قوم یوتھ کا کیا بنے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ چند برسوں میں جوش ولولہ اور انقلابی سوچ کا اظہار کرنے والے فن خطابت کے بے تاج بادشاہ عمران خان پرچی کی عدم موجودگی اور اپنے بے باک انداز کے باعث پاک دھرتی کے حقیقی لیڈر محسوس ہونے لگے۔ جلسے جلوسوں میں گزشتہ ادوار میں پاکستان کے کھاتے پڑنے والے حکمرانوں کی ایسی درگت بناتے کے دل جیسے جھوم اٹھتا۔ خان صاحب نے اپنی انقلابی سوچ سے پاکستان کے جوانوں سمیت مجھے بھی اپنی محبت میں گرفتار کر لیا ”، انصاف، برابری، حقوق، حق گوئی اور کرپشن کے خلاف نعروں کی لوع میں بہتا میں یوتھیا کہلانے پر فخر محسوس کرنے لگا۔

بطور یوتھیا میں ہمیشہ خدا کا شکر ادا کرتا تھا کہ میں نے وطن عزیز کی بہتری کے لیے اپنے حق رائے دہی کا درست استعمال کیا اور خان صاحب کو محب وطن لیڈر مانتے ہوئے انھیں ووٹ دیا۔

اقتدار سنبھالتے ہی خان صاحب نے دس سال سے کیے جانے والے وعدوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے عملی اقدامات کی کوششیں شروع کیں تو روح بھی سکون سا محسوس کرنی لگی۔ خان صاحب کو عالمی فورمز پر غیر ملکی ڈپلومیٹس اور ایوانوں میں بلا کے رعب سے بیٹھے اور بولتے دیکھ کر میری تو دنیا ہی جنت بن گئی۔ خان صاحب پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ مسلم امت کے لیڈر بنتے بھی دکھائی دیے۔ عالمی نشستوں میں اور دنیا کے سب سے بڑے بیڈ بوائے (Bad boy) ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی بنا پرچی بات کی تو یقین ہو گیا غلامی کے دن چھٹ گئے بس۔ لیکن اس سب کے دوران خان صاحب متعدد مرتبہ پرچیاں نہ ہونے کے باعث ایسی ایسی اعلی نسل کی کہانیاں چھوڑتے رہے کہ عقل جیسے گھاس چرنے نکلی ہو۔ اپریل میں ایک خطاب کے دوران جاپان اور جرمنی کو ملایا گیا میرے دل نے اسے جغرافیائی علم کی کمی قرار دے کر سنبھال لیا ”، ایک ہائی پروفائل تقریب میں ایک فوجی جرنیل کی بات کرتے ہوئے لیڈر کو جنرل پاشا کی یاد نے ستایا تو اب کے میرے دماغ سے پیغام آیا کہ“ حوصلہ رکھو میاں زبان پھسل سکتی ہے اب جان لو گے کیا ”۔ بات ختم ہو گئی لیکن ایک سال سے میں پاکستان کو جنت سمجھ کر زندگی گزار رہا تھا کہ خان صاحب نے ایک لمحے میں حقیقی جنت میں ملنے والی حوروں سے نفرت کرا دی۔

ہسپتال میں ایسا ٹیکہ لگا کہ نرسیں حورویں لگنے لگیں۔

خان صاحب کے اس جملے میں ٹیکے سے حور تک کا سفر ایسا تباہ کن ثابت ہو رہا ہے جس پر میرا ضمیر مجھ سے ہی جواب مانگنے لگا۔ مجھے لیڈر کی بات سن کر حیرت ہوئی اور یاد آیا ”چار بوتل واڈکا کام میرا روز کا“ والے عوام اس وقت خان صاحب کی صحت یابی کے لیے مصلا بچھائے دعائیں مانگ رہے تھے اور خان صاحب بسترمرگ پر پڑے ٹیکے سے کسی اور ہی دنیا میں تھے۔ خان صاحب نے مخصوص ٹیکہ لگنے سے نرسوں کے حوروں میں تبدیلی کا واقعہ بیان کر کے تبدیلی کی تعریف ہی بدل دی ہے۔

اس تبدیلی پر واہ واہ کیا تو جاہل جیالوں اور پاگل پٹواریوں سے کچھہ جدا نہیں ہوں گے۔ آج مجھے اس چور اچکے کی شدید یاد آئی جو خاموشی سے ”کھانے اور لگانے“ میں لگا رہا۔ دنیا میں ہر جگہ پرچیاں پڑھ پڑھ پاکستان کے کمزور، مظلوم، غریب اور تابعدار ہونے کی داستان سناتا رہا۔ روڈ بنا کر، اورنج لائن ٹرین دکھا کر، میٹرو میں سفر کرا کر، صاف پانی اور صفائی ستھرائی کا نظام ظاہر کرتے ترقی کا لالی پاپ دیتا رہا لیکن اس کے کارکن آج بھی اپنے قائد کے خلاف بات سننے کو تیار نہیں۔ کیونکہ وہ پاگل ہیں لہذا مجھے ان کی پریشانی نہیں۔ لیکن مجھے افسوس اس بات پر ہے کہ خان صاحب ہمیں پاکستان کا مستقبل بولتے سیاسی، مذہبی اور دنیاوی علم و فکر کی پھونک مارتے خود ٹیکہ انجوائے کرنے میں لگے رہے۔

نواز شریف معصوم شکل بنا کر لوگوں کو بے وقوف بناتا رہا لیکن خوش قمست ہیں وہ پاگل اور بے وقوف لیگی کارکن جو اپنے قائد کے منہ سے ٹیکے والی بات نہ سن پائے۔ سوشل میڈیا وزیراعظم عمران خان صاحب کی اس ٹیکے والے حقیقی واقعے سے متعلق بنائے جانے والے میمز سے بھرا پڑا ہے۔ لیگی ایسے ایسے لطیفے اپ لوڈ کر رہے ہیں کہ حور لفظ سے نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔

خان صاحب نوجوان نسل کو خودداری، ضمیر کے فیصلے، قومی وقار اور پتہ نہیں کون کون سا منجن بیچنے کے بعد اب خود دنیا کی فکروں سے آزاد داتا دربار کے باہر پڑے اپنی دنیا میں مست لوگوں سی باتوں کا اظہار کر کے امیدوں پر پانی پھیردیا ہے۔

تمام تر تحریر گزشتہ رات لاہور کے پوش علاقے جوہر ٹاون میں واقع ایک مشہور ریسٹورنٹ میں بیٹھی ایک غمگین محفل کی عکاس ہے۔ خود کو یوتھیا کہنے والے اس پڑھے لکھے ٹولے میں تمام لوگ شدید افسردہ تھے اور اپنی بیتی آپ سنانے والے کی ہر ہاں میں ہاں ملاتے افسوس اور غم کا اظہار کر رہے تھے۔ چائے کی چسکی لیتے ایک نوجوان انتہائی دلچسپ انداز میں بولا کہ ”بس کرو یار دکھ بہت بڑھ گیا ہے آو حوروں والا ٹیکہ ڈھونڈتے ہیں۔

گزشتہ رات کی محفل کو تحریری شکل دیتے ہویے میرا ایمان کافی ڈگمگایا مگر میں دکھوں کی داستان سنانے والے کی طرح جذ باتی نہیں۔ مجھے اب بھی یوتھیا ہونے پر فخر ہے کیونکہ میرے پاس اس کے سوا کوئی آپشن نہیں۔

وطن عزیز کی سلامتی کے لیے ڈھیروں دعائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
برہان الدین کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *