#CoronaVirus: کرونا وائرس سے خبردار کرنے والے ڈاکٹر لِی دم توڑ گئے


چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق رواں برس جنوری کے آغاز پر ووہان میں حکام کو پہلی مرتبہ کورونا وائرس سے خبردار کرنے والے، ڈاکر لی وینلیانگ اس نئے وائرس کے خلاف جنگ ہار گئے ہیں۔

چین میں اورونا وائرس سے اب تک کم از کم 560 افراد ہلاک اور 28 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر لی ووہان کے مرکزی ہسپتال میں آنکھوں کے ڈاکٹر کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور انہوں نے 30 دسمبر کو اپنے ساتھی ڈاکٹروں کو کورونا وائرس سے خبردار کیا تھا۔

اپنے ساتھی عملے سے یہ بات کرنے کے بعد مقامی پولیس ڈاکٹر لی کے پاس آئی اور انھیں تنبیہ کی کہ وہ کورونا کے پھیلنے سے متعلق باتیں کرنا بند کر دیں۔

مگر ایک ہی ماہ بعد فروری 2020 میں جب اس ڈاکٹر نے مقامی ہسپتال کے بستر پر لیٹ کر یہ کہانی سوشل میڈیا پر شیئر کی تو چین میں ان کا خیر مقدم ایک ہیرو کی طرح کیا گیا۔

سوشل میڈیا سائٹ پر انھوں نے اپنی کہانی یوں شروع کی تھی کہ ’تمام احباب کو خوش آمدید، میں لِی وینلیانگ ہوں اور ووہان سینٹرل ہسپتال میں ماہرِ امراض چشم کے طور پر کام کر رہا ہوں۔‘

اس وقت تک 34 سالہ ڈاکٹر لی کے بقول وہ ایسے سات مریضوں کو دیکھ چکے تھے اور ان کا خیال تھا کہ ان مریضوں پر سارس جیسے کسی وائرس نے حملہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ سارس وائرس کی عالمی وبا سنہ 2003 میں پھیلی تھی۔

انہوں نے 30 دسمبر کو اپنے ساتھی ڈاکٹروں کو ایک مشترکہ گروپ میں پیغام بھیجا تھا جس میں انہوں نے ساتھیوں کو وائرس سے متعلق متنبہ کیا تھا اور مشورہ دیا تھا کہ وہ متاثرہ مریضوں کا علاج کرتے ہوئے حفاظتی دستانے اور کپڑے پہنیں تاکہ وائرس انھیں متاثر نہ کر سکے۔

اس پیغام کے چار دن بعد انہیں پبلک سکیورٹی بیورو کے دفتر میں طلب کیا گیا جہاں انہیں ایک تحریر پر دستخط کرنے کو کہا گیا۔ اس خط میں ڈاکٹر لی پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ’غلط قسم کے دعوے‘ کر کے ’شدید نقص امن‘ کے مرتکب ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس اب تک ’عالمی وبا نہیں بنا ہے‘

کورونا وائرس انسانی جسم پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے

وائرس کے خوف میں زندگی، ووہان کی لڑکی کی ڈائری

اس خط میں مزید لکھا تھا کہ ‘ہم آپ کو متنبہ کرتے ہیں: اگر آپ نے اپنی ہٹ دھرمی اور ضد جاری رکھی اور اس غیر قانونی سرگرمی کو فروغ دیا تو آپ کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ کیا آپ کو سمجھ آئی ہے؟’

اس خط کے نیچے ڈاکٹر لِی سے دستخط لیے گئے اور ڈاکٹر لِی نے لکھا ‘جی میں سمجھ گیا ہوں۔’

ڈاکٹر لِی ان آٹھ افراد میں سے ایک شخص تھے جنھیں ’افواہیں پھیلانے‘ کے الزام میں تفتیش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جنوری کے آواخر میں ڈاکٹر لِی نے اس خط کی کاپی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شائع کی اور بتایا کہ جب انھوں نے وائرس کے حوالے سے لوگوں کو متنبہ کرنے کی کوشش کی تو ان کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا تھا۔

اس کے بعد مقامی حکام نے ڈاکٹر لِی سے معذرت بھی کی مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

جنوری کے ابتدائی ایام میں ووہان میں حکام بضد تھے کہ یہ وائرس صرف ان لوگوں میں پھیل سکتا ہے جو متاثرہ جانوروں کے ساتھ براہ راست کام کرتے ہیں، یعنی مویشی یا دیگر جانوروں کی منڈیوں میں۔

اس وقت تک متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کو بھی کسی طرح کے حفاظتی اقدامات کرنے کی بابت رہنمائی فراہم نہیں کی گئی تھی۔

اس خط کو سائن کرنے کے ایک ہفتے بعد ڈاکٹر لِی ہسپتال میں کالے موتیے کا شکار ایک خاتون کا علاج کر رہے تھے۔ انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ آنکھوں کی بیماری کے علاوہ وہ خاتون کورونا وائرس سے بھی متاثر تھیں۔

اپنی سوشل میڈیا کہانی میں ڈاکٹر لِی نے بتایا تھا کہ اس خاتون میں موجود وائرس سے متاثر ہونے کے چند دن بعد 10 جنوری کو انھیں کھانسی شروع ہوئی۔ ان کے والدین بھی بیمار پڑ گئے جنھیں ہسپتال لایا گیا۔

اس واقعے کے دس روز بعد یعنی 20 جنوری کو چین نے باضابطہ طور پر نئے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا اعلان کرتے ہوئے ہنگامی صورتحال کے نفاذ کا اعلان کیا۔

ڈاکٹر لِی کے بہت سے ٹیسٹ ہوئے مگر ابتدائی طور پر ان میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تشخیص نہیں ہوئی، تاہم 30 جنوری کو ان میں وائرس کی موجودگی کی تشخیص ہو گئی تھی۔

اپنے جسم میں وائرس کی موجودگی کے حوالے سے کی گئی پوسٹ کے ساتھ انھوں نے ایک ایموجی بھی پوسٹ کی جس میں ایک کتا بنا ہے جس کی آنکھیں پیچھے کی جانب گھومی ہوئی ہیں اور زبان منھ سے باہر لٹک رہی ہے۔

اس پوسٹ کو ہزارہا لوگوں نے سراہا اور اس پر اپنی آرا کا اظہار اور ڈاکٹر لِی کی سپورٹ میں پیغامات لکھے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’ڈاکٹر لِی ایک ہیرو ہیں۔ مستقبل میں ڈاکٹر کسی بھی متعدی بیماری کے پھیلاؤ سے متعلق تنبیہ کرنے سے قبل مزید خوفزدہ ہوں گے۔

’ملک میں محفوظ عوامی صحت کے ماحول کے لیے ہزاروں ڈاکٹرلِی جیسے ڈاکٹرز کی ضرورت ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 32540 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp