ہماری اصلاح کے لیے پولیس کی ضرورت ہے نہ واعظین کی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئے سال کی ڈائری خریدنا تھی۔ اس کے لیے بازار گیا تو یہ واقعہ پیش آیا۔اب تو یہی ہے کہ گھر ہی سے نہ نکلا جائے۔ گوشۂ عافیت میں بیٹھے رہیں تو ان تھپیڑوں سے بچ جائیں جو باہر نکل کر‘ دائیں بائیں سے پڑتے ہیں! چند دن ہوئے ایک دوست سے پوچھا کیسی گزر رہی ہے! کہنے لگے ریٹائرڈ لائف سے لطف اندوز ہو رہا ہوں! سُن کر تعجب ہوا۔ کہا‘ تم تو پابندیٔ وقت اور دیگر اصولوں کے حوالے سے سخت اور طبعاً ”انگریز‘‘ واقع ہوئے ہو! تو اس معاشرے میں جہاں کوئی اصول ہے نہ پابندیٔ وقت جیسی کوئی چڑیا‘ لطف اندوز کیسے ہو رہے ہو؟
اُس نے جواب میں جو فارمولا بتایا اسے سن کر چودہ طبق روشن ہو گئے! کہنے لگا‘ گھر سے باہر نکلنے سے پہلے اپنے آپ کو اچھی طرح سمجھا لیتا ہوں کہ میاں! اب تیار ہوجاؤ! ٹریفک کی چیرہ دستیاں تمہارا انتظار کر رہی ہیں۔ دکاندار بدتمیزی کریں گے‘ ہر شخص جھوٹ بولے گا۔ قطار میں کھڑے ہو گے تو کوئی آ کر قطار بندی کی ایسی تیسی کر دے گا پھل والا چن چن کر خراب پھل ڈالے گا۔ گاڑی پارک کرنے لگو گے تو زُوں سے ایک اور گاڑی آ کر وہاں کھڑی ہو جائے گی۔ دکان سے باہر نکلو گے تو تمہاری گاڑی کے عین پیچھے کوئی اور گاڑی کھڑی ہوگی جس کا ڈرائیور آدھ گھنٹے بعد پہنچے گا! اس سب کچھ کی توقع کر کے گھر سے نکلتا ہوں‘ پھر اگر یہی کچھ پیش آئے تو اچنبھا ہوتا ہے ‘نہ افسوس! نہ پیش آئے تو خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔ یوں مزے سے گزر رہی ہے! 
ڈائری کا قصّہ یوں ہے کہ یہ تین چار عشروں پر محیط پرانی عادت ہے! کل کون کون سے ضروری کام کرنے ہیں‘ کس تاریخ کو کہاں جانا ہے‘ یہ سب کچھ ڈائری کے متعلقہ صفحات پر‘ تاریخ وار‘ درج ہو جاتا ہے۔ یوں یادداشت دھوکا دیتی ہے نہ رسوا کرتی ہے ‘اس لیے کہ انحصار یادداشت پر نہیں‘ ڈائری پر ہو جاتا ہے۔ ملازمت کے دوران‘ جو ٹوٹی پھوٹی عزت بنی اس میں ڈائری کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اوپر سے حکم آیا کہ فلاں تاریخ تک یہ کام ہو جانا چاہیے تو فوراً ڈائری پر نوٹ کر لیا مطلوبہ تاریخ کو میز پر رکھی ڈائری کا صفحہ یاد دلا دیتا! نیچے والوں کے ذمے کوئی کام لگایا تو ڈائری پر تاریخ نوٹ کر لی۔ یوں ”صاحب‘‘ سے زیادہ ماتحت ڈائری سے ڈرتے تھے! بچے بھی جانتے تھے کہ جو فرمائش ڈائری پر چڑھا دی گئی‘ پوری ہو جائے گی ورنہ زبانی یاد رہنے کا سوال ہی نہیں تھا۔
بچے بڑے ہوئے تو مشورہ دینے لگے کہ اس سالانہ ڈائری کا قدیم رواج اب چھوڑیئے اور الیکٹرانک ڈائری پر آ جائیے جو موبائل فون میں بھی ہے اور آئی پیڈ میں بھی! مگر وہ جو صفحہ الٹنے کا مزہ ہے وہ الیکٹرانک ڈائری میں کہاں! پھر یہ سالانہ ڈائریاں یوں بھی کارآمد ہیں کہ پرانی یادداشتیں نکال کر واقعات کا تاریخ وار اندازہ لگایا جا سکتا ہے! گزشتہ برسوں کی ڈائریاں محفوظ ہیں اور لائبریری کی کئی شیلفوں پر قابض!
سٹیشنری کی بہت بڑی دکان تھی اور معروف! جس میں گیا! ”ایک صفحہ ایک تاریخ‘‘ والی ڈائری لی اور کاؤنٹر پر آیا۔ چھ سو بیس روپے قیمت تھی! اتفاق یا سوئِ اتفاق سے پانچ ہزار کا نوٹ تھا۔ افراطِ زر نے پانچ ہزار کے نوٹ کی عزت دھیلے کی بھی نہیں رہنے دی۔ اُن واقعات کو تو چھوڑیئے جو بزرگ سنایا کرتے تھے! دادا جان کی یادداشتوں میں کچھ چیزیں پڑھ کر حیرت ہوتی ہے۔ یہ یادداشتیں فارسی میں لکھی گئی ہیں! گاؤں کے کسی شخص سے پندرہ روپے میں گائے خریدی! بڑے تایا جان کی شادی پر دو سو پینسٹھ روپے خرچ ہوئے۔
بری کی تفصیلات بھی درج ہیں۔ ان میں ریشمی لاچوں کا ذکر ہے اور اطلس کے نسوانی ملبوسات کا بھی! طلائی جوتوں کا بھی جو گاؤں کے کفش سازوں نے بنائے تھے! یہ تو ہم سے پہلی نسلوں کے تذکرے ہیں! خود ہمارا زمانہ بھی اب ماضی قریب کا نہیں‘ ماضی بعید کا لگتا ہے۔ گورنمنٹ کالج اصغر مال راولپنڈی میں زیر تعلیم تھے تو ایک کلاس فیلو کے بارے میں باتیں ہوتی تھیں کہ یہ لوگ اس قدر امیر ہیں کہ ناشتے کا سامان لینے بیکری میں جاتے ہیں تو ہر روز سو کا نوٹ لے کر جاتے ہیں! سلور گرِل پنڈی کا ٹاپ کا ریستوران تھا جہاں آسودہ حال بے فکرے شام کو بیٹھک جماتے تھے۔ چائے کا کپ وہاں دس روپے کا ملتا تھا جو رشک آور تھا!
پانچ ہزار روپے کا نوٹ اس وسیع و عریض عظیم الشان دکان کے کاؤنٹر والے کو دیا۔ چھ سو بیس روپے کاٹے۔ باقی پیسے دیے اور دوسرے گاہک کی طرف مصروف ہو گیا۔ اچانک خیال آیا کہ یہ پیسے تو کم ہیں۔ نوٹ پانچ ہزار کا دیا تھا۔ بقایا اس نے یوں دیا جیسے ایک ہزار روپے کا نوٹ دیا ہو! کھڑا رہا جب وہ دو تین گاہک بھگتا چکے اور میری طرف متوجہ نہ ہوئے تو بتایا کہ رقم پوری نہیں دی! ایک عجیب انداز سے بولے دیتا ہوں جناب! دیتا ہوں! کہا کہ پوری رقم دیے بغیر آپ مجھے فارغ کیے بیٹھے ہیں اور دوسرے گاہکوں کو ڈیل کر رہے ہیں!
اس پر وہ جز بز ہوئے اور سرزنش کے انداز میں گویا ہوئے کہ صاحب! کیا ہو گیا! دینے ہی تو لگا ہوں! چار ہزار روپے واپس ملے۔ ایک جھٹکا تو لگ چکا تھا۔ احتیاط سے گنے۔ دس روپے اب بھی کم تھے! بتایا تو چارو ناچار دس روپے تو دیے مگر خیرات دینے کے سٹائل میں! کہنے لگے غلطی ہو گئی تھی! پوچھا کہ کبھی غلطی سے کسی گاہک کو زیادہ رقم بھی دی؟
یہ جو ہم میں تھوڑی تھوڑی رذالت‘ کچھ کچھ سفلہ پن‘ کچھ فرومائیگی‘ دوں ہمتی اور ساتھ ہی کم ظرفی پائی جاتی ہے تو انگریزوں نے اپنی لغت میں ایک لفظ جامع نکالا ہے جو کم و بیش ان سب ”صفات‘‘ کو اپنے دامن میں لے لیتا ہے۔ اسے Wretchedness کہتے ہیں! یعنی بدقسمتی‘ بدبختی اور کمینگی کا ملغوبہ! قابلِ رحم! ہم عجیب و غریب قوم ہیں! سوشل میڈیا پر نظر دوڑایئے تو ہم میں سے ہر شخص ولی اللہ نظر آئے گا ایسے ایسے بھاشن کہ بڑے بڑے گرو طفلانِ مکتب لگیں ‘مگر عملی زندگی میں یہ سارے بھاشن‘ یہ تمام مواعظ‘ یہ دوسروں کو دی جانے والی نصائح‘ راکھ کے ڈھیر میں بدل جاتی ہیں!
ترجیحات کا عالم یہ ہے کہ لاکھوں روپے کا رکشا لینے والا چند سو کے ہیلمٹ کی خاطر خود سوزی کر رہا ہے! ٹریفک ہماری قومی پستی کی واضح مثال ہے!
کیا ہمیں نہیں معلوم کہ ہم غلط کام کر رہے ہیں؟ پیدل سڑک عبور کرنے والے کے لیے ایک لحظہ رکنے کو کوئی تیار نہیں! خود غرضی کا بدترین مظاہرہ ہر لمحے ہر ثانیہ ہو رہا ہے! پارکنگ اندھوں کی طرح کی جاتی ہے! ٹرک ڈرائیور کو تو چھوڑ دیجئے کہ وہ ٹُن ہے اور ان پڑھ بھی وہ سفلہ جو مرسڈیز چلا رہا ہے‘ اس کی گاڑی سے خالی شاپنگ بیگ‘ کیلوں کے چھلکے اور سگرٹ کی خالی ڈبیا باہر پھینکی جا رہی ہے! ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کے لیے سب سے بڑے ڈاکخانے جانا ہوا۔ متعلقہ کھڑکی پر لکھا تھا وقفہ برائے نماز! اڑھائی بجے کا وقت تھا! بہت دیر انتظار کیا۔ وقفے کے آغاز کا وقت ہوتا ہے‘ ختم ہونے کا نہیں! تنگ آ کر بڑے صاحب کے پاس گیا‘ صورتِ احوال بتائی تو انہوں نے حل یہ نکالا کہ چائے منگوائی اور حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ شروع کر دیا۔ لائسنس کی تجدید تو ہو گئی مگر ایک گھنٹہ ضائع ہوا میرا بھی! اُن کا بھی! اور وقفہ برائے نماز کا بورڈ جوں کا توں رہا!
ہماری اصلاح کے لیے پولیس کی ضرورت ہے نہ واعظین کی! ریاست کیا کیا کرے گی! کیا یہ بتانا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ جگہ جگہ کوڑا کرکٹ نہ پھیلائیں! دوسرے انسان کو بھی انسان سمجھیں! اپنے آپ کو موت کے منہ میں نہ ڈالیں! قطار میں کھڑے ہونے کو توہین نہ سمجھیں! ریاست نے شاہراہ عبور کرنے کے لیے اوور ہیڈ پُل بنا کر دیا۔ 
کیا اب ریاست ہر شخص کو فرداً فرداً کہے کہ حضور والا! شاہراہ عبور کرنے کے لیے پُل استعمال کیجیے اور تیز رفتار ٹریفک کے منہ میں اپنی زندگی نوالہ بنا کر نہ ڈالیے! یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو بتائیں کہ وہ رہا باتھ روم! پھر وہ شخص بیٹھے بیٹھے نشست گیلی کر دے اور شکوہ کرے کہ یہ تو بتا دیا کہ باتھ روم وہ ہے‘ یہ نہیں بتایا کہ ضرورت پڑنے پر اس کے اندر بھی جانا ہے!
ہم میں سے ہر ایک کو حکومتوں سے شکوہ ہے اور سیاسی جماعتوں سے! بیورو کریسی سے اور اسٹیبلشمنٹ سے! عمران خان سے اور نواز شریف سے! زرداری سے اور فلاں فلاں سے! مگر ہم اپنے گریبان میں کب جھانکیں گے؟ اس کالم نگار سمیت‘ ہر شخص دوسرے پر تنقید کر رہا ہے‘ اپنے آپ کو غلطیوں سے پاک فرشتہ گردانتا ہے! فرد کے طور پر‘ شہری کے طور پر۔ انسان کے طور پر۔ مسلمان کی حیثیت سے‘ جو ذمہ داریاں مجھ پر عائد ہیں‘ اُن کا کیا بنے گا؟ صائب تبریزی ہمارے بارے میں کہہ گیا ہے اور خوب کہہ گیا ہے
معصیت را خندہ می آید ز استغفارِ ما
ہاتھ میں تسبیح ہے! لب پر توبہ ہے اور دل گناہ کے ذوق سے بھرا ہے! ہمارے استغفار پر خود معصیت کو ہنسی آ رہی ہے!
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *