تب تم ہجرت کر کے آنا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سچ کہتے ہو!
ہم ایسے تو نہ تھے! ہم کبھی ایسے نہ تھے!
ہم نے تو ہجرت کر کے آنے والوں کو ہمیشہ سر آنکھوں پر بٹھایا۔ ہمارے گھروں کی دیواروں پر یہ شعر کندہ ہوتا تھا؎
درین خانہ ہر کس کہ پا می نہد
قدم بر سر و چشمِ ما می نہد
کہ اس گھر میں جو کوئی قدم رکھتا ہے، وہ قدم زمین پر نہیں، ہمارے سر اور ہماری آنکھوں پر رکھتا ہے۔
ہم نے ہجرت کر کے آنے والوں کو کب خوش آمدید نہیں کہا۔ مشرقی پاکستان میں ہمارے بھائی آئے تو ہم نے کھلی باہوں سے استقبال کیا۔ یہاں تک کہ محکموں کے محکمے ان کے سپرد کر دیئے۔ ریلوے اور پوسٹل کے شعبوں میں انہی کی اکثریت تھی! جائیدادیں خریدیں! بستیاں بسائیں! آبادیوں کی آبادیاں انہی کے نام تھیں! 
مغربی پاکستان میں ہجرت کر کے آنے والوں کو ہم نے دلوں میں بسایا، آنکھوں پر بٹھایا۔ رشتے گانٹھے! محبتیں تقسیم کیں! یہاں تک کہ من تو شدم تو من شدی کی صورتِ احوال کو عملاً رائج کیا!
تم بھی ہمیں بہت عزیز ہو! تم ہمارے مہمان ہو! اے مہاجر پرندو! اے ہمارے صحرائوں میں پناہ لینے والے مسافرو! اے ہماری جھیلوں کے کنارے اترتے ننھے فرشتو! ہم تمہیں صدقِ دل سے خوش آمدید کہتے ہیں! ہم تم سے پیار کرتے ہیں! یہ تمہاری محبت ہے کہ قازقستان اور منگولیا سے اڑتے ہو، شمالی ایشیا کے ٹھٹھرتے میدانوں سے کوچ کرتے ہو تو کہیں اور جانے کے بجائے ہمیں میزبانی کا شرف بخشتے ہو! تم پامیر کی چوٹیاں عبور کرتے ہو تو ہمارے دلوں میں چراغ جل اٹھتے ہیں! پھر تم کوہ ہندو کش کی بلندیوں کو چومتے ہوئے جنوب کا رُخ کرتے ہو! یہ تمہاری دل آویزی ہے کہ چولستان اور بلوچستان کے ریگ زاروں کو اپنا مسکن بناتے ہو! ہماری جھیلوں کے کنارے پڑائو ڈالتے ہو! تمہارے غول ہماری صبحوں کو سرمئی کرتے ہیں! تمہارے جھُنڈ ہماری شاموں کو بہشت آسا بناتے ہیں۔
تمہارا شکوہ بجا! مگر ان دنوں ہماری کچھ مجبوریاں ہیں! ہمارے اقتصادی سمندر میں بھنّور پڑے ہیں! ہمارے ساحلوں سے کچھ بے رحم موجیں ٹکرا رہی ہیں! ورنہ ہم تمہیں کبھی بھی صَید نہ بننے دیتے! فروخت کرتے نہ عقابوں کا نشانہ بننے دیتے! بس ذرا جرمِ صغیفی کی سزا بھگت رہے ہیں! خود بھی! اور تم بھی ہمارے ساتھ!! 
یہ جو تم گاڈ وِٹ (Bar-Tailed godwit) کی مثال دے رہے ہو، تو تم درست بھی ہو مگر تھوڑے سے غلط بھی ہو! اس پرندے کو، اس تمہارے کزن کو ہم اپنے ہاں لم ڈھینگ کہتے ہیں! یہ الاسکا سے اُڑتا ہے۔ وزن اس کا تم سے بہت کم ہوتا ہے! حجم میں بھی یہ تم سے چھوٹا ہے! یہ تم سے بھی زیادہ طویل پرواز کرتا ہے۔ گیارہ ہزار کلو میٹر! آٹھ دن اور نو راتیں!! اس دوران یہ اترتا ہے نہ رکتا ہے! آرام کرتا ہے نہ سوتا ہے! سورج طلوع ہو یا غروب! برف کے طوفان ہوں یا خشک آندھیاں یہ اڑتا رہتا ہے! بغیر کچھ کھائے پیے! نیچے سمندر گزرتے ہیں، پہاڑ، بستیاں! شہر، ملک اور برِّ اعظم! دماغ اس کا دو حصّوں میں منقسم ہے! دورانِ پرواز ایک حصّہ دماغ کا جاگتا ہے، دوسرا سوتا ہے! چند گھنٹوں بعد جاگنے والا حصہ سو جاتا ہے اور سویا ہوا بیدار ہو جاتا ہے۔ زمین کے شمالی کنارے سے اڑنے والا یہ پرندہ نویں دن، کرۂ ارض کے انتہائی جنوبی کنارے پہنچتا ہے اور نیوزی لینڈ کی جھیلوں پر اترتا ہے!
کیا کہا تم نے؟ کہ نیوزی لینڈ میں لم ڈھینگ کو تو کوئی شکار نہیں کرتا۔ نہ ہی فروخت کرتا ہے ع
بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو
نیوزی لینڈ کا ہم سے کوئی مقابلہ نہیں! اس کے وہ مسائل نہیں! وہ اقتصادی دریوزہ گری سے بچا ہوا ہے! جو مجبوریاں ہمیں پا بہ زنجیر کیے ہوئے ہیں، وہ ان سے آزاد ہے!
لیکن ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ بہت جلد ہماری جھیلیں، ہمارے صحرا تمہارے لیے محفوظ ہو جائیں گے! پھر ہم بھی تمہیں کہہ سکیں گے؎
جس سمت میں چاہے صفتِ سیلِ رواں چل
وادی یہ ہماری ہے، یہ صحرا بھی ہمارا
تم یوں کرو کہ کچھ عرصہ کے لیے یہاں آنا موقوف کر دو! ہمیں تھوڑا سا وقت دو! اس اثنا میں ہم سر توڑ کوشش کریں گے کہ آزاد اور خود مختار ہو جائیں! آئی ایم ایف کی سنہری زنجیریں توڑ دیں! کشکول دریا بُرد کر دیں! اس وقت تو ہمارے پاس رنگا رنگ کشکول ہیں۔ سفید، ارغوانی، قرمزی اور سرخ! ایک کشکول ڈالروں کے لیے ہے۔ ایک میں یو آن ڈالتے ہیں! ایک میں ریال اور ایک میں دینار! وضع دار بھی ہم بہت ہیں! کشکول بدست جاتے ہیں تو خصوصی چارٹرڈ جہازوں میں، ڈیزائنر ملبوسات زیبِ تن کیے ہوئے!!
مگر تا بہ کے؟ یہ سب نہیں چلے گا!
اگر خود مختار قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا ہے تو ہمیں کشکول توڑنے ہوں گے! افرادی قوت آئی ایم ایف سے لینے کے بجائے اپنے لوگوں پر بھروسہ کرنا ہو گا! ہم دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنا ترک کریں گے تو اپنے صحرائوں کے مالک خود بنیں گے! تب ہم اپنے مہمانوں کی حفاظت کر سکیں گے! ہماری جھیلیں ہماری اپنی ہوں گی! پھر ہم تمہیں خوش آمدید کہیں گے! تم دعا کرو! اپنے پنکھ پھیلا کر دعا کرو کہ وہ دن جلد آئے جب ہم اپنے آپ کو رہن رکھنا چھوڑ سکیں! ہم شکاریوں کو خوش آمدید کہنے کے بجائے منہ سے حرفِ انکار نکال سکیں!! 
مگر مہمان پرندو! ایک بات کا ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ یہ کشکول سازی ہمارے عوام کا نہیں، ہماری قیادتوں کا کارنامہ ہے! یہ ہماری لیڈر شپ کا شاخسانہ ہے! اس دھرتی کے عوام عزت نفس کی حفاظت کرنا جانتے ہیں! یہ وہ عوام ہیں جو مہنگائی میں، پانی، گیس اور بجلی کی قلت میں، طوفان اور سیلابوں میں زندہ رہنا جانتے ہیں! عوام نے کبھی اجازت نہیں دی کہ دوسرے ملکوں کے بادشاہوں کی دی ہوئی رقم سے بیرون ملک رہائش گاہیں خریدو! عوام نہیں چاہتے کہ ہمارے رہنما دوسروں کے دیئے ہوئے جہازوں پر سفر کریں! محلات میں رہیں! عشرت کی زندگی گزاریں! عوام تو تمہارے جیسے ہیں! معلوم اور بے بس! تم بھی تو بے بس ہو! برف گرتی ہے تو جنوب کی طرف ہجرت کرتے ہو! گرما آتا ہے تو شمال واپس چلے جاتے ہو! یہی حال ہمارے عوام کا ہے! کبھی پٹرول پمپوں کے سامنے قطاریں باندھ لیتے ہیں، کبھی بازاروں میں دکانوں کے آگے!
رات ہمیشہ نہیں رہنی! اندھیرے نے چھٹنا ہے! صبح نے طلوع ہونا ہے اور ضرور ہونا ہے! اس ملک نے قائم رہنا ہے۔ قائم رہنے کے لیے اقتصادی خود مختاری لازم ہے! اگر سنگا پور، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور ہانگ کانگ اقتصادی آزادی حاصل کر سکتے ہیں تو پاکستان بھی کر کے رہے گا! وہ دن ضرور آئے گا جب ہم اپنے فیصلے خود کریں گے! اپنی شرحِ مبادلہ خود طے کریں گے! بجلی، گیس اور ٹیلی فون کے ریٹ خود طے کریں گے! ہماری قیادت سرمایہ کاری باہر نہیں، اندر کرے گی! فخر سے کوئی نہیں کہے گا کہ میرے بچے غیر ملکی ہیں! تب پاکستانی ہونے پر فخر کیا جائے گا! تب کارخانے ملک سے باہر نہیں، ملک کے اندر لگیں گے! بینک کار ہمارے اپنے ہوں گے، ماہرین اقتصادیات ہم دساور سے نہیں لیں گے! تب تم ہجرت کر کے آنا! اور دیکھنا ہم کس طرح تمہاری حفاظت کرتے ہیں اور تمہاری زندگی کی ضمانت دیتے ہیں!
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *