یومِ یکجہتی کشمیر:ـ 1990 ئکے بعد کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ بے نظیر بھٹو کے بھی دل کی آواز تھی‘ لیکن اینشی ایٹوکا اعزاز نوازشریف کی قسمت میں لکھا تھا۔ بے نظیر صاحبہ کی پہلی وزارتِ عظمی(1988-90ئ)میں نوازشریف پنجاب کے (دوسری بار) وزیر اعلیٰ اور اسلامی جمہوری اتحاد کے سربراہ بھی تھے۔9جماعتی اتحاد میں قاضی حسین احمد کی سب سے زیادہ قربت نوازشریف کے ساتھ تھی(اور یہ معاملہ دوطرفہ تھا) 5فروری کو یوم یک جہتی کشمیر کی تجویز قاضی صاحب کی تھی‘ نوازشریف نے جس پر صاد کیااور یکم فروری (1990ئ)کو ایک بیان میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں تحریکِ آزادی کی حمایت‘ بھارتی مظالم کی مذمت اور کشمیری مجاہدین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے5فروری کو یوم کشمیر منانے کی اپیل کردی۔
وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے اس کی تائید میں تاخیر نہ کی۔ اس سے پہلے دسمبر1988ء میں وزیر اعظم راجیو گاندھی کی اسلام آباد آمد پر وفاقی حکومت کی طرف سے معزز مہمان کی ”دل جوئی‘‘ کے لیے کئے گئے بعض اقدامات پر اپوزیشن نے وزیر اعظم بے نظیر کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ مثلاً مہمان وزیر اعظم کی راہ میں کشمیر ہائوس کے بورڈ اتروا دینا ‘پھر مشترکہ پریس کانفرنس میں‘ ایک سوال پر‘ بھارتی وزیر اغظم کا جموں وکشمیر میں ہونے والے انتخابات کو استصواب ِ رائے کا متبادل قرار دینااور اس پر وزیر اعظم پاکستان کا خاموش رہنا۔
5 فروری 1990ء کو پاکستان اور آزاد کشمیر میں مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کے ذریعے کشمیر کاز کے ساتھ یک جہتی کا بے مثال اظہار تھا۔ تب سے یہ مستقل سالانہ روایت بن گئی‘ جس کے جواب میں بھارتی وزیر اعظم وی پی سنگھ کا ردعمل حواس باختگی کا مظہر تھا۔ اس کا کہنا تھا پاکستان جنگ چاہتا ہے تو ہم بھی تیار ہیں اور اس کے ساتھ ہی بھارت نے کنٹرول لائن اور پاک بھارت سرحد کے قریب فوجوں کی نقل وحرکت میں اضافہ کردیا تھا۔
اس سے اگلے روز (6فروری کو)وزیر اعظم کی دعوت پر پارلیمانی لیڈروں اور چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ کی خصوصی میٹنگ (جس میں آزاد کشمیر کی قیادت بھی شریک ہوئی)اورپھر دس فروری کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس‘ جس میں وزیر اعظم کا کہنا تھا‘ ہم تیسری جنگ نہیں چاہتے اور نہ کوئی جنگی جنون پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن کشمیریوں کے مسلمہ حق خود ارادیت پر خاموش بھی نہیں رہ سکتے۔محترمہ کے دوسرے دور(1993ء تا1996ئ)میں کشمیر کاز کے لیے جو سعی وکاوش ہوئی ‘ اس کا اعتراف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔
بزرگ سیاستدان جناب نواب زادہ نصر اللہ خان کشمیر پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ تھے۔ پیرانہ سالی کے باوجود وہ دوست ممالک سمیت دنیا بھر کے اہم دارالحکومتوں میں پہنچے۔ترکی میں دلچسپ معاملہ ہوا۔ کمال اتاترک کے دور سے یہاں ترکی ٹوپی پر پابندی تھی لیکن مہمان بزرگ کے احترام میں میزبانوں نے اسے خوش دلی سے قبول کرلیا۔
نواب زادہ صاحب کا سا بلانکا کی اوآئی سی سربراہ کانفرنس کی کہانی بھی مزے سے بیان کرتے۔ اس کانفرنس میں وزیر اعظم بھی شریک تھیں۔ اپنے زوردار خطاب میں انہوں نے کشمیر پر او آئی سی کا ”کانٹیکیٹ گروپ‘‘ بنانے کی تجویز بھی پیش کی‘ جسے قبول کرلیا گیا۔ اگلے روز کانٹیکیٹ گروپ کے اولین اجلاس میں‘ یہ بات سب کے لیے خوشگوار حیرت کا باعث تھی کہ (تب ) کرائون پرنس عبداللہ بن عبدالعزیز سعودی عرب کی نمائندگی کے لیے خود چلے آئے تھے۔
بے نظیر صاحبہ کے اس دور میں ایوانِ صدر میں ”خصوصی کشمیر سیل‘‘کا ہر ماہ باقاعدہ اجلاس ہوتاجس میں وزیر اعظم ‘ وزیر خارجہ ‘ کشمیر کمیٹی کے سربراہ اور عسکری حکام شریک ہوتے اور کشمیر کے تازہ ترین احوال پر غور وخوض ہوتا۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں حق خود ارادیت کی تحریک ایک نیا رخ کرچکی تھی۔ سیاسی (اور سفارتی) محاذ پر آل پارٹیز حریت کانفرنس سرگرم عمل تھی‘ تونوجوان اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لئے‘ مسلح جدوجہد میں مصروف تھے…ہر روز نئے قبرستان‘ نئی قبریں۔
یواین جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں سیکرٹری جنرل کی رپورٹ میں کشمیر کو فلیش پوائنٹ قرار دیا جانے لگا۔ بھارت کے جواب میں پاکستان کے 20مئی1998ء کے ایٹمی تجربات کے بعد کشمیر اب ”نیوکلیئر فلیش پوائنٹ‘‘ بن گیا تھا۔ یورپی یونین اور غیر وابستہ ممالک کی تنظیم سمیت تمام عالمی فورمز پر ‘ کشمیر کے پر امن حل کی ضرورت پر زور دیا جانے لگا۔اگلے سال کے اوائل (فروری1999ء میں) بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی امن کا پرچم تھامے‘ واہگہ کے راستے لاہور پہنچے۔
اقبال پارک لاہور کے سبزہ زار میں اٹل جی نے مینار پاکستان پر نگاہ ڈالی‘ اس کی رفعتوں کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں اپنی گردن بہت اوپر تک اٹھانی پڑی تھی۔ مینار کا چکر لگایا اور وزیٹرز بک پر تاثرات قلم بند کرنے کے لیے رک گئے۔جسے عین اسی جگہ رکھا گیا تھا‘جہاں 23مارچ 1940ء کو مسلمانانِ برصغیر کے عظیم قائد نے ہندوستان میں علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کی جدوجہد کا اعلان کیا تھا۔ یہیں تاریخی (اور تاریخ ساز)”قرار دادِ لاہور‘‘ منظور ہوئی تھی اور جسے ہندو پریس نے عالمِ غیض وغضب میں”قرار دادِ پاکستان‘‘ کا نام دے دیا تھا۔ اب59بر س بعد بھارت کی انتہا پسند”بی جے پی‘‘ کا وزیر اعظم سرجھکائے لکھ رہاتھا: اس تاریخی مینار پاکستان پر‘ میں پاکستانی عوام کے لیے امن اور دوستی کی خواہش لے کرآیا ہوں۔ مستحکم‘ مضبوط اور خوش حال پاکستان‘ جس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے‘‘۔
اپنے تاثرات قلم بند کرنے کے بعد واجپائی صاحب کہہ رہے تھے: آج صبح جب یہ سوال اٹھا کہ مجھے مینار پاکستان جانا چاہیے یا نہیں‘ تو کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ میں وہاں گیا تو پاکستان پر میری مہر لگ جائے گی(یعنی میں نے پاکستان کو تسلیم کرلیا)وطن واپسی پر بھی اسی طرح کے سوالات کئے جائیں گے… میں یہاں بھی کہتا ہوں اور وہاں بھی کہوں گا کہ پاکستان میری مہر سے تو نہیں چلتا۔ اس کی اپنی مہر ہے اور وہ چل رہی ہے‘‘۔گورنر ہائوس لاہور میں اعلانِ لاہور کا پہلا نقطۂ مسئلہ کشمیر کا پرامن سیاسی حل تھا۔ اس کے لیے ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا آغاز ہوچکا تھاکہ ”کارگل ‘‘ ہوگیا۔
”نوازشریف‘ مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت تعلقات‘ ‘‘ایک طویل موضوع ہے۔ اپنی تیسری وزارتِ عظمیٰ میں‘ یواین جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس (ستمبر2013ئ)میں انہوں نے مسئلہ کشمیر پورے زور وشور سے اٹھایا اور عالمی برادری کو یاد دلا یا کہ اس نے اس کے حل اوراہل ِکشمیر کے حق خودارادیت کے لیے وہ کردار ادا نہیں کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا۔ اہل کشمیر کے مصائب وآلام کو عالمی سیاست کے قالین کے نیچے نہیں چھپایا جاسکتا۔ نوازشریف کی تقریر نے ان کے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ کو اتنا بدمزہ کیا کہ وہ صدر اوباما سے اس کی شکایت کئے بغیر نہ رہے۔
اگلے روز ناشتے پر ہونے والی دونوں وزراء اعظم کی ملاقات بھی خطرے میں پڑ گئی تھی۔ عالمی مبصرین کے مطابق برسوں بعد یہ پہلا موقع تھا‘ جب پاکستان کے کسی سربراہ سے اس شدومد کے ساتھ کشمیریوں کا مقدمہ‘ خود اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے ساتھ پیش کیاتھا۔ ورنہ اس سے پہلے چناب فارمولا اورسیون ریجنز سمیت کیا کیا رنگ برنگے فارمولے پیش کئے جاتے رہے تھے۔
اگلے ماہ دورۂ امریکہ میں ‘صدر اوباما سے ملاقات میں بھی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر کے کورایشو سمیت پاک بھارت تنازعات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ 2014ء میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعظم نوازشریف کے خطاب میں کشمیر کے حوالے سے شدت گزشتہ سال سے بھی زیادہ تھی۔ برہان الدین وانی کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں‘ سرکاری طور پر شہید قرار دیا گیا۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں کشمیر میں بھارتی وحشت وبربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے جمعہ30مارچ کو یوم یک جہتی کشمیر منانے کا اعلان بھی کیا گیا۔
5اگست 2019ء کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب ایک آئینی ترمیم کے ذریعے‘ مودی حکومت نے کشمیریوں کو ان کی شناخت اور برائے نام داخلی خود مختاری سے بھی محروم کردیا۔ تب سے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا نیاباب رقم ہورہا ہے۔ آگ ہے‘ اولادِ ابراہیم ہے‘ نمرود ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *