کراچی سرکلر ریلوے: ’رپورٹ میں سب کچھ ہے سوائے تکمیل کے وقت کے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹریک

BBC
</figure>&#1662;&#1575;&#1705;&#1587;&#1578;&#1575;&#1606; &#1705;&#1740; &#1593;&#1583;&#1575;&#1604;&#1578;&#1616; &#1593;&#1592;&#1605;&#1740;&#1648; &#1606;&#1746; &#1608;&#1601;&#1575;&#1602;&#1740; &#1581;&#1705;&#1608;&#1605;&#1578; &#1705;&#1608; &#1581;&#1705;&#1605; &#1583;&#1740;&#1575; &#1729;&#1746; &#1705;&#1729; &#1705;&#1585;&#1575;&#1670;&#1740; &#1605;&#1740;&#1722; &#1587;&#1585;&#1705;&#1604;&#1585; &#1585;&#1740;&#1604;&#1608;&#1746; &#1705;&#1746; &#1605;&#1606;&#1589;&#1608;&#1576;&#1746; &#1705;&#1608; &#1578;&#1740;&#1606; &#1605;&#1575;&#1729; &#1605;&#1740;&#1722; &#1570;&#1662;&#1585;&#1740;&#1588;&#1606;&#1604; &#1705;&#1585;&#1746;&#1748;

عدالت نے بدھ کو ریلوے کے خسارے سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران اس منصوبے میں سندھ حکومت کو شامل کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر یہ معاملہ سندھ حکومت پر چھوڑ دیا تو پھر کچھ نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایسی صورت میں ’کراچی سرکلر ریلوے کا حال بھی کراچی ٹرانسپورٹ جیسا ہو جائے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

منسٹر صاحب آپ کو مستعفی ہو جانا چاہیے: چیف جسٹس

’کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ تین سال میں مکمل کیا جائے گا‘

’کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ تین سال میں مکمل کیا جائے گا‘

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی تو چیف جسٹس نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ سندھ حکومت کو نہ دیں بلکہ وفاق اس کو اپنے پاس رکھے۔

اس پر وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ اگرچہ ریلوے وفاق کا ہی منصوبہ ہے لیکن سندھ حکومت کو بھی اس میں شامل کرنا ضروری تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ریلوے کی اراضی واگزار کروانے میں سندھ حکومت نے بہت تعاون کیا ہے۔

بینچ کے سربراہ نے وفاقی وزیر ریلوے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’شیخ صاحب آپ کی رپورٹ جمع ہو گئی ہے اور اس رپورٹ میں سرکلر ریلوے کی تکمیل کے وقت کے سوا سب کچھ ہے۔‘

عدالت کے استفسار پر بھی وفاقی وزیر ریلوے نے منصوبے کے آغاز کی کوئی تاریخ تو نہیں دی بلکہ اُنھوں نے کہا کہ ملک کی اقتصادی صورتحال کی وجہ سے اس میں وقت لگ سکتا ہے۔

اس پر عدالت نے حکم دیا کہ کراچی سرکلر ریلوے منصوبے پر ایک ماہ میں سرگرمیاں شروع کی جائیں اور تین ماہ کے اندر اس منصوبے کو آپریشنل کیا جائے۔

شیخ رشید

AFP
چیف جسٹس نے وفاقی وزیر ریلوے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ صاحب آپ کی رپورٹ جمع ہو گئی ہے اور اس رپورٹ میں سرکلر ریلوے کی تکمیل کے وقت کے سوا سب کچھ ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبے کو چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک منصوبے میں کیوں شامل کیا گیا جس پر عدالت میں موجود وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے بتایا کہ معاشی صورتحال کی وجہ سے کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کو سی پیک میں شامل کیا گیا۔

اس پر چیف جسٹس نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی سے استفسار کیا کہ کراچی سرکلر منصوبے کے لیے چین سے زیادہ سود پر قرضہ ملے گا جس کا وفاقی وزیر منصوبہ بندی کوئی جواب نہ دے سکے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کراچی اور لاہور میں ریلوے کی اتنی جائیدادیں ہیں کہ اگر ان میں سے کچھ کو فروخت بھی کردیا جائے تو کم از کم ریلوے کا خسارہ پورا ہوسکتا ہے اس پر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے ریلوے کے اثاثوں کو فروخت کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

ریلوے کے خسارے کے مقدمے کی سماعت سے قبل شیخ رشید احمد اور اسد عمر ایک ساتھ نہیں بیٹھے تھے تاہم جب اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو دونوں وفاقی وزار اکھٹے روسٹرم پر آ گئے۔

مقدمے کی گذشتہ سماعت کے دوران وفاقی وزیر ریلوے نے ایم ایل ون منصوبے پر پیش رفت نہ ہونے کی تمام تر ذمہ داری وزارت منصوبہ بندی پر عائد کر دی تھی تاہم بدھ کے روز اس مقدمے کی سماعت کے دوران شیخ رشید اسد عمر کی تعریفیں کرتے ہوئے نہیں تھکتے تھے۔

عدالت نے استفسار پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی نے عدالت کو بتایا کہ ایم ایل ون منصوبہ 15 سال سے زیر التوا ہے تاہم اس منصوبے کی فزیبیلٹی رپورٹ اسی ماہ ریلوے حکام کے حوالے کر دی جائے گی۔

اسد عمر نے بتایا کہ اس منصوبے پر نو ارب ڈالر لاگت آئے گی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی اپریل کے وسط تک اس منصوبے کی منظوری دے گی۔

ریلوے

Getty Images
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی نے عدالت کو بتایا کہ ایم ایل ون منصوبہ 15 سال سے زیر التوا ہے تاہم اس منصوبے کی فزیبیلٹی رپورٹ اسی ماہ ریلوے حکام کے حوالے کر دی جائے گی

وفاقی وزیر ریلوے نے بتایا کہ ایک مرتبہ اس منصوبے پر کام شروع ہوگیا تو پانچ سال میں یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا جس پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ یہ منصوبہ پانچ سال میں نہیں بلکہ دو سال میں مکمل کیا جائے۔

اسد عمر نے عدالت کو بتایا کہ اس عرصے کے دوران یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو پائے گا جس پر بینچ کے سربراہ نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ کہہ دیں کہ کام نہیں ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر کوئی کام کرنے کی ٹھان لی جائے تو کام ہو جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے چند دنوں میں ہزاروں افراد کے لیے ہسپتال تعمیر کر لیا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی نے عدالت کو بتایا کہ ایم ایل ون منصوبے کے لیے چینی باشندوں کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

اسد عمر نے اپنی کارکردگی سے عدالت کو متاثر کرنے کے لیے کہا کہ وہ روزانہ رات دس بجے کام مکمل کر کے گھر پہنچتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم بھی رات ایک بجے گھر جاتے ہیں۔‘

عدالت نے ریلوے خسارہ کیس کی سماعت دو ماہ کے لیے ملتوی کرتے ہوئے ریلوے کے بزنس پلان پر پیشرفت رپورٹ طلب کرلی ہے تاہم کراچی سرکلر ریلوے کے معاملے کی سماعت 21 فروری کو کراچی رجسٹری میں ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14749 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp