معیشت پر بات سنبھل کر کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں ڈاکٹر محبوب الحق مرحوم پاکستان کے پلاننگ کمیشن میں کام کیا کرتے تھے۔ دنیا کی جانی مانی یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ تھے اور معاشیات سے انہیں ایسا شغف تھا جو کہیں خال خال ہی ملا کرتا ہے۔ اپنی اعلیٰ تعلیم اور کام سے محبت کی وجہ سے وہ بہت تیزی سے ترقی پاتے ہوئے تیس برس کے ہونے سے پہلے ہی چیف اکانومسٹ کے درجے تک جا پہنچے تھے۔ پاکستان ساٹھ کی دہائی میں تیزی سے ترقی کرتا ہوا ایسا ملک تھا جو ابھی آزاد معیشت سے ہم آہنگ نہ ہوا تھا‘ اس لیے یہاں کاروبار اور حکومت کے درمیان ایسا پراسرار تعلق تھا (اور کسی درجے میں آج بھی ہے) کہ جو شخص جتنا حکومت کے قریب رہتا اتنی ہی تیزی سے امیر ہوتا جاتا۔
ڈاکٹر محبوب الحق جدید معاشیات سے خوب واقف تھے بلکہ اس وقت چیف اکانومسٹ ہونے کے ناتے جو کچھ ہو رہا تھا کسی نہ کسی درجے میں اس کے حصہ دار بھی تھے۔ ایک ابھرتے ہوئے ملک کے چیف اکانومسٹ سے توقع ہوتی ہے کہ وہ منہ کھولنے سے پہلے خوب سوچ سمجھ لے گا، اور ڈاکٹر محبوب الحق کو جاننے والے بتاتے ہیں کہ وہ اچھی طرح غور کرنے کے بعد ہی کچھ کہا کرتے تھے۔ انیس سو اڑسٹھ میں معاشیات پر ایک سیمینار میں انہیں مدعو کیا گیا‘ جہاں پاکستانی معیشت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا، ”پاکستان کی معیشت پر صرف بائیس گھرانے قبضہ کیے ہوئے ہیں، بیاسی فیصد بینکنگ اور چھیاسٹھ فیصد صنعتیں ان کی ملکیت ہیں۔ یہ لوگ اتنے طاقتور ہیں کہ جیسے چاہیں معیشت کو اپنے حساب سے توڑ مروڑ لیتے ہیں‘‘۔
ان کا یہ بیان اگلے روز کے اخبارات میں چھپا تو ذوالفقار علی بھٹو‘ جو اس وقت تک جنرل ایوب خان کی مخالفت میں سرگرم ہوچکے تھے، یہ بیان لے اڑے۔ انہوں نے روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کے ساتھ بائیس خاندانوں کا ایسا ڈھنڈورا پیٹا کہ مغربی پاکستان میں نہ صرف الیکشن جیت گئے بلکہ جب وزیراعظم بنے تو وہ بڑے سرمایہ کاروں کے خلاف اتنی نفرت پیدا کرچکے تھے کہ انہیں تمام بڑے کارخانے اور بینک سرکاری تحویل میں لینا پڑے۔ یہ ایسا اقدام تھا جس نے پاکستان کو تباہی، پسماندگی اور غربت میں ایسا دھکیلا کہ آج تک ابھر نہیں پا رہا۔
ڈاکٹر محبوب الحق کو اندازہ نہیں تھا کہ ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات کیا رنگ لائے گی۔ بعد میں ان کی معاشی فہم و فراست کی داد پوری دنیا نے دی۔ آج دنیا میں ایک اہم ترین معاشی اشاریہ‘ جسے ہیومن ڈویلپمنٹ انڈکس کہتے ہیں، انہی کا ترتیب دیا ہوا ہے لیکن جوش جوانی میں انہوں نے پاکستان کے چیف اکانومسٹ کے طور پر جو کہہ دیا‘ اس کی وجہ سے معاشی نظام میں جو گرہیں پڑیں وہ ہم اب تک نہیں کھول پائے۔ انہوں نے یہ سب کیوں کہا، اس بارے میں لامتناہی بحث ممکن ہے‘ لیکن ان کے اس فقرے کے نتائج کیا ہوئے یہ سب جانتے ہیں۔ اگر کوئی نہیں جانتا تو وہ ہماری پیاری حکومت ہے جو معاشیات کو کھیل سمجھتی ہے اور جو منہ میں آتا ہے کہے جاتی ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی جناب اسد عمر کو ہی دیکھ لیجیے، فرماتے ہیں، عمران خان نے اب ذخیرہ اندوزی کرنے والے مافیا کے خلاف ‘جہاد‘ کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذخیرہ اندوزی کی اصطلاح جناب عالی نے شاید آٹے اور چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ کے طور پر استعمال کی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اسد عمر‘ جو طلب و رسد اور منڈی کے معاملات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں‘ یہ باتیں کیوں کررہے ہیں؟ مراد سعید، فیصل واؤڈا یا علی زیدی جیسا کوئی ہو تو اسے سمجھایا جائے کہ بھائی آٹے کے بھاؤ ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے نہیں تبدیلی سرکار کی نالائقی کی وجہ سے بڑھے ہیں کیونکہ اس نے پچھلے سال پنجاب میں چالیس لاکھ ٹن گندم خریدنے کی بجائے صرف چونتیس لاکھ ٹن خریدی اور مزید نالائقی یہ کی کہ پہلے سے موجود گندم باہر بھیج دی۔
اب سوال یہ نہیں رہا کہ اس حکومتی فیصلے سے فائدہ کس نے اٹھایا بلکہ سراغ یہ لگانا ہے کہ یہ فیصلہ کرنے والے اب تک کابینہ میں کیوں بیٹھے ہیں؟
جن لوگوں کو پاکستان کی منڈی سے ذرا سا بھی تعلق ہے وہ تو ایک سال سے چلّا چلّا کر حکومت کو آنے والے بحران کی خبر دے رہے تھے۔ جب بحران آ گیا بلکہ آکر گزر گیا تو اپنی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے یہ قربانی کے بکرے ڈھونڈ نے میں لگے ہیں‘ جن کے سر پر ذخیرہ اندوزی کا الزام لگا کر اپنی بریت ثابت کی جاسکے! معاشیات کا سیدھا سا اصول ہے کہ منڈی میں تیزی ہوگی تو ہر کوئی مال روکے گا۔ مال روکنے کا یہ رجحان ذخیرہ اندوزی تک نہ پہنچے، اسی لیے اہم ترین زرعی اجناس حکومتیں بڑی مقدار میں خود خرید کر محفوظ کر لیتی ہیں اور بوقت ضرورت منڈی میں بیچ کر قیمتوں پر قابو رکھتی ہیں۔ اگر اس حکومت کو معیشت کا یہ سادہ سا اصول بھی نہیں پتا تو کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔
چینی کی قیمتوں کا معاملہ گندم سے کچھ الگ ہے۔ کئی سیاستدانوں کے اس میدان میں ہونے کی وجہ سے یہ صنعت ہمیشہ نظروں میں رہتی ہے۔ چینی کی قیمتوں میں ذرا سا اتار چڑھاؤ آیا تو حکومت میں بیٹھے شوگر مل مالکان کے حوالے سے سکینڈل بننا شروع ہوگئے۔ شوگر ملوں کے مالکان کے طاقتور ہونے کا تاثر اتنا گہرا ہے کہ مجھے پاکستان کے ایک بڑ ے کاروباری گروپ کے سربراہ نے ہنستے ہوئے کہا، ”اگر شوگر مل والے چاہیں تو آئین میں ترمیم بھی کرلیں‘‘۔ ان کا اشارہ ان شوگر ملوں کے ان مالکان کی طرف تھا جو وفاقی کابینہ اور قومی اسمبلی یا سینیٹ میں بیٹھے تھے۔
تھوڑا بہت اثرورسوخ اپنی جگہ لیکن عمومی طور پر ایسا نہیں ہوتا کہ چینی کی صنعت سے تعلق رکھنے والے سیاستدان ہر وقت حکومتی پالیسیوں کو توڑ مروڑ کر اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں ۔ حالت ان ‘طاقتور‘ شوگر مل مالکان کی یہ ہے کہ دو ہزار سولہ کے اپریل میں انہوں نے وفاقی حکومت کو خط لکھا تھا کہ ملک سے بغیر کسی سبسڈی کے چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی جائے کیونکہ چینی کے وافر ذخائر ملوں میں پڑے ہیں۔ اس وقت عالمی منڈی میں چینی کی قیمت پانچ سو اسی ڈالر فی ٹن تھی۔ حکومت نے حسب معمول فیصلہ کرنے میں دیر کر دی اور اکتوبر میں جب اجازت ملی تو قیمت تین سو چالیس ڈالر فی ٹن ہو چکی تھی لہٰذا چینی کی برآمد پر حکومت کو سبسڈی دینا پڑی۔
اسی طرح کی لیت و لعل دو ہزار سترہ میں ہوئی۔ جب خود اسد عمر وزیر خزانہ تھے تو اس وقت بھی یہی ہوا کہ انہوں نے چینی کی برآمد پر سبسڈی نہیں دی اور تھوڑے بہت سیاسی اثرورسوخ کے استعمال سے سبسڈی کا بندوبست پنجاب سے کیا گیا اور چینی برآمد ہوئی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جولائی سے دسمبر دوہزار انیس تک پاکستان سے ایک لاکھ اکیاسی ہزار ٹن چینی‘ جو ساٹھ روپے نوے پیسے فی کلو کے حساب سے باہر گئی، اگر باہر نہ جاتی تو کیا ہوتا؟ جواب یہ ہے کہ بے شک چینی کی قیمت نیچے ہی رہتی لیکن پھر اس گنے کا کیا کرتے جو لاکھوں کاشتکاروں نے لگا رکھا تھا؟
دنیا بھر میں یہی معمول ہے کہ جب زراعت سے متعلق مصنوعات کی قیمتیں ملک میں گرنے لگتی ہیں تو سبسڈی دے کر برآمد کی جاتی ہیں تاکہ کاشتکار کو نقصان نہ ہونے پائے۔ اسد عمر کو اگر یہ نہیں پتا تو وضاحت کے لیے عرض ہے کہ یورپ اور امریکا‘ دونوں روزانہ کی بنیاد پر ایک ارب ڈالر کی سبسڈی اسی طرح اپنے کاشتکار کو دیتے ہیں تاکہ قیمتیں اس سطح پر رہیں جہاں زراعت چلتی رہے اور اس سے متعلقہ صنعت بھی۔
موجودہ حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ نازک معاملات کو بھی سطحی انداز سے دیکھتی ہے۔ تجزیہ کرنے کی بجائے سطحی فقرے بازی کو دلائل سمجھتی ہے اور خود ہی ایک مافیا تراش کر اس کی سرکوبی کے لیے چل پڑتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس کے وزیر ہر وقت ہوا میں تلوار چلاتے کسی خیالی دشمن سے لڑتے نظر آتے ہیں۔ اس ماحول میں اسد عمر کی بات سن کر خوف آنے لگا ہے کہ اب یہ بھی گندم اور چینی کے معاملے کو مافیا کا کیا دھرا سمجھ رہے ہیں تو نہ جانے کیا کر بیٹھیں۔ ملک میں زرعی اور صنعتی پیداوار بڑھانے پرتوجہ دینے کی بجائے منڈی کو مصنوعی طریقوں سے کنٹرول کرنے کے شوق میں کوئی اور تباہی نہ لے آئیں۔ ڈاکٹر محبوب الحق نے تو ایک دفعہ غیر ذمے داری دکھائی تھی جو اب تک ہم بھگت رہے ہیں، یہ لوگ تو روزانہ یہی کرنے لگے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *