ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان: ’سی پی آئی 2019 کا مطلب يہ نہيں کہ پاکستان میں کرپشن بڑھی ہے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی کرنسی

Getty Images
پاکستان میں گذشتہ ڈیڑھ برس سے برسراقتدار تحریکِ انصاف کی حکومت ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کرتی رہتی ہے

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین سہیل مظفر نے پاکستان میں کرپشن رپورٹ سے متعلق ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سہیل مظفر نے کہا ہے کہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی 2019 کا مطلب يہ نہيں کہ پاکستان میں کرپشن بڑھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا سکور ایک درجے نیچے جانا کرپشن میں اضافے یا کمی کی نشاندہی نہیں کرتا۔ سہیل مظفر نے کہا کہ انڈیکس میں شامل ڈیٹا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا نہیں ہوتا، رپورٹ میں 13 مختلف ذرائع کے اعداد و شمار شامل کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز قبل بدعنوانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل‘ نے دنیا کے 180 ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کے بارے میں سالانہ فہرست جاری کی تھی جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی میں ایک پوائنٹ کی تنزلی ہوئی ہے۔

پاکستان کو اس عالمی فہرست میں نائیجر اور مالدووا کے ساتھ 19ویں نمبر پر رکھا گیا ہے اور اس کا سکور 32 اور رینکنگ 120 ہے۔

عالمی ادارے کی 2018 کی رپورٹ میں پاکستان کا سکور 33 اور رینکنگ 117 رکھی گئی تھی اور یہ سکور اس سے پہلے کے دو برسوں سے ایک درجہ بہتر تھا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق سہیل مظفر نے مزید کہا ہے کہ سیاستدانوں، ٹی وی چینلز اور اخبارات نے رپورٹ کو غلط انداز میں پیش کیا اور غلط اعداد و شمار پیش کر کے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستانی کرنسی

Getty Images
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 2018 کی رپورٹ میں پاکستان کا سکور 33 اور رینکنگ 117 رکھی گئی تھی اور یہ سکور اس سے پہلے کے دو برسوں سے ایک درجہ بہتر تھا

واضح رہے کہ پاکستان میں گذشتہ ڈیڑھ برس سے برسراقتدار تحریکِ انصاف کی حکومت مسلسل ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے عزم کا اظہار اور اس سلسلے میں دعوے کرتی رہی ہے۔

ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ کیسے مرتب کی گئی

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ’کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2019‘ میں ماہرین اور کاروباری شخصیات کی نظر میں 180 ممالک کے سرکاری محکموں اور شعبہ جات میں بدعنوانی کا جائزہ لیا گیا۔

اس رپورٹ کے مطابق دنیا میں سرکاری محکموں میں سب سے زیادہ بدعنوانی صومالیہ میں ہے جس کی رینکنگ 180 اور سکور نو ہے جبکہ سب سے کم بدعنوان ملک نیوزی لینڈ اور ڈنمارک ہیں جن کا سکور 87 اور رینکنک ایک ہے۔

رپورٹ کی تیاری کے لیے جو طریقۂ کار استعمال کیا گیا اس میں ان ممالک کو ایک سے 100 کی رینکنگ دی گئی جس میں ایک بدعنوان ترین اور 100 شفاف ترین تھا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ 2019 کے انڈیکس میں شامل ممالک میں سے دو تہائی کا سکور 50 سے کم رہا جبکہ اوسط سکور 43 تھا۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ برسوں کی طرح ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ بہتری کے باوجود ان ممالک کی اکثریت سرکاری سطح پر کرپشن روکنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12362 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp