میرے پاس تم ہو ڈرامے کے خلاف اپیل: ’آپ فرض کر رہے ہیں کہ جج نے بھی ڈرامہ دیکھا ہوگا‘

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‘میرے پاس تم ہو’ کی آخری قسط پر پابندی کے لیے درخواست پر دونوں اطراف کے موقف سنے جا چکے تھے، اب فیصلہ آنا باقی تھا۔ لیکن لاہور کے اسلام پورہ میں واقع دیوانی عدالتوں کی عمارت میں زیادہ تر لوگ اس سے بےخبر تھے۔

پانچویں منزل پر واقع سول عدالت کے کمرے تک پہنچنے میں کئی وکلا چیمبرز اور عدالتی کمروں کے درمیان سے گزر ہوتا ہے۔ نماز جمعہ کے وقفے کے دوران ایسی ہی ایک بند عدالت کا وہاں معاون عملہ موجود تھا۔

دونوں مرد حضرات کو یہ علم تو نہیں تھا کہ اس عمارت کے کمرے میں ڈرامے ‘میرے پاس تم ہو’ کی آخری قسط کو روکنے کا مقدمہ سنا جا رہا تھا اور یہ کہ وہ عدالت کہاں تھی، تاہم انہیں یہ تشویش ضرور تھی کہ ‘ڈرامہ کہیں واقعی بند نہ ہو جائے۔’

‘ہمارا تو جی جس طرح آخری ہفتہ گزرا ہے، ہمیں ہی پتہ ہے۔’

ان کا اشارہ ڈرامے کی آخری قسط کی طرف تھا جو اپنے مقررہ وقت پر گزشتہ سنیچر نشر نہیں کی گئی اور اس سنیچر کو اسے پاکستان میں سینماؤں میں دکھائے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’عورت ریپ کرنے کی برابری نہیں مانگ رہی‘

کیا پاکستانی ٹی وی ڈرامہ فحش اور غیراخلاقی ہو گیا ہے؟

دونوں حضرات میں ایک صاحب نے جھنجھلاہٹ کا اظہار بھی کیا۔ ‘پتہ نہیں لوگوں کو کیا مسئلہ ہے، بھئی لوگوں کو دیکھنے تو دو، وہ خود فیصلہ کر لیں گے کہ اس میں کیا اچھا ہے کیا برا۔’

انہیں شدت سے سنیچر کا انتظار تھا۔

اوپر والی منزل پر دیوانی مقدمات کی عدالت کے سامنے ایک خاتون نے اے آر وائی ڈیجیٹل کے ڈرامے پر پابندی کے لیے جو درخواست دے رکھی تھی اس پر کارروائی ہوئی۔

خاتون درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ ‘ڈرامہ اسلامی اقدار کے خلاف ہے اور اس میں معاشرے میں خواتین کے احترام کے حوالے سے غلط تاثر دیا گیا ہے۔’

اس لیے انہوں نے سول جج نائلہ ایوب سے استدعا کر رکھی تھی کہ سنیچر کو نشر ہونے والی ڈرامے کی آخری قسط کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کیا جائے۔

اس سوال پر عدالت نے جمعے کو فریقین کو بلا رکھا تھا اور دونوں کے موقف سنے۔ خاتون درخواست گزار کے وکیل نے اپنا موقف بیان کیا۔

اس کے جواب میں دفاع نے دو بنیادی نکتے اٹھائے۔ پہلا یہ تھا کہ اگر ڈرامے کے مواد کے حوالے سے کسی کو اعتراض ہو تو اس کے لیے پہلا موزوں فورم پیمرا یعنی میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی تھی۔ اور یہ کہ پیمرا پہلے ہی ڈرامے کی اجازت دے چکا ہے۔

دوسرا نکتہ یہ تھا کہ جو قسط نشر ہی نہیں ہوئی اس کے مواد کے خلاف درخواست ’خلافِ ضابطہ و خلافِ قانون‘ ہے۔ دفاع کے وکیل کا کہنا تھا کہ ‘چلنے تو دیں اور دیکھیں اس میں کیا ہے۔ ہو سکتا ہے جس بات پر اعتراض ہے وہ آخری قسط دیکھنے پر خود ہی ختم ہو جائے۔’

ساتھ ہی انہوں نے مقدمے کے دوسرے حصے پر بھی سوال داغ دیا۔ ان کا موقف تھا کہ درخواست گزار کو ڈرامے کے مواد پر اعتراض ہے مگر انہوں نے ڈرامے کا سکرپٹ درخواست کے ساتھ نہیں لگایا؟ عدالت نے بھی اس پر استفسار کیا تو جواب آیا کہ ‘وہ تو سب کو پتہ ہے۔’

اس پر جج نے مسکراتے ہوئے تبصرہ کیا کہ ‘کیا آپ فرض کر رہے ہیں کہ جج نے بھی ڈرامہ دیکھا ہو گا۔’ اس پر کمرہ عدالت میں قہقہ بلند ہوا۔

درخواست گزار کے وکیل محمد ماجد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سکرپٹ کے بارے میں ان کی درخواست بڑے مسئلے سے متعلق تھی جس میں ان کا مؤقف تھا کہ ‘ایسے ڈرامے نہیں بننے چاہییں۔

‘یہ کسی ایک ڈرامے کے سکرپٹ کی بات نہیں تھی۔ یہ ایک بڑے مسئلے پر بحث تھی۔’

عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ اس سے قبل ڈرامے کی اسی آخری قسط کو رکوانے کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں دائر ایک درخواست ایک روز قبل مسترد ہو چکی ہے۔

نمازِ جمعہ کے وقفہ کے بعد عدالت نے تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں عدالت نے ڈرامے کی آخری قسط روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ‘ڈرامے کی تمام اقساط نشر ہو چکی ہیں، اب آخری قسط ہونی ہے، پیمرا اور سینسر بورڈ اسے کلیئر کر چکے ہیں اور سماعت کے دوران کوئی ایسا امر سامنے نہیں آیا جو یہ ثابت کرے کہ یہ ڈرامہ معاشرے کے لیے موزوں نہیں۔ بادی النظر میں مقدمہ ثابت نہیں ہوتا۔’

فیصلہ آنے کے بعد کمرہ عدالت کے باہر دو وکلا موجود تھے جو فیصلے کا ورق ہاتھ میں تھامے اس کے مطالعے میں مصروف تھے۔ چہرے پر ان کے خوشی اور جھنجھلاہٹ کے ملے جلے تاثرات تھے۔ انہیں معلوم ہوا کہ وہ صحافی سے بات کر رہے ہیں تو انہوں نے ان تاثرات کی وضاحت میں دیر نہیں کی۔

‘ہمیں تو بھئی بہت پسند ہے یہ ڈرامہ۔ عجیب لوگ ہیں، پتہ نہیں کیوں ایسے ڈرامے پر پابندی لگوانا چاہتے ہیں۔’

پاکستان میں ‘میرے پاس تم ہو’ اور اس ڈرامے کے لکھاری خلیل الرحمٰن قمر سے متعلق خصوصاً خواتین کی طرف سے کافی تنقید اور بحث سامنے آ چکی ہے۔

تاہم دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایسی چیزیں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں جہاں سنیچر کے روز ریستورانوں کی طرف سے بڑی سکرینوں پر ڈرامہ دکھائے جانے کے اشتہارات سامنے آ رہے ہیں۔

ٹوئٹر پر ایسے بے شمار مزاحیہ میم بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایک صارف اسامہ خان آفیشل نے اپنے انتظار کو کچھ اس رنگ میں پیش کیا:

لاہور کے سینما گھروں میں بھی ڈرامے کی آخری قسط کی نمائش کا وقت مقرر ہے جبکہ کچھ مارکیٹوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ اس وقت پر وہ مارکیٹ بند رکھیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12291 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp