا وہ ‘اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے‘ والے حساب پر یقین رکھتے تھے۔ مجھے یاد ہے‘ میں ٹی وی کی تربیت لینے کے لیے کراچی میں تھا۔ وہاں لاہور سے ایک اہم صحافی نے ہم چند صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ اس لیے بھی شریفوں سے پیسے لیتے ہیں کہ اس کے بغیر وہ کسی صحافی پر بھروسہ نہیں کرتے‘ لہٰذا اگر آپ نے ان کے کیمپ میں داخل ہونا ہے تو پھر آپ کو ان سے پیسے لینے پڑیں گے۔ ہم یہ سب سن کر ششدر رہ گئے تھے۔
نواز شریف نے زرداری صاحب کے ناشتہ گروپ کے مقابلے پر اپنا ہیلی کاپٹر گروپ لانچ کیا۔ وہ جہاں جاتے اپنی مرضی کے چند صحافی ان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں ہوتے جو واپسی پر اگلے دن اخبارات میں ان کے کرشمات کی کہانیاں عوام کو سنا کر انہیں آبدیدہ کر دیتے۔ جب عمران خان سیاست میں داخل ہو رہے تھے تو انہیں بھی بتایا گیا ہو گا کہ اپنی مرضی کا صحافیوں کا ایک گروپ تشکیل دیں جو ان کے قصیدے دن رات قوم کو سنائے ۔ ان کی کرامات کی کہانیاں بھی لکھے۔
مشورہ دیا گیا ہو گا کہ فلاں فلاں کالم نگار اور صحافی اس کام کیلئے بہتر ہوں گے لیکن ضروری ہے کہ وہ ان کے پاس جائیں۔ ایک صحافی پھول کر کپا ہو جاتا ہے اگر کوئی سیاستدان، یا وزیر اعظم یا کوئی وزیر اس کے گھر تشریف لے آئے۔ یہ وہی حال ہوتا ہے کہ کسی غریب کے گھر لینڈ کروزر پر امیر چلا جائے تو اسے سمجھ نہیں آتی کہ اسے کہاں بٹھائے۔ وہ اس کیلئے جان دینے کو تیار ہو جاتا ہے کیونکہ یکدم اس کا سوشل سٹیٹس اپنے رشتہ داروں اور محلے داروں سے اوپر چلا جاتا ہے۔ عمران خان صاحب کو بھی بہت سارے صحافیوں نے اون کر لیا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ دراصل نواز شریف اور زرداری مافیا کے خلاف عمران خان کو سپورٹ دے رہے ہیں۔ یوں عمران خان کو بھی ایک اپنا صحافیوں کا گروپ مل گیا‘ جس نے عمران خان کی وہ وہ خوبیاں عوام کو بتائیں‘ جو غالباً خود عمران خان صاحب کے بھی علم میں نہ تھیں۔
جونہی سوشل میڈیا کا دور آیا تو عمران خان کو کسی سیانے نے مشورہ دیا ہو گا کہ نئی نسل کو راغب کرنے اور حامی بنانے کیلئے یہ نئی ٹیکنالوجی بہت اہم ہے۔ اس کے ذریعے سیاسی مخالفین کو تباہ و برباد کرنا آسان ہے۔ صحافیوں کی فائل کی ہوئی خبریں اور سکینڈلز کو سوشل میڈیا پر مارکیٹ کرنا تھا۔ نیا کام فوٹو شاپ کے ذریعے اپنے مخالفین کی گندی تصویریں بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالنا تھا۔ یوں ایک تخلیقی فورم گالی گلوچ اور کردار کشی کا فورم بن کر رہ گیا۔
جب نواز شریف تیسری دفعہ وزیر اعظم بنے تو ایک طرف جہاں پرانا طریقہ استعمال کرتے ہوئے خزانے کا منہ کھول دیا گیا‘ وہیں مریم نواز نے سوشل میڈیا کے فوائد دیکھتے ہوئے ایک سیل بھی قائم کر لیا۔ اس سیل کیلئے بندے بھرتی کئے گئے‘ جن کا کام وہی تھا جو پی ٹی آئی کر رہی تھی۔ مخالفوں کی کردار کشی، گالی گلوچ۔ جو صحافی انہیں ایکسپوز کر رہے تھے انہیں بھی گالیوں اور فوٹو شاپ کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ ان کے نام سے جعلی خبریں بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے لگیں اور یوں پی ٹی آئی اور نواز لیگ نے سوشل میڈیا پر وہ طوفان اٹھایا کہ الامان و الحفیظ۔
ایک دن مریم نواز نے اپنے سوشل میڈیا پر موجود حامیوں کا ایک فنکشن کرایا‘ جس سے نواز شریف نے خطاب کیا اور ان کی بہادری اور محنت کو سراہا کہ وہ پارٹی کی قیادت کا سوشل میڈیا پر دفاع کر رہے ہیں۔ مریم نواز اپنی تقریروں میں اپنا شیر اور اثاثہ قرار دے کر ان کا لہو گرماتی رہیں اور وہ سب مخالفین کی کردار کشی کرتے رہے۔ ایک دن چوہدری نثار علی خان نے وزیرداخلہ ہوتے ہوئے پریس کانفرنس میں مریم نواز کے ٹویٹس اور ان کی سوشل میڈیا ٹیم کی حرکتوں پر کہا: حکومتیں ٹویٹر یا سوشل میڈیا سے نہیں چلائی جاتیں۔
مریم نواز ناراض ہوگئیں اور آخر چوہدری نثار کو پارٹی سے ہاتھ دھونا پڑے۔ وہی مریم نواز ایک دن جن کا خیال تھا کہ سوشل میڈیا سے حکومت چلائی جاسکتی ہے تمام تر کوشش کے باوجود اپنے والد نواز شریف کے ساتھ جیل جا بیٹھیں۔ سوشل میڈیا سیل، وہ سب جیالے، متوالے اورجنونی انہیںجیل جانے سے نہ بچا سکے۔دو دن پہلے عمران خان بھی اپنے سوشل میڈیا کے پچاس ساٹھ جیالوں سے خطاب کرکے وہی باتیں دہرا رہے تھے جو مریم دہراتی تھیں کہ وہ ان کے مخالفین کا جینا حرام کر دیں !
مریم نواز بھی سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت چلانا اور مخالفین کی زندگیاں مشکل کرنے پر یقین رکھتی تھیں۔ اب عمران خان بھی وہیں سے شروع کررہے ہیں جہاں مریم نواز چھوڑ کر اڈیالہ جیل گئی تھیں ۔ حکومتیں سوشل میڈیا پر نہیں چلتیں ، کارکردگی سے چلتی ہیں ۔
اَگے تیرے بھاگ لچھیے۔ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں ۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *