خلیل الرحمٰن قمر اور الہام کا مغالطہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈرامہ ’میرے پاس تم ہو‘ کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں بہت کچھ نشر ہو رہا ہے اوربہت کچھ لکھا بھی جاتا رہا ہے لیکن میں نے اس پر کچھ نہ لکھنا ہی بہتر جانا۔ گذشتہ کئی دنوں سے ایک نجی چینل پر نشر ہونے والے ٹاک شو کے کچھ حصے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پربہت گردش کر رہے تھے۔ مگر کچھ مصروفیات کے پیش نظر میں ان پر زیادہ توجہ نہیں دے سکی۔ کل شام ریموٹ سے کھیلتے ہوئے وہی نجی چینل سکرین پر نمودار ہوا تو مبینہ ٹاک شو کے ہی کچھ حصے اس کے پرومو میں بھی استعمال ہو رہے تھے۔ پرومو بذاتِ خود توجہ طلب تھا۔ میری دلچسپی بڑھی اورمیں نے اپنے بیٹے سچل سے درخواست کی کہ مذکورہ ٹاک شو انٹرنیٹ سے ڈھونڈ رکھے۔ وقت ملتے ہی ہم دونوں نے پورا پروگرام ایک ہی نشست میں دیکھا۔ نا صرف یہ پورا ٹاک شو دیکھا بلکہ ایک اور شو بھی دیکھا جس کا تذکرہ میں آگے چل کر کروں گی۔

زیربحث ٹاک شو میں مہمانانِ گرامی ڈرامہ نگار جناب خلیل الرحمٰن قمر، انسانی حقوق کی کارکُن محترمہ طاہرہ عبداللہ اور سینئرصحافی جناب اویس توحید تھے۔ میزبان بیرسٹر احتشام جبکہ موضوعِ گفتگو خواتین اور مردوں کے حقوق کی برابری اور ان کا معاشرے میں مقام تھا۔ چند دنوں سے چلنے والے کلپس اور مہمانوں کو جانتے ہوئے مجھے اندازہ تھاکہ بحث کس طرف جائے گی۔ بہرحال سب سے پہلے بات کرنے کا موقع خلیل صاحب کو دیا گیا اور حسبِ معمول انہوں نے اپنی بات بڑے ناز سے کی۔ طاہرہ صاحبہ نے اپنی بات فیمنزم کی تعریف سے شروع کی کہ’فیمنزِم ایک انقلابی سوچ ہے، ایک فکر ہے، ایک نکتہ نظر ہے، ایک نظریہ ہے جو عورت کو بھی انسان سمجھتا ہے۔ خلیل صاحب سے معذرت کے ساتھ ’یہ کوئی تنظیم نہیں‘۔

اپنی بات ایک اصطلاح کی تعریف سے شروع کرنا واجب لیکن خلیل صاحب نے تو ابھی تک کی گفتگو میں فیمنزم کو تنظیم نہیں کہا تھا۔ اس بات پر میں کچھ اُلجھ سی گئی۔ طاہرہ صاحبہ نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ میری عزت کسی مرد کے ہاتھ میں نہیں۔ وہ میرے اپنے ہاتھ میں ہے۔ وہ میرے اپنے اندر ہے۔ میرے حقوق کسی مرد کے ہاتھ میں دینے یا لینے کے لئے نہیں۔ میری پےدائش کے ساتھ ہی میں اپنے حقوق لے کر آئی ہوں۔ ہم انسان ہیں۔ ہم مردوں سے حقوق کیوں مانگیں؟ ہم یہ اپنے ساتھ لے کر پےدا ہوئے ہیں۔

 خلیل صاحب نے اس پر سخت ردِعمل کا اظہارکیا کہ ، ’جب پلے کارڈ لے کر سڑکوں پرنکلتی ہیں تو حقوق مانگ ہی رہی ہوتی ہیں۔ کیا ہاتھی گھوڑوں سے مانگ رہی ہوتی ہیں؟ ہم مردوں سے ہی مانگ رہی ہوتی ہیں۔ آپ کو پتہ ہی نہیں آپ کے حقوق کیا ہیں؟ آپ مردوں کے حقوق میں سے حصہ مانگ رہی ہیں۔ وہ نہیں ملے گا آپ کو‘۔ جب میزبان نے پوچھا کہ اس سے آپ کی کیا مُرادہے؟تو انھوںنے کہا یہ بحث ٹیلیویژن پر نہیں ہو سکتی۔

اویس صاحب نے کہا خلیل صاحب کی آزادی اظہارِ رائے کا احترام کرتے ہوئے کہوں گا کہ ہمیں سٹیریو ٹائپس سے آگے نکلنا چاہئیے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ عورت کی ماں، بہن، بیوی، بیٹی کے علاوہ کیا اور کوئی شناخت نہیں؟ کیاعورت کی بحیثیت انسان کوئی تکریم نہیں؟ ہمارے پدرسری نظام میں عورت کو جائیداد سمجھا جاتا ہے اور تنازعات کے حل کے لئے اس کا سودا کیا جاتا ہے۔ کاروکاری اور غیرت کے نام پر قتل میں کتنی عورتیں مار دی جاتی ہیں۔ وفا اور حیا صرف عورت سے کیوں منسوب ہیں؟

قمر صاحب نے کہا سٹیریو ٹائپس سے آگے نکلنا کیا ہے؟ کیا ہم بے حیائی کو تبدیلی سمجھیں؟ یہ معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔ ہماری مٹی کے اپنے اصول ہیں۔ ہماری اپنی ثقافت ہے اور ہمارے مذہبی احکامات ہیں، جنہیں ہم نے ہر حال میں پورا کرنا ہے۔ انھوں نے گلہ کیا کہ میں اتنا نوازا ہوا شخص ہوں پر ان دونوں نے مجھے نہ پڑھا نہ دیکھا ہوگا۔ انھوں نے باہر کے لکھاریوں کو پڑھا ہو گا۔ یہ مغرب کا ادب پڑھتے ہیں۔ اس پر اویس صاحب نے کہا خلیل صاحب آپ خود سے ہمارے بارے میں فرض نہ کریں۔ آپ کا سہیل وڑائچ صاحب کے ساتھ جو انٹرویو ہے میں نے دیکھا ہے۔ جس میں آپ نے کہا کہ اقبال اور غالب کو ضرورت ہوگی نوک پلک سنوارنے کی، لیکن مجھے نہیں ہے۔ جو الہام مجھے ہوتا ہے، وہ مکمل ہوتا ہے۔

میزبان نے خلیل صاحب کے مذکورہ ڈرامہ کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ آپ نے کہا ’مرد کے پاس انکار کرنے کی قابلیت نہیں ہوتی جبکہ اچھی عورت کے پاس انکار کرنے کی قابلیت ہو تی ہے‘ کیا اچھے مرد کے پاس انکار کرنے کی قابلیت نہیں ہوتی؟ اچھا مرد بھی انکار کر سکتا ہے اور اس کے پاس یہ قابلیت ہونی چاہیے۔ خلیل صاحب نے کہا’نہیں ہوتی، شاذ و نادر‘۔ میزبان نے کہا اس کا مطلب ہے مرد بے وفائی کرتا ہے تو اسے معاف کر دو۔ خلیل صاحب نے کہا مرد صریحاَ عشق میں ہو تو وہ باوفا ہوتا ہے۔ نارمل حالات میں وہ  Opportunitiesکو Avail کرتا ہے۔ میزبان نے کہا اس پر آپ آوازکیوں نہیں اُٹھاتے۔ اس پر انہوں نے کہا یہ کیا آج کا موضوع ہے؟ میں  Bondingمیں  Cheatکرنے کے سخت خلاف ہوں۔ میزبان نے کہا آپ مرد کو  Marginدیتے ہیں۔ دونوں کو نہیں ہونا چاہیے۔

آخر میں طاہرہ صاحبہ نے ساحر لدھیانوی کی نظم پڑھی جو انھوں نے خواتین کے حقوق اور معاشرے میں ان کے مقام کے حوالے سے لکِھی تھی۔

یہ شو ختم ہوتے ہی میں نے خلیل صاحب کا ایک دن جیو کے ساتھ دیکھا جس میں وہ سہیل وڑائچ صاحب کو بتاتے ہیں کہ اُنھوں نے جب پہلی دفعہ قلم پکڑا توانھیں پتہ تھا کہ وہ لکھاری ہیں۔ انہیں خود آگہی کے ساتھ پیدا کیا گیا تھا۔ جو الہام انہیں ہوتا ہے، وہ بالکل مکمل ہوتا ہے اور اُن کے ہاں چست آتا ہے۔ وہ اپنے کام پر خود کبھی تنقید نہیں کرتے۔ خلیل الرحمٰن قمر ایک نوازا ہوا آدمی ہے جس کی وہ بہت عزت کرتے ہیں۔ خلیل الرحمٰن قمرکو جو عطا ہو رہی ہے وہ اُس کے عاشق ہیں۔

 اس شو میں وہ فیمینزم کے بارے میں بھی بتاتے ہیں کہ ’مجھے بہت سارے Slogans پر اعتراض ہے۔ جب مجھے پتہ چلا کہ فیمینزم نام کی بھی کوئی چیز ہے تو میں نے باقاعدہ اس کے بارے میں جاننا شروع کیا۔ مجھے پتہ چلا یہ اچھی عورتوں کی تنظیم نہیں ہے‘۔ عورت کی آزادی کے حوالے سے انہوں نے کہا اچھی عورتوں کو اپنی حدود و قیود کا علم ہے۔ عورتیں مردوں کے حقوق میں سے حصہ نہ مانگیں۔ ان کے مطابق باوفا اور باحیا عورت مضبوط ہوتی ہے اور بے وفا عورت دو ٹکے کی۔ عورت فطرتاَ بے وفا نہیں ہوتی اور اگر وہ بے وفا ہے تو وہ فطرتاَ عورت نہیں ہوتی۔ اُن کی آئیڈیل عورت وہ ہے جو باوفا ہے اور باحیا ہے۔ مرد کے اندر اگرغیرت نہیں تو وہ مرد نہیں۔ مرد حسن پرست ہوتا ہے۔ شر ماتے شرماتے انھوں نے یہ بھی بتا دیا کہ اُنھیں کئی بارتشبیہ (محبت، عشق) ہوئی ہے۔

مذکورہ بالا دونوں شو دیکھنے کے بعد میری چند گذارشات ہیں۔

آئین پاکستان عورتوں اور مردوں کے حقوق کی یکساں ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل (25) میں بیان کیا گیا ہے ’قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اورآئین انھیں یکساں تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جنس کی بنیاد پر کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔

پاکستان اقوامِ متحدہ کا رکن ملک ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی منشورکے آرٹیکل (1) کے مطابق ’تمام انسان آزاد اور حقوق و وقار کے اعتبار سے برابر پیدا ہوئے ہیں۔

فیمنزم ایک نظریہ ہے جو عورتوں اور مردوں کو برابر کا انسان سمجھتا ہے۔ ایک تحریک ہے جو جنس میں برابری کی بنیاد پر عورتوںکے حقوق کی وکالت کرتی ہے۔ اوریہ کہ عورت اُن تمام حقوق کے ساتھ پیدا ہوتی ہے جو بنیادی انسانی حقوق ہیں۔ فیمینزم کا مطلب ہے خواتین کے لئے مساوی سماجی، معاشی اور سیاسی مواقع کی فراہمی۔ یہ جنس کی بنیاد پر سماجی، معاشی اور سیاسی مساوات پر یقین ہے۔ یہ انسانوں میں تفریق کے خلاف ایک جدوجہد ہے۔ جس میں ایسے منظم اقدامات شامل ہیں جو معاشرے میں وہ تبدیلیاں لاتے ہیں جو خواتین کو پسماندہ رکھنے والے عوامل کا خاتمہ کرتے ہیں۔

فیمینسٹ ہونے کے لئے عورت یا مرد ہونا ضروری نہیں۔

اگر ہماری خاص ثقافت اور مذہبی احکامات ہیں جنھیں ہم نے پورا کرنا ہے تو وہ مرد اور عورت دونوں کے لئے ہیں۔ اگر عورت کا ازدواجی تعلقات کے علاوہ کسی سے تعلق رکھنا غلط ہے تو مرد کا بھی اُتنا ہی غلط ہے۔ اگرعورت سزا کی حقدار ہے تو مرد بھی اتنا ہی سزاوار ہے۔ اگر مرد سے درگزر کیا جا سکتا ہے تو عورت سے بھی کیا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2 thoughts on “خلیل الرحمٰن قمر اور الہام کا مغالطہ

  • 05/02/2020 at 5:25 am
    Permalink

    بہت خوب زبردست

  • 07/02/2020 at 8:26 pm
    Permalink

    جناب خلیل الرحمان قمر ایک اچھے لکھاری تو ہیں لیکن عورت کی آزادی پر ان کی رائے قابل گرفت ہے – اسلام نے عورت کی جو آزادی دی ہے اس کے بارے میں ان کو اگر علم ہوتا تو وہ فیمینزم کی تحریک کا تجزیہ اور انداز میں کرتے- ہماری ہندوپاک کے مسلمانوں کی ثقافت پر ہندو تہزیب و ثقافت کے گہرے اثرات ہیں اور ان اثرات کو ہم نے مذہب کے تاروپود میں جڑ دیا ہے اور اسے مذہب کا نام دے دیا ہے دین اور قرآن عورتوں کی جس آزادی اور جس لبرل ازم کا پرچار کرتا ہے خلیل الرحمان قمراور اس قبیل کے مصنفین کو اس کا علم ہی نہیں
    سید ولد آدم ﷺ نے تجارت میں اپنے کام کا آغاز ایک عورت تاجر کے اموال اور کام میں شریک ہو کر ہی کیا تھا – غزوات کے بعد زخمیوں کے علاج معالجے کے لئے عورتیں ہی مقرر کی گئی تھیں-
    مدینہ کی ریاست میں ایک عورت کو ہی موجودہ اصطلاح میں اگر بات کریں تو مارکیٹ کنٹرولر مقرر کیا گیا تھا-
    ریاست مدینہ میں مشاطگی اور شادی بیاہ کی تقریبات کو رونق عورتوں سے ہی ملتی تھی حضرت فاطمہ کی شادی پر سید ولد آدم والی مدینہ نے استفسار کیا تھا کہ کیا انصار کی گانے والیاں بلائی گئی ہیں-
    حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے موقعہ پر ایک عورت ہی نے آپ کو سجا سنوار کر آنحضورﷺ کے حجلۂ عروسی میں بھیجا تھا
    عورتوں کو مدینہ کی ریاست میں جو آزادی حاصل تھی اس کا عشر عشیر بھی ویسٹ میں حاصل نہیں رہی -آج کے مسلمان مصنف اوررہنما نہ تو تعلیمات قرآن کے خوگر ہیں اور نہ ہی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں ملا کا نام نہاد اسلام ان کی زندگی کے مسائل کو نہیں سلجھا سکتا-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *