رؤف کلاسرا : پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنی مٹی کی مہک بھی انوکھی ہوتی ہے ہم اس سے کتنے ہی دور چلے جائیں، یہ ہمیں اپنی طرف بلاتی رہتی ہے۔ کبھی صبح کے وقت، کبھی شام ڈھلے، کبھی رات کی تنہائیوں میں۔ کبھی ہلکے ہلکے دھیمے سروں میں اور کبھی اس کی آواز ایک کُوک بن جاتی ہے جو بھرے شہرمیں ہمیں تنہا کر دیتی ہے اور ہم سب کچھ چھوڑ کر اس کی طرف دیوانہ وار کھنچے چلے جاتے ہیں۔ رﺅف کلاسرا کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے اس کے دل میں اپنے گاﺅں کی یاد جب زور کرتی ہے تو اسلام آباد کی مصروف اور خود غرض زندگی کا جال توڑ کر سینکڑوں میل دور جنوبی پنجاب کے ایک دو افتادہ گاؤں جیسل کلاسراکی طرف کھنچتا چلا جاتا ہے۔ اتنا سفر طے کرنے کے بعد جب گاﺅں پہنچتا ہے تو گاﺅں کے سادہ لوگوں سے مل کر، ان سے باتیں کر کے اسے وہ خوشی ہوتی ہے جو اسلام آباد کے پانچ ستارہ ہوٹلوں میں مصنوعی لوگوں سے مل کر نہیں ہو سکتی۔

گاﺅں کی کھلی فضا، دور دور تک پھیلے ہوئے کھیت، سر کے اوپر یہاں سے وہاں تک پھیلا ہوا آسمان، جہاں رات کے وقت ان گنت ستارے یوں چمکتے ہیں جیسے تاحدِ نظر کھیتوں میں کپاس کے ہنستے ہوئے سفید پھول۔ صحرا اور دریا کے درمیان کا یہ علاقہ اس کا گاﺅں ہے صحرا اور دریا جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ کبھی کبھی مجھے یوں لگتا ہے رﺅف کلاسراکی شخصیت میں بھی یہ انتہائیں ہیں۔ کبھی محبت میں چڑھتے دریا کی طغیانی اور کبھی بے آب و گیاہ صحرا کی بے اعتنائی۔ بہت سے لوگ جنھوں نے اسے ٹی وی پر دھواں دھار موڈ میں دیکھا ہے اس کی شخصیت کا ایک مختلف تصور رکھتے ہیں لیکن ہم جیسے جو اسے قریب سے جانتے ہیں انھیں معلوم ہے کہ وہ ایک مختلف شخص ہے۔ سرتا پا محبت میں ڈوبا ہوا۔ جسے ادب کے مطالعے نے حد درجہ حساس بنا دیا ہے۔

ایک بار میں نے اس سے پوچھا کہ ٹی وی پر وہ ایک مختلف شخص کیوں نظر آتا ہے؟ اس نے ہنس کر کہا مجھے خود معلوم نہیں میں جب مائیک کے سامنے بیٹھتا ہوں تو خود بخود Transform ہو جاتا ہوں اور کبھی کبھار جب اپنا ریکارڈ شدہ پروگرام ٹی وی پر دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کیا یہ میں ہوں؟ اسے وہ دن یاد ہیں جب وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ گاﺅں میں رہتا تھا۔ وہ چھ بہن بھائی تھے۔ فجر کی نماز کے بعد ان کے والد کھیتوں پر چلے جاتے۔ ایک بڑے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے گھر کے سربراہ نے اپنا آرام تج دیا تھا۔ سارا دن کھیتوں میں کام کرنے کے بعد مٹی اور دھول میں اٹے واپس آتے تو شام ہو جاتی۔ گاﺅں میں سرِ شام ہی رات کا کھانا کھا لیا جاتا ہے۔ سب بچے ایک جگہ بیٹھتے۔ گاﺅں میں ہر گھر میں ایک رسوئی ہوتی تھی لکڑیوں کے چولہے پر کھانا پکتا تھا وہی کچن ہوتا، وہی ڈائننگ ہال۔ سب ایک ہی چٹائی پر بیٹھ کر کھاتے تھے۔

وہ بھی معمول کی ایک شام تھی کھانے کا وقت ہو گیا تھا۔ ماں لکڑی کے چولہے پر توا رکھ کر روٹیاں بنا رہی تھی تب ابا گھر میں داخل ہوئے لیکن ان کے سر پر پٹکہ نہیں تھا یہ غیر معمولی بات تھی غور سے دیکھا تو انھوں نے اپنا پٹکہ اپنے پاﺅں پر باندھا ہوا تھا پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ انھیں سانپ نے کاٹ لیا ہے جب انھیں بہاولپور ہسپتال لے جایا گیا تو زہر پورے جسم میں پھیل چکا تھا گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ والد نے آپریشن سے پہلے ایک خواہش کی کہ میں اپنے لاڈلے بیٹے رُوفی کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ جب چھ سال کا روفی اپنے گاﺅں کے ایک شخص کے ہمراہ پور ے دن کی مسافت کے بعد ہسپتال پہنچا تو پتہ چلا کہ مریض پہلے ہی دم توڑ گیا تھا اور اس کی لاش کو گاؤں بھجوا دیا گیا تھا۔

چھ سال کا روفی اب واپس اپنے گاﺅں آ رہا تھا وہی پورے دن کی مسافت۔ گھر والے میت پر اس کا انتظار کر تے رہے تھے۔ پھر بہت دیر ہونے پر تدفین کا عمل مکمل کر لیا گیا چھٹی کلاس کا روفی جب گھر پہنچا تو اس کے شفیق بابا کی منتظر آنکھیں تہہ خاک اوجھل ہو چکی تھیں۔ پل بھر میں سب کچھ بدل گیا تھا اب بچوں کی ماں حالات کے سامنے سینہ سپرہو گئی تھی فجر سے رات تک کھیتوں پر کام اور شام کو گھر واپسی۔ والد کا خواب تھا کہ ان کے بچے پڑھ لکھ جائیں۔ ماں نے اس خواب کی تعبیر کے لیے دن رات ایک کر دیا تھا۔ مشقت کی چکی میں پستے پستے اچانک ایک دن انکشاف ہوا کہ ماں کے جسم میں کینسر پھیل گیا ہے۔

وہ دن روفی کی زندگی کے مشکل ترین دن تھے۔ کالج میں پڑھنا اور پھر ہسپتال میں ماں کے ساتھ وقت گزارنا۔ پھر ایک دن اچانک ماں نے اپنی نحیف آواز میں روفی کو بلایا اور بولیں دیکھو روفی تم بہن بھائیوں میں چھوٹے ہو لیکن تمھیں بہادر بننا ہے، تم بہادر بنو گے تو ساری مشکلیں آسان ہو جائیں گی۔ اب میری بات غور سے سنو جو انسان اس دنیا میں آیا ہے اس نے ایک دن یہاں سے جانا ہے چاہے وہ بادشاہ ہوں یا پیغمبر۔ ایک دن سب کی واپسی کا دن مقرر ہے۔ بیٹا! موت برحق ہے اب میرے پاس وقت کم ہے اگر یہاں میرا دم نکل جائے تو تم نے ڈرنا نہیں۔ گھبرانا نہیں۔ سب سے پہلے اپنے ہاتھ سے میری آنکھیں بند کرنی ہیں۔ میرا چہرہ قبلے کی طرف کرنا ہے اور میرے پاﺅں باندھنے ہیں۔ روفی اشک بار آنکھوں سے ماں کی نصیحت سنتا رہا اور پھر اسے یوں لگا ماں بولتے بولتے یک لخت خاموش ہو گئی ہے۔

ماں کے جانے کے بعد عافیت کا سائبان اس کے سر سے اٹھ گیا۔ اس کے بعد کا سفر مشقت اور جفا کشی کا سفر ہے جس میں اسے نعیم بھائی اور سلیم بھائی کا ساتھ حاصل رہا پھر اس نے اپنی محنت سے پاکستان کے بڑے انگریزی اخبارات ڈان، نیوز، ایکسپریس ٹریبیون میں رپورٹنگ میں نام کمایا۔ اسی دوران فریال بھابی کی صحت کا چیلنج اسے لندن لے گیا یہ اس کے لیے بہت مشکل وقت تھا لیکن جب بھی اس کی زندگی میں اس طرح کے دل گیر لمحے آتے اس کے سامنے اپنی ماں کا چہرہ آ جاتا اور ان کے آخری الفاظ ”روفی تمھیں بہادر بننا ہے۔ تم بہاد ر بنو گے تو ساری مشکلیں آسان ہو جائیں گی“ اور پھر یہ مشکل مرحلہ بھی گزر گیا۔

فریال بھابھی تندرست ہو گئیں۔ اب وہ رپورٹنگ میں اپنا نام کما چکا تھا لیکن شہرت کی دیوی اسے مزید بلندیوں پر لے جا رہی تھی اس نے اردو کالم لکھنا شروع کر دیا اور پھر الیکٹرانک میڈیا میں بطورِ اینکر اس نے کامیابیوں کے نئے ریکارڈ قائم کیے لیکن اس دورِ منافقت میں سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنا مشکل ہے میڈیا ہاؤسز اس کی آزادانہ اور بے باک رائے کا بوجھ نہ اٹھا سکے پہلے ایک اور پھر دوسرے ٹی وی چینل نے اسے نوکری سے برخواست کر دیا اس کا گناہ صرف یہ تھا کہ اس نے ڈکٹیشن لینے سے انکار کر دیا تھا۔

بہت دنوں بعد کل رات میں اس سے ملا تو اس کے چہرے پر وہی مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں وہی روشنی۔ مجھے یوں لگا اس کی آنکھوں میں اس کی ماں کی کی نصیحت لو دے رہی ہے” روفی تمھیں بہادر بنناہے۔ تم بہادر بنو گے تو ساری مشکلیں آسان ہو جائیں گی۔“ یہ آواز اسے یقین دلاتی ہے کٹھن وقت عارضی ہے۔ شہر کے بے شکل ہنگاموں میں جب منافقت کی سڑاند نا قابلِ برداشت ہو جاتی ہے تو اس کے دل میں ایک قدیم یاد سر اٹھاتی ہے اپنے گاﺅں کی یاد۔ اپنے پرکھوں کی قبروں کی یاد۔

پھر وہ اپنی گاڑی نکالتا ہے اورجیسل کلاسراکا رُخ کرتا ہے۔ لمبی سڑک پر ڈرائیو کے دوران وہ سوچتا ہے اپنی مٹی کی مہک بھی انوکھی ہوتی ہے ہم اس سے کتنے ہی دور چلے جائیں، یہ ہمیں اپنی طرف بلاتی رہتی ہے۔ کبھی صبح کے وقت، کبھی شام ڈھلے، کبھی رات کی تنہائیوں میں۔ کبھی ہلکے ہلکے دھیمے سروں میں اور کبھی اس کی آواز ایک کُوک بن جاتی ہے جو بھرے شہر میں ہمیں تنہا کر دیتی ہے اور ہم سب کچھ چھوڑ کر اس کی طرف دیوانہ وار کھنچے چلے جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 170 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *