وزیراعظم کی حد کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم کا فرمان ہے کہ وہ مہنگائی کے خلاف ہر حد تک جائیں گے۔سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کی حد کیا ہے اور وہ کہاں تک جاسکتے ہیں؟
گزشتہ دوسال میں ‘میرے وسائل میں پچاس فی صد کمی آئی ہے۔اگراس سے پہلے‘ میں مہینے کے ایک سو کماتا تھا تو آج پچاس روپے کما رہا ہوں۔دوسری طرف میرے اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔میں مزید حساب نہیں کر تا کیونکہ میںاس مایوسی سے بچنا چاہتا ہوں جو اس کے نتیجے میں پیدا ہو گی۔میں اُن لوگوں میں سے ہوں جن پر اللہ کا بہت کرم ہے۔سوال یہ ہے کہ جو مجھ سے بھی کہیں کم وسائل کے ساتھ زندہ ہیں‘ان کا کیا حال ہو گا؟سچ یہ ہے کہ سوچ کر زہرہ آب ہو جا تا ہے۔
دو طبقات کااستثنا ہے۔ایک وہ تاجرجو بحرانوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جیسے چینی بنانے والے۔جیسے آٹے کا کاروبار کرنے والے۔یا پھروہ جن کا کاروبار ہر صورت میں جاری رہتا ہے۔جیسے دواساز۔جیسے تعلیم کی تجارت کر نے والے یا جیسے اشیائے خورو نوش کے سوداگر۔دوسرا طبقہ بیرون ِ ملک مقیم پاکستانی یا ان کے خاندان ہیں۔وہ ڈالر اور ریال بھیجتے ہیں۔یوں انہیںزیادہ اندازہ نہیں ہو تا کہ روپے کی قدر کیا ہو چکی۔ ان کے علاوہ کوئی طبقہ ایسا نہیں ہے‘ جوان دو برسوں میںآمدن اور اخراجات میں توازن قائم رکھ سکا ہو۔
اس تجزیے میں اعدادو شمار کا ذکر بھی کیا جا سکتا ہے مگر اس کی ضرورت نہیں۔کیا اس ملک کے عام شہری کو یہ سمجھانے کے لیے کہ مہنگائی میں اضافہ ہو چکا‘اسے کسی عالمی ادارے کی رپورٹ دکھانا پڑے گی؟یا کیایہ بات اسے تسلی دے سکتی کہ ‘موڈیز‘ کے مطابق پاکستان ترقی کی شاہراہ پر تیزی سے دوڑ رہا ہے؟سامنے کی حقیقتیں اعدادو شمار کی محتاج نہیں ہو تیں۔
حالات بہتری کے بجائے خرابی کی طرف کیوں گئے؟حکومت جو استدلال بھی گھڑتی رہے‘اس واقعے سے انکار محال ہے کہ تحریک ِ انصاف کے پاس معیشت کو کوئی تجزیہ مو جو دتھا نہ کوئی اقتصادی روڈ میپ۔ یہ اتنی بدیہی بات ہے کہ اس کا انکار وہی کر سکتا ہے جو دھوپ میں سورج کے وجودکا انکار کرسکتاہے۔انہوں نے آتے ہوئے ہاتھ پاؤں مارے لیکن بات بن نہیں سکی۔معیشت کا معاملہ یہ ہے کہ گھر کی ہو یا ملک کی‘ایک دن بھی بغیرمنصوبہ بندی کے نہیں چل سکتی۔
جو ملک اس صورتِ حال کا شکار ہو جاتے ہیںکہ ان کی قیادت خالی دماغ اور خالی ہاتھ ہو تو‘ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہو تا کہ وہ آئی ایم ایف سے رجوع کریں۔
آئی ایم ایف کبھی دنیا کی اقتصادیات سے لاتعلق نہیں بیٹھتا۔وہ ہر ملک کی معیشت سے‘اس سے زیادہ باخبر ہو تا ہے۔اس کے پاس ان ممالک کے مسائل کاایک تیار شدہ حل موجود ہو تا ہے۔وہ قرض دے کران ممالک کو فوری طور پر بحران سے بچا لیتا ہے‘تاہم وہ اس کے ساتھ یہ نسخہ بھی دیتا کہ یہ قرض کیسے واپس کر نا ہے۔یہ پیکیج ڈیل ہو تی ہے۔ اس میں انتخاب نہیں ہو تا الا یہ کہ کسی ملک کی قیادت وژن رکھتی ہو اور کسی وجہ سے سودا بازی بھی کر سکتی ہو۔
حکومت جب اس صورتِ حال سے دوچار ہوئی تو اُس کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جائے۔جو ملک اس معاشی اور عقلی پسماندگی کے ساتھ آئی ایم ایف کے پاس جاتا ہے‘ظاہر ہے کہ وہ اس کی اس کمزوری کا پورا فائدہ اٹھاتا ہے۔یہی ہمارے ساتھ ہوا۔آئی ایم ایف نے نہ صرف اپنا پیکیج منوایا‘ بلکہ اس پر عمل درآمد کے لیے اپنی ٹیم بھی دی۔یہ بھی اتنی واضح بات ہے کہ اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
سوال یہ ہے کہ قرض لینے کے بعد‘اس کی واپسی کیسے ہوگی؟اس کے دو طریقے ہیں۔
ایک یہ کہ ٹیکس میںاضافہ کیا جائے۔دوسرا یہ کہ ملک میں بڑی سرمایہ کاری ہو جس کے نتیجے میں معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومے۔یوں لوگوں کی آمدن بہتر ہو‘تجارت بڑھے اور ساتھ ہی برآمدات میں بھی اضافہ ہو۔ڈیڑھ سال میں حکومت نے کسی شک و شبے کے بغیر ثابت کر دیا ہے کہ ٹیکس جمع کر نے کے علاوہ‘اس کے پاس وسائل پیدا کرنے کوئی دوسرا ذریعہ موجود نہیں۔حکومت میں اس کی کوئی صلاحیت نہیں کہ وہ معاشی عمل کو مہمیز دے سکے۔
اب ٹیکس کی آمدن میں بڑھوتی‘دو طرح سے ممکن ہے۔ایک یہ کہ ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو۔دوسرا یہ کہ ٹیکس بڑھا دیا جائے اور رعایتیں (subsidies) ختم کر دی جائیں۔حکومت نے دونوں حربے آزمائے۔ٹیکس دینے والوں کی تعداد بڑھی لیکن اس میں اضافہ اس ہدف سے کم رہاجو طے کیا گیا تھا۔دوسرے لفظوں میں اس سے آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا۔اب دوسرا طریقہ باقی تھا۔حکومت عوام کو دی گئی رعایتوں کو ختم کرے اور اس پھر مزید ٹیکس لگائے۔خان صاحب کی حکومت نے یہی کیا۔بجلی‘گیس اور پٹرول پر دی گئی رعایت آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے اورٹیکس بڑھایا جا رہاہے جس کی وجہ سے اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔آئی ایم ایف کا اب مطالبہ ہے کہ قرض کی اگلی قسط کے لیے تین سو ارب روپے کے مزید ٹیکس لگائے جائیں۔اب اسی بات پر مذاکرات ہونے ہیں۔
عوام اب اس صورت ِحال سے کیسے متاثر ہو رہے ہیں؟ایک تو یہ کہ معاشی سرگرمی نہ ہو نے کہ وجہ سے بے روزگاری بڑھی ہے۔ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق بارہ لاکھ افراد اس عرصے میں بے روزگارہوئے ہیں۔دسرا یہ کہ جو برسرِ روزگار تھے‘ان کی آمدن کم ہوگئی ہے۔تیسرا یہ کہ ان کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ایک عام پاکستانی گھرانہ ‘مہینہ بھر کے لیے ‘اشیائے صرف کی ایک بارخریداری کرتاہے۔اس مد میں اس کے اخراجات دوگنا سے زیادہ ہوگئے ہیں۔میرے لیے یہ سنی سنائی بات نہیں۔یہ میری آپ بیتی بھی ہے۔
حکومت ملک میں معاشی سرگرمی کو کیوں فروغ نہ دے سکی؟ اس کی واحد وجہ خان صاحب کی افتادِ طبع ہے جو نرگسیت سے عبارت ہے۔وہ ابھی تک یہ ماننے کے لیے آمادہ نہیںکہ معاشی سرگرمی کی سب سے بڑی ضرورت سیاسی استحکام ہے۔ سیاسی استحکام کے لیے صرف مقتدر حلقوں کی سرپرستی کافی نہیں‘ہوتی‘دیگر سیاسی اور معاشی قوتوں کی تائید کی بھی ضرورت ہو تی ہے۔وہ خود کواس نفسیاتی عارضے سے آزاد نہیں کر سکے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ شریف خاندان کی کرپشن ہے۔
میں جب اسے نفسیاتی مسئلہ کہتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس باب میںان کا طرزِ عمل امتیازی ہے۔اس کی ایک مثال حال ہی میں اسحاق ڈار صاحب کے گھر میں پناہ گاہ کا قیام ہے۔اگر عدالت کے حکمِ امتناعی کے باوجود‘ڈار صاحب کا گھر پناہ گاہ بن سکتا ہے تو پرویز مشرف صاحب کا فارم ہاؤس کیوں نہیں ؟ہم جانتے ہیں خان صاحب نے اس بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں۔ان کی حکومت تومشرف صاحب کی وکیل ہے۔
خان صاحب کی اس سوچ کی وجہ سے یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ ملک میں معاشی سرگرمی میں کوئی تیزی آ سکے۔آثار یہ ہیں کہ مقتدر حلقوں کو بھی اس کا احساس ہو چکا ہے۔گمبھیر معاشی مسائل سے نمٹنے کی واحد صورت ‘انہیں بھی یہی دکھائی دے رہی ہے کہ خان صاحب اپنی اصلاح پر آمادہ نہ ہوں تو ان سے نجات حاصل کر لی جائے۔واللہ اعلم۔
اس معاشی اور سیاسی پس منظر میں یہ سوال بہت اہم ہو جاتا ہے کہ مہنگائی کے خاتمے کے لیے وزیراعظم کہاں تک جاسکتے ہیں اور ان کی حدود کیا ہیں؟وزیراعظم کے سامنے ایک ہی راستہ ہے ‘وہ اس حقیقت کا عتراف کر لیں کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ شریف خاندان کی کرپشن نہیں‘معاشی استحکام ہے جو سیاسی استحکام سے مشروط ہے ۔وزیر اعظم اگر اس حد تک نہیں جا سکتے تو پھرممکن ہے کہ اس باب میں وہ فیصلہ کریں‘ جن کی کوئی حد نہیں ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *