یاد نہ جائے بیتے دنوں کی: راولپنڈی کا نغمہ نگار شیلندر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرانے دنوں کے راولپنڈی کی تلاش میں نکلیں تو کیسے کیسے لعل و جواہر کی یاد آتی ہے۔ وہ جو راولپنڈی سے چلے گئے لیکن جن کے دلوں سے راولپنڈی کبھی نہ جا سکا۔ انہیں ناموں میں ایک نام شیلندر کا ہے۔ وہی شیلندر جو راولپنڈی کے ایک چھوٹے سے گھر میں پیدا ہوا اور پھر اپنی محنت اور لگن سے ہندوستان کی فلمی دنیا میں شہرت کے آسمان تک جا پہنچا۔ جس کے گیت پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ہر طرف گونجتے تھے، جس کے بارے میں معروف شاعر اور فلم ساز گلزار صاحب کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک شیلندر ہندوستانی فلم انڈسٹری کا سب سے اہم گیت نگار تھا۔

وہ 30 اگست 1923 کو اسی دِل رُبا راولپنڈی کے ایک چھوٹے سے گھر میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ ماں باپ نے اس کا نام شیلندر رکھا۔ شیلندر کے نام میں ہی ایک موسیقی، ایک ترنم تھا۔ اس ترنم نے ایک دن برِ صغیر میں بسنے والے لاکھوں دلوں کی دھڑکن بننا تھا۔ شیلندر کو بچپن میں ہی ماں کی جدائی کا دکھ سہنا پڑا۔ اسی دوران اس کا خاندان راولپنڈی چھوڑ کر ہندوستان چلا گیا۔ ماں کی ناگہانی موت نے شیلندر کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔

یوں بھی وہ ایک حساس طبیعت کا مالک تھا۔ سکول کے زمانے سے ہی وہ شاعری میں دلچسپی لینے لگا تھا۔ گھر میں ہر طرف افلاس نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ زندگی کی گاڑی کو چلانے کے لیے شیلندر نے بمبئی ریلوے یارڈ میں بطورِ ویلڈر کام کرنا شروع کر دیا۔ اس کام نے شیلندر کو زندگی میں مشقت کا عادی بنایا۔ اسی دوران اسے معاشرے میں زورآوروں اور کمزوروں کے درمیان فرق اور اس فرق کی وجوہ جاننے کا موقع ملا۔ اس کے سماجی شعور کو مزید تقویت اس وقت ملی جب وہ انڈین پیپلز تھیٹریکل ایسوسی ایشن (IPTA) میں شامل ہو گیا۔

اس گروپ کا واضح جھکاؤ بائیں بازو کی طرف تھا۔ اس سے وابستہ افراد سماجی تفریق کی وجہ ذرائع کی غیر منصفانہ تقسیم کو قرار دیتے تھے۔ IPTA ان نوجوانوں کی تنظیم تھی جو آرٹ برائے زندگی کے قائل تھے۔ اس کے جاننے والے بتاتے ہیں کہ جن دنوں وہ ویلڈر کے طور پر کام کرتا تھا ویلڈنگ کے دوران اڑنے والی آگ کی چنگاریوں سے اس کی قمیص پر سوراخ بن جاتے تھے۔ اس مشقت کی زندگی کے ساتھ ساتھ اس کی شاعری کا شوق دبا نہیں تھا۔

جب بھی وقت ملتا وہ شعر کہتا اور دوستوں کی محفل میں سناتا۔ اس رات بھی ایک ایسی ہی محفل تھی۔ مشاعرے کا آغاز تھا جب شیلندر کا نام پکارا گیا۔ تب شیلندر کی شہرت کو ابھی پَر نہیں لگے تھے۔ شیلندر نے اس روز مشاعرے میں اپنی نظم ”جلتا ہے پنجاب“ سنائی۔ نظم کیا تھی لوگوں کے دلوں کی آواز تھی۔ اسی محفل میں معروف فلمساز اور اداکار راج کپور بھی بیٹھے تھے۔ نظم کا ایک ایک شعر ان کے دل میں اتر رہا تھا۔ ان دنوں وہ اپنی فلم ”آگ“ بنا رہے تھے جو بعد میں 1949 ء میں ریلیز ہوئی۔

راج کپور مشاعرے کے بعد شیلندر سے ملے اور اسے کہا: میں تمہاری نظم اپنی فلم ”آگ“ میں استعمال کرنا چاہتا ہوں اور اس کی قیمت بھی ادا کروں گا، لیکن شیلندر نے، جو ان دنوں IPTA کے نظریاتی حصار میں تھا اور ہندوستان کے مین سٹریم سینما کو وقت کا ضیاع سمجھتا تھا، نظم دینے سے انکار کر دیا۔ اس انکار سے راج کپور کو حیرت تو ہوئی؛ تاہم اس کے دل میں شیلندر کا مقام اور بڑھ گیا۔ لیکن یہ زندگی ہے جس میں بعض اوقات حالات کی سختی نظریات کی برف کو پگھلا دیتی ہے اور آدرش کے سپنوں میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔

ہوا یوں کہ شیلندر کی بیوی سخت بیمار پڑ گئی۔ ہسپتال میں مناسب علاج کے لیے خاصی رقم درکار تھی۔ شیلندر کے دوست بھی اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ اسے ادھار دے سکتے۔ اس کسمپرسی کے عالم میں اچانک امید کی ایک کرن جاگی۔ اس کے ذہن میں مشاعرے کی رات ملنے والے راج کپور کا چہرہ آ گیا اور پھر ضرورت کی زنجیر اسے راج کپور کے دروازے پر لے آئی۔ راج کپور نے، جو پہلے ہی شیلندر کو پسند کرتا تھا، شیلندر کی بات سنی اور اسے پانچ سو روپے دیے۔

پانچ سو کی رقم اس زمانے میں اچھی خاصی تھی۔ شیلندر نے بیوی کا علاج کرایا اور وہ صحت یاب ہو گئی۔ جب شیلندر رقم کی واپسی کے لیے راج کپور کے گھر گیا تو راج کپور نے ایک بار پھر اس سے درخواست کی کہ وہ اس کی فلم کے لیے گیت لکھے۔ شیلندر کے دل میں راج کپور کی تکریم بڑھ گئی تھی کہ اس نے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا تھا۔ شیلندر نے گیت لکھنے کی ہامی بھر لی۔ راج کپور کی فلم ”برسات“ زیرِ تکمیل تھی۔ اس میں زیادہ تر گیت حسرت جے پوری نے لکھے تھے۔

ایک ایک گیت رمیش شاستری اور جلال ملیح آبادی کا تھا۔ اب فلم میں صرف دو گیتوں کی گنجائش باقی تھی۔ شیلندر نے پانچ سو کے عوض فلم کے باقی دو گیت لکھنے کا معاہدہ کر لیا۔ ان میں سے ایک گیت ”برسات میں ہم سے ملے تم، تم سے ملے ہم“ اور دوسرا گیت ”پتلی کمر ہے ترچھی نظر ہے“ تھا، اور یہی دو گیت شیلندر کو شہرت کی بلندیوں پر لے گئے۔ ”برسات“ بطور موسیقار شنکر جے کشن کی پہلی فلم تھی، جو ان کے فلمی سفر کا شاندار آغاز تھا۔

اس کے بعد تو راج کپور شیلندر اور شنکر جے کشن کی ایک تکون بن گئی، جس نے بہت سی کامیاب فلموں میں اپنا حصہ ڈالا اور پھر اسی تکون کی فلم ”آوارہ“ جس کا گیت ”آوارہ ہوں یا گردش میں ہوں آسمان کا تارا ہوں“ ہندوستان کی فلمی دنیا کا لازوال گیت بن گیا۔ شیلندر کی گیت نگاری کی خاص بات اس کی سادہ زبان اور اس کے اندر چھپی ہوئی گہری بات ہوتی۔ کیا کیا خوبصورت گیت تھے اور کیسے کیسے اچھوتے خیال۔ مثلاً، اے مرے دل کہیں اور چل“ یہ مرا دیوانہ پن ہے یا محبت کا سرور“ تو پیار کا ساگر ہے تری اک بوند کے پیاسے ہم“ میرا جوتا ہے جاپانی“ پیار ہوا اقرار ہوا“ دوست دوست نہ رہا“ عجیب داستاں ہے یہ کہاں شروع کہاں ختم، ۔ شیلندر کے کامیاب گانوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ شیلندر کو اس کے گیتوں پر تین نیشنل فلم ایوارڈ بھی ملے۔

شیلندر کو ایک اتفاق فلمی دنیا میں لے آیا تھا لیکن اس کے دل میں IPTA سے وابستگی کا نظریاتی رنگ ابھی باقی تھا۔ سماجی ناہمواریاں اور مفلسی سے جڑی محرومیاں اس کے فلمی گیتوں میں بھی نظر آتی ہیں۔ کبھی کبھی اس کے گیتوں میں چھوڑی ہوئی منزلوں اور بیتے دنوں کی یاد مہکتی ہے۔ تب یہ ناسٹیلجیا اس کے گیتوں میں جاگ اٹھتا ہے۔ فلم ”دل ایک مندر“ میں اس کا گیت ”یاد نہ جائے بیتے دنوں کی“ ایسا ہی ایک گیت ہے جس میں وقت کو روک لینے کی خواہش ہے ”دن جو پکھیرو ہوتے پنجرے میں میں رکھ لیتا، موتی کے دانے دیتا، سینے سے رکھتا لگائے“ لیکن حقیقی دنیا میں وقت کو پنجرے میں قید کرنا ممکن نہیں۔

وقت گزر جاتا ہے اور اس کی یادیں باقی رہ جاتی ہیں، کبھی نہ جانے کے لیے۔ سب کچھ ٹھیک تھا۔ شیلندر شہرت کی بلندیوں میں پرواز کر رہا تھا کہ اچانک اس نے ایک بڑا فیصلہ کر لیا۔ ذاتی فلم بنانے کا فیصلہ۔ اس فلم کا نام ”تیسری قسم“ تھا۔ فلم کا آغاز 1961 ء میں ہوا اور پھر یہ التوا کا شکار ہوتی گئی اور اس التوا کا براہِ راست اثر شیلندر کی صحت پر پڑا اور وہ سخت دماغی دباؤ کا شکار ہو گیا۔ فلم 1966 ء میں مکمل ہوئی اور اسی سال 14 دسمبر کو شیلندر نے آنکھیں موند لیں اور ہمیشہ کی نیند سو گیا۔

آج یوں ہی مجھے شیلندر کی یاد آ گئی جس کا خمیر پنڈی سے اٹھا تھا اور جس نے بمبئی کی فلمی دنیا کو تادیر جگمگائے رکھا۔ میں اکثر سوچتا ہوں پرانے دنوں کے راولپنڈی کی تلاش میں نکلیں تو کیسے کیسے لعل و جواہر کی یاد آتی ہے۔ وہ جو راولپنڈی سے چلے گئے لیکن جن کے دلوں سے راولپنڈی کبھی نہ جا سکا۔ انہیں ناموں میں ایک نام شیلندر کا ہے۔ وہی شیلندر جو راولپنڈی کے ایک چھوٹے سے گھر میں پیدا ہوا اور پھر اپنی محنت اور لگن سے ہندوستان کی فلمی دنیا میں شہرت کے آسمان تک جا پہنچا۔
بشکریہ روزنامہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 213 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *