تشدد کا شکاربہنوں پر سے باپ کے قتل کی دفعات ہٹائے جانے کا امکان

نینا نذرووا - بی بی سی روسی سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روس

Getty Images
والد کے قتل کے وقت اینجلینا (بائیں) 18 سال، ماریہ (درمیان) 17 سال جبکہ کرسٹینا (دائیں) 19 سال کی تھیں

ماسکو میں اپنے باپ کو قتل کرنے والی تین بہنوں کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف قتل کے الزام کو تبدل کر کے ’دفاع کے لیےضروری‘ اقدام کرنے کا امکان ہے جس کی وجہ ان کے خلاف مقدمہ ختم ہو جائے گا۔

وکیل ایلیکس پارشین نے خبر رساں ادارے تاس کو بتایا کہ چیف پراسیکیوٹر کی جانب کیے جانےو الے اس فیصلے سے ان بہنوں کے خلاف مجرمانہ دفعات کے تحت کارروائی ِختم ہو جائے گی۔

جولائی 2018 میں ان نوجوان لڑکیوں نے اس وقت اپنے باپ کو چاقوؤں کے وار کر کے ہلاک کر دیا تھا جب وہ سو رہا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا باپ انہیں مارتا، پیٹا اور جنسی طور پر استحصال کرتا تھا۔ اس لیے روسی عوام ان لڑکیوں کی رہائی چاہتی ہے۔

ساڑھے تین لاکھ لوگوں نے ان لڑکیوں کی حمایت میں ایک پٹیشن سائن کی اور ان کے مقدمے نے ملک میں گھریلو تشدد کے حوالے سے نیا قانون بنوایا جو اس سال سے نافذ العمل ہے۔

وکیل ایلیکس پارشین کا کہنا تھا ’پراسیکیوٹر نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ان بہنوں نے ذاتی دفاع میں ضروری اقدامات کیے جس کے دوران ان کا باپ وفات پا گیا۔

ان کا مذید کہنا تھا ’میرا خیال ہے اس کے بعد لڑکیوں کے خلاف مقدمہ ختم ہو جائے گا۔ اس میں زیادہ سے زیادہ ایک یا دو ماہ لگیں گے۔‘

وکیل کا کہنا تھا ’یہ بہنہیں الگ الگ جگہوں پر رہتی ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے یا میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہیں گھومنے پھرنے کی آزادی ہے، تاہم اس کیس سے منسلک کسی بھی فرد سے وہ رابطہ نہیں کر سکتیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’اب یہ مقدمہ مزید تحقیقات کے لیے ماہرین کے پاس جائے گا جو امکان ہے کہ پہلے سے سامنے آنے والے نتائج کی ہی تصدیق کریں گے اس کے بعد ہمیں امید ہے کہ تفتیش کار ان لڑکیوں کے خلاف مجرمانہ دفعات ختم کر دیں گے۔‘

والد کے ساتھ کیا ہوا؟

27 جولائی 2018 کی شام 57 سالہ میخائل کھچاچرین نے یکے بعد دیگرے اپنی بیٹیوں کرسٹینا، اینجلینا اور ماریہ کو اپنے کمرے میں بلایا۔ اس وقت 17 سالہ ماریہ نابالغ تھیں۔

انھوں نے فلیٹ کی صحیح طریقے سے صفائی نہ کرنے پر انھیں ڈانٹا اور ان کے چہروں پر مرچوں کا سپرے کر دیا۔

اس واقعے کے فوراً بعد جب لڑکیوں کے والد سو گئے تو تینوں بہنوں نے ان پر چاقو، ہتھوڑے اور مرچوں کے سپرے سے حملہ کر دیا۔ اس حملے میں ان کے سر، گردن اور سینے پر مہلک زخم آئے۔ ان کے جسم پر چاقو کے 30 سے زیادہ گھاؤ تھے۔

اس کے بعد ان بہنوں نے پولیس کو فون کیا جس نے انھیں فلیٹ سے گرفتار کر لیا۔

اس کے بعد ہونے والی تحقیقات سے جلد ہی یہ پتا چل گیا کہ اس خاندان میں گھریلو تشدد کی ایک پرانی تاریخ ہے۔ گذشتہ تین برسوں میں میخائل اپنی بیٹیوں کے ساتھ نہ صرف باقاعدگی سے مار پیٹ کرتے بلکہ انھوں نے تینوں بہنوں کو قیدی بنا کر رکھا ہوا تھا۔ لڑکیوں کا جنسی استحصال بھی کیا گیا تھا۔

بہنوں پر عائد کی گئی فردِ جرم میں ان کے مقتول والد کے خلاف اس نوعیت کے ثبوت بھی پیش کیے گئے ہیں۔

گھریلو تشدد مرکز نگاہ

یہ کیس جلد ہی روس میں متنازع شکل اختیار کر گیا جس نے عوامی توجہ حاصل کی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے موقف اختیار کیا کہ لڑکیاں مجرم نہیں بلکہ جرم کا شکار ہیں کیونکہ ان کے پاس اپنے بدسلوک والد سے تحفظ اور بچاؤ حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔

روس میں گھریلو تشدد کے شکار افراد کی حفاظت کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

سینٹ پیٹربرگ

Getty Images
سینٹ پیٹربرگ میں لڑکیوں کی حمایت میں ہونے والی ریلی میں شرکا نے بینر اٹھا رکھے ہیں جن میں انھیں رہا کرنے کی اپیل کی گئی ہے

سنہ 2017 میں رائج کی جانے والی قانونی تبدیلیوں کے تحت روس میں وہ شخص جو پہلی مرتبہ اپنے کسی خاندان کے رکن پر تشدد کا ارتکاب کرے گا، یہ تشدد اتنا نہ ہو کہ اس کے شکار فرد کو ہسپتال داخل کروانے کی ضرورت پیش آئے، اسے صرف جرمانے یا زیادہ سے زیادہ دو ہفتے کے لیے تحویل میں لیے جانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

روس میں پولیس گھریلو تشدد کو ایک ‘خاندانی مسئلے’ کے طور پر دیکھتی ہے اور اس کے تحت شکار فرد کو یا تو بہت تھوڑی اور اکثر اوقات کوئی مدد فراہم نہیں کی جاتی۔

کئی برس قبل ان بہنوں کی والدہ نے اپنے شوہر کی جانب سے کیے جانے والے تشدد کے خلاف پولیس سے مدد کی درخواست کی تھی۔ ایسی ہی درخواستیں ان کے پڑوسیوں نے بھی دیں تھیں جو کہ میخائل سے بہت زیادہ خوفزدہ تھے۔ تاہم ایسے شواہد نہیں ملے کہ ان تمام افراد کو پولیس کی جانب سے کوئی مدد فراہم کی گئی ہو۔

لزکیوں کی والدہ

Getty Images
لڑکیوں کی والدہ کا کہنا ہے کہ میخائل نے انھیں 2015 میں فلیٹ سے بےدخل کر دیا تھا

لڑکیوں کی والدہ بھی ماضی میں اپنے شوہر کے ہاتھوں تشدد اور مار پیٹ کا شکار رہ چکی تھیں۔

جب میخائل کو قتل کیا گیا اس وقت لڑکیوں کی والدہ ان کے ساتھ نہیں رہ رہیں تھیں اور میخائل نے تینوں بہنوں کو اپنی والدہ سے رابطہ کرنے سے روکا ہوا تھا۔

نفسیاتی جائزوں کے مطابق لڑکیاں تنہائی میں رہ رہی تھیں اور تکلیف دہ تناؤ (پی ٹی ایس ڈی) کا شکار تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12728 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp