عمران خان کا ڈیووس میں بی بی سی کو انٹرویو: مذہبی اقلیتوں کے ساتھ تفریق پاکستانی آئین، پالیسی کا حصہ نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان 22 جنوری 2020 کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ تقریب سے خطاب کر رہے ہیں

Getty Images
عمران خان 22 جنوری 2020 کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ تقریب سے خطاب کر رہے ہیں

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ تفریق پاکستان کے آئین کا حصہ نہیں اور نہ ہی یہ پاکستانی حکومت کی پالیسی میں شامل ہے۔

ڈیووس میں بی بی سی کی مشیل حسین کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسے لوگ رہے ہوں گے جنھوں نے اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ رویہ نہیں رکھا ہوگا، لیکن جب بھی کسی نے (ایسا کیا ہے تو) حکومت نے لوگوں کے خلاف اقدامات کیے ہیں۔

’مثال کے طور پر پنجاب میں ایک واقعہ ہوا تھا جس میں سکھ برادری کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہم نے اس کے ردعمل میں کارروائی کی اور وہ شخص اب قید میں ہے، لیکن ایسا انڈیا میں نہیں ہو رہا۔ وہاں قانون اپنے ہاتھ میں لینے والے گروہ موجود ہیں۔ گائے کا گوشت کھانے پر سب کے سامنے قتل کیا جاتا ہے۔‘

(انڈیا اور پاکستان میں) ’فرق یہ ہے کہ انڈیا نے ایسا قانون منظور کر لیا ہے جو انڈیا میں مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس سے مسلمان دوسرے درجے کے شہری بن جاتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’انڈیا میں لوگ خوفزدہ ہیں۔ اگر بات کسی اقلیت یا خاص طور پر مسلمانوں کی کریں تو جو انڈیا میں ہو رہا ہے اس کا موازنہ پاکستان سے نہیں کیا جا سکتا۔‘

یہ بھی پڑھیے

امریکہ بمقابلہ ایران: پاکستان کس کا ساتھ دے گا؟

ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ: ’امریکہ سے مدد کا کہا ہے‘

ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کیا اشرافیہ کی محفل ہے؟

’برآمدات سے ترقی حتمی مقصد‘

پاکستان میں معاشی بحران، روپے کی قدر میں کمی اور صنعتی سست رفتاری سے نکلنے کے لیے حکومتی منصوبے پر پوچھے گئے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایک مشکل صورتحال میں حکومت سنبھالی اور اس وقت پاکستان کو ’تاریخ کے سب سے بڑے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے‘ کا سامنا تھا۔

’درآمدات 60 ارب ڈالر تھیں اور برآمدات کم ہو کر بیس ارب ڈالر تھیں۔ یہ بڑا فاصلہ تھا۔ ہمیں آغاز میں ہی بڑے فیصلے کرنے تھے۔ افسوس کے ساتھ اس سے لوگ متاثر ہوئے لیکن پھر ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 75 فیصد تک کم ہوا۔‘

پاکستانی روپے اور ڈالر کے نوٹ

Getty Images
پاکستان کے مجموعی قرضوں میں جون سنہ 2018 سے ستمبر 2019 تک چھ کھرب روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’معیشت اب سنبھل چکی ہے، روپے کی قدر مستحکم ہوگئی ہے، سٹاک مارکیٹ میں اعتماد آنے کے بعد یہ اوپر جا رہی ہے۔ سرمایہ کاری 100 فیصد تک اوپر گئی ہے۔ اس سال ہم پاکستان میں ترقی دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ لوگ نوکریاں حاصل کر سکیں۔ گذشتہ سال لوگوں کے لیے استحکام نہ ہونے کی وجہ سے مشکل تھا۔ ہر ایسی معیشت جس میں بڑا خسارہ اور قرضے ہوں اسے مشکل وقت سے گزرنا پڑتا ہے۔‘

برآمدات میں اضافے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے ہونے والی ترقی درآمدات اور کهپت پر منحصر تھی۔ اس مشکل وقت کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جہاں ہم برآمدات سے ترقی کرنے جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پہلے کے اقدامات کی وجہ سے روپے کی قدر کم ہوتی تھی جس کا مطلب آئی ایم ایف سے قرضے حاصل کرنا ہوتا تھا اور ہم اس چکر سے گزرتے رہے۔ اب ہم پاکستان کو اصل ترقی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں جو برآمدات سے ہوتی ہے۔‘

لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ اس میں کتنا وقت لگے گا تو عمران خان نے کہا کہ ’اس میں وقت لگتا ہے۔‘

’ابھی سے ہماری برآمدات زیادہ ہوگئی ہیں۔ پانچ سال سے یہ سست روی کا شکار تھیں۔ ترسیلات میں اضافہ ہوا ہے جس کی مدد سے ڈالرز ملک میں آتے ہیں۔ سیاحت ہمارے لیے مختصر مدت میں بہترین ذریعہ ہے۔ ہم مختصر مدتی اقدامات پر توجہ دے رہے ہیں لیکن بالاخر (مقصد) صنعت کاری ہوگی جس میں برآمدات پر توجہ دی جائے گی۔‘

’سپیشل اکنامک زون بنیں گے جہاں انڈسٹری لگائی جائے گی۔ لوگوں کو مراعات ملیں گی تاکہ ہم مزید صنعت کاری کر سکیں جیسے 60 کی دہائی میں پاکستان برصغیر میں تمام ممالک سے آگے تھا۔‘

سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟

جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے ایک اور پڑوسی ملک چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے خلاف زیادتیوں کے ثبوت موجود ہونے کے باوجود انھوں نے اس حوالے سے عوامی طور پر بیان کیوں نہیں دیے، تو انھوں نے اس حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

عمران خان کی جب توجہ اس جانب دلائی گئی کہ اویغور مسلمانوں کے لیے تربیتی مراکز کہلائے جانے والے ان حراستی مراکز کی تعمیر کے حوالے سے پالیسی دستاویزات سمیت بےتحاشہ ثبوت موجود ہیں، تو انھوں نے اصرار کیا کہ انھیں اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر انھیں چین کی ساتھ سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کرنا ہوگا تو وہ یہ کام پسِ پردہ ہی کریں گے کیونکہ ’چینی ایسے ہی کام کرتے ہیں۔‘

’ابھی ہمارے لیے بڑی تشویش یہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک متنازع علاقے میں کیا ہو رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک متنازع علاقہ ہے اور یہ براہ راست ہماری تشویش کا باعث ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ چین سے اپنے اقتصادی تعلقات کی وجہ سے سنکیانگ کے حوالے سے دانستہ طور پر جاننا چاہ نہیں رہے، تو انھوں نے اس تاثر کی تردید کی۔

اویغور نسلی طور پر ترکی النسل مسلمان ہیں اور یہ چین کے مغربی علاقے میں آباد ہیں جہاں ان کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے

BBC
اویغور نسلی طور پر ترکی النسل مسلمان ہیں اور یہ چین کے مغربی علاقے میں آباد ہیں جہاں ان کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے

انھوں نے کہا کہ ’اس طرح تو مجھے ہر اس جگہ کی بات کرنے چاہیے جہاں مسلمان ہیں، جیسے لیبیا، شام، صومالیہ، یمن۔ ہر جگہ ہی مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ تو مجھے ہر ایک کے لیے بات کرنی چاہیے۔ بات یہ ہے کہ فی الحال جو انڈیا میں ہو رہا ہے یہ تشویش کا باعث ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یاد رکھیں یہ صرف کشمیر کی بات نہیں، ابھی انڈیا میں شہریت اور رجسٹریشن ایکٹ کے دو قوانین کی وجہ سے تقریباً دو کروڑ مسلمان غیر قانونی قرار دیے جانے کے خطرے میں ہیں۔ ان کی شہریت چھینی جا سکتی ہے۔ اور یہ پہلا قدم ہوسکتا ہے۔ تو یہ مجھے پریشان کرتا ہے۔‘

عمران خان سے جب سوال کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی برادری کو کشمیر کے معاملے پر تجارتی مفادات سے آگے بڑھ کر دیکھنے کے لیے کہتے ہیں مگر خود بظاہر چین کے معاملے میں تجارت سے آگے دیکھنے پر قائل نظر نہیں آتے، تو انھوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی اگر کچھ ہو رہا ہے اس سے تناؤ کے ایسے خدشات جنم نہیں لیتے جیسا کشمیر کے مسئلے کی وجہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو برصغیر سے کہیں دور تک اس کے اثرات ہوں گے۔ انڈیا غلط راستے پر جا رہا ہے اور یہ میرا فرض ہے کہ ایک ایسے فورم کو اس بارے میں آگاہ کروں جسے دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم کیا گیا تھا تاکہ کہیں بھی جنگ ہونے سے اسے روکا جائے۔ کسی اور جگہ ایسے جنگ کے خطرات نہیں جیسے کشمیر میں ہیں۔‘

اس معاملے کے ممکنہ حل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال اور صدر ٹرمپ کی پیشکشوں کے حوالے سے کہا کہ انڈیا نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

’اگر پاکستان اور انڈیا کے درمیان دو طرفہ بات چیت نہیں ہوتی تو اس مسئلے کا حل کس طرح نکلے گا، سوائے اس صورت میں کہ اقوام متحدہ یا امریکہ جیسی طاقت مداخلت کرتے ہیں۔‘

’صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ انڈین حکومت سے بات کرنے کی کوشش کریں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جیسے میں دیکھ رہا ہوں یہ مزید بدتر ہوسکتا ہے۔ اگر یورپی یونین، اقوام متحدہ یا امریکہ مداخلت نہیں کرتا تو چیزیں برے سے مزید گمبھیر ہوجائیں گی۔‘

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان ڈیووس میں بی بی سی کی مشیل حسین کو انٹرویو دے رہے ہیں

BBC
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان ڈیووس میں بی بی سی کی مشیل حسین کو انٹرویو دے رہے ہیں

’انڈیا پر انتہاپسند نظریہ غالب‘

عمران خان سے جب پوچھا گیا کہ وہ پانچ اگست کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد انڈین حکومت کا موازنہ نازیوں سے کرنے والے اپنے بیان میں واقعی یہ موازنہ کرنا چاہتے تھے تو انھوں نے پُرزور اثبات میں جواب دیا۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت انڈیا میں آر ایس ایس نامی ایک انتہا پسند نظریہ حکومت چلا رہا ہے۔

’آر ایس ایس کا نظریہ 1925 میں اپنے قیام کے وقت نازی پارٹی سے متاثر تھا۔ وہ نازی پارٹی کی تعریف کرتے تھے اور وہ نسلی برتری کی حمایت کرتے تھے۔ اور انڈیا سے مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ جیسے نازی پارٹی نے یہودیوں کا ختم کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آپ کو صرف آر ایس ایس کے بانیوں کی تحریر پڑھنے کی ضرورت ہے، اور آپ جان جائیں گے کہ یہ انتہا پسند اور نسلی امتیاز پر مبنی نظریہ ہے جس نے مہاتما گاندھی کا قتل کیا۔‘

عمران خان نے کہا کہ مہاتما گاندھی کو آر ایس ایس نے قتل کیا جس پر تین مرتبہ پابندی لگائی گئی اور افسوس یہ ہے کہ اس نظریے نے ایک ارب کی آبادی والے ملک پر قبضہ کر لیا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کچھ لوگوں کے نزدیک نازیوں سے موازنہ دور کی کوڑی یا اشتعال انگیز ہو سکتا ہے، تو عمران خان نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کے بانیان ہندوؤں کی نسلی برتری پر یقین رکھتے تھے۔ ’وہ مسلمانوں اور مسیحیوں سے نفرت کرتے ہیں اور انھیں گھس بیٹھیے کہتے ہیں۔‘

’جب بھی تاریخ میں ایسے قوم پرست اور نسل پرست عناصر دیگر انسانی برادریوں کے خلاف نفرت کے ساتھ آتے ہیں تو خون ریزی ہوتی ہے۔ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ حیران کن ہے۔ 80 لاکھ لوگ گذشتہ پانچ ماہ سے ایک کھلے قید خانے میں ہیں۔‘

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان ڈیووس میں بی بی سی کی مشیل حسین کو انٹرویو دے رہے ہیں

BBC
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان ڈیووس میں بی بی سی کی مشیل حسین کو انٹرویو دے رہے ہیں

ایران، امریکہ جنگ تباہ کن ہوگی

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازعے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے تباہ کن ہوگا کیونکہ پاکستان پہلے ہی افغانستان میں جنگ سے متاثر ہوا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ نائن الیون میں کوئی ہاتھ نہ ہونے کے باوجود پاکستان پر اس کے اثرات پڑے۔

وہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعے پر پاکستان کے خدشات کے حوالے سے سوال کا جواب دے رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ (امریکی) جنگ پاکستان کو (افغان جنگ سے) مختلف انداز میں متاثر کرے گی۔

’لیکن ہمارے لیے سب سے پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہم نے حال ہی میں اپنی معیشت کو مستحکم کیا ہے۔ ہم کافی مشکل وقت سے گزرے ہیں۔ اگر جنگ ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا اور نہ صرف پاکستان بلکہ کئی ترقی پذیر ممالک اس سے متاثر ہوں گے۔‘

’لیکن یہ کسی بھی طرح سمجھ سے بالاتر ہے۔ 19 سال سے امریکہ افغانستان میں پھنسا ہوا ہے۔ کیا یہ خطہ ایک اور جنگ برداشت کرسکتا ہے؟‘

انھوں نے کہا کہ انھوں نے یہ بات صدر ٹرمپ سے ملاقات میں بھی کی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں محسوس ہوا کہ صدر ٹرمپ ان کی اس بات پر غور کر رہے ہیں، تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے ’اپنا موقف پیش کردیا ہے۔‘

’مجھے یقین ہے صدر ٹرمپ کو اور بھی مشورے ملے ہوں گے۔ لیکن میں نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا اور میں کسی فوجی حل کے سخت خلاف ہوں۔‘

ورلڈ اکنامک فورم کی ڈیووس میں میٹنگ کے دوران عمران خان کی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات ہوئی

Getty Images
ورلڈ اکنامک فورم کی ڈیووس میں میٹنگ کے دوران عمران خان کی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات ہوئی

جمال خاشقجی کا قتل

اس سوال پر کہ کیا انھوں نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بات کی ہے، عمران خان نے کہا کہ ’بالکل نہیں۔‘

’اس وقت میرے لیے میرا ملک سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ یہ 22 کروڑ لوگوں کا ملک ہے اور یہ میرا بنیادی فرض ہے کہ میں اپنے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دوں۔ جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ ہمیں ورثے میں بدترین اقتصادی صورتحال ملی، اس لیے میری ذمہ داری پاکستان کو درست راستے پر لانا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جب بھی وہ بیرونِ ملک رہنماؤں سے بات کرتے ہیں تو ان کے لیے یہی اہم ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ انڈیا اور کشمیر پر صرف اس لیے بات کرتے ہیں کیونکہ کشمیر کشیدگی کی بنیاد بنتا ہے۔

’دو جوہری ممالک (مسلح) تنازعے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس لیے میں امریکہ اور اقوامِ متحدہ سے بات کرتا ہوں کہ یہ وقت ہے کہ وہ مداخلت کریں اور ایک ممکنہ تنازعے کو جنم لینے سے روکیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’حکومت میں گزرا ایک سال زندگی کا مشکل ترین سال تھا‘

پاکستان کے قرضوں میں چھ کھرب روپے کا اضافہ

نئے پاکستان پر قرض، واجبات کے بوجھ کا نیا ریکارڈ

زندگی کی سب سے بڑی جدوجہد

عمران خان کی طویل سیاسی جدوجہد کے بارے میں جب ان سے پوچھا گیا کہ وزیرِ اعظم بننے سے پہلے کے تصورات اور حقیقت میں کیا موازنہ ہے تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے کہا کہ 23 سال کی جدوجہد میں ایک منٹ کے لیے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ پاکستان میں وزیر اعظم بننا آسان کام ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ان کے سیاست میں آنے کی وجہ یہ تھی کہ 1985 کے بعد دو بدعنوان سیاسی خاندانوں کے اقتدار میں آنے کی وجہ سے ملک تباہ ہو رہا تھا۔

’1985 سے پاکستان کے لیے ایک اہم موڑ تھا جب چیزیں خراب ہونا شروع ہوئیں۔ بدعنوانی ملک کو تباہ کر دیتی ہے۔ یہ ریاستی اداروں کو تباہ کرتی ہے۔ اس سے ترقی نہیں ہو پاتی کیونکہ لوگوں پر خرچ ہونے والے پیسے جیبوں میں جاتے ہیں۔ اس سے منی لانڈرنگ ہوتی ہے، اس سے آپ کی کرنسی پر بوجھ بڑھتا ہے اور اس کی قدر کم ہوتی ہے۔ اس سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ میں کرپشن کے خلاف لڑنے آیا تھا۔ لیکن مجھے اندازہ تھا کہ جب بھی میں اقتدار میں آؤں گا، یہ سب سے بڑی مشقت ہوگی۔ اور یہ رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی جدوجہد رہی ہے۔

اس جدوجہد کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’یہ میرے ملک کے لیے ہے۔ میرے ملک نے مجھے اتنا کچھ دیا، عزت اور پیار دیا، اور میں کھیل چھوڑنے کے بعد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ کھیل میں ایک مقام پر پہنچنے کے بعد آپ ساری زندگی بس کھیل کے بارے میں بات کرتے رہیں اور آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ سیاست میں کسی ذاتی فائدے کے لیے نہیں آیا بلکہ یہ ہمیشہ سے ایک مشن تھا۔‘

’جب ہم بڑے ہو رہے تھے تو پاکستان خطے میں تیزی سے ترقی کر رہا تھا اور ہم نے ملک کو نیچے جاتے دیکھا۔ اس لیے میں کوشش کر رہا ہوں کہ اپنے ملک کو اوپر اٹھا سکوں۔ اور مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں بہت صلاحیت ہے۔ ہم نے بہت مشکل ڈیڑھ سال گزارا ہے مگر مجھے ترقی کی امید ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12277 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp