گلہ جو حرم کو اہلِ حرم سے ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس شہر کو جہانوں کے پروردگار نے آخری رسولﷺ کی ولادت کے لیے منتخب کیا‘ اس میں آج تیسرا دن ہے!
ہوا نرم اور لطیف ہے‘ موسم سرد نہ گرم! فضا خوشگوار ہے‘ دل کو طمانیت بخشنے والی! نمازِ فجر کا حرم کی آخری چھت پر اپنا ہی لطف ہے۔ میٹھی میٹھی خنکی! بغیر بازوؤں کا سویٹر پہن لیا جائے تو یہ لطف زیادہ ہو جائے! پھر جوں جوں دن چڑھتا ہے‘ ٹمریچر بڑھتا ہے یہاں تک کہ ظہر کے وقت 27کے لگ بھگ ہو جاتا ہے!
مسجد الحرام ایک دنیا ہے! دنیا سے الگ ایک اور دنیا۔ اندر کی آنکھ کھلی ہو تو بہت کچھ دکھائی دیتا ہے۔ وہ نوجوان عورت جو اپنے بوڑھے باپ کے ساتھ کھڑی زار و قطار رو رہی تھی۔ زندگی میں پہلی بار‘ سامنے بیت اللہ دیکھ کر‘ جذبات قابو میں کم ہی رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہی ہوا۔ ہچکی بند ہو گئی! پھر اس کے باپ نے اس کے کاندھے پر دستِ شفقت رکھا اور باپ بیٹی مطاف کی طرف چل پڑے۔
وہ نوجوان جو بوڑھے باپ کی ویل چیئر دھکیل رہا تھا۔ وہ عرب عورت جو جاتے جاتے مسجد کے ملازم کے ہاتھ میں کچھ رقم پکڑا گئی تھی! پانچ چھ برس کا وہ بچہ جو احرام میں ملبوس ایک اور ہی مخلوق لگ رہا تھا۔ وہ بڑھیا جس کی کمر کمان کی طرح دُہری تھی اور طواف کیے جا رہی تھی۔ وہ دیہاتی عورت جو طواف کے دوران‘ اپنے سے آگے چلنے والی اپنی عزیزہ کی عبا کو مسلسل پکڑے چلی جا رہی تھی۔ وہ احرام پوش نوجوان جو طواف کے دوران خشوع و خضوع سے سیلفیاں کھینچ رہا تھا۔ وہ شُرطہ جو خواتین کو تقریباً ہانک رہا تھا۔ ایک جگہ بیٹھتی تھیں تو اٹھا دیتا تھا۔ پھر وہ دوسری جگہ پڑاؤ ڈالتی تھیں‘ وہاں سے بھی اٹھا دیتا تھا۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے خواتین کے وجود کو یہاں سخت مجبوری کی وجہ سے برداشت کیا جا رہا ہے! قرون اولیٰ میں غالباً اتنی سختی اور اس قدر بندشیں نہیں تھیں!
حرم کے باہر‘ چاروں طرف جو خالی جگہ ہے اور جہاں نماز پڑھی جاتی ہے‘ دیہاتی عورتوں کے تصرف میں ہے۔ یہ زیریں طبقے سے تعلق رکھنے والے وہ خاندان ہیں جو رہائش کرائے پر لینے کی سکت نہیں رکھتے! ان کا سامان ساتھ ہوتا ہے۔ رات دن یہیں رہتے ہیں! جو روکھا سوکھا‘ میسر آیا‘ کھا لیا۔ کیا عجب‘ میزان سے گزرنے کے بعد انہیں فائیو سٹار رہائش گاہیں دی جائیں!؎
یہاں میں محترم ہوں اور وہ نادم کھڑے ہیں
نظر مجھ سے چراتے ہیں وزیر و شاہ میرے
”امت‘‘ کا تصور جسے سیاسی اسلام کے علم برداروں نے کبھی عسکری اور کبھی سیاسی چولا پہنانے کی کوشش کی ہے‘ اپنے جیتے جاگتے وجود میں یہاں نظر آتا ہے۔ یہاں آ کر‘ غور کرنے پر‘ اس حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ یہ تصور‘ بنیادی طور پر‘ روحانی ہے اور مکمل طور پر غیر سیاسی! ہاں اس کا اقتصادی پہلو واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ہوٹلوں اور ریستورانوں میں برما کے روہنگیا مہاجر کام کرتے ہوئے عام نظر آتے ہیں! ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً دس لاکھ روہنگیا مسلمان یہاں مختلف ملازمتوں میں کھپے ہوئے ہیں! بنگلہ دیشی اور بھارتی مسلمان‘ لاکھوں کی تعداد میں برسرِروزگار ہیں۔ پاکستان کے بھی لاکھوں خاندان یہاں کی ملازمتوں کے سبب خوشحال ہو رہے ہیں۔ ایک محرک یہ بھی ہے کہ دونوں مقدس شہروں میں غیر مسلموں کا داخلہ بند ہے۔ ورنہ بھارتی ہندو یہاں بھی اُسی طرح چھا جاتے جیسے شرق اوسط کے دوسرے ملکوں میں چھائے ہوئے ہیں۔
خدا کا یہ گھر‘ دنیا کے تمام مسلمانوں کی پناہ گاہ ہے! یہ وہ مسجد ہے جو شیعہ ہے‘ نہ سُنّی‘ شافعی ہے‘ نہ مالکی‘ حنفی ہے‘ نہ حنبلی! یہیں آ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے مسلک‘ نفرت یا علیحدگی پسندی کی بنیاد پر نہیں‘ سہولت کی بنیاد پر وجود میں آئے تھے۔ وہ ائمہ‘ جن کے ناموں پر یہ مسلک ظہور پذیر ہوئے‘ ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور اخلاص کے رشتوں میں بندھے ہوئے تھے۔ امام شافعیؒ نے امام مالکؒ کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ پھر امام ابو حنیفہؒ کے تلمیذِ خاص امام محمد بن حسنؒ کے شاگرد رہے۔ امام ابو حنیفہؒ امام مالکؒ سے تیرہ سال عمر میں بڑے تھے‘ مگر امام مالکؒ کی مجلس میں بیٹھے تو خاموش اور سرنگوں ہو کر! امام احمد بن حنبلؒامام شافعیؒ کے شاگرد رہے اور قاضی ابو یوسفؒ کے بھی جو حنفی فقہ کے معماروں میں شامل ہوتے ہیں۔
امام ابو حنیفہؒ امام جعفر صادقؒ کے تلمذ میں رہے۔ آپ نے امام باقرؒ سے بھی اکتساب کیا۔ امام شافعی ؒامام جعفر صادقؒ کی خدمت میں باقاعدہ حاضری دیا کرتے۔ فرماتے تھے کہ جب بھی امام جعفر صادق ؒکی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ تلاوت کر رہے ہوتے یا نماز میں مصروف ہوتے!
آج ان پانچوں ائمہ کے نام لیوا ایک دوسرے سے برسرپیکار نظر آتے ہیں تو ہر اس شخص کو تعجب ہوتا ہے جس نے ان ائمہ کرام کے حالات و فضائل کا مطالعہ کر رکھا ہے! ان اماموں کا ایک دوسرے سے تعلق معاندانہ تھا نہ حریفانہ! یہ تو ایک دوسرے سے استفادہ کرتے تھے۔ چاروں سنی امام‘ اہلِ بیت کے حلقہ ٔارادت میں شامل تھے۔ امام ابو حنیفہؒ نے کہ متمول تھے‘ ہمیشہ سادات کی تحریکوں کی خفیہ مالی مدد کی! یہی اصل سبب تھا عباسی خلفاکے اُس ظلم کا جو انہوں نے امام ابو حنیفہؒ پر روا رکھا!
ان ائمہ کرام کے شاگرد جہاں جہاں پہنچے‘ وہاں وہاں ان کے مسلک کا اور نکتۂ نظر کا رواج پڑا۔ یہ فیض کے وہ دریا ہیں ‘جن کا منبع رسولِ خداﷺ کی تعلیمات ہیں۔ مسجد الحرام اس حقیقت کا سب سے بڑا مظاہرہ ہے۔ تمام مسالک کے پیروکار ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ مالکی فقہ کے پیروکار‘ جو زیادہ تر شمالی افریقہ اور مغربی افریقہ میں رہتے ہیں ہاتھ چھوڑ کر نماز ادا کرتے ہیں!
ایک زمانہ وہ بھی آیا جب عالمِ اسلام‘ اکثر و بیشتر‘ مغربی طاقتوں کی غلامی میں تھا۔ اُس عہد میں حج اور عمرہ کے مواقع‘ آزادی کی تحریکوں کے درمیان رابطوں کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ مسلمان رہنما‘ یہاں آ کر‘ ایک دوسرے سے ملتے‘ تبادلۂ خیالات کرتے‘ تدبیریں سوچتے‘ ایک دوسرے سے استفادہ کرتے‘ اور منصوبہ بندی کرتے۔ آج کے مخصوص حالات میں ان مواقع پر سیاسی سرگرمیاں ممکن نہیں۔ اس میں ایک حکمت یہ ہے کہ مسلمان جو سیاسی حوالے سے پہلے ہی منقسم ہیں‘مزید منقسم نہ ہوں۔
حرم کے چاروں طرف رات کو دن ہوتا ہے پوری رات طواف اور سعی کے مناظر برپا رہتے ہیں۔ عبادت گزار مسلمان رات رات بھر‘ حرم ِپاک میں سجدہ ریز رہتے ہیں۔ بازاروں میں کھانے پینے کی دکانیں ہر وقت کھلی رہتی ہیں۔ عمرہ کے بعد حلق اور قصر کی سہولت مہیا کرنے کے لیے‘ باربر حضرات چوبیس گھنٹے دکانیں کھولے رکھتے ہیں! کھانے کی مقدار اتنی فیاضانہ ہے کہ ایک شخص کا کھانا‘ دو کے لیے کافی رہتا ہے! بازار نمازِ فجر کے فوراً بعد کھل جاتے ہیں!
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ معروف ہوٹلوں کے سلسلے (Chains) مغربی ملکوں کی ملکیت میں ہیں۔ یوں منافع کی رقم‘ جو کثیر مقدار میں ہے‘ مغربی ملکوں (یعنی ہوم Countries)میں پہنچ جاتی ہے۔ سعودی عرب کا مشہور فاسٹ فوڈ ”البیک‘‘ معیار میں کسی بھی مغربی فاسٹ سے کم نہیں مگر نامعلوم وجوہ کی بنا پر‘ بدقسمتی سے‘ اس کی مارکیٹنگ سعودی عرب سے باہر نہیں دکھائی دیتی! مسلمان ممالک اپنا کوئی مشروب بازار میں لا سکے نہ فاسٹ فوڈ کی کوئی چین! انحصار سارے کا سارا‘ اس حوالے سے‘ مغرب پر ہے۔ یوں عالمِ اسلام کی اقتصادی آزادی کا خواب ابھی تک شرمندئہ تعبیر نہیں ہو سکا! یہی تو شکوہ ہے جو مکہ کی سرزمین زبانِ حال سے کر رہی ہے۔ اقبالؔ نے یوں ہی تو نہیں کہا تھا ؎
گلہ ٔجفائے وفا نما کہ حرم کو اہلِ حرم سے ہے
کسی بت کدے میں بیاں کروں تو کہے ضم بھی‘ ہرَی ہرَی
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *