محترمہ طاہرہ عبداللہ سے کیے گئے چند سوالات کے جوابات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر چند کہ محترم وقار حیدر صاحب نے سوالات طاہرہ عبداللہ صاحبہ سے کیے ہیں اور وہی ان سوالات کا جواب دینے یا نہ کا اختیار رکھتی ہیں۔ لیکن صنفی علوم کا ایک غیر رسمی طالب علم ہونے کے ناتے اور حیاتیاتی اور معاشرتی عوامل کی وجہ سے ایک مرد ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام مصنف کے اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دینے کی جسارت کر رہا ہوں۔

پہلا سوال:۔ اگر مردوں سے حقوق کا تقا ضہ نہیں تو پھر فمینزم کا راگ کیوں الاپا جا رہا ہے؟

جواب:۔ حقوق کا مطالبہ مردوں سے نہیں بلکہ ریاست اور نظمِ اجتماعی ( سماج، ثقافت، حکومت) سے ہے۔ سماجی، معاشی اور سیاسی عوامل کے تحت عورت کی سرگرمیوں کو گھر تک محدود کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے عورت معاشرے کے اجتماعی بندوبست میں اپنی صلاحییتوں اور قوتوں کا بہتر استعمال نہ کرسکی۔ آج کی جدید ریاست میں ہر فرد (عورت، مرد، تیسری جنس، لاجنس) سب ایک جیسے حقوق لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ یہ حقوق انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین اور متعلقہ ممالک کے دساتیر میں درج ہوتے ہیں۔

ان حقوق کی پاسداری ہی کسی معاشرے کی ذہنی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی ترقی کا ضامن ہوتی ہے۔ جدید جمہوری ریاست کی ابتدا میں ووٹ کے وسیلے نظمِ اجتماعی کے بند وبست کا حق مردوں نے اپنے پاس رکھا۔ امریکہ میں انیسویں صدی کے وسط میں جب خواتین نے ریاست سے ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا تو یہ مرد ہی تھے جنہوں نے کہا کہ چونکہ عورت کم عقل ہوتی ہے، اور وہ سیاسی حرکیات کو نہیں سمجھتی اس لئے عورت کو صاحب الرائے سمجھنا ووٹ ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ عورت کا کام خانہ داری، بچے پیدا کرنا، اور شوہر کی خدمت کرنا ہے۔ لیکن عورتوں نے ان تمام بودے دلائل کو رد کرتے ہوئے اپنے ووٹ کے حق کی خاطر جدوجہد شروع کی اور 1848 (سینیکا فالز کنونشن) سے لے کر 1920 تک مسلسل لڑ کر معاشرے اور ریاست سے اپنے ووٹ کا (محدود) حق منوایا۔

فمینزم مردوں سے حقوق کے تقاضا کا نام نہیں بلکہ سیاسی، عمرانی اور معاشی معاملات میں عورت کے اختیار کے لئے ایک کاوش ہے۔ دوسرے لفظوں میں فمینزم عورت کے علم، تجربات اور احساسات کو جدید ریاستی پالیسی سازی کے عمل شامل کر کے معاشرے کی ترقی اور اس کو بہتر مساوات کی طرف لے جانے کا نام ہے۔ بیسویں اور اکسیویں صدی میں صرف وہی اقوام ترقی کر سکیں جہاں خواتین کو ترقی کے عمل میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع میسر ہوے۔ لیکن اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں عورت کو کلی طور پہ انسان تسلیم کر لیا گیا ہے، می ٹو اور ٹائمزاپ جیسی تحاریک اس بات کا ثبوت ہے عورت آج بھی جنسی استحصال کا نشانہ ہے۔

دوسرا سوال:۔ عورت مرد کے لیے ماں، بہن، بیوی ہو سکتی ہے تو عزت کیوں نہیں؟

جواب:۔ مرد بھی تو عورت کا بھائی، بیٹا، باپ، اور شوہر ہوتا ہے تو وہ عورت کی عزت کیوں نہیں؟ اور اگر غیرت کے نام پہ قتل کا عمل معکوس ہو جائے، یعنی جن جرائم پہ مرد عورت کو مار دیتا ہے اورانہی جرائم پہ اگر عورتیں بھی مردوں کو مارنے لگییں تو ہمارے اس معاشرے میں کتنے مرد بچیں گے؟ معاملہ یہ ہے کہ اگر عورت کو مرد کی عزت بنا دیا جائے گا تو پھر عورت عزت کی خاطر قربان کی جاتی رہے گی۔ جب معاشرہ عزت کے نام پر عورت کے قتل کو ایک سماجی قدر بنا دے گا تو قانون، جو سماجی اقدار سے جنم لیتا ہے، اٰس ریاستی پالیسی میں ڈھل جائے گا جس کے تحت ایک باپ اپنی بیٹی کا خون معاف کر سکتا ہے۔ ( ہر چند اب پاکستان میں اس قانون کو تبدیل کیا جا چکا ہے، لیکن اب تک جو بے گناہ لہو بہہ چکا ہے اس کا حساب کون دے گا) ۔

تیسرا سوال:۔ ایک مرد یعنی رسول اللہ نے عورت کے بارے حقوق وضع کیے تو پھر مرد پر تنقید کیوں؟

چوتھا سوال:۔ جب لڑکی کی پیدائش پر عورت کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا تب رسول اکرم نے اپنی بیٹی کو رحمت کہا پھر مرد پر اعتراض کیوں؟

تیسرے اور چوتھے سوال کا تعلق چونکہ مذہب سے ہے تو ان کا جواب اکٹھا دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ خواتین کے حقوق قرانِ کریم سے ثابت ہیں۔ اور خود حضور اکرمﷺ کی ذاتی زندگی کی بہت سی امثال موجود ہیں۔ اسی معاملے میں بہت سی احادیثِ مبارکہ بھی موجود ہیں۔ اس لئے چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ پہلی بات یہ کہ اس وقت موجودہ مسلم معاشروں میں ایسے کتنے مرد ہوں گے جو، نعوزبا اللہ، یہ دعویٰ کر سکیں کہ عورت کے بارے میں ان کا رویہ پیغمبرِ اسلام ﷺ جتنا مثالی ہے؟

دوسری بات یہ کہ مذہب معاشرے کی ساخت اور بُنت کے زیرِ اثر ہی پروان چڑھتا ہے۔ اسلام نے جو حقوق عورت کو دیے وہ اس زمانے میں انقلابی تھے، اور آج بھی ہیں۔ اُن احکامات کا مقصد معاشرے میں عورتوں کی حالتِ زار بہتر بنانا تھا۔ اسلام کہیں یہ نہیں کہتا جو حقوق اس نے عورت کو دیے ہیں اُن میں اضافہ نیں ہوسکتا۔ اسلام نے عورت کو جو بنیادی حقوق دیے ہیں کوئی انہیں سلب نہیں کر سکتا۔ سماجی مظاہر، معاشی عوامل اور سیاسی حرکیات کے نتیجے میں نہ صرف عورتوں کے حقوق میں اضافہ ہوا ہے بلکہ عمومی انسانی حقوق کا تناظر بھی یکسر بدل چکا ہے۔

سیاسی حوالے سے جمہور کا حقِ انتخاب ہی دیکھ لیجیے۔ مرد وزن، دونوں کا یہ جمہوری حق ہے کہ اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے مستقبل کی تصویر کشی کریں اور اپنے حال کو سنواریں۔ اسلام کی سیاسی تاریخ میں عورتوں کی بییعت کی کتنی مثالیں دی جاسکتی ہیں؟ تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ اسلام کی سیاسی تاریخ میں عورت صاحبُ الرائے نہیں تھی لہذا عورت کو آج بھی ووٹ کا حق نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے اور ان حقوق کا تعلق معاشرت، معیشت اور سیاست ہے نہ کہ مذہب سے۔

پانچھواں سوال:۔ کیا عورت پر ظلم صرف مرد ہی کرتا ہے؟

چھٹا سوال:۔ کتنی ہی عورتوں کی چالاکی سے دوسری عورتوں کے گھر اجڑ گئے ہیں؟ کتنے ہی مردوں کی بربادی کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے؟

پانچھواں اور چھٹا سوال چونکہ مرد اور عورت کے باہمی مظالم سے متعلق ہے اس لیے ان کا اکٹھا جواب حاضر ہے۔ کیا عورت صرف عورت ہونے کی وجہ سے ظلم کرتی ہے؟ کیا ان ساری بربادیوں اور تباہیوں کے پیچھے عورت کی حیاتیاتی ساخت کارفرما ہے؟ چونکہ عورت کے کچھ اعضاء مرد سے مختلف ہیں، اسی لئے وہ ان سب بربادیوں کا باعث ہے؟ اگر ایک بچی کی تربیت پدرسری روایات کے تحت کی جائے گی اور اُسے ایک چاردیواری میں محدود رکھا جائے گا تو وہی بچی عورت بن کر انہی پدرسری اصولوں کی نہ صرف یہ کہ آبیاری کرے گی بلکہ وقت آنے پر دوسری عورت کی جان بھی لے لی گی۔ لاہور کی ایک عدالت کے احاطے میں اینٹیں مار کر ایک بیٹی کی جان لی گئی تو اس لڑکی کی ماں اس سنگ باری کا حصہ تھی۔ جرم کیا تھا اس بیٹی کا؟ پسند کی شادی۔

پدر سری معاشرے میں عورت کے صرف جسم ہی نہیں بلکہ اس کی جنسییت (سکشوالٹی) پر بھی مرد کا تسلط ہوتا ہے۔ اپنی پسند سے شادی جنسییت کا ایک اظہار ہی تو ہے۔ روایتی معاشرے میں عورتیں ہوں یا مرد وہ اپنے بچوں کے جسم اور جنسییت پر اپنا اختیار چاہتے ہیں۔ اور اگر کوئی لڑکی اس پدر سری اختیار کو رد کرتی ہے تو اسے نمونہ عبرت بنانا لازم ہوتا ہے۔ نہ صرف عورتیں بلکہ مرد بھی پدر سری رسم ورواج کی وجہ سے اذیت میں ہیں اور ذہنی اور نفسیاتی مریض بن کر جی رہے ہیں۔ فمینزم عورتوں کو ہی نہیں بلکہ مردوں کو بھی اس بیمار پدر سری ذہنییت کے خلاف لڑنے کا ہنر سکھاتا ہے۔

ساتواں سوال:۔ آخر کیوں مرد ہی ہمیشہ غلط گردانا جاتا ہے؟

مرد طاقت کی غیر مساوی تقسیم کی وجہ سے غلط ٹھہرتا ہے جس میں مرد کے پاس زیادہ اختیار ہے۔ زیادہ اختیار کی وجہ سے مرد کے پاس زیادہ وسائل ہیں۔ طاقت، اختیار اور وسائل کی مرد کی ذات میں ارتکازکی وجہ سے مرد ہر معاملے میں فیصلہ ساز (گھریلو، سماجی، معاشی، سیاسی) بن جاتا ہے۔ فیصلے غلط بھی ہو سکتے ہیں اور صحیح بھی۔ اب غلط فیصلے کرنے والے کو غلط نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ یعنی کہ مرد کے غلط فیصلوں پہ عورت تنقید بھی نہیں کر سکتی جن فیصلوں کا تاوان عورت ہی بھرتی ہے۔ فمینزم فیصلہ سازی (گھریلو، سماجی، معاشی، سیاسی) میں عورت کے فطری اختیار کا نام ہے۔

محترم وقار حیدر صاحب نے عورت کی ’محرومیوں اور زیادتیوں کو اسقاطِ حمل کی پکار‘ سے باندھ دیا ہے۔ جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔ جناب بس اتنی گزارش ہے کہ اسقاطِ حمل یا حمل کو برقرار رکھنا صرف اور صرف عورت کا حق ہے۔ کیونکہ مرد حمل کی کفییت، درد اور اضطراب کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔ لیکن جس طرح پدر سری معاشرے میں عورت کی پیداواری صلاحییتوں کا اختیار مرد کے ہاتھ ہے، اسی طرح عورت کی افزائشی صلاحیتوں پر بھی مرد کا تسلط ہے جیسے کہ بچوں کی تعداد، بچوں کے درمیان وقفہ اور فیملی پلاننگ۔

اس بحث سے قطع نطر کہ اسقاطِ حمل کے اخلاقی، معاشرتی یا سیاسی مباحث کیا ہیں، حمل کا اِسقاط یا اس کا ٹھہراؤ عورت کا بنیادی انسانی حق ہے۔ کیونکہ یہ ایک عورت ہی ہوتی ہے جو موت کے منہ میں جاکر ایک نئی زندگی کو جنم دیتی ہے۔ عورت کی کوکھ میں زندگی کی تخلیق کے حوالے سے مرد بڑی حد تک صرف ایک تماشائی ہوتا ہے۔ اسی لیے مرد عورت کو ”پھر بیٹی پیدا کر دی“ کا طعنہ دیتا آیا ہے۔

محترم وقار حیدر صاحب مزید لکھتے ہیں، ”عورت ہمیشہ اپنے حقوق کی بات کرتے ہوئے مردوں کے خلاف زہر افشانی کیوں کرتی ہے؟ “ جنابِ عالی، زہر خوانی کے بعد زہر افشانی ایک فطری ردعمل ہے۔ کیا اس بات سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ جنسی استحصال ہو، ریپ ہو، تشدد ہو، فحش زبان و کلام ہو یا اشارے ہوں یا پھر قتل، ان سب کا متاثرہ فریق صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے عورت۔ ( نوعمر لڑکے اور مرد بھی متاثرہ فریق ہیں لیکن یہ بحث کسی اور وقت کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں) جب ایک عورت یا لڑکی مردوں پہ تبرا بھیج رہی ہوتی ہے تو اس کے اردگرد کچھ مرد ہی ہوتے ہیں جنہوں نے اس کی زندگی اجیرن کی ہوتی ہے۔

عورت کی زہر افشانی ایک مخصوص ذہنییت کے خلاف ہوتی ہے جو کہ پدر سری سماج کا خاصہ ہے۔ صدیوں کا استعمار، ظلم اور جبر رقم ہے عورت کے ذہن پر، اس کے جسم پر اور اس کی زندگی پر۔ ہمیں ہمت کر کے اس زہر افشانی کو سن لینا چاہییے اور سوچنا چاہیے کہ اس زہر افشانی کے پیچھے کیا عوامل ہیں، کتنے طعنے ہیں، کتنی ذلتیں ہیں اور کتنا درد ہے۔

محترم وقار صاحب مزید فرماتے ہیں، ”کہ مرد کے لئے عورت پہلے ماں، پھر بہن، پھر بیوی اور پھر بیٹی کی صورت میں آتی ہے“۔ جناب عورت کی تعریف ایک مرد کے رشتے سے کرنا ہی غلط ہے۔ عورت کو ایک مرد کے رشتے سے باندھ کر تولنا ہی غلط ہے۔ عورت مرد سے علحیدہ ایک وجود رکھتی ہے۔ یہ وجود حیاتیاتی بھی ہے اور سماجی بھی، یہ وجود معاشی بھی اور سیاسی بھی، یہ وجود اخلاقی بھی اور جمہوری بھی۔ اور یہ وجود اپنے اظہار کے لئے کسی بھی مرد کا محتاج نہیں۔

آپ کا یہ کہنا کہ ”اگر مرد عورت کی عزت نہیں کرتا تو مرد کہلانے کے لائق نہیں ہے“ یہ آپ کا ذاتی خیال بے شک ہو لیکن خواتین کے اجتماعی تجربات، ان کے روزمرہ کے احساسات اور ان کے ذاتی حوادث شاید آپ کی اس بات کو رد کر دیں۔ کیونکہ آپ بے شک ایسے مرد کو مرد نہ کہیں لیکن وہ مرد عورتوں کے لئے ایک مرد ہی رہے گا۔

آخری بات۔ کلیاتِ آقبال میں جو اشعار خواتین کی آزادی اور ان کی تعلیم کے بارے میں درج ہیں ان کے بارے میں آپ جناب کی کیا رائے ہے۔ مزید براں، اپنے بیٹے اور بیٹی کی تعلیم کے حوالے سے جو تفاوت اقبال کے یہاں پایا جاتا ہے اس کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے۔ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔ ویسے بھی علامہ اقبال کے کسی ایک شعریا قطعہ کے بارے یہ فرض کر لینا کہ یہی کسی مخصوص موضوع پہ فکرِ اقبال کا غماز ہے، یہ شاید علامہ اقبال کے ساتھ زیادتی ہو۔ چلتے چلتے، اگر کبھی موقع ملے تو سر سید احمد خان، ڈپٹی نذیر احمد اور اکبر الہ آبادی کے عورتوں کی تعلیم اور اختیار سے متعلق خیالات بھی پڑھ لیجیے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
یوسف رسول کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *