#coronavirus: کورونا وائرس سے زیادہ بچوں کے متاثر نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟

فرنینڈو دوارتے - بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیجنگ

Getty Images
ماہرین یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زیادہ بچے کرونا وایرس کے شکار کیوں نہیں ہوئے

یہ خبر دنیا میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی کہ چین میں ایک نوزائیدہ بچے میں تیس گھنٹے بعد کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

اس وقت تک تیس ممالک میں یہ سب سے کم عمر بچہ ہے جس میں اس وبا کی تشخیص ہوئی ہے۔ ابھی تک تیس ممالک میں کورونا وائرس سے 1000 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ 40 ہزار متاثر ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد چین کے شہریوں کی شامل ہے۔

ان تمام کیسز میں بچوں کی تعداد بہت کم ہے۔

حال ہی میں شعبہ طب سے متعلق ایک امریکی جریدے میں اس وبا کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے چین کے شہر ووہان کے جنائنتن ہسپتال میں مریضوں کا تجزیہ شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چین: نومولود بچے میں کورونا وائرس کی تشخیص

کورونا وائرس کی وبا سارس سے بڑی مگر کم مہلک

کورونا وائرس: پاکستانی اور انڈین طلبا مشکلات کا شکار

اس رپورٹ کے مطابق اس وبا سے متاثرین کی آدھی تعداد 40 سے 59 برس تک کی ہے۔ صرف دس فیصد تعداد ایسے افراد کی ہے جن کی عمر 39 سال سے کم بنتی ہے۔

اس تحقیق کے مطابق بچوں میں اس وبا کی تشخیص بہت کم ہوئی ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟

کورونا وائرس

Getty Images

اگرچہ اس حوالے سے مختلف آراء ہیں لیکن ماہرین کے پاس اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں ہے کہ آخر بچوں میں ایسے واقعات کم کیوں سامنے آئے ہیں۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ کے پروفیسر این جونز نے، جو مختلف طرح کے وائرس سے متعلق شعبے سے منسلک ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ بچے یا تو اس انفیکشن سے بالکل بچ جاتے ہیں یا پھر وہ زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کو معمولی نوعیت کا مرض لاحق ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر انھیں ڈاکٹر تک لے جانے کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ ان میں بیماری کی وہ نشانیاں تک واضح نہیں ہو پاتی ہیں۔ اس طرح کے مقدمات جب ہسپتال تک نہیں پہنچتے تو ان کا اندراج بھی نہیں ہو پاتا۔

اس بات سے یونیورسٹی آف لندن کی پروفیسر نیتھائل میکڈرموٹ بھی متفق ہیں۔

ان کے خیال میں پانچ سال سے زائد اور بیس سال سے کم عمر کے بچوں میں ایسے وائرس کے خلاف قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اس کے باوجود بچے متاثر ہو سکتے ہیں لیکن یہ ممکن ہے کہ ان میں مرض کی وہ شدت نہ ہو یا اس کی نشانی تک بھی واضح نہ ہو سکے۔

چین

Getty Images
کیا سکولوں کی چھٹیوں نے بچوں کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھا

اسی طرح جب چین میں 2003 میں سارس وائرس نے تباہی مچائی تھی جس میں آٹھ ہزار افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور دس فیصد یعنی آٹھ سو کی موت واقع ہوئی تھی۔ ان میں بھی بچوں کی تعداد بہت کم تھی۔

سنہ 2007 میں امریکہ میں عوامی صحت سے متعلق ایجنسی، سنٹر فار کنٹرول، کے ماہرین نے ایسے 135 کیسز کا پتا چلایا لیکن ان کے مطابق ان میں کسی بھی ایک بچے کی موت واقع نہیں ہوئی۔

کیا نئے سال کی چھٹیوں نے بچوں کو محفوط رکھا

میک ڈرموٹ کا خیال ہے بالغوں کے مقابلے بچے اس وائرس کی زد میں شاید اس لیے نہیں آئے کیونکہ جب یہ وائرس پھیلا اس وقت سکولوں کی چھٹیاں تھیں۔

چین کے تقریباً تمام قصبوں نے ان چھٹیوں کو فروری کے مہینے تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اگر گھر میں کسی کو کرونا وائرس ہوتا ہے تو گھر کے بڑے بزرگ بچوں کو محفوظ رکھتے ہوئے انہیں دوسری جگہ بھیج سکتے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ اگر یہ بیماری زیادہ پھیلتی ہے تو صورتِ حال تبدیل ہو سکتی ہے۔

ماسک

Getty Images
وائرس سے متاثر ہونے والے زیادہ تر لوگ 40 سے 59 سال کی عمر کے درمیان ہیں

کیا یہ وائرس بچوں سے زیادہ بڑوں کے لیے خطرناک ہے؟

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ ہی بچوں میں اس وائرس کی تصدیق کا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ بچے اس سے متاثر نہیں ہو رہے۔ ہو سکتا ہے کہ حکام بچوں سے زیادہ بالغوں میں کروناوائرس کی تشخیص میں مصروف ہیں۔ یا پھر بچوں میں اس کی علامتیں بہت واضح نہیں ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی اور لندن امپیریل کالج سے وابستہ کرسٹل ڈونلی کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ میں جو سارس وائرس پھیلا تھا اگر اس کی مثال لی جایے تو یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ بیماری بچوں کو کو اتنی شدت سے متاثر نہیں کر رہی جتنی بالغوں کو۔

ہانگ کانگ ہوائی اڈہ

Getty Images
صرف چین میں کرونا وائرس ہزاروں کیس سامنے آئے ہیں

پہلے سے بیمار لوگوں کے لیے یہ وائرس خطرناک ہو سکتا ہے؟

ماہرین کا خیال ہے کہ ہہلے سے ہی ذیابیطس، امراض قلب یا دیگر امراض کے شکار لوگوں کی قوت مدافعت اس وائرس کے سامنے جواب دے سکتی ہے۔

بڑی عمر کے لوگوں کو خراب صحت کے سبب نمونیہ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

دیکھنے میں آیا ہے کہ ووہان کے ہسپتال میں اس وائرس کا شکار آدھے سے زیادہ لوگ پہلے سے طبی مسائل کا شکار تھے۔

بچے

Getty Images
اس وائرس کے شکار بچوں کی تعداد کافی کم ہے

کیا بچوں سے وائرس نہیں پھیلتا

ایان جونز کے مطابق نرسری میں کام کرنے والے اچھی طرح جنتے ہیں کہ بچے بڑی آسانی سے وائرس کا شکار ہوتے ہیں اور دوسروں میں وائرس منتقل بھی کر سکتے ہیں اور کسی بھی وبا میں بچوں کی ہلاکت کا امکان زیادہ ہوتا ہے لیکن کرنا وائرس میں ایسا نہیں ہوا۔

حالیہ وبا کے مزید مطالعہ کے بعد ہی تصویر واضح ہو سکے گی

بچوں کے کرونا وائرس سے زیادہ متاثر نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بچوں کو سب سے علیحدہ رکھا گیا ہے، سکول بند ہیں اور والدین اپنے بچوں کو محفوظٌ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے یں لیکن جب بچے ایک بار پھر سکولوں میں واپس آئیں گے تو پوری یا صحیح صورتِ حال سامنے آئے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12787 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp