عدالتی انصاف پر قبرستان میں جشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"ahmadعدالت نے ایک برس قبل بہاولپور جیل میں تہرے قتل کے الزام میں پھانسی کی سزا پانے والے دو بھائیوں غلام قادر اور غلام سرورکو ان کے مرنے کے ایک سال بعد باعزت بری کر دیا ہے۔ جب ملزمان کو خوشی کی یہ خبر سنانے کے لئے ڈھونڈا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ اب رحیم یار خان کے گائوں رانجھے خان کے قبرستان میں دفن ہیں۔

اس خبر کے بعد قبرستان میں خوشی کا سماں ہے۔ قبرستان میں مدفون تمام مردے مبارک باد دینے کے لئے جوق در جوق ان بھائیوں کی قبر وں کے گرد جمع ہو رہے ہیں۔ میڈیا بھی پہنچ چکا ہے۔ تھوڑی دیر میں براہ راست ٹرانسمیشن جاری ہوگی جس میں اعلی عدالتی عہدے دار اپنے دست مبارک سے دونوں بھائیوں کو تعریفی سندوں سے نوازیں گے۔

کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ انصاف میں تاخیر نا انصافی کے مترادف ہے۔ یہ واقعہ اس محاورے کی زندہ مثال ہے۔

دوسری طرف غلام قادر اور غلام سرور کے بیوی بچوں، والدین، بہنوں اور دیگر رشتہ داروں نے عدالت کی اس انوکھے انصاف پر احتجاج کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 6 اکتوبر کو دونوں بھائیوں کو ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے سزائے موت سے بری کر دیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے انہیں گزشتہ سال اکتوبر میں ہی بہاولپور جیل میں پھانسی دی جا چکی تھی، جس سے عدالت بے خبر تھی۔

دونوں بھائیوں پر الزام تھا کہ انہوں نے 2002 میں تھانہ صادق آباد رحیم یار خان ضلع کے علاقے رانجھے میں تین افراد عبدالقادر، اس کے بیٹے اکمل اور غلام قادر کی بیٹی سلمٰی کو قتل کر دیا تھا۔ ملزم کے وکیل کے مطابق ٹرائل کورٹ نے ایف آئی آر میں نامزد دیگر 6 ملزمان کو الزمات سے بری کر دیا تھا، تاہم غلام فرید کو عمر قید جبکہ غلام قادر اور غلام سرور کو تین، تین بار سزائے موت سنائی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ کے بہاولپور بینچ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ نے 10 جون 2010 کو عبدالقادر اور اکمل کی حد تک ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، تاہم سلمٰی کے معاملے پر اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

6 اکتوبر کو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سماعت کے دوران نشاندہی کی کہ گواہ نمبر سات نے گواہی دی کہ جب وہ موقع پر پہنچا تو عبدالقادر اور اکمل قتل ہوچکے تھے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جن ثبوتوں کی بنا پر چھ ملزمان پہلے ہی بری ہوچکے تھے ان کی بنیاد پر دو افراد کو کیسے پھانسی دی جاسکتی ہے۔

ملزمان کے وکیل آفتاب احمد کا کہنا تھا کہ ملزمان کو خوشی کی خبر سنانے کے لیے انہیں ڈھونڈا گیا تو پتہ چلا کہ دونوں بھائیوں کو 13 اکتوبر 2015 کو بہاولپور جیل میں پھانسی دی جاچکی ہے۔

جب آپ اس معاملے کی گہرائی میں جاتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ وکیل سے لے عدالت تک اور عدالت سے لے کر پولیس اور جیل تک کسی ادارے کا آپس میں کوئی ربط نہیں تھا۔ اگر ربط ہوتا تو معزز عدالت مُردوں کو باعزت بری نہ کر رہی ہوتی۔

دو روز پہلے خبر آئی تھی کہ عدالت نے حکم صادر فرمایا ہے کہ ذہنی مریض کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد پاکستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں شیزوفرینیا یعنی پاگل پن کے شکار ایک شخص کو پھانسی دی جا رہی ہے۔

مزید جانئیے کہ حال ہی میں لاہور میں ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں غیرت کے نام پر قتل کا مقدمہ زیر سماعت تھا۔ ملزم فقیر محمد پر الزام تھا کہ اس نے اپنے بیٹے اور بھتیجے کی مدد سے اپنی بیٹی کو قتل کر دیاتھا۔ آخر ملزم فقیر محمد نے ایسا کیا معجزہ دکھایا کہ عدالت نے اسے با عزت بری کر دیا؟ فقیر محمد نے قانونی وارث ہونے کے ناطے سے، نہ صرف خود کو معاف کر دیا، بلکہ اپنے شریک مجرم بیٹے و بھتیجے دونوں کو بھی خون بخش دیا، اور معزز عدالت نے اس معافی نامہ کو قبول کرتے ہوئے، تمام ملزمان کو باعزت بری کر دیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ حال ہی میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف پارلیمینٹ میں ایک بل پاس کیا گیا ہے جس کے مطابق اگر غیرت کے نام پر قتل کے مجرم کو متاثرہ خاندان کی جانب سے معاف بھی کر دیا جائے تو عدالت اسے عمر قید کی سزا سنا سکتی ہے۔

تاہم عدالت میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے ملزم فقیر محمد نے کہا کہ ’’مقتولہ کرن بی بی میری بیٹی تھی اور قتل کے وقت کنواری تھی۔ میرے اور میری بیوی کے علاوہ کرن کا کوئی قانونی وارث نہیں ہے۔ میں نے اس قتل کے ملزموں کو اللہ کے واسطے معاف کر دیا ہے اور ان کی بریت پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور میں قصاص و دیت کے اپنے حق سے بھی دستبردار ہوتا ہوں۔ ‘‘

تازہ ترین خبر یہ ہے کہ عدالت نے 2014 میں پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملے کے ملزمان عمران خان اور طاہر القادری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ہیں۔ یہ وارنٹ گزشتہ دو برس سے جاری ہو رہے ہیں۔ عمران خان اور طاہر القادری ملک میں جگہ جگہ جلسے جلوس کر رہے ہیں، لیکن پولیس ہر مرتبہ معزز عدالت کو بتاتی ہے کہ اس نے چھاپہ مارا، لیکن ’’ملزم موقع پر موجود نہیں تھا۔‘‘ معزز عدالت ہر مرتبہ پولیس کی کارکردگی پر ’برہمی‘ کا اظہار کرتی ہے اور دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم سناتی ہے۔ دوبارہ پھر وہی ہوتا ہے جو پہلے ہوا تھا۔ چھاپہ مارا۔ ملزم موقع پر موجود نہ ہے اورعدالت کا برہمی کا اظہار۔ یعنی ’’نوٹس ملیا، ککھ نہ ہلیا‘‘ جیسا عالم ہے۔

2 نومبر کو معزز عدالت کے ملزمان میں ایک یعنی تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خود چل کر اسلام آباد آ رہے ہیں۔ ایسے میں وارنٹ گرفتاری نے ایک مرتبہ پھر سے انگڑائی لی ہے۔ دیکھتے ہیں اب کی بار کیا مختلف ہوتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ اس طرح کے تاریخی انصاف کے واقعات سے بھری پڑی ہے اور ناچیز کا اس سے زیادہ لکھنے کا نہ تو حوصلہ ہے اور نہ ہی وقت ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments