عہد وفا: فوج کے اشتراک سے بنے ڈرامے میں ‘ادارے’ بدنام کیوں؟

محمد صہیب - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‘اقتدار اور طاقت کے جتنے بھی کھیل یہاں کھیلے جاتے ہیں ان کے کوئی رولز (قواعد) نہیں ہوتے۔ بس ان کا ایک مقصد ہوتا ہے، اوپر سے اوپر جانا، وہ چاہے کسی کے سر پر پیر رکھ کر چڑھنا پڑے یا دل پر۔ وقت لگے گا لیکن سیکھ جاؤ گے۔’

یہ مکالمہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ اور نجی چینل ہم انٹرٹینمنٹ کے اشتراک سے بنے ڈرامے ‘عہدِ وفا’ میں شامل ایک ایسے کردار کا ہے جو ایک نومنتخب سیاست دان یعنی ‘ملک شاہزین’ کو سیاست کے گر سکھا رہے ہیں۔

ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ ایک اہم کردار، شاہزین اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی نہیں ہیں مگر اپنے دادا کے اثر و رسوخ کے باعث باآسانی رکنِ پارلیمان بن گئے ہیں۔

شاہزین بطور سیاست دان میڈیا پر اثرانداز ہو کر اپنے ہی دوست کو پہلے نوکری سے نکلواتے اور پھر دوبارہ ملازمت دلواتے دکھائی دیتے ہیں اور ساتھ ہی وہ سول سروس میں انتخاب کے نظام پر اثر انداز ہونے کی بات بھی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے

سینسر شپ کی پاکستانی ڈکشنری

’اختیارات کے ناجائز استعمال‘ پر تین فوجی افسر برطرف

فیس بُک نے’آئی ایس پی آر سے وابستہ اکاؤنٹ بند کر دیے‘

پاکستانی میڈیا کا تسلی بخش علاج

پاکستانی ڈراموں میں سیاستدانوں، میڈیا اور بیوروکریسی کو منفی کردار میں دکھانا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ماضی میں فوج کے اشتراک سے بنے ڈراموں جیسے ‘ایلفا براوو چارلی’ اور ‘سنہرے دن’ میں ایسا دیکھنے میں نہیں آیا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ہر اتوار کو نشر ہونے والے ڈرامے عہدِ وفا کا چرچا بھی زیادہ ہے اور کئی لوگ اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔

اسی طرح ‘عہدِ وفا’ میں میڈیا انڈسٹری کو بھی منفی پیرائے میں دکھایا گیا ہے جہاں ‘پلانٹڈ انٹرویوز’ بھی ہوتے ہیں اور چینل مالکان کا شرپسند عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ بھی ہوتا ہے۔

اس معاملے پر آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کہانی کے حوالے سے جو تنقید کی جا رہے وہ بےجا ہے اور بہتر ہوگا کہ پہلے ڈرامے کو مکمل ہونے دیا جائے۔

‘عہد وفا: چاردوستوں کی کہانی’

عہدِ وفا دراصل چار دوستوں کی کہانی ہے جو آغاز میں لارنس کالج میں اکھٹے پڑھنے کے بعد فوج، سیاست، میڈیا اور بیوروکریسی کو بطور کرئیر اپنا لیتے ہیں۔

ڈرامے کی تخلیق کے بارے میں بتاتے ہوئے عہدِ وفا کے ہدایت کار سیفی حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمیں آغاز میں کہا گیا تھا کہ چار دوست دکھانے ہیں جو بعد میں اپنے کیرئیر میں ریاست کے چار ستونوں کی نمائندگی کریں اور ‘یہ نہیں کہا گیا تھا کہ کسی کردار کو منفی پیرائے میں دکھانا ہے۔’

ڈرامے پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں کے کہا کہ ‘سیاست دان بننے سے پہلے بھی شاہزین کے کردار کا ایک منفی پہلو تھا، وہ دوستوں سے سب سے پہلے لڑا تھا اور اس نے گھوڑے کو گولی بھی ماری تھی۔

’البتہ بیوروکریسی کے بارے میں ڈرامے کے اختتام سے قبل اس حوالے سے تنقید کرنا مناسب نہیں ہے۔’

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جس بات پر سب سے زیادہ تنقید ہوئی وہ شاہزین کا شہریار کو یہ کہنا تھا کہ تمہارا انٹرویو کرنے والے ‘اپنے بندے’ تھے۔

سیفی حسن نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ‘اس سین میں ہی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شاہزین جھوٹ بول رہا ہے۔’

‘ریاست کا چوتھا ستون عدلیہ ہوتا ہے فوج نہیں’

سنہ 1991 میں پاکستان ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والا ڈرامہ ‘سنہرے دن’ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں فوجیوں کی زندگی پر بنا تھا۔ اس ڈرامے کے متعدد کرداروں کو چند برس بعد ایلفا براوو چارلی میں دیکھا گیا تھا۔

اس ڈرامے کے لکھاری کرنل (ریٹائرڈ) اشفاق سے جب بی بی سی نے عہدِ وفا کے حوالے سے رائے جانی تو انھوں نے کہا کہ ‘ان چار دوستوں کو ریاست کا چار ستون تو دکھایا ہے لیکن ریاست کا چوتھا ستون عدلیہ ہوتا ہے فوج نہیں۔ مہذب معاشروں میں فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔’

کرنل (ریٹائرڈ) اشفاق کا مزید کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ آئی ایس پی آر کے زیرِ اہتمام اس طرح کا ڈرامہ نشر کیا جا رہا ہے کہ جس میں ریاست کے دیگر ستونوں کو منفی تناظر میں دکھایا جا رہا ہے جو کہ ‘مناسب نہیں ہے’

‘کردار فرد کی نہیں ادارے کی نمائندگی کرتا ہے’

مشہور ڈرامہ نگار ظفر معراج نے عہدِ وفا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ کسی لکھنے والے کی ذاتی رائے ہوتا ہے، لیکن جب یہ ملک کا کوئی ادارہ بنائے تو یہ صرف اس ڈرامہ لکھنے والے کی رائے نہیں ہوتی بلکہ ایک ادارے کی رائے ہوتی ہے۔

‘میرے خیال میں یہ ایک ادارے کی طرف سے ایک ‘کنٹرولڈ’ بیانیہ ہے جو اس ادارے کی دوسرے (اداروں) کے لیے رائے ہے۔’

اس بارے میں بات کرتے ہوئے کرنل ریٹائرڈ اشفاق نے کہا کہ کالی بھیڑیں ہر شعبے میں ہوتی ہیں لیکن اگر آپ ڈرامے میں کسی کردار کو دکھاتے ہیں تو وہ کسی فرد کا کردار نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنی پوری کلاس کی نمائندگی کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘عہدِ وفا میں شاہزین کو آپ منفی انداز میں دکھا رہے ہیں تو گویا آپ سیاستدانوں کی توہین کر رہے ہیں۔’

عہدِ وفا کے ڈرامہ نگار کا مؤقف

عہدِ وفا کے لکھاری مصطفیٰ آفریدی ماضی میں سنگِ مرمر جیسے مقبول ڈرامے لکھ چکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ عہدِ وفا لکھنا ان کے لیے اس لیے بھی مشکل تھا کیونکہ اس میں چار کہانیوں کو ساتھ لے کر چلنا تھا۔

انھوں نے اس ڈرامے پر ہونے والی تنقید کے بارے میں کہا کہ ‘ہم دو گھنٹے کا ڈرامہ دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کردار اچھا ہے یا برا۔’

’25، 26 قسطوں کا یہ ڈرامہ جب ختم ہو گا پھر آپ اس پر کوئی تجزیہ دیں تو اچھا ہے۔’

انھوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو سیاہ اور سفید میں نہیں دیکھا جا سکتا، اس لیے اگر ابھی ایک کردار منفی ہے تو بعد میں حالات تبدیل ہونے کے بعد مثبت بھی ہو سکتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ فوج کے کسی کردار کو منفی کیوں نہیں دکھایا جاتا تو انھوں نے ڈرامے کے ایک سین کی طرف توجہ دلائی جس میں ایک کیڈٹ کو نقل اتارنے کے سبب اکیڈمی سے ‘ڈرم آؤٹ’ کر دیا جاتا ہے۔

تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ اس سین سے تو یہ تاثرجاتا ہے کہ فوج میں خود احتسابی کا نظام بہت سخت ہے جبکہ اس سے قبل ڈرامے کی ایک قسط میں ایک ‘پہلوان’ قتل کرنے کے باوجود میڈیا کی ملی بھگت سے بچ جاتا ہے۔

تو مصطفیٰ آفریدی نے کہا کہ اگر آپ غیر جانبدار ہو کر دیکھیں تو فوج ہی ایک ایسا ادارہ ہے جہاں احتساب کا نظام سخت ہے ورنہ ہم سب کسی نہ کسی روپ میں ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے اشتراک سے بنے ڈرامے کن مراحل سے گزرتے ہیں؟

عہدِ وفا کے ہدایت کار سیفی حسن بتاتے ہیں کہ ایسے ڈراموں میں ہمیں ہر مرحلے پر سکرپٹ سے لے کر ہر چیز آئی ایس پی آر سے منظور کروانی پڑتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ‘وہ کچھ چیزوں پر اعتراض کرتے ہیں تو ہم اپنی بات منوا کر کچھ باتیں منظور کروا لیتے ہیں لیکن ہر چیز ان کی منظوری کے بعد دکھائی جاتی ہے۔’

ڈرامہ نگار مصطفیٰ آفریدی نے بتایا کہ ‘ایسا نہیں ہے کہ فوج کے اشتراک سے بنے ڈراموں میں ہمیں آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے، ایسا تو دوسرے ڈراموں میں بھی نہیں ہوتا۔

‘ہمیں فوج کے پروٹوکولز کے حوالے سے علم نہیں ہوتا اس لیے ہمیں اس حوالے سے دھیان کرنا پڑتا ہے کہ ہم کوئی غلط چیز نہ دکھا دیں۔’

تاہم ڈرامے میں سول سروسز کے امتحان کے مراحل غلط دکھائے گئے ہیں جن پر سوشل میڈیا پر تنقید بھی ہوئی ہے۔

ڈرامے میں’شہریار’ نامی کردار کو مقابلے کے امتحان کے انٹرویو سے واپسی پر ہی اس بات کا علم ہو جاتا ہے کہ انھیں ڈی ایم جی گروپ میں تعینات کیا جائے گا حالانکہ حقیقت میں اس بات کا علم ہونے میں چند ماہ لگتے ہیں۔

‘عہدِ وفا پروپیگینڈا میں شامل ہو گیا ہے’

اس حوالے سے ہم نے کرنل اشفاق سے پوچھا کہ ڈراموں میں منفی کردار کشی کرنا اتنی بڑی بات کیوں ہے تو انھوں نے کہا کہ ‘ڈرامے کے تین مقاصد بتائے جاتے ہیں۔ تفریح اور معلومات لیکن عہدِ وفا ان تینوں سرحدوں کو پار کر کے پروپیگینڈا میں شامل ہو گیا ہے۔’

ظفر معراج نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ہم نے اسی طرح پارلیمان پر تنقید کی اور اسے مضبوط نہ کیا تو پھر مدرسوں کے جانب سے بھی تنقید کی جائے گی اور جرگے بھی ادارے بن کر تنقید کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ‘یہ کہانی اب اتنی خطرناک ہو گئی ہے کہ کیونکہ اب تو اس موبائل کی وجہ سے آپ 15 منٹ میں کہانی بنا کر نشر کر سکتے ہیں اس لیے ہمیں اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔’

بی بی سی نے جب فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے اس ڈرامے پر ہونے والی تنقید کے بارے میں سوال کیا تو کہا گیا کہ اس ڈرامے کو عوام سے بہت پذیرائی مل رہی ہے اور اسے مثبت انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔

آئی ایس پی آر نے بی بی سی کے سوالات پر مزید کہا کہ کہانی کے حوالے سے جو تنقید کی جا رہے وہ بےجا ہے اور بہتر ہوگا کہ پہلے ڈرامے کو مکمل ہونے دیا جائے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے نے مزید کہا گیا کہ یہ ڈرامہ فوج کی نگرانی میں ہی تیار ہوا ہے البتہ یہ ہم ٹی وی کے ساتھ ایک مشترکہ پروڈکشن ہے جہاں فوج ڈرامے کی تشکیل میں اپنی طرف سے سہولیات فراہم کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12800 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp