شیٹ لینڈ کے ماڈل کتے جن کے فوٹو شوٹ کے لیے ٹریفک بھی رک گئی

کین بینکس - بی بی سی سکاٹ لینڈ شمالی مشرقی رپورٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیٹ لینڈ کی کائلی گیریک کے کتوں کا فوٹو شوٹ ٹریفک روک سکتا ہے اور ان کے پالتو کتوں کی فرماں برداری اب دنیا بھر میں مقبول ہو چکی ہے۔

29 سالہ طالبہ اور طبّی اہلکار نے اپنے پالتو کتوں کی تربیت کی اور انھیں ایک ساتھ تصویروں میں پوز کرنا سکھایا اور جاذب نظر تصاویر بنائیں۔

ان کے سات ماڈل کتے ہیں جن میں شیپ ڈاگس نسل کے کتوں کے نام فینٹن، تھیاگو، تھورین، گملی، مرفی اور جارا ہیں۔ ان میں سے ایک سلاسکن کلی کائی ہے جس کا نام گھوسٹ ہے۔

کھبی کھبی ان کی مان کا ایک کتا فجانا بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے۔

ان کی تصاویر کی مقبولیت سوشل میڈیا پر بڑھی اور اس کی مدد سے انھوں نے فلاحی کاموں کے لیے ہزاروں پاؤنڈ کی رقم جمع کر لی۔

سکالووے سے تعلق رکھنے والی کائلی 10 سال کی عمر سے کتوں کی تصاویر بنا رہی ہیں، تب سے جب تصاویر کو ڈویلپ کروایا جاتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ سب قدرتی طور پر ہوا کیونکہ ان کا پہلا کتا فلینٹ ان کے علاقے کے مناظر میں بہت خوبصورت دکھائی دیتا تھا۔

مزید پڑھیے

شیر، ٹائیگر اور کتے کی دوستی کے چرچے

ساحل سے 200 کلومیٹر دور تیرتے کتے کو بچا لیا گیا

تاہم فلینٹ سنہ 2007 میں ہڈیوں کے کینسر کی وجہ سے مر گیا۔ کائلی نے اس کے بعد تصاویر لینا ترک کر دیا۔

ان میں پھر سے تبدیلی آئی جب ان کی سہیلی نے سنہ 2011 میں انھیں کچھ کتے کے بچے دکھائے۔ انھیں فینٹن سے پیار ہو گیا جو اب بھی ان کے سٹار ماڈلز میں سے ایک ہے۔ اس کے بعد ان کا فوٹو گرافی کا شوق پھر سے زندہ ہو گیا۔

وہ کہتی ہیں ’کیمرہ جیسے میرے ہاتھوں کا پیچھا کرتا ہے۔‘

’اگلے کئی برسوں تک ہم مزید کتے شامل کرتے گئے اور تصاویر لیتے گئے۔

’سوشل میڈیا پر فیس بک اور انسٹاگرام کے استعمال سے یہ ایک دلچسپ چیز بن گئی۔ دنیا شیٹ لینڈ کے ان شیپ ڈاگز کے لیے پاگل ہو گئی۔‘

کائلی کا کہنا ہے کہ لوگ ان سے مزید تصاویر بنانے کے لیے کہنے لگے۔

’ہمارا پہلے مقصد شیٹ لینڈ کی تشہیر کرنا تھا۔ لیکن لوگ یہاں صرف ان کتوں کو دیکھنے آتے ہیں۔‘

’ہمارے ہاں ایک جوڑا آسٹریلیا سے آیا اور انھوں نے ہمیں پہچان لیا۔ یہ سب پاگل کرنے والا تھا۔‘

کائلی کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی تصاویر ’عجیب‘ ہونے لگیں کیونکہ اب وہ کتوں کے لیے لباس استمعال کرنے لگی تھیں۔

ایک تصویر میں یہ کتے ٹوپیاں اور ویسٹ کوٹ پہنے ہوئے ہیں۔ یہ حلیہ ٹیلی وژن کے شو پیکی بلائنڈر سے متاثر تھا۔

کائلی کا کہنا ہے کہ کچھ تصاویر میں پس منظر نے کافی فنکارانہ تاثر دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کتوں کی فرماں برداری کا راز اعتماد اور بھروسہ ہے۔‘

’انھیں اپنے گیند سے بہت پیار ہے اور انھیں اچھے رویے کے لیے انعام دیا جاتا ہے۔‘

کائلی نے مزید بتایا ’انھیں پوز کرنے کے لیے تربیت دی گئی ہے۔ میں انھیں قطار میں کھڑا کرتی ہوں، کہتی ہوں ’رکو‘ کیمرہ نکالتی ہوں، تصویر بناتی ہوں اور کہتی ہوں ’گڈ ڈاگز‘ پھر ان کی طرف گیند پھینکتی ہوں۔ اب اس میں زیادہ وقت نہیں لگتا کیونکہ وہ اس کے عادی ہو گئے ہیں۔‘

’تاہم کبھی کبھی بہت سے لوگ وہاں آ جاتے ہیں اور اس میں وقت لگ جاتا ہے جیسا کہ اس ایک تصویر میں جہاں انھوں نے چمکدار جوتے پہن رکھے ہیں اس کی وجہ سے ٹریفک جام ہو گئی تھی۔‘

’لوگ خود بھی ان کی تصاویر اتار رہے تھے پھر میں نے نوٹس کیا کہ گاڑیاں رکنا شروع ہو گئیں۔‘

کائلی نے لوگوں کے اصرار پر 2020 کے لیے ایک فلاحی کیلینڈر بنایا۔

انھوں نے سوچا کہ 250 نقلیں کافی ہوں گی لیکن وہ سب جلد ہی فروخت ہو گئیں۔ اور ان کی کچھ کاپیاں یورپ، امریکہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں بھی گئیں۔

اس کیلینڈر کی فروخت سے ایمولینس سٹاف چیریٹی کے لیے جو کتوں کی مدد اور تربیت کرتی ہے 2000 پاؤنڈ جمع ہوئے۔

کائلی جو ایمولینس ٹیکنیشن کے طور پر کام کرتی ہیں کہتی ہیں کہ انھوں نے مریضوں کو پر سکون رکھنے کے لیے ایمولینس کے پیچھے بھی کتوں کی تصاویر لگا رکھی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’میں مریضوں کو اپنے فون میں کتوں کی تصاویر دکھاتی ہوں اور وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ایمولینس میں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’ان کا بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے اور وہ مسکرانے لگتے ہیں۔‘

بچوں نے بھی اس پر بہت اچھا رد عمل دیا۔ لوگوں کو ہنسانے کی قابلیت نے اسے مزید نرالا بنا دیا ہے۔‘

تمام تصاویر کے حقوق محفوظ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18459 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp