تعلیم اور معاشرتی انصاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی معاشرے کو درپیش مسائل میں ایک اہم مسئلہ دہشت گردی کا ہے جس کا شکار عام‘ عوام ہیں؛ جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان حملوں کا دائرہ کار تعلیمی اداروں اور مذہبی عبادت گاہوں تک پھیل گیا ہے۔ دہشت پسندی کا خمیر انتہا پسندانہ سوچ سے اٹھتا ہے۔ یہ وہ سوچ ہے جس میں اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس وقت پاکستان کی آبادی کا 35 فیصد حصہ اُن نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمر 15 سال سے کم ہے۔ اگر ان نوجوانوں کو مناسب تعلیم و تربیت فراہم کی جائے تو وہ پاکستان کا قیمتی اثاثہ بن سکتے ہیں۔ بصورت دیگر یہی نوجوان ہمارے لئے بوجھ بن جائیں گے۔ آج کل دہشت گردوں کا ایک بڑا نشانہ یہی نوجوان ہیں‘ جن کے ذہنوں کو غیر محسوس طریقوں سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔

نائن الیون کے واقعہ کے بعد جہاں مختلف ممالک میں سیاسی بھونچال آئے وہیں تعلیم کے میدان میں دُور رس تبدیلیاں بھی آئی ہیں۔ نائن الیون کمیشن کی رپورٹ میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ اپنے تعلیمی شعبے میں بہتری لانے کے لئے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ مالی مدد دی جائے۔ رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا تھا کہ مدرسوں میں دی جانے والی تعلیم سے ایسے لوگ تیار ہو رہے ہیں جن کی سوچ محدود ہے اور اس Tunnel Vision کی وجہ سے مدرسوں سے تعلیم یافتہ افراد دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

اس سے پہلے کہ ہم تعلیم اور دہشت گردی کے مابین اس مبینہ رشتے کا جائزہ لیں ہمارا ”انتہا پسندی‘‘ (Extremism) کی اصطلاح کو سمجھنا ضروری ہے۔ لغت کے مطابق، انتہا پسندی کسی بھی معاملے میں انتہائی موقف اختیار کرنے کا نام ہے؛ تاہم ہر لفظ کے لغوی معنی کے علاوہ سماجی معنی بھی ہوتے ہیں۔ فرانسیسی سکالر فوکو (Foucault) کے مطابق لفظ کے سماجی معنوں کی تشکیل میں طاقتور گروپ کا اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ طاقتور گروپ ایک خاص طرح کے ڈسکورس کو تخلیق کرتا ہے۔ اس ڈسکورس کو جواز فراہم کرتا ہے اور اس کی مقبولیت کو یقینی بناتا ہے۔

یہ تخلیق شدہ ڈسکورس ایسے علم کو جنم دیتا ہے‘ جو طاقتور گروپ کے تمام افعال کا جواز پیش کرتا ہے۔ لہٰذا انتہا پسندی کے لغوی معنی اہم نہیں اہم بات یہ ہے کہ زور آور انتہا پسندی کی کیا تعریف کرتے ہیں اور اس تعریف کے مطابق کون شدت پسند کہلاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ہی طرح کے لوگوں کو ایک گروہ دہشت گرد اور دوسر ا گروہ حریت پسند سمجھتا ہے؛ تاہم، آخر میں، اسی گروہ کے معنی غالب آتے ہیں جن کا علم کی پیداوار کے ذرائع پر قبضہ ہے‘ یوں انتہا پسندی اور انتہا پسندوں کی تعریف بدستور اسی طرح بدلتی رہتی ہے‘ جیسے جیسے طاقتور گروہوں کے مفادات اور ضرورتیں بدلتی جاتی ہیں۔

اس سے پیشتر کہ ہم انتہا پسندی روکنے کے اقدامات کے بارے میں بات کریں، مناسب ہو گا کہ ان وجوہ کا کھوج بھی لگائیں جن سے اس سوچ کو فروغ ملتا ہے۔ انتہا پسندی کی ایک بڑی وجہ معاشرے میں انصاف کی عدم فراہمی ہے۔ لوگ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر بھی اپنی آواز متعلقہ حلقوں تک نہیں پہنچا سکتے۔ جنس، رنگ، نسل اور کلاس کے امتیازات معاشرے میں اخراج (Exclusion) کا باعث بنتے ہیں۔

ان امتیازات (Discriminations) کی بنیاد پر زورآور طبقے بے وسیلہ لوگوں کو غیر (Others) کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یوں زورآور طبقے کے افراد معاشرے میں اہم جگہوں پر فائز ہو جاتے ہیں اور بے وسیلہ لوگوں پر نوکریوں، انصاف اور اظہار کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ انتہا پسندی کے مختلف چہرے ہیں جیسے مذہبی، انتہا پسندی یا سیاسی انتہا پسندی۔ اس کے متعدد مظاہر بھی ہیں: فکری انتہا پسندی سے مراد یہ ہے کہ جب ایک شخص کسی خاص مسئلے کے بارے میں انتہائی نظریات رکھتا ہے لیکن جب انتہا پسندانہ نظریات کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے تو انتہا پسندی دہشت گردی میں بدل سکتی ہے اور اپنے نظریات کی تکمیل کے لیے پُرتشدد طریقے استعمال کر سکتی ہے۔ انتہا پسندی کی اقسام اور چہروں کو دیکھنے کے بعد، اس کے امکانی اسباب کی تلاش ضروری ہے۔

انتہا پسندی کا ایک بڑا سبب لوگوں کو حقوق سے محروم رکھنا ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگوں پر معاشی، تعلیمی اور قانونی مواقع کے دروازے بند ہیں ان دروازوں کی بندش معاشرتی انصاف اور معاشی مساوات تک رسائی سے انکار کے مترادف ہے۔ یہاں ہم صرف تعلیمی نظام کی بات کرتے ہیں کیونکہ یہ تعلیم ہی ہے جو ترقی، آزادی اور سماجی انصاف کے اہداف کو حاصل کرنے کے دروازے کھولتی ہے۔ تعلیم کی فراہمی کے رسمی ذرائع سکول ہیں۔ کسی زمانے میں سکولوں کو معاشرتی سوچ کو متاثر کرنے کے لیے ایک طاقتور سماجی ادارہ سمجھا جاتا تھا۔

یہ توقعات سکول سے اس لیے وابستہ تھیں کہ سکول کو دو دیگر طاقتور سماجی اداروں یعنی مذہب اور خاندان کی حمایت حاصل تھی۔ ابھی کے لیے ہم پریشان کن اعداد و شمار پر نگاہ ڈالیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ہماری آبادی کے ایک قابل ذکر حصے کو تعلیمی مواقع کی فراہمی سے انکار کیا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، پاکستان میں اڑھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے ہیں اور تقریباً 35 فیصد طلبا پانچویں تک پہنچتے ہی سکول چھوڑ جاتے ہیں۔

یہ دنیا میں ڈراپ آؤٹ کا دوسرا سب سے زیادہ درجہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ”سب کے لئے تعلیم‘‘ کا ہزاریہ ترقیاتی مقصد‘ جس کی آخری تاریخ 2015 مقرر کی گئی تھی‘ ہم مقررہ تاریخ کو پورا نہیں کرسکے۔ موجودہ رفتار کے مطابق، اب یہ مقصد 2041 میں پنجاب، 2049 میں سندھ، 2064 میں خیبر پختون خوا، اور 2100 میں بلوچستان حاصل کر سکتا ہے۔ وجہ‘ ریاست کی جانب سے تعلیم کو دی جانے والی کم ترجیح ہے، اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ تعلیم کے لئے مختص بجٹ پچھلے سالوں کی نسبت کم ہو گیا ہے۔

یہ تو ان بچوں کا ذکر تھا جو سکول کی دہلیز پار نہیں کر سکتے۔ آئیے دیکھتے ان بچوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے جو سکول پہنچ جاتے ہیں۔ مرکزی دھارے میں شامل کئی سکولوں میں متروک نصاب، بے کشش نصابی کتب، ٹرانسمیشن پر مبنی تدریس، اور یادداشت پر مبنی امتحانی نظام رائج ہے۔ اس طرح فکر کی تنگی(Tunnel Vision)کوصرف مدرسہ کی تعلیم سے وابستہ نہیں کیا جاسکتا۔ در حقیقت، مرکزی دھارے میں شامل کچھ سکولوں میں بھی اس طرح کے افراد تیار ہو رہے ہیں جن کی سوچ محدود ہے۔

اگر ہم واقعی تعلیم کو ترقی کے آلے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں اور تعلیم کے ذریعے آزادی‘ ترقی اور سماجی انصاف کے خوابوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک ایسے تعلیمی نظام کی تشکیل کی ضرورت ہے‘ جس کا نصب العین شخصی اور سماجی تبدیلی ہو‘ جس کا مقصد ایسے افراد پیدا کرنا ہو جو امن آشتی اور رواداری پر یقین رکھتے ہوں‘ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے سکول معاشرتی نا انصافی اور معاشی تفاوت کے خاتمے کے چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں جو لوگوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہیں؟

بدقسمی سے اس سوال کا جواب اثبات میں نہیں۔ جواب کے اثبات میں نہ ہونے کی کئی وجوہ ہیں۔ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ماضی کے برعکس سکول نے ایک مضبوط سماجی ادارے کی حیثیت سے اپنی طاقت کھو دی ہے‘ کیونکہ اب مذہب اور خاندان کے سماجی ادارے اس کے ہمراہ نہیں رہے۔

دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ میڈیا ایک طاقتور معاشرتی ادارہ بن کر ابھرا ہے جو کم وقت اور بڑے پیمانے پر ذہنوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نے سکول کے کردار کو مزید کم کر دیا گیا ہے۔

تیسری اہم وجہ بیرونی معاشرتی، معاشی اور سیاسی قوتوں کا اہم کردار ہے جو سماجی و معاشی برابری کے عدم توازن میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لہٰذا، اگر ہم شدت پسندی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو صرف سکول کی باضابطہ تعلیم ہی کافی نہیں۔ تعلیم کے غیر رسمی ذرائع کی تلاش کرنا اور سکولوں کی تعلیم کو میڈیا سمیت دیگر سماجی اداروں کے ساتھ جوڑنا بھی ضروری ہے؛ تاہم، انتہا پسندی کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لئے سب سے اہم اقدام سیاسی، معاشی، تعلیمی اور قانونی نظام کے ذریعے معاشرتی انصاف تک رسائی کے حوالے سے سب کو یکساں مواقع کی فراہمی ہے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 157 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *