تعلیم کا عالمی دن: ’بیٹی پڑھاؤ، کم سے کم بارہ جماعتیں‘

ہدیٰ اکرام - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تعلیم

BBC
فائل فوٹو

تین دسمبر 2018 کو اقوام متحدہ نے ہر برس 24 جنوری کو تعلیم کے عالمی دن کے طور پر منائے جانے کا اعلان کیا۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آج یہ دن منایا جا رہا ہے جس کی گونج سوشل میڈیا پر بھی محسوس کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر آج دو ٹرینڈز سرفہرست رہے جس میں ’بیٹی پڑھاؤ‘ اور ’کم سے کم بارہ جماعتیں‘ شامل ہیں۔

ان ٹرینڈز کے تحت تعلیم کے فروغ کے لیے بہت سے صارفین نے کافی مثبت آرا کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’میں اپنی بیٹی کو کھانا کھلاؤں، یا تعلیم دلواؤں‘

’ساتوں بیٹیوں کو پڑھانا میاں خان کی زندگی کا مقصد ہے‘

جب پاکپتن کی لڑکیوں کے لیے سائیکل ’تعلیم کی کُنجی‘ بنی

کیپٹن ارحم نامی ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں کہ ’لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، پڑھی لکھی (لڑکیاں) ہر ذمہ داری بخوبی نبھا سکتی ہیں۔ وہ بہتر انداز میں اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ اپنا گھر سنبھال سکتی ہیں اور آنے والی نسلوں کو بھی اچھا مستقبل دے سکتی ہیں۔ بیٹی پڑھاؤ، ملک آگے بڑھاؤ۔‘

https://twitter.com/ArhamSayss/status/1220571935333146625

سِم نامی ایک اور ٹوئٹر صارف کا کہنا ہے کہ ’آپ کی لڑکیاں آپ کے لڑکوں سے کمتر نہیں ہیں۔ قانونی طور پر بھی اور اخلاقی طور پر بھی۔ ان کی صلاحیتوں اور ٹیلینٹ کو حقیر مت جانیے۔‘

https://twitter.com/Silent_deserts/status/1220596567943438337

علی حسن لڑکیوں کی تعلیم کو ایسا مسئلہ قرار دیا جو اب تک حکومتی توجہ کا طالب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو فی الفور تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ آئین کے آرٹیکل 25 اے کے تحت حکومت پانچ سے 16 سال تک کی عمر کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔‘

https://twitter.com/Audacious_Ali/status/1220402646596669440?s=20

اسی طرح ہیش ٹیگ ’کم سے کم بارہ جماعتیں‘ بھی ٹرینڈ کرتا رہا اور اس پر بات کرنے والے صارفین کا کہنا ہے کہ نہ صرف بیٹی پڑھاؤ بلکہ کم سے کم بارہ جماعتوں تک تو ضرور۔

ٹوئٹر صارف شجاعت علی لکھتے ہیں کہ ’لڑکیوں کی تعلیم پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ تعلیم حقوقِ نسواں سے متعلق آگاہی پھیلانے میں مددگار ہو گی کیونکہ پڑھی لکھی لڑکیاں اپنے بنیادی اور آئینی حقوق سے آگاہ ہوں گی۔‘

https://twitter.com/Shujaatsays/status/1220591011182862336

تاہم ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں تمام ٹویٹر صارفین اس حوالے سے یہی مخصوص رائے رکھتے۔ چند دوسرے بھی ہیں جو الگ ہی نظریے کا پرچار کرتے دکھائی دیے۔

ایسے ہی ایک ٹوئٹر صارف فرہاد عالم نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ ’نوجوانوں میرا یقین کیجیے یہ سب ایک فریب ہے۔ اگر آپ حصولِ تعلیم میں دلچسپی نہیں رکھتے تو اپنا وقت، توانائی اور خواب کاغذ کے چند ٹکڑوں (کتابوں) میں ضائع مت کیجیے۔ پیسے کمانے کی تدابیر کیجیے۔ (پیسہ) دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔‘

https://twitter.com/FarhadA42057971/status/1220627946878263296

ٹوئٹر صارفین کی جانب سے ان سوشل میڈیا ٹرینڈز پر رائے، تبصرے اور تنقید کا سلسلہ تو جاری ہے لیکن یہ ٹرینڈ شروع کہاں سے ہوا اور کیوں؟ اس سوال کا جواب ہمیں ’پاکستان یوتھ چینج ایڈوکیٹس‘ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم تک لے گیا۔

اس تنظیم کی ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر اریبہ شاہد سے جب یہ پوچھا کہ ان کے جانب سے آج یہ ٹرینڈز شروع کرنے کے کوئی خاص وجہ تھی تو ان کا کہنا تھا کہ آج جب پوری دنیا تعلیم کا عالمی دن منا رہی ہے تو پاکستان میں اس معاملے پر ہمیں ہر طرف خاموشی نظر آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پر کسی کو تو بات کرنے کے ضرورت تھی۔

اریبہ کے مطابق دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ یہ مسئلہ پاکستان کا ہے کیونکہ دنیا میں سکول سے باہر بچوں کی فہرست میں پاکستان دوسرے نمبر پر آتا ہے۔

تعلیم

Getty Images

’بچیوں کی تعلیم پر زور اس لیے دے رہے ہیں کیونکہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق سوا دو کروڑ بچے اور بچیاں سکولوں سے باہر ہیں اور ان میں زیادہ تعداد بچیوں کی ہے جو تقریبا 53 فیصد بنتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ کم سے کم بارہ جماعتیں پڑھانے کے ہیش ٹیگ کو شروع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ گزشتہ دس برسوں میں ملک میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ بچیاں جو بارہ جماعتوں تک پڑھی ہوتی ہیں ان پر گھریلو تشدد ہونے کے امکانات بہت حد تک کم ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے حقوق سمجھتی ہیں، قانون اور اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے طریقے بہتر جانتی ہیں۔

’اگر ہم اپنی بچیوں کو بارہ جماعتں پڑھا سکیں تو مجھے یقین ہے کہ روزانہ کے بنیاد پر جو گھریلو تشدد کے واقعات کی خبریں سامنے آتی ہیں ہم ان پر قابو پانے مییں بہت حد تک کامیاب ہو جائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ ایک عوامی آگاہی کی مہم ہے تاہم اس مسئلے پر حکومتی سطح پر باقاعدہ پالیسی بنائے جانے کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15388 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp